لوگوں سے درگزر کرنے کی فضیلت:

(1) پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: تین باتیں جس شخص میں ہوں اللہ کریم (قیامت کے دن) اس کا حساب بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا:(1)جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو،(2)جو تم سے تعلّق توڑےتم اس سے تعلّق جوڑو اور(3)جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ (معجم اوسط،4/18،حدیث: 5064)

(2)فرمایا:قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا:جس کا اجر اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اورجنّت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا:کس کے لیے اجر ہے؟اعلان کرنے والا کہے گا:ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،حدیث:1998)

(3)فرمایا:جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف کرے گاقیامت کے دن اللہ پاک اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، 3/36،حديث:2199)

(4) فرمایا:ہر دور میں میرے بہترین امّتیوں کی تعداد پانچ سو(500)ہے اور ابدال چالیس(40) ہیں، نہ پانچ سو(500) سے کوئی کم ہوتاہے اور نہ ہی چالیس(40) سے، جب چالیس(40) ابدال میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے توربّ کریم پانچ سو(500) میں سے ایک کو اس فوت ہونے والے ابدال کی جگہ پر مقرّر فرماتا اور یوں40کی کمی پوری فرمادیتا ہے،عرض کی گئی:ہمیں ان کے اعمال کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔فرمایا: ظلم کرنے والے کو معاف کرتے،برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے اور اللہ پاک نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اس سے لوگوں کی غم خواری کرتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،1/ 39، حدیث: 15)

(5)ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوااور عرض کی:یارسول اللہ ﷺ !ہم خادم کو کتنی بارمعاف کریں؟ آپ خاموش رہے۔اس نے پھر وہی سوال دہرایا، پھر خاموش رہے،جب تیسری بارسوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ ستّر بار۔ (ترمذی، 3/381، حدیث:1956)

حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: عربی میں ستّر (70) کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ معافی دو، یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہے، خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو،شریعت کا یاقومی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصور معاف نہیں کیے جاتے۔ (مرآۃ المناجیح،5/170)

لوگوں کو معاف کرنا کس قدر بہترین عمل ہے جس کی دنیا میں تو برکتیں نصیب ہوتی ہی ہیں مگر آخرت میں بھی ان شآء اللہ اس کی برکت سے جنّت کی خوشخبری سے نوازا جائے گا۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو طاقت و قدرت کے باوجود بھی لوگوں کی خطاؤں کو اپنی نفسانی ضد کا مسئلہ نہیں بناتے بلکہ معاف کرکے ثواب کا خزانہ پاتے ہیں۔مگر افسوس!آج اگر ہمیں کوئی معمولی سی تکلیف بھی پہنچادے، یا ذرا سی بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو ہم عفو و درگزر کا دامن ہاتھوں سے چھوڑدیتے، اس کے دشمن بن جاتے اور مختلف طریقوں سے اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ اگر ہم رحمت کونین، نانائے حسنین ﷺ کی پاکیزہ سیرت کا مطالعہ کریں تو ہم پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف فرمادیا کرتے تھے، چنانچہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اکرم ﷺ نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلّفاً،نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے اورنہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ آپ ﷺ معاف کرتے اور درگزر فرمایا کرتے تھے۔(ترمذی، 3/ 409، حدیث: 2023)

معاف کرنے میں بڑی رکاوٹوں میں سے سب سے بڑی رکاوٹ غرور و تکبّر بھی ہے۔ تکبّرکی تعریف یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے۔ (المفردات للرّاغب، ص697) تکبّر میں مبتلا انسان لوگوں کو معاف کرنے کو اپنی بے عزّتی تصوّر کرتا ہے،وہ سمجھتا ہے کہ معاف کرنا میرے وقار کے خلاف ہے،اس طرح تو میری شان گھٹ جائے گی،لوگ کیا کہیں گے وغیرہ۔یاد رکھئے! معاف کرنے سے ہرگز عزّت میں کمی نہیں آتی بلکہ پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے،چنانچہ نبیّ کریم ﷺ کا فرمان رحمت نشان ہے:صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کاقصور معاف کرے تو اللہ پاک اس(معاف کرنے والے کی عزّت ہی بڑھائے گا اور جو اللہ کریم کے لیے تواضع(یعنی عاجزی)کرے،اللہ پاک اسے بلندی عطا فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)

حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھارہے تھے، غلام گرما گرم شوربے کا پیالہ لا رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے پیالہ گرا جس کی وجہ سے شوربے کی چھینٹیں آپ پر بھی آئیں۔یہ دیکھ کر غلام گھبرایا اور شرمندگی بھرے لہجے میں اس نے سورۂ اٰل عمران کی آیت نمبر134 کی تلاوت کی جس کی ترجمہ یہ ہے: اور غصّہ پینے والے او ر لوگو ں سے درگزرکرنے والے۔ آپ نے فرمایا: میں نے معاف کیا۔ غلام نے پھر اسی آیت کا آخری حصّہ پڑھا: اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تجھے اللہ پاک کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ (تفسیر روح البیان، 2/ 95 ملخصاً)

سبحٰن اللہ! اللہ کریم کے نیک بندوں میں معاف کرنے کا جذبہ کس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے،لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی نفس کی خاطر غصّہ کرنے کے بجائے لوگوں کو معاف کرکے خوب خوب ثواب کمائیں۔

اللہ پاک اپنے پیارے محبوب ﷺ کے عفو و درگزر کے صدقے ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنے والا بنا دے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ- (پ 4، اٰل عمران: 159) ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں۔

عفو ودرگزر کی اہمیت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا تمام مسلمانوں پر لازم ہے، اسلام رواداری، اخلاقیات اور دوسروں کو معافی کا درس دیتا ہے۔ اس لیے معاف کرنے والا بہترین مسلمان ہوتا ہے۔

1۔ کھلے دل سے معاف کریں: اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کی درمیانی چیزوں کو بغیر حکمت کے پیدا نہیں کیا، اور قیامت ضرور آنے والی ہے پر تو ان سے خوش خلقی کے ساتھ کنارہ کر۔

2۔ مفاہمت کا انعام: قرآن کریم میں ارشاد باری تعٰالٰی ہےاور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پس جس نے معاف کر دیا اور صلح کرلی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

3۔ صبر اور معافی لائق تحسین ہیں: اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا بے شک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

4 معاف کرنا اللہ پر ایمان لانا ہے: پھر اللہ کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا، اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے، پس انہیں معاف کردے اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور کام میں ان سے مشورہ لیا کر، پھر جب تو اس کام کا ارادہ کر چکا تو اللہ پر بھروسہ کر، بے شک اللہ توکل کرنے والے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

عفودر گزر احادیث کی روشنی میں:

1۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اس کا بدلہ بھی اتناہی بڑا ملتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو اس کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے، پھر جو اس آزمائش پر راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ بھی اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو اس پر ناراض ہوا (یعنی بےصبری کا مظاہرہ کیا) تو اللہ بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ (ابن ماجہ، 4/374، حدیث: 4031)

2۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اپنے کسی بھائی پر اس کی عزت و آبرو یا کسی اور حوالے سے ظلم کیا ہو تو وہ آج ہی اس ظلم کو معاف کروالے، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جب نہ دینار کام آئے اور نہ در ہم۔ اگر اس شخص کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی ہوئی تو ظلم کے بقدر وہ نیکی چھین لی جائے گی (اور مظلوم کو دے دی جائی گی) ، اور اگر اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ہو تو پھر مظلوم کی برائیاں اس (ظالم) کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2449)

3۔ جو شخص غصے کو پی جائے، جبکہ وہ بدلہ لینے پر قادر ہو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے کہے گا کہ وہ جس حور عین کو چاہے، اپنے لیے پسند کرلے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معاف کرنے اور عفو درگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

عفو و درگزر کے معنی دوسروں کو معاف کرنا اسلامی تعلیمات میں عفو و درگزر سے مراد ہے کہ اگر کوئی دوسرا آپ کے ساتھ زیادتی کرے یا آپ کو برا بھلا کہے تو آپ اسے معاف کر دیں اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اپنےماتحت کام کرنے والوں کی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور انہیں سخت سزا دینے سے اپنے آپ کو روکنابھی عفو و درگزر میں شامل ہے اللہ پاک نہ صرف خود غفار اور غفور ہے بلکہ وہ ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ درگزر کرنے کا حکم دیتا ہے، چنانچہ قران مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

نبی کریم ﷺ کی ذات مبارک عفو و درگزر کا بے مثال پیکر تھی وہ کفار جنہوں نے مختلف طریقوں سے آپ کو اذیتیں پہنچائیں اور مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ بد زبانی کی اور آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے لیکن آپ نے ان کے لیے بددعا نہ فرمائی اور فتح مکہ کے موقع پر آپ نے ان سب کو معاف کر دیا عفو و درگزر کی تعلیم دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رحم کرو زمین میں رہنے والوں پر تاکہ آسمان والےکی طرف سے تم پر رحم کیا جائے۔ (ابو داود، 4/372، حدیث: 4941)

نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ رحم دلی اور عفو و درگزر سے کام لیا آپ ﷺ نے کبھی کسی کو نہیں ڈانٹا اور نہ ہی اپنی ذات کی خاطر کسی سے انتقام لیا جن لوگوں نے آپ ﷺ پر طائف میں پتھراؤ کیا آپ ﷺ نے ان کے لیے بد دعا کرنے کی بجائے بخشش اور رحمت کی دعا کی۔ قران مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ 17، الانبیاء: 107) ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔

احادیث میں عفو و درگزر کے بھی کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں ان میں سے دو فضائل درج ذیل ہیں:

1۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یا یہ اسے معاف کر دے اور جو اسے محروم کر ے یہ اسے عطا کرے جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرك، 3/12، حديث: 3215)

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب لوگ حساب کے لیے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس کا اجر اللہ کی ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے پھر دوسری بار اعلان کرے گا جس کا اجر اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائےگا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے۔ منادی کہے گا ان کا جو لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے پھر تیسری بار منا دی اعلان کرے گا: جس کا اجر اللہ تعالی کی ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542، حديث: 1998)

عفو و درگزر کے فوائد: اسلامی معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ عفو و درگزر کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ عفو و درگزر کرنے سے بھائی چارہ قائم ہوتا ہے۔ عفو و درگزر کرنے سے نفرتیں اور عداوتیں ختم ہو تی ہے۔

اللہ پاک ہمیں عفو و درگزر پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

عفو کا معنیٰ یہ ہے کہ آدمی اپنا حق چھوڑ دے اور بالکل بری الذّمہ ہو جائے مثلاً قصاص یا تاوان وغیرہ نہ لے، عفو یعنی معاف کرنا بردباری اور غصہ پی جانے کے علاوہ ایک الگ خوبی ہے جس کی اہمیت قرآن و حدیث میں ہونے کے ساتھ ساتھ صحابہ و تابعین اور اولیائے کرام کے کردار میں نمایاں نظر آتی ہے، چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ اللہ پاک نے خود اپنے پیارے محبوب ﷺ کو قرآن پاک میں حکم دیا: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ 9، الاعراف: 199) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

ایک جگہ فرمایا: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

معاف کرنا ایک ایسا اعلیٰ ترین وصف ہے کہ قرآن کریم میں جس کو ہمت والے کام قرار دیا گیا ہے۔ چونکہ انسان فطری طور پر ایسا ہے کہ نفس کے خلاف کوئی کام واقع ہو جائے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور صبر کرنا اسکے لئے مشکل ہو جاتا ہے تو ایسی حالت میں دوسروں کو معاف کرنا نفس پر گراں گزرتا ہے اسی لئے تو جس کام میں زحمت زیادہ ہو وہ افضل عمل ہوتا ہے۔ اگرچہ معاف کرنا مشکل کام ہے مگر جب بندہ اس سے حاصل ہونے والی فضیلتوں کے بارے میں سنتا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھامتے ہوئے درگزر کرنے کی طرف چل پڑتا ہے۔ اسی لئے علم دین میں اضافے کی نیت سے عفو و درگزر کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں،

1۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا: جس کا اجر اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا: کس کے لئے اجر ہے ؟ وہ منادی (یعنی اعلان کرنے والا) کہے گا: ان لوگوں کے لئے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلاحساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،حدیث: 1998)

2۔ رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو اللہ تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند امام احمد، 2/682،حدیث: 7062)

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئی کمی سرورا تم پہ کروڑوں درود

اب سوال یہ ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر معاف کتنی دفعہ کریں؟ تو اسکے متعلق بھی حدیث مبارکہ سے جانئے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں؟ آپ خاموش رہے۔اس نے پھر وہ سوال دہرایا،آپ پھر خاموش رہے،جب تیسری بار سوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ ستر(70) بار۔ (ترمذی، 3/381، حدیث: 1956)

معلوم ہوا کہ ہمیں وقتاً فوقتاً معاف کرتے رہنا چاہیے اور قرآن پاک کی آیات پر عمل کی نیت سے اور سنت مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی نیت سے عفو و درگزر کی عادت اپنا لیجئے اور اللہ پاک کے نیک اور محبوب بندوں میں داخل ہو جائیے۔

اللہ سے دعا ہے کہ

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم دیتا ہو واسطہ تجھے شاہ حجاز کا

عفو کا معنیٰ یہ ہے کہ آدمی اپنا حق چھوڑ دے اور بالکل بری الذّمہ ہو جائے مثلاً قصاص یا تاوان وغیرہ نہ لے، عفو یعنی معاف کرنا بردباری اور غصہ پی جانے کے علاوہ ایک الگ خوبی ہے جس کی اہمیت قرآن و حدیث میں ہونے کے ساتھ ساتھ صحابہ و تابعین اور اولیائے کرام کے کردار میں نمایاں نظر آتی ہے، چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ اللہ پاک نے خود اپنے پیارے محبوب ﷺ کو قرآن پاک میں حکم دیا: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ 9، الاعراف: 199) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

ایک جگہ فرمایا: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

معاف کرنا ایک ایسا اعلیٰ ترین وصف ہے کہ قرآن کریم میں جس کو ہمت والے کام قرار دیا گیا ہے۔ چونکہ انسان فطری طور پر ایسا ہے کہ نفس کے خلاف کوئی کام واقع ہو جائے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور صبر کرنا اسکے لئے مشکل ہو جاتا ہے تو ایسی حالت میں دوسروں کو معاف کرنا نفس پر گراں گزرتا ہے اسی لئے تو جس کام میں زحمت زیادہ ہو وہ افضل عمل ہوتا ہے۔ اگرچہ معاف کرنا مشکل کام ہے مگر جب بندہ اس سے حاصل ہونے والی فضیلتوں کے بارے میں سنتا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھامتے ہوئے درگزر کرنے کی طرف چل پڑتا ہے۔ اسی لئے علم دین میں اضافے کی نیت سے عفو و درگزر کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں،

1۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا: جس کا اجر اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا: کس کے لئے اجر ہے ؟ وہ منادی (یعنی اعلان کرنے والا) کہے گا: ان لوگوں کے لئے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلاحساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،حدیث: 1998)

2۔ رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو اللہ تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند امام احمد، 2/682،حدیث: 7062)

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئی کمی سرورا تم پہ کروڑوں درود

اب سوال یہ ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر معاف کتنی دفعہ کریں؟ تو اسکے متعلق بھی حدیث مبارکہ سے جانئے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں؟ آپ خاموش رہے۔اس نے پھر وہ سوال دہرایا،آپ پھر خاموش رہے،جب تیسری بار سوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ ستر(70) بار۔ (ترمذی، 3/381، حدیث: 1956)

معلوم ہوا کہ ہمیں وقتاً فوقتاً معاف کرتے رہنا چاہیے اور قرآن پاک کی آیات پر عمل کی نیت سے اور سنت مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی نیت سے عفو و درگزر کی عادت اپنا لیجئے اور اللہ پاک کے نیک اور محبوب بندوں میں داخل ہو جائیے۔

اللہ سے دعا ہے کہ

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم دیتا ہو واسطہ تجھے شاہ حجاز کا

ارشاد ہوتا ہے: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

معلوم ہوا! لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا ربّ کریم کو بہت پسند ہے۔یاد رہے!شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے،اسے ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مسلمان آپس میں متّحد (United)رہیں،ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں،ایک دوسرے کی عزّت و ناموس کے محافظ بنیں، ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کریں،اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں،اپنے حقوق معاف کردیا کریں،دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھیں،ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں وغیرہ،کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا اور شیطان ناکام و نامراد ہوجائے گا۔اس لئے وہ مسلمانوں کو معاف کرنے اور غصّے پر قابو پانے نہیں دیتا،لہٰذا شیطان کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے وار کو ناکام بنادیجئے اور درگزر کرنا اختیار کیجئے۔یاد رہے! کسی مسلمان سے غلطی ہوجانے پر اسے معاف کرنااگرچہ نفس پر نہایت دشوار ہے،لیکن اگر ہم عفو و درگزر کے فضائل کو پیش نظر رکھیں گے تواللہ پاک کی طرف سے انعام و اکرام کے حقدار بھی قرار پائیں گے۔ان شاء اللہ

آئیے!اس بارے میں 5احادیث مبارکہ سنئےاورلوگوں کومعاف کرنے کا جذبہ پیداکرنے کی کوشش کیجئے۔

(1)پیارے آقا ﷺ نےفرمایا:تین باتیں جس شخص میں ہوں گیاللہ کریم(قیامت کے دن)اس کا حساب بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے گا۔صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ وہ کون سی باتیں ہیں؟فرمایا:(1)جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو،(2)جو تم سے تعلّق توڑےتم اس سے تعلّق جوڑو اور(3)جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ (معجم اوسط،4/18،حدیث: 5064)

(2) قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا:جس کا اجر اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اورجنّت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا:کس کے لیے اجر ہے؟اعلان کرنے والا کہے گا:ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں۔تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،حدیث:1998)

(3) جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف کرے گاقیامت کے دن اللہ پاک اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔(ابن ماجہ، 3/36،حديث:2199)

(4) ہر دور میں میرے بہترین امّتیوں کی تعداد پانچ سو ہے اور ابدال چالیس ہیں، نہ پانچ سو سے کوئی کم ہوتاہے اور نہ ہی چالیس سے، جب چالیس ابدال میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے توربّ کریم پانچ سو میں سے ایک کو اس فوت ہونے والے ابدال کی جگہ پر مقرّر فرما تااور یوں40کی کمی پوری فرمادیتا ہے،عرض کی گئی:ہمیں ان کے اعمال کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔فرمایا: ظلم کرنے والے کو معاف کرتے،برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے اور اللہ پاک نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اس سے لوگوں کی غم خواری کرتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،1/ 39، حدیث: 15)

(5)ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوااور عرض کی:یارسول اللہ ﷺ !ہم خادم کو کتنی بارمعاف کریں؟آپ خاموش رہے۔اس نے پھر وہی سوال دہرایا، پھر خاموش رہے،جب تیسری بارسوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ ستّر بار۔ (ترمذی، 3/381،حدیث:1956)

حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: عربی میں ستّر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ معافی دو، یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہے، خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو،شریعت کا یاقومی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصورمعاف نہیں کیے جاتے۔ (مرآۃ المناجیح،5/170)

آپ نے سنا کہ لوگوں کو معاف کرنا کس قدر بہترین عمل ہے جس کی دنیا میں تو برکتیں نصیب ہوتی ہی ہیں مگر آخرت میں بھی ان شآء اللہ اس کی برکت سے جنّت کی خوشخبری سے نوازا جائے گا۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو طاقت و قدرت کے باوجود بھی لوگوں کی خطاؤں کو اپنی نفسانی ضد کا مسئلہ نہیں بناتے بلکہ معاف کرکے ثواب کا خزانہ پاتے ہیں۔مگر افسوس!آج اگر ہمیں کوئی معمولی سی تکلیف بھی پہنچادے،یا ذرا سی بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو ہم عفو و درگزر کا دامن ہاتھوں سے چھوڑدیتے، اس کے دشمن بن جاتے اور مختلف طریقوں سے اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ اگر ہم رحمت کونین، نانائے حسنین ﷺ کی پاکیزہ سیرت کا مطالعہ کریں تو ہم پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف فرمادیا کرتے تھے۔

الله ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور معاشرے کو امن کا گہوارا بنائے۔

عفودرگزر سے کیا مراد ہے؟ عفودرگزر سے مراد ہے کہ مجرم خطاکار اور سزا و عذاب کے مستحق کو معاف کرنے والا اور اسکی نافرمانیوں خطاؤں اور گناہوں سے درگزر کرنے والا، جرم غلطی اور نافرمانی کے باوجود سخت برتاؤ کے بجا ئے نرمی و محبت سے پیش آنے والا۔ عفو درگزر کے متعلق قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ

سورہ النساء میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا(۱۴۹)(پ 6، النساء: 149) ترجمہ کنز العرفان: اگر تم کوئی بھلائی علانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر تو بے شک اللہ معاف کرنے والا قدرت والاہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اگر تم کوئی نیک کام اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی برائی سے درگزر کرو تو یہ افضل ہے کیونکہ اللہ تعالی ہر طرح سے سزا دینے پر قادر ہونے کے باوجود اپنے بندے کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے لہذا تم بھی اپنے اوپر ظلم و ستم کرنے والوں کو معاف کر دو اور لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرو۔

اسی طرح سورۂ شوریٰ کی آیت نمبر 23 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)ترجمہ کنز العرفان:اور بیشک جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔

عفودرگزر کے متعلق حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے۔ (مستدرک للحاکم، 5/546، حدیث: 8216)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان کی بادشاہت کا مالک تم پر رحم فرمائے گا۔ (ترمذی، 3/371، حدیث: 1931)

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی درگزر کرنے والا معاف اور صبر کرنے والا بنا دے اور ہم سے ہمیشہ کے لیے راضی ہو جائے۔ آمین ثم آمین

اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ ظلم وزیادتی کر بیٹھے یا ایذا پہنچانے یا کسی سے خطایا قصور ہوجا ۓ یا تمہیں کسی طرح کا نقصان پہنچائے تو بدلہ وانتقام لینے کی بجائے اس کو معاف کردینا۔ یہ بہت ہی بہتر ین خصلت اور نہایت ہی نفیس عادت ہے۔ لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردینا یہ قرآن مجید کا مقدس حکم اور رسولوں کا مبارک طریقہ ہے۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا: فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا (پ 1، البقرۃ: 109) ترجمہ: پس تم معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔ ہمارے رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے ان مجرموں اور خطاکاروں جو جنہوں نے برسوں تک آپ پر طرح طرح کے ظلم کیے تھے۔ فتح مکہ کے دن جب یہ سب مجرمین آپ کے سامنے لرزتے اور کانپتے ہوئے آ ۓ تو آپ نے ان سب مجرموں کی خطاؤں کو معاف فرما دیا اور کسی سے بھی کوئی انتقام اور بدلہ نہ لیا۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ تمام کفار مکہ نے اس اخلاق محمدی ﷺ سے متأ ثر ہوکر کلمہ پڑھ لیا۔

پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ بھی اپنی یہی عادت بنا لیں کہ گھر میں ہویا باہر ہر جگہ لوگو ں کے قصور معاف کردیا کرو اس سے لوگوں کی نظروں میں تمہارا وقار بڑھ جائیگا اور خداوند کریم بھی تم پر مہربان ہوکر تمہاری خطاؤں کو بخش دے گا۔

عفو کے معنی ہیں معافی دینا سزا نہ دینا درگزر کو عربی زبان میں صفح کہتے ہیں اس کے معنی ہیں دیکھی کو ان دیکھی بنا دینا، مجرم کی طرف سے منہ پھیر لینا جیسے دیکھا ہی نہیں۔

عفو و درگزر حقیقت میں یہ ہے کہ بندہ بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے۔ (اے ایمان والو، ص81) ہمارا پیارا رب اللہ بڑا غفورو رحیم اور عفو و درگزر فرمانے والا ہے انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی عفو و درگزر کا کمال مظاہرہ کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی کئی جگہ اللہ تبارک و تعالیٰ نےعفو و درگزر کا ذکر فرمایا اور اس کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی اور اس عظیم الشان عمل کو اختیار فرمانے کا حکم خود رب نے قرآن مجید میں آپ ﷺ کو بھی ارشاد فرمایا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ 9، الاعراف: 199) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو تین باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے: جو مجرم معذرت طلب کرتا ہوا آپ کے پاس آ ئے تو اس پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیجئے۔ اچھے اور مفید کام کرنے کا لوگوں کو حکم دیجئے۔ جاہل اور ناسمجھ لوگ آپ کو برا بھلا کہیں تو ان سے الجھئے نہیں بلکہ حلم کامظاہرہ فرمائیں۔

ہمیں بھی چاہیےکہ اپنے روزمرہ کے معمولات میں بھی عفوو درگزر سے کام لیں گھر والوں رشتہ داروں ہمسائیوں دوستوں اور اپنے ماتحت لوگوں سے بھی انکی غلطیوں یا جو کچھ بھی ان سے سرزد ہو تو ہم اللہ کے حکم اور اس کے پیارے بندوں کے طور طریقوں کو اپناتے ہوئے ان پر صبر کریں اور بدلہ لیے بغیر انہیں معاف کریں اس کے متعلق بھی کئی احادیث کریمہ ملتی ہیں کہ آپ ﷺ عفو و درگزر کا مظاہرہ فرمایا کرتے جیسا کہ آپ اپنے پر ظلم کرنے والوں کو بھی معاف فرما دیا کرتے، آئیے ترغیب کے لیے ذیل میں بیان کردہ عفو و درگزر کے بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے۔

1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا اورآپ ﷺ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے، ایک دم ایک بدوی (عرب شریف کے دیہاتی) نے آپ ﷺ کی چادرمبارک کو پکڑ کر اتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ سلطان مدینہ ﷺ کی مبارک گردن پر چادر کی کنار سے خراش آگئی، وہ کہنے لگا: اللہ کا جو مال آپ ﷺ کے پاس ہے، آپ ﷺ حکم دیجیئے کہ اس میں سے مجھے کچھ مل جائےرحمت عالم ﷺ اس کی طرف متوجّہ ہوئے اور مسکرادیئے پھر اسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔ (بخاری، 2/359، حدیث: 3149) اس حدیث پاک سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی ہم سے بری طرح پیش آئے تو اس سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔

2۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفًا نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ (ترمذی، 3/ 409، حدیث: 2023)کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر گالی دیتے، برا بھلا کہتے ہیں اور بعض کبھی جب غصہ میں ہی اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ اس سے پاک تھے پس جن کی ایسی عادت ہو تو آئیے نیت کرتے ہیں کہ اس عادت کو بدل کو کر عفوو درگزر سے کام لیا کریں گے ان شاء اللہ الکریم اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح سے دوسروں تک نیکی کی دعوت پہنچانا بھی آسان ہو گا۔

3۔ جنگ احد میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ ﷺ کے دندان مبارک کو شہید کر دیا اور عبداللہ بن قمیئہ نے چہرہ انور کو زخمی اور خون آلود کر دیا مگر آپ ﷺ نے ان لوگوں کے لئے اس کے سوا کچھ بھی نہ فرمایا کہ اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔ (شفاء، 1/105)

آئیے ہم بھی نیت کریں کہ کسی کا برا کرنے پر اس کے لیے بددعا کی بجائے ہدایت کی دعا کیا کریں گے، ان شاء اللہ الکریم۔

4۔ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے عفوو درگزر کو واقعہ ملاحظہ فرمائیے ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کی لونڈی آپ رضی اللہ عنہ کو وضو کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے پانی کا برتن آپ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گر گیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا آپ رضی اللہ عنہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی: اللہ ارشاد فرماتا ہے: اور غصہ پینے والے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے غصہ پی لیا اس نے پھر عرض کی: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے پھر عرض گزار ہوئی: اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ارشاد فرمایا: جا! تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔ (تاریخ مدینہ دمشق، 41/ 387) لوگ عموما اپنے ماتحت لوگوں پر غصہ نکالتے ہیں لیکن ہمارے اکابرین ان سے بھی بے انتہا نرمی کیا کرتے۔

آئیے! معاف کرنے کی فضیلت بھی پڑھ لیتے ہیں، چنانچہ

5۔ معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے، خاتم النبیین ﷺ کا فرمان رحمت نشان ہے: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتااور بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ اس (معاف کرنے والے) کی عزت ہی بڑھائے گااور جو اللہ کے لیے تواضع(عاجزی) کرے، اللہ اسے بلند فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)

ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم اپنے آقا ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا و خوشنودی کے لیے آپ ﷺ کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے سے برا کرنے والوں سے بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود بدلہ لینے کی بجائے معاف کیا کریں۔

برا سلوک کرنے والوں سے اچھے سلوک سے پیش آئیں اور اپنی حق تلفی کرنے والوں کو معاف کر دیں۔

اللہ کریم پیارے آقا ﷺ کے اخلاق کریمہ کے صدقے میں ہمیں اخلاص و استقامت کے ساتھ عفو و درگزر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ کریم ہمارے اخلاق کو بھی سنوار دے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین

عفو کا مفہوم دوسروں کی غلطیوں زیادتیوں پر درگزر کرنا اور مہربان ہو کر معاف کر دینا، یہ ایسی محمود صفت ہے کہ اس کو اپنانے سے آپس کی رنجشیں دور ہوتی اور پیار و محبت کی فضا قائم ہوتی ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں عفو و درگزر کی تعلیمات دیتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) (پ 9، الاعراف: 199) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عفو و درگزر کا درس ملتا ہے، چنانچہ

1۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لئے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک، 3/12، حدیث: 3215)

2۔ رسول اکرم ﷺ کی پوری حیات طیبہ عفو درگزر سے عبارت تھی پیارے آقا ﷺ کے بے مثال عفو و درگزر کا ایک واقعہ ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تاجدار رسالت ﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے، اچانک ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کی چادر مبارک کو پکڑ کر اتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ پیارے آقا ﷺ کی گردن مبارک پر خراش آ گئی وہ کہنے لگا: اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے آپ حکم فرمائیے کہ اس میں سے کچھ مجھے مل جائے حضور پر نور ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا دئیے پھر اسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔(بخاری، 2/359، حدیث: 3149)

اللہ اللہ! عفو و درگزر کا ایسا عظیم الشان مظاہرہ بے شک یہ رسول کریم ﷺ کی ہی شان ہے، اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں جن میں عظیم عفو درگزر کی جھلک نمایاں ہے جیسے آپ ﷺ نے ابو سفیان کو معاف کر دیا، اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے غلام وحشی کو معاف کر دیا، حضرت حمزہ کا دانتوں سے کلیجہ چبانے والی ہند بنت عتبہ کو معاف کر دیا، یونہی صفوان بن معطل، عمیر بن وہب اور عکرمہ بن ابو جہل کو معاف کر دیا، سراقہ بن مالک کو امان لکھ دی اور ان کے علاوہ بہت سے ظالموں اور ستم شعاروں کے ظلم و جفا سے در گزر کر کے معافی کا پروانہ عطا فرما دیا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی پیارے آقا ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

عفو و درگزر کی تعریف: عفو عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے معاف کرنا، بخش دینا، درگزر کرنا، بدلہ نہ لینا اور گناہوں پر پردہ ڈالنے کے ہیں، جبکہ اصطلاحِ شریعت میں عفو سے مراد کسی کی زیادتی اور برائی پر انتقام کی قدرت اور طاقت کے باوجود انتقام نہ لینا بلکہ معاف کر دینا۔

عفو کا ادنی درجہ یہ ہے کہ آدمی معاف کرے خواہ طبیعت اس پر آمادہ نہ ہو اور عفو کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دل کی رضا خوشی کے ساتھ معاف کرے اور ممکن ہو تو کچھ اس کے ساتھ اچھا بھی کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ 4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔

اسی طرح اللہ نے قرآن کریم میں عفو و درگزر کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔معلوم ہوا کہ لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا اللہ کو بہت پسند ہے۔ یاد رہے شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اس سے ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مسلمان آپس میں متحد (united) رہیں۔ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریں ایک دوسرے کی عزت وناموس کہ محافظ بنے ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کریں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اگر ایسا ہوگا تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے گا اور شیطان کے وار ناکام اور نامراد ہو جائیں گے اس لیے کہ وہ مسلمان کو معاف کرنے اور غصے پر قابو پانے نہیں دیتا لہذا شیطان کے مخالفت کرتے ہوئے اس کے وار کو ناکام کر دیجئے اور درگزر کرنا احتیار کریں یاد رہے کسی مسلمان سے غلطی ہو جانے پر اسے معاف کرنا اگرچہ نفس پر نہایت دشوار ہے لیکن اگر تم عفو و درگزر کے فضائل کو پیش نظر رکھیں گے تو اللہ کی طرف سے انعام و کرام کے حقدار بھی قرار پائیں گے۔

احادیث مبارکہ:

1۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا: جب میں نے جنت میں اونچے اونچے محلات دیکھے تو جبرائیل سے فرمایا: یہ کن لوگوں کے لیے ہیں ! حضرت جبرائیل نے کہا یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں انہیں معاف کر دیتے ہیں۔(مسند الفردوس، 1/405، حدیث:3011) اپنے غصے کو پی جانا اپنے دشمن سے انتقام نہ لینا اور اس کو دل سے معاف کر دینا بہت ہمت کا کام ہے اس طرح کے اخلاق کو اپنانے والے بندوں کو اللہ بہت سارے انعامات سے نوازتا ہے۔

2۔ تین باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ قیامت کے دن اس کا حساب بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی! یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو، جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کر دو۔ (معجم اوسط، 4/18، حدیث: 5064)

3۔ جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف کرے گا قیامت کے دن اللہ عزو اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، 3/34، حدیث: 2199)

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتابدین و دنیا کی انوکھی باتیں صفحہ نمبر 446 پر ہے: منقول ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی ایک زمین تھی، جس میں آپ کے غلام کام کیا کرتے تھے اور آپ کی زمین سے متصل(یعنی بالکل قریب)حضرت  امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زمین تھی جہاں ان کے غلام کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ کا ایک غلام، حضرت عبد اللہ بن زبیر کی زمین میں زبردستی گھس آیا تو آپ نے ایک خط حضرت امیر معاویہ کی طرف لکھا، جس میں یہ تحریر کیا: آپ کاغلام میری زمین میں گھس آیا ہے، اسے منع کیجئے۔ حضرت امیر معاویہ نے خط پڑھ کر ایک صفحہ لیا اور خط کا جواب یوں لکھا: اے حواری رسول (یعنی رسول خدا ﷺ کے وفادار ساتھی) کے صاحبزادے! غلام نے جو کیا مجھے اس کا افسوس ہے اور دنیا کی میرے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں۔ میں اپنی زمین آپ کو دیتا ہوں، لہٰذا آپ اسے اپنی زمین میں شامل کرلیجئے اور اس میں موجود غلام اور اموال بھی آپ کے ہوئے۔ یہ خط جب حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس پہنچا تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا: میں نے امیر المؤمنین کا خط پڑھا ہے، اللہ پاک ان کی عمر لمبی کرے، ان جیسی شخصیت جب تک قریش میں موجود ہے، قریش کی رائے بے کار نہیں ہوسکتی۔ یہ خط جب حضرت امیر معاویہ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: جو معاف کرتاہے، وہ سرداری کرتاہے، جو برد باری کرتا ہے، وہ عظیم ہوتا ہے اور جو درگزر کرتا ہے، لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ (دین و دنیا کی انوکھی باتیں، ص 446)

نہیں سرکار! ذاتی دشمنی میری کسی سے بھی مری ہے نفس و شیطاں سے لڑائی یارسول اللہ

مختصر وضاحت: یعنی یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک کا کرم ہے کہ میری کسی بھی مسلمان سے ذاتی دشمنی نہیں بلکہ میری لڑائی توصرف و صرف میرے نفس اور شیطان مردود سے ہے۔

پیاری اسلامی بہنو! سنا آپ نے! اللہ والے کس قدر عمدہ خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں! جن کی شخصیت میں عاجزی و انکساری، دنیا سے بے رغبتی، سخاوت، ایثار، بردباری اور عفو و درگزر کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ حضرات صرف دعووں اور نعروں کی حد تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ اسلام ان کی رگ وپے میں رچ بس چکا ہوتا ہے،یہ حضرات اپنی ذات کے لئے کبھی بھی کسی سے بدلہ نہیں لیا کرتے،بالفرض اگر کوئی ان کے ساتھ سختی سے پیش آتا بھی ہے تو یہ اللہ والے آپے سے باہر ہونے کے بجائے اپنے مد مقابل کے ساتھ بھی شفقت و مہربانی والا سلوک ہی فرماتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں ان کی شان و عظمت کے چرچے ہورہے ہیں،جب ان عظیم ہستیوں کا ذکر خیر ہوتا ہے تو زبانوں پر رضی اللہ عنہ یا رحمۃ اللہ علیہ جاری ہوجاتا ہے۔ اے کاش! ان عظیم ہستیوں کے صدقے میں ربّ کریم ہمیں بھی مسلمانوں کو معاف کرنے اور معاف کرکے اس کا ثواب حاصل کرنے کی سعادت پانے کا جذبہ نصیب عطا فرمائے۔یادرہے!غصے کو پی جانا اور لوگوں سے درگزر کرنا ایسا بہترین عمل ہے کہ جو خوش نصیب مسلمان یہ عمل بجالاتا ہے اس کا شمار ربّ کریم کے پسندیدہ بندوں میں ہوتا ہے،چنانچہ پارہ 4 سورۂ اٰل عمران کی آیت نمبر 134 میں خدائے حنّان و منّان کا فرمان باقرینہ ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔

اسی طرح ارشاد ہوتا ہے: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ 18، النور: 22) ترجمہ کنز الایمان: اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔

پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا ربّ کریم کو بہت پسند ہے۔ یاد رہے! شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے، اسے ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مسلمان آپس میں متّحد (United)رہیں،ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں،ایک دوسرے کی عزّت و ناموس کے محافظ بنیں، ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کریں،اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں،اپنے حقوق معاف کردیا کریں،دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھیں،ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں وغیرہ،کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا اور شیطان ناکام و نامراد ہوجائے گا۔اس لئے وہ مسلمانوں کو معاف کرنے اور غصے پر قابو پانے نہیں دیتا،لہٰذا شیطان کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے وار کو ناکام بنادیجئے اور درگزر کرنا اختیار کیجئے۔یاد رہے! کسی مسلمان سے غلطی ہوجانے پر اسے معاف کرنااگرچہ نفس پر نہایت دشوار ہے،لیکن اگر ہم عفو و درگزر کے فضائل کو پیش نظر رکھیں گے تواللہ پاک کی طرف سے انعام و اکرام کے حقدار بھی قرار پائیں گے۔

آئیے!اس بارے میں 5احادیث مبارکہ سنئےاورلوگوں کومعاف کرنے کا جذبہ پیداکرنے کی کوشش کیجئے۔

لوگوں سے درگزر کرنے کی فضیلت:

(1)پیارے آقا ﷺ نےفرمایا:تین باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ کریم(قیامت کے دن)اس کا حساب بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے گا۔صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ وہ کون سی باتیں ہیں؟فرمایا: جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو،جو تم سے تعلّق توڑےتم اس سے تعلّق جوڑو اورجو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ (معجم اوسط،4/18، حدیث: 5064)

(2) قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا:جس کا اجر اللہ پاک کے ذمّہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اورجنّت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا:کس کے لیے اجر ہے؟اعلان کرنے والا کہے گا:ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں۔تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542،حدیث:1998)

(3) جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف کرے گاقیامت کے دن اللہ پاک اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔(ابن ماجہ، 3/36،حديث:2199)

(4) ہر دور میں میرے بہترین امتیوں کی تعداد پانچ سو ہے اور ابدال چالیس ہیں، نہ پانچ سو سے کوئی کم ہوتاہے اور نہ ہی چالیس سے، جب چالیس ابدال میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے توربّ کریم پانچ سو میں سے ایک کو اس فوت ہونے والے ابدال کی جگہ پر مقرّر فرما تا اور یوں 40 کی کمی پوری فرمادیتا ہے، عرض کی گئی: ہمیں ان کے اعمال کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔ فرمایا: ظلم کرنے والے کو معاف کرتے،برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے اور اللہ پاک نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اس سے لوگوں کی غم خواری کرتے ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء،1/ 39، حدیث: 15)

(5)ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوااور عرض کی:یارسول اللہ ﷺ! ہم خادم کو کتنی بارمعاف کریں؟ آپ خاموش رہے۔ اس نے پھر وہی سوال دہرایا، آپ پھر خاموش رہے، جب تیسری بار سوال کیا تو ارشاد فرمایا: روزانہ ستّر بار۔ (ترمذی، 3/ 381، حدیث: 1956)

حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: عربی میں ستّر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ معافی دو، یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہے، خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو، شریعت کا یا قومی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصور معاف نہیں کیے جاتے۔ (مرآۃ المناجیح،5/170)

لوگوں کو معاف کرنا کس قدر بہترین عمل ہے کہ اس کی دنیا میں تو برکتیں نصیب ہوتی ہی ہیں آخرت میں بھی ان شاء اللہ اس کی برکت سے جنّت کی خوشخبری سے نوازا جائے گا۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جو طاقت و قدرت کے باوجود بھی لوگوں کی خطاؤں کو اپنی نفسانی ضد کا مسئلہ نہیں بناتے بلکہ معاف کرکے ثواب کا خزانہ پاتے ہیں۔مگر افسوس!آج اگر ہمیں کوئی معمولی سی تکلیف بھی پہنچادے،یا ذرا سی بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو ہم عفو و درگزر کا دامن ہاتھوں سے چھوڑدیتے، اس کے دشمن بن جاتے اور مختلف طریقوں سے اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،حالانکہ اگر ہم رحمت کونین، نانائے حسنین ﷺ کی پاکیزہ سیرت کا مطالعہ کریں تو ہم پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف فرمادیا کرتے تھے،چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول اکرم ﷺ نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلّفاً، نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے اورنہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ آپ ﷺ معاف کرتے اور درگزر فرمایا کرتے تھے۔ (ترمذی، 3/ 409، حدیث: 2023)

جس کی شاندار مثال فتح مکّہ کا واقعہ ہے کہ مکّہ فتح ہونے سے پہلے جن کفّار بد اطوار کی طرف سے آپ ﷺ اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان پر زمین تنگ کردی گئی تھی،طرح طرح کی دردناک تکلیفیں دی گئی تھیں،مکّہ فتح ہونے اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہونے کے بعد دیگر قیدیوں کے ساتھ ساتھ تکلیفیں دینے والے ان خونخوار درندوں کو بھی گرفتار کرکے بارگاہ مصطفٰے میں حاضر کیا گیا تھا، اگر اس موقع پر کوئی اور دنیوی شہنشاہ ہوتا تو شاید ان کے لئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرتا، مگر قربان جائیے!نبیّ پاک ﷺ نے انہیں بھی معافی سے سرفرازفرمایا۔

جان کے دشمن خون کے پیاسوں کو بھی شہر مکّہ میں عام معافی تم نے عطا کی کتنا بڑا احسان کیا