مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد
اقبال، جامعۃ المدینہ موسی لین کراچی
اکثر اوقات دل
ایک لمحہ کی توجہ سے جیتے جاتے ہیں! متكلمين وسامعين! یاد رکھئے کہ گفتگو صرف
الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ دلوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ مخاطب کو اہمیت دینا اسکی
بات کو توجہ سے سننا اور اسکے احساسات کا احترام کرنا اسلامی اخلاق کا روشن نمونہ
ہے کہ انسان جب خود کو قابل توجہ محسوس کرتا ہے تو دل کھلتا ہے، محبت بڑھتی ہے،
اور تعلق مضبوط ہوتا ہے اسيطرح مخاطب بھی ان تمام حسين احساسات کا امیدوار ہوتا ہے
کہ اگر مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین کی اشاعت وتبليغ و تدریج کس طرح
ممكن ہوگی ؟ جو کہ سنت انبيا و صحابہ واولیاء الله ہے۔
لہذا متکلم
ومبلغ کو چاہیے کہ وہ مخاطب کے فکری، علمی اور ذہنی پس منظر کو سمجھے۔ رسول اللہ ﷺ
کی سیرت ہمیں اس اصول کی کامل مثال فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے ہر فرد، قوم یا قبیلے
کو اس کے مزاج، علمی درجے اور ذہنی افق کے مطابق دعوت دی۔
رسول اللہ ﷺ کی
سیرت طیبہ میں حکمت عملی کی بےشمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کے
پاس آ کر زنا کی اجازت طلب کرتا ہے۔ صحابۂ کرام اسے جھڑکنے لگے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا، نرمی سے سوالات کیے:کیا تو
یہ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے لیے پسند کرے گا؟ نوجوان نے ہر بار نہیں کہا،
تو آپ نے فرمایا:تو بھی دوسروں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (2)
یہ اسلوب
نفسیاتی اور ذہنی درجہ فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔ (3)
مبلغ کا شخصی
کردار مدعو کے ذہنی رویوں کو بدلنے میں اہم رول ادا کرتا ہے، کیونکہ دعوت دین یا
دعوت عمل دونوں ہی گویا کردار سازی کرنا ہے؛ مبلغ کا کردار ہی مدعو کےلیے نمونہ
نہیں ہوگا تو اس کی دعوت بے فیض اور رسمی ہوکر رہ جائے گی۔
مخاطب کو حق
پر لانے میں، داعی کا یہ خیال ہونا چاہئے کہ مخاطب کو کمتر نہ سمجھے بلکہ عاجزی اور
احترام کے ساتھ معاملہ کرے، کیونکہ تکبر دعوتی کام میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لہذا
ہمیں ان تمام ظاہری و باطنی اسباب جیسے تکبر حسد ریاکاری، حب جاہ ومدح و خود پسندی
جیسی سنگین بیماریوں کی طرف غور کرنا چاہیے کہ کہیں یہ سب اسباب کسی کو نظر انداز
کرنے اور توجہ نہ دینے اور دین کی تبلیغ میں رکاوٹ کا سبب تو نہیں بن رہے اگر ایسا
ہے تو ہمیں ان اسباب سے خلاصی حاصل کرنے کیلئے ہمیں چاہیے کہ خوب علم دین حاصل
کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں اور خوب دعائیں کریں۔
الله كريم سے
دعا ہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی تبلیغ و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاه خاتم النبیین ﷺ
حوالہ
جات:
(1)
پ14،النحل: 125
(2)مسند امام احمد،8/285،
حدیث:22274
Dawateislami