ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام کی تعلیمات بہترین تعلیمات ہیں۔ دین اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب ہم کسی سے بات کریں تو مکمل توجہ سے کریں۔ حضور ﷺ بھی جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ مخاطب یا سامع کی طرف مبذول فرماتے تھے۔ معاشرے کی خوبصورتی حسن سلوک میں ہے اور یہ حسن سلوک ہی کی ایک صورت ہے کہ مخاطب آپ کے سامنے خود کو اہم سمجھے۔ لہٰذا یہی اچھے اخلاق کا تقاضہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ 5، النساء:86) ترجمہ کنز الایمان: اور جب تمہیں کوئی کسی طرح سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو یا وہی لوٹا دو۔

اگر مخاطب سننے کے دوران اکتاہٹ کا شکار لگے تو بہترین جملے بھی اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ دوسروں کی بات توجہ سے سننے سے تعلقات میں محبت، اعتماد اور احترام پیدا ہوتا ہے، جبکہ نظرانداز کرنے سے بدگمانی اور غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، اور تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔

عصر حاضر میں موبائل اور سوشل میڈیا کے کثرت استعمال کی وجہ سے لوگ عموماً دوسرے کی بات موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر نہیں سنتے۔ دوسرے کی بات توجہ سے سننا، مخاطب اور سامع دونوں کی سننے اور بولنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ کوئی شخص جتنی توجہ سے کسی کی بات سنے گا، اگلی مرتبہ مخاطب اس سے پہلے سے بہتر اور اچھی گفتگو کرنے کا خواہش مند خود کو پائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک بادشاہ کامیابی کے راز کی تلاش میں تھا، اور اس کے نزدیک کامیابی کا راز ان تین سوالوں میں پوشیدہ تھا: سب سے اہم وقت کون سا ہے؟ سب سے اہم کام کون سا ہے؟ اور سب سے اہم انسان کون ہے؟ بادشاہ نے اپنے تمام وزیروں، درباریوں اور ملک کے فاضل و دانشمند لوگوں کو بلا کر یہ سوال پوچھا، مگر کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ اس نے پانچ ہزار سونے کے سکوں کے انعام کا اعلان بھی کیا، لیکن پھر بھی اطمینان بخش جواب نہ ملا۔

بادشاہ نے سنا تھا کہ دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر ایک صوفی درویش رہتا ہے جو ہر سوال کا جواب جانتا ہے، مگر وہ دولت مند لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ بہت سوچ بچار کے بعد بادشاہ نے ایک غریب کے لبادے میں خود کو چھپایا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے اپنے ملازمین کو پیچھے رہنے کا حکم دیا اور اکیلا درویش کی جھونپڑی کی طرف جا پہنچا۔

درویش اس وقت جھونپڑی کے باہر زمین کھود رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کے سامنے حاضری دی اور اپنے تینوں سوالات پیش کیے، مگر درویش نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے زمین کھودنے میں مصروف رہا۔ شام ہو گئی، اور درویش کی سانس پھول چکی تھی۔ بادشاہ کے اصرار پر درویش نے پھاوڑا بادشاہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ بادشاہ زمین کھودنے لگا اور ساتھ ہی اپنے سوالات دہراتا رہا، لیکن درویش خاموش رہا۔

اسی دوران درویش نے ایک سمت اشارہ کیا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ ایک زخمی شخص خنجر لیے اس کی طرف دوڑتا آ رہا ہے، مگر قریب پہنچ کر گر پڑا اور بے ہوش ہو گیا۔ بادشاہ فوراً اسے اٹھا کر جھونپڑی میں لے آیا، زخموں پر پٹیاں کیں، اور وہ شخص سو گیا۔ درویش کے کہنے پر بادشاہ نے رات وہیں گزاری۔

صبح ہوئی تو بادشاہ نے زخمی شخص کی حالت دریافت کی۔ اس نے کہا: میں اب ٹھیک ہوں، اور مجھے معاف کر دیں۔ میں آپ کو قتل کرنے آیا تھا کیونکہ آپ نے میرے بھائی کو مروا دیا تھا۔ میں آپ کی تاک میں تھا، مگر جب آپ کے ٹھکانے کا پتہ چلا تو یہاں آیا۔ آپ کے ملازمین نے مجھے زخمی کیا، لیکن میں کسی طرح بچ نکلا۔ اگر آپ نے میری مرہم پٹی نہ کی ہوتی تو میں مر چکا ہوتا۔ اب میں آپ کا شکر گزار ہوں، اور چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے وفادار غلاموں میں شامل کر لیں۔

اس کے جانے کے بعد بادشاہ نے درویش سے دوبارہ سوال کیا کہ میرے سوالوں کے جوابات کیا ہیں؟

درویش نے مسکرا کر کہا: تمہارے سوالوں کے جوابات تو تمہیں مل چکے ہیں۔ سب سے اہم وقت وہ تھا جب تم میری مدد کر رہے تھے۔ سب سے اہم انسان وہ زخمی آدمی تھا، اور سب سے اہم کام اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرنا تھا۔ اگر تم ایسا نہ کرتے تو ایک دشمن کو دوست بنانے کا موقع کھو دیتے۔

یعنی؛ سب سے اہم وقت حال کا لمحہ ہے، سب سے اہم کام وہ ہے جو ہم اس وقت کر رہے ہیں اور سب سے اہم انسان وہ ہے جو اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مخاطب کو نظرانداز کرکے ہم ان اہمیتوں سے محروم نہ ہوں، کیونکہ کامیابی، محبت اور تعلقات کی اصل بنیاد توجہ اور حسن سلوک ہی ہے جو انسان کو صاحب کردار بنانے کے راستوں کی طرف گامزن کرتی ہے۔