عفو کا معنی و مفہوم: عفو عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی ہیں معاف کرنا، بخش دینا، درگزرکرنا، بدلہ نہ لینا اور گناہ پر پردہ ڈالنے کے ہیں۔

اصطلاح شریعت میں عفو سے مراد: کسی کی زیادتی و برائی پر انتقام کی قدرت و طاقت کے باوجود انتقام نہ لینا اور معاف کر دینا ہے۔ قدرت و طاقت نہ ہونے کی وجہ سے اگر انسان انتقام نہ لے سکتا ہو تو یہ عفو (معاف کرنا) نہیں ہو گا بلکہ اسے بے بسی کا نام دیا جائے گا، عفو صرف قادر ہونے کی صورت میں ہے۔

عفو کا ادنیٰ درجہ: عفو کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی معاف کر دے خواہ طبیعت اس پر آمادہ نہ ہو۔

عفو کا اعلیٰ درجہ: عفو کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دل کی رضا و خوشی کے ساتھ معاف کرے اور ممکن ہو تو اس کے ساتھ کچھ احسان بھی کرے

قرآن پاک میں عفو و درگزر کا حکم: ترجمہ کنز العرفان: اے حبیب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔

تفسیر:اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو تین باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے: جو مجرم معذرت طلب کرتا ہوا آپ کے پاس آ ئے تو اس پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیجئے۔ اچھے اور مفید کام کرنے کا لوگوں کو حکم دیجئے۔ جاہل اور ناسمجھ لوگ آپ کو برا بھلا کہیں تو ان سے الجھئے نہیں بلکہ حلم کامظاہرہ فرمائیں۔

عفو و درگزر کی فضیلت حدیث پاک کی روشنی میں:

1۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاف کرنے والے کی اللہ تعالیٰ عزت بڑھا دیتا ہے۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی

کوئی کمی سرورا تم پہ کروڑوں درود

2۔ تین عادتیں جس شخص کے اندر ہوں گی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے آسان حساب و کتاب لے گا اوراپنی رحمت کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ کون سی تین عادات ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جو تمہیں محروم کرے تم اسے نواز دو، جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑواور جو تجھ پر ظلم کرے تم عفو ودرگزر سے کام لو۔ جب تم یہ کام کر لو تو جنت میں داخل ہو جانا۔ (معجم اوسط، 4/18، حدیث: 5064)

3۔ رسول اکرم ﷺ پر لبید بن اعصم نے جادو کیا تو آپ رحمت عالم ﷺ نے اس کا بدلہ نہیں لیا نیز اس یہودیہ کو بھی معاف فرما دیا جس نے آپ ﷺ کو زہر دیا تھا۔

کیوں میری خطاؤں کی طرف دیکھ رہے ہو

جس کو ہے میری لاج وہ لجپال بڑا ہے

کاش ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے نفس کی خاطر غصہ کرنا چھوڑ ہی دیں جیسا کہ ہمارے بزرگوں کا جذبہ ہوتا تھا کہ ان پر کوئی کتنا ہی ظلم کرے یہ حضرات اس ظلم پر بھی شفقت ہی فرماتے تھے، چنانچہ حیات اعلیٰ حضرت میں ہے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک بار جب ڈاک پیش کی گئی تو بعض خطوط مغلظات (یعنی گندی گالیوں) سے بھرپور تھے معتقدین برہم (یعنی غصے) ہوئے کہ ہم ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ تعریفی خطوط لکھتے ہیں پہلے ان کو جاگیریں تقسیم کر دو پھر گالیاں لکھنے والوں پر مقدمہ دائر کر دو۔

مطلب یہ کہ جب تعریف کرنے والوں کو انعام نہیں دے سکتے تو برائی کرنے والوں سے بدلہ کیوں لیں!

الله کریم ہمیں بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

آئیے نیت کريں کہ ہم سب ایسی زندگی گزاریں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہو، معاشرے کو خوشگوار، محبت افزاء اور پرامن بنانے کے لیے بقائے باہمی پر عمل کریں گے اور اپنے اندر دیگر اعلیٰ اوصاف کی طرح عفو و درگزر کی صفت بھی پیدا کریں گے۔ آئندہ اس امید بلکہ پختہ یقین کے ساتھ لوگوں کی غلطیاں اور جرائم کو معاف کریں گے کہ کل قیامت اللہ کریمعفو ودرگزر کا معاملہ کرتے ہوئے ہماری غلطیاں اور ہمارے جرائم معاف کر دے گا۔

اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں درج ذیل دعا کو بطور خاص شامل فرما لیں:

اللھم انک عفوتحب العفو فاعف عنا یاغفور یاکریم ترجمہ: اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، ہمیں معاف فرما! اے بخشنے والے، اے کرم کرنے والے۔