عفو و درگزر از
بنت رمضان عطاریہ، جامعۃ المدینہ رحمت کالونی رحیم یار خان
حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی: اے
رب! تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: وہ جو بدلہ لینے کی قدرت
کے باوجود معاف کردے۔ (شعب الایمان، 6/ 319، حدیث: 8327)
لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا رب کریم کو بہت پسند
ہے یادرہے! شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اسے ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مسلمان آپس میں
متحد رہیں ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کریں کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو معاشرہ
امن کا گہوارہ بن جائے گا اور شیطان ناکام و نامراد ہوجائے گا اس لیے وہ مسلمانوں
کو معاف کرنے اور غصے پر قابو پانے نہیں دیتا لہذا شیطان کی مخالفت کرتے ہوئے اس
کے وار کو ناکام بنادیجئے اور درگزر کرنا اختیار کیجئے، اگرچہ یہ کام نفس پر دشوار
ضرور ہے مگر جب ارادے پختہ ہوں تو مشکل سے مشکل کام بھی انتہائی آسان ہوجاتا ہے
البتہ بسا اوقات کچھ ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوجاتی ہیں جو انسان کو عفو و درگزر سے
روکے رکھتی ہیں، جیسے علم دین سے دوری غرور و تکبر غصہ اور بری صحبت وغیرہ لہذا
انسان کو چاہئے کہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی سعی کرے۔
محترم قارئین! عفو و درگزر کا جذبہ پیدا کرنے اور
اس کی عادت بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ عفو و درگزر کے فضائل کا مطالعہ کیا
جائے، آئیے عفو و درگزر کے فضائل و فوائد پر مشتمل چند احادیث کریمہ پڑھیے اور
اپنے اندر عفو و درگزر کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔
1۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: تین باتیں جس شخص میں ہوں
گی اللہ کریم (قیامت کے دن) اس کا حساب
بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گاصحابہ کرام
نے عرض کی یارسول اللہ! وہ کونسی باتیں ہیں ؟ فرمایا: جو تمہیں محروم کرے تم اسے
عطا کرو، جو تم سے تعلق توڑے تم اسے جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کرو۔
(معجم اوسط، 4/18، حدیث: 5064)
2۔ جو کسی مسلمان کی غلطی کو معاف فرمائے گا قیامت
کے دن اللہ پاک اس کی غلطی کو معاف فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، 3/36،حديث:2199)
3۔ قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا کہ جس کا اجر
اللہ پاک کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے پوچھا جائے گا: کس کے
لئے اجر ہے؟ اعلان کرنے والا کہے گا ان لوگوں کیلئے جو معاف کرنے والے ہیں تو
ہزاروں آدمی کھڑے ہونگے اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (معجم اوسط، 1/542، حدیث: 1998)
4۔ جو شرمسار کی لغزش کو معاف کرے گا اللہ قیامت کے
دن اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ (مسند بزار، 15/374، حدیث: 8967)
عفو و درگزر ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی
ہے معاف کرنا، گریز کرنا یا مٹانا اصطلاح میں اس کے معنی کسی کے غلط رویے یا ظلم
کرنے کے پاداش میں طاقت اختیاری کے باوجود بھی اسے معاف کر دینا عفو و درگزر
کہلاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں
اکثر جگہ مومن و اپنے برگزیدہ بندوں کے لئے عفو و درگزر کے بارے میں ارشاد فرمایا
ہے: فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا (پ 1، البقرۃ: 109) ترجمہ: پس
تم معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ
الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ- وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ
4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب
ہیں۔
پیارے نبی ﷺ کا عفو و درگزر سے کام
لینا: عفو
درگزر ایک ایسی صفت ہے جس سے اسلام کے پھلنے میں روانی آئی تھی، آپ ﷺ پر ہونے والے
ظلمات اور آپ کا مقام طائف، صلح حدیبیہ، فتح مکہ و بہت سے جیتے ہوئے غزوات میں
لوگوں کو یوں معاف کرنا یقیناً پورے امت مسلمہ کے لئے بہترین نمونے ہے سمجھنے کے
لئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آپ ﷺ نہ تو عادتاً بری باتیں
کرتے تھے اور نہ تکلفاً، اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے اور نہ ہی برائی کا
بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معاف کرتے اور درگزر فرمایا کرتے تھے۔ (ترمذی، 3/
409، حدیث: 2023)
عفو و درگزر کی فضیلت:
حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی: اے رب
العزت! تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: جو بدلہ لینے کی قدرت
کے باوجود معاف کردے۔ (شعب الایمان، 6/ 319، حدیث: 8327)
خاتم الانبیاء ﷺ کا ارشاد پاک ہے: صدقہ دینے سے مال
کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ اس (معاف کرنے والے) کی عزت
ہی بڑھائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)
رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا
اختیار کرو اللہ تمہیں معاف فرما دے گا۔ (مسند امام احمد، 2/682، حدیث: 7062)
ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر کہنے لگا: یا
رسول اللہ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں؟ ارشاد فرمایا: روزانہ ستر بار۔ (ترمذی،
3/ 381، حدیث: 1956) حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عربی میں
ستر 70 کا لفظ بیان زیادتی کے لئے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ معافی دو۔ (مراۃ
المناجیح، 5/170)
عفو درگزر کے معنیٰ: عفو
درگزر کے معنیٰ معاف کرنے کے ہیں (یعنی لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا درگزر کرنا
وغیرہ) اپنی غلطی کو مان کر دوسروں سے معافی مانگ لینے سے ہماری عزت کم نہیں ہو
جاتی بلکہ ہماری عزت اللہ اور لوگوں کے نزدیک اور زیادہ بڑھ جاتی ہے لہٰذا ہمیں
اپنی غلطی تسلیم کر کے دوسروں سے معافی مانگ لینی چاہیے اور دوسروں کو بھی معاف کر
دینا چاہیے۔
معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے: خاتم
المرسلین ﷺ کا فرمان رحمت نشان ہے: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کا
قصور معاف کرے تو اللہ اس(معاف کرنے والے) کی عزت ہی بڑھائے گا اور جو اللہ کے لیے
تواضع (یعنی عاجزی) کرے اللہ اسے بلند فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 2588)
اور معاف کرنے سے روز حشر حساب میں بھی آسانی ہوگی
آئیے اس بارے میں ایک حدیث سنتی ہیں، چنانچہ
حساب میں آسانی کے تین اسباب:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: تین باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ (قیامت کے دن)اس کا حساب بہت
آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا صحابہ کرام نے
عرض کی: یارسول اللہ ﷺ وہ کون سی باتیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو تمہیں محروم کرے تم
اسے عطا کرو۔ جو تم سے قطع تعلق کرے (یعنی تعلق توڑے) تم اس سے ملاپ کرو۔ جو تم پر
ظلم کرے تم اس کو معاف کر دو۔ (معجم اوسط، 4/18، حدیث: 5064)
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ معاف کر دینے سے اللہ
حساب بہت ہی آسان طریقے سے لے گا اور ہمیں اپنی رحمت و کرم سے جنت میں داخل فرما
دے گا۔ اب ہم ایک آیت کریمہ سے عفو درگزر کے فضائل بیان کرتے ہیں، چنانچہ اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے: وَ الْكٰظِمِیْنَ
الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ- وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ
4، آل عمران: 134) ترجمہ: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب
ہیں۔ اس آیت مبارکہ میں متقین کے چار اوصاف بیان کئے گئے ہیں: (1) خوشحالی اور
تنگدستی دونوں حال میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا (2) غصہ پی جانا (3) لوگوں
کو معاف کردینا (4) احسان کرنا۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ معاف کر
دینا متقین لوگوں کا ایک وصف ہے اور معاف کر دینے سے ہم متقین لوگوں کی فہرست میں
بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اب ہم عفو درگزر کے فضائل بیان کرتے ہیں:
فضائل عفو و درگزر: احادیث
میں عفوو درگزر کے بھی کثیر فضائل بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے دو فضائل درج ذیل
ہیں:
(1) حضرت
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو
کہ اس کے لئے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے
چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کر ے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے
اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے۔ (مستدرک، 3/12، حدیث: 3215)
(2) حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب لوگ حساب کے
لئے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے
ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ
جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا
جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ منادی کہے گا: ان
کا جو لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا:
جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ تو
ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم الاوسط، 1/ 542، حدیث: 1998)
ان فضائل سے ہمیں معلوم ہوا کہ معاف کرنا نہایت ہی
اچھا وصف ہے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ حقوق اللہ سے حقوق العباد زیادہ سخت ہوتے ہیں
اس لیے اگر ہم نے کسی کا دل دکھایا ہو تو ہمیں معافی مانگ لینی چاہیے اور اگر کسی
نے ہماری دل آزاری کی ہو تو ہمیں بھی اس کو معاف کر دینا چاہیے۔
معزز کون؟ حضرت موسیٰ
کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی: اے رب اعلیٰ! تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزت
والا ہے؟ فرمایا: وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کر دے۔ (شعب الایمان، 6/
319، حدیث: 8327)
سبحان اللہ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے
نزدیک وہ شخص زیادہ محبوب ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود بھی معاف کر دے
معاف کرنا کیسا ہی اچھا عمل ہے اللہ ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کی
اور اپنی غلطی مان کر معافی مانگے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
سبحان اللہ معاف کرنے سے انسان کو جنت بھی نصیب ہو
جاتی ہے اللہ ہمیں بھی عفو درگزر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور ﷺ کی شرم و حیا از بنتِ سید
ندیم علی،جامعۃ المدینہ حسنین کریمین،لاہور
شرم و حیا ایک ایسی صفت ہےجس کے بغیر ایمان والوں کی زندگی ادھوری
ہے۔یہ ایمان کے تقاضوں میں سے ایک اہم ترین تقاضا ہے۔اچھی صفات میں سے ایک اچھی
صفت ہے۔قرآن و حدیث میں اس کی کیا اہمیت بیان ہوئی ہے نیز پیکرِ شرم و حیا،جنابِ
احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی شرم و حیا کیسی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ کئی مفید باتیں اس کے
بارے میں پڑھیں گی۔سب سے پہلے یہ 2اہم باتیں ذہن نشین فرما لیجئے: ایک بات یہ کہ
شرم اور حیا کے ایک ہی معنی ہیں۔دوسری بات یہ کہ شرم و حیا کسے کہتے ہیں؟اور اس سے
کیا مراد ہے؟
شرم و حیا اس وصف کو کہتے ہیں جو بندے کو ہر اس چیز سے روک دے جو اللہ پاک اور اس کی مخلوق کے
نزدیک نا پسندیدہ ہوں۔حضور اقدس ﷺ کی حیا کے بارے میں اللہ پاک کا قرآن میں یہ
فرمان سب سے بڑا گواہ ہے کہ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ
یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ:بیشک
یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔(پ22، الاحزاب: 53)
آپ ﷺ کی شانِ حیا کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابیِ
رسول حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے
فرمایا:آپ ﷺ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیا دار تھے۔(بخاری،حدیث:3562)
حضور پاک ﷺ میں انتہا درجہ کی حیا تھی۔مردوں کی نسبت عورتوں
میں اور عورتوں میں کنواری لڑکی اور کنواری لڑکیوں میں سے بھی پردہ کی پابند لڑکی کس
قدر باحیا ہوتی ہے حضور پاک ﷺ اس سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔اس لیے
ہر قبیح قول و فعل اور قابلِ مذمت حرکات
وسکنات سے عمر بھر ہمیشہ آپ کا دامنِ عصمت پاک و صاف ہی رہا اور پوری حیاتِ مبارکہ
میں وقار و مروت کے خلاف آپ سے کوئی فعل یا عمل سرزد نہیں ہوا۔چنانچہ حضرت عائشہ
صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:حضور پاک ﷺ نہ فحش کلام تھے، نہ بے ہودہ
گو، نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے۔برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا کرتے تھے
بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتی تھیں کہ کمالِ حیا کی وجہ سے
میں نے کبھی بھی حضور ﷺ کو برہنہ نہیں دیکھا۔( الشفاء،1/69)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے ماموں حضرت ہند بن
ابی ہالہ سے حضور ﷺ کی صفتِ حیا نقل کرتے ہیں کہ آپ جب کسی پر ناراض ہوتے تو اس سے منہ پھیر لیتے اور بے توجہی فرما لیتے یا
در گزر فرماتے اور جب خوش ہوتے تو حیا کی وجہ سے انکھیں گویا بند فرما لیتے اور آپ
کی اکثر ہنسی تبسم ہوتی تھی ،اس وقت آپ کے
دندان مبارک اولے کی طرح چمکدار سفید ظاہر ہوتے تھے۔ آپ کی مجلس علم،حیا،صبر اور
امانت کی مجلس ہوا کرتی تھی۔آپ شرم و حیا میں کنواری پردہ نشین لڑکی سے کہیں زیادہ
بڑھے ہوئے تھے۔جب آپ کو کوئی بات ناگوار ہوتی تو آپ کے چہرے مبارک سے پہچان لی
جاتی یعنی آپ غایتِ شرم کی وجہ سے اظہارِ ناپسندیدگی بھی نہ فرماتے تھے۔(شمائل
نبوی) کہتے ہیں کہ یہ قسم حیا کی سب سے اعلیٰ ہے، کیونکہ جو اپنی ذات سے بھی شرماتا ہے وہ دوسروں سے کس
قدر شرمائے گا!
حضور ﷺ کی شرم و حیا از بنتِ اللہ
رکھا عطاریہ،فیضان خدیجۃ الکبری،تحصیل و ضلع گجرات
حیاایک ایسی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان برائیوں کے ارتکاب
سے باز رہتا ہے۔حضور ﷺ کی شرم و حیا کے بارے میں قرآن میں اللہ پاک کا یہ فرمان سب
سے بڑا گواہ ہے کہ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ:بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ
تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔(پ22، الاحزاب: 53)مفسرین نے
اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق مختلف روایات ذکر کی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ
مسلمانوں میں سے کچھ لوگ نبیِ کریم ﷺ کے کھانے کے وقت کا انتظار کرتے رہتے تھے،پھر
وہ آپ کے حجروں میں داخل ہو جاتے اور کھانا ملتے تک وہیں بیٹھے رہتے،پھر کھانا کھانے کے بعد بھی وہاں سے ہلتے نہ تھے،اس
سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت ہوتی تھی،اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔اس آیت کے شانِ
نزول سے سرکارِ دو عالم ﷺ کی کمالِ حیا،شانِ کرم اور حسنِ اخلاق کے بارے میں معلوم
ہوا کہ ضرورت کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ نہ فرمایا کہ اب چلے جائیں!بلکہ
آپ نے جو طریقہ اختیار فرمایا وہ حُسنِ آداب کی اعلیٰ تعلیم دینے والا ہے۔حضرت ابو
سعید خدری رضی اللہ عنہ نبیِ پاک ﷺ کی کمالِ شرم و حیا کے متعلق فرماتے ہیں: رسول
اللہ ﷺ پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔(بخاری،1/ 503)
آپ کی ذاتِ اقدس میں نہایت درجے کی حیا تھی،غایتِ حیا کے
سبب سے آپ اپنی ایک راحت کی تشریح نہ فرماتے تھے(یعنی ناپسندیدگی کا اظہار نہ
فرماتے تھے)
آپ ہر قبیح قول و فعل اور قابلِ مذمت حرکات و سکنات سے عمر
بھر ہمیشہ پاک صاف رہے۔پوری حیاتِ مبارکہ میں وقار و مروت کے خلاف آپ سے کوئی عمل
سرزد نہیں ہوا۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور ﷺ نہ فحش کلام تھے، نہ بےہودہ گو،نہ
بازاروں میں شور مچانے والے تھے۔برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا کرتے تھے بلکہ
معاف فرما دیا کرتے تھے۔آپ یہ بھی فرماتی ہیں کہ کمالِ حیا کی وجہ سے میں نے کبھی
بھی حضور ﷺ کو برہنہ نہیں دیکھا۔(الشفاء،1/69)
حضور ﷺ کے زمانے میں باقاعدہ استنجا خانوں کا رواج نہ تھا،لہٰذا
قضائے حاجت کے لیے آپ آبادی سے دور دراز نکل جاتے،چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی
اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:آپ ﷺ آبادی سے بہت دور چلے جاتے یہاں تک کہ کوئی آپ کو
دیکھ نہیں پاتا تھا۔( ابو داود)
اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ حضور ﷺ کی شرم و حیا کے متعلق لکھتے ہیں:
نیچی نظروں کی
شرم و حیا پر درود
اونچی بینی کے رفعت پہ لاکھوں سلام
جب سرکار ِدو عالم ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح
فرمایا اور ولیمے کی دعوت دی تو لوگ جماعت کی صورت میں آتے اور کھانے سے فارغ ہو
کر چلے جاتے۔آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہے اور
انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک بیٹھے رہے۔مکان تنگ تھا
تو اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حر ج واقع ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام
کاج کچھ نہ کر سکے۔ رسولِ کریم ﷺ اٹھے اور اپنی ازواجِ مطہرات کے حجروں میں تشریف
لے گئے اور جب دورہ فرما کر تشریف لائے تو اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے
ہوئے تھے۔حضور ﷺ پھر واپس ہو گئے تو یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے،تب حضور ﷺ دولت
سرائے میں داخل ہوئے اور دروازے پر پردہ ڈال دیا ۔اس واقعے سے حضور ﷺ کی کمالِ شرم
و حیا کا پتہ چلتا ہے کہ ناگوار گزرنے کے باوجود بھی ان سے یہ نہیں فرمایا کہ آپ
لوگ یہاں سے چلے جائیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی حضور ﷺ کی شرم و حیا کا صدقہ عطا فرمائے۔
امین
حضور ﷺ کی شرم و حیا از بنتِ حافظ
محمد جمیل،جامعۃ المدینہ العزیزیہ نور القرآن ناصر روڈ،سیالکوٹ
نبیِ کریم ﷺ کی عالی صفات میں سے ایک صفت حیا ہے۔چونکہ نبیِ
کریم ﷺ کی ہر صفت کامل و اکمل،اعلیٰ و
ارفع ہے،اس لئے آپ کی صفتِ حیا اور
مقامِ حیا بھی سب سے کامل و اکمل ،اعلیٰ و ارفع ہوگی۔
نبیِ کریم ﷺ کی شرم و حیا کا عالم:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ با حیا تھے،جب کوئی بات ایسی دیکھتے
جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم لوگوں کو آپ
کے چہرے سے معلوم ہوجاتا۔(بخاری،جلد سوم،حدیث:1055)
حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ بیان کردہ
حدیث کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں:کنواری
لڑکی کی جب شادی ہونے والی ہوتی ہے تو اسے گھر کے ایک گوشے میں بٹھا دیا جاتا
ہے،اسے اردو میں مایوں بٹھانا کہا جاتا ہے،اس
زمانہ میں لڑکی بہت ہی شرمیلی ہوتی ہے،گھر والوں سے بھی شرم کرتی ہے،کسی سے کھل کر
بات نہیں کرتی،حضور ﷺ کی شرم اس سے بھی زیادہ تھی،حیا انسان کا خاص جوہر ہے جتنا
ایمان قوی(مضبوط ہوگا) اتنا حیا(بھی) زیادہ ہوگی۔(مراۃ المناجیح،8/73)
حیا ایمان کا جزو ہے:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک شخص کے پاس سے
گزرے اور وہ حیا کے متعلق عتاب کر رہا تھا اور کہہ رہا
تھا کو تو اس قدر حیا کرتا ہے!تجھے نقصان پہنچے گا۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اس
کو چھوڑ دو(ایسا نہ کہو)اس لئے کہ حیا ایمان کا جزو ہے۔
(بخاری،جلد
سوم،حدیث:1071)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ بہت
زیادہ حیا فرمانے والے تھے۔آپ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے وہ عطا
کردی۔(دارمی،1/48،رقم:71)(تاریخ ابن عساکر،4/33)
حضور ﷺ کی شرم و حیا از بنتِ افتخار
احمد مدنیہ،جامعۃ المدینہ عبد الغفار منزل،حیدرآباد
حضور ﷺ کی حیا کے بارے میں قرآنِ پاک میں اللہ پاک کا یہ
فرمان سب سے بڑا گواہ ہے۔چنانچہ اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ :بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ
تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ 22، الاحزاب:53)
آپ کی شانِ حیا کی
تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں
زیادہ حیا دار ہیں ۔(سیرتِ مصطفیٰ ،ص613) آقا ﷺ کی شرم و حیا پر سب سے بڑی دلیل یہ
ہے کہ آپ جب کسی چیز کی طرف دیکھتے تو
اپنی نگاہِ مبارک نیچی فرمالیا کرتے تھے،بلا ضرورت اِدھر اُدھر نہ دیکھا کرتے تھے،ہمیشہ اللہ پاک کی طرف متوجہ
رہتے،اسی کی یاد میں مشغول اور آخرت کے معاملات میں غور و فکر کرتے رہتے،نیز آپ کی
نظرِ مبارک آسمان کی نسبت زمین کی طرف
زیادہ رہتی تھی۔(مواھب لدنیۃ، 5/272)
حدیثِ مبارک میں جو الفاظ آئے ہیں کہ ”آسمان کی نسبت زمین
کی طرف توجہ زیادہ رہتی تھی“ یہی حد درجہ
شرم و حیا پر دلیل ہے۔(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص313)
اس لئے ہر قبیح قول و فعل و قابلِ مذمت حرکات سے ہمیشہ آپ
کا دامنِ عصمت پاک و صاف رہا اور پوری حیاتِ مبارکہ میں وقار و مروت کے خلاف آپ سے
کوئی عمل نہیں ہوا ۔
شرم و حیا انسان کا وہ وصفِ جمیل ہے جس کی آغوش میں اخلاق و
کردار کی خوبیاں پرورش پاتی ہیں۔ جو انسان اس وصف سے کامل طور پر متصف ہو جاتا ہے
وہ اخلاقِ حسنہ کا پیکر بن جاتا ہے اور جو انسان اس سے موصوف نہ ہو تو وہ بے حیائی
و بے شرمی کا مجسمہ ہو کر جو چاہے کرتا ہے۔جیسا کہ حدیث میں ہے:اذا لم تستحی فاصنع ماشئت کہ جب تو نے شرم و حیا نہیں کی تو جو
چاہے کر۔(بخاری، 1/490)
حیا ایک ایسی رقت ہے جو انسان کے اندر اس وقت نمودار ہوتی
ہے جب وہ کسی مکروہ فعل کو دیکھے جس کا نہ کرنا بہتر ہواس میں حضور ﷺ سب سے زیادہ حیا
فرمانے والے اور سب سے بڑھ کر غضِ بصر یعنی چشم پوشی کرنے والے تھے ۔ ( الشفاء،
ص112)
آپ ﷺ کی شانِ حیا کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ آپ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی
کہیں زیادہ حیادار تھے اور جب کوئی ناپسند چیز دیکھتے تو ہم چہرۂ انور میں اسے
پہچان لیتے تھے۔(بخاری ،حديث:3562)
وضاحت :کنواری
لڑکی کی جب شادی ہونے والی ہوتی تو اسے گھر کے ایک گوشہ میں بٹھا دیا جاتا ہے اسے
اردو میں مایوں بٹھانا کہا جاتا ہے ۔اس جگہ یعنی گھر کے گوشہ کو مائیں اور عربی
میں خدر کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں لڑکی بہت شرمیلی ہوتی ہے، گھر والوں سے بھی شرم
کرتی ہے ، کسی سے کھل کر بات نہیں کرتی ۔حضور ﷺکی شرم اس سے بھی زیادہ تھی۔حیا
انسان کا خاص جوہر ہے جتنا ایمان قوی اتنی حیا زیادہ ۔
وضاحت :یعنی
دنیاوی باتوں میں سے کوئی بات یا کوئی چیز حضور انور ﷺ کو ناپسند ہوتی تو زبان
مبارک سے یہ نہ فرماتے مگر چہرۂ انور پر ناپسندیدگی کے آثار نمودار ہوجاتے تھے اورخدام بارگاہ پہچان لیتے تھے۔
ایک مرتبہ دعوتِ ولیمہ پر دو تین آدمی حضور ﷺ کے گھر شریف
میں کھانے کے بعد باتیں کر رہے تھے۔ حضور ﷺ کو ان کے بیٹھنے سے تکلیف ہوئی مگر ان
سے نہ فرمایا کہ چلے جاؤ! اس پر اللہ پاک کا فرمان نازل ہوا: اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ :بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ
تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ 22، الاحزاب:53)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضور ﷺ نہ فحش کلام
تھے،نہ بے ہودہ گو،نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے۔ برائی کا بدلہ برائی سے
نہیں دیا کرتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے۔
وضاحت: یعنی حضور ﷺ کی عادتِ کریمہ فحش باتیں کرنے کی اور کسی پر
لعنت پھٹکار کرنے کی نہ تھی، ساری عمر شریف میں ایک بار بھی کسی کو گالی نہ دی،کسی
خادم یابیوی کو لعنت کے لفظ سے یاد نہ فرمایا۔آپ یہ بھی فرمایا کرتی تھیں کہ کمالِ
حیا کی وجہ سے میں نے کبھی بھی حضورﷺ کو برہنہ نہیں دیکھا۔(الشفاء،1/ 119ملتقطاً)
ام المومنین حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیِ
کریم ﷺ کو جب کسی کی طرف سے کوئی ناگوار اطلاع ملتی تو آپ یہ نہ فرماتے کہ فلاں کا
کیا حال ہے؟وہ ایسا کہتا ہے!بلکہ آپ یہ فرماتے :فلاں قوم کیا کرتی ہے؟ یا فلاں قوم
کیا کہتی ہے؟ اس سے ان کو باز رہنے کی تلقین فرماتے اور ایسا کرنے والے کا نام نہ لیتے تھے۔(ابو داود،5/ 143)
حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور سید عالم ﷺ حیا کی وجہ سے کسی کے چہرے پر نظر
جما کر باتیں نہ فرماتے تھے اور آپ کسی کی مکروہ بات کو اضطراراً کنایتاًبیان فرما دیتے تھے ۔
( ابن ماجہ،ص 68)
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ میں نے
کبھی حضور ﷺ کا ستر نہ دیکھا۔
(ابن ماجہ،1/217 )(
شمائل محمدیہ، ص283)
حیاکی تعریف :حیا
وہ ایک ایسی رقت ہے جو انسان کے چہرے پر اس وقت نمودار ہوتی ہے جب وہ کسی ایسے عمل
کو دیکھتا ہے جس کا نہ کرنا بہتر ہو۔ (الشفا،ص92)
حیا کا ایک حصہ اغضاءیعنی چشم پوشی بھی ہے۔حضور ﷺ کی پاک
دامنی کا ذکر کس زبان سے کیا جائے! صرف اتنا بتادینا کافی ہے کہ آپ نےکبھی بھی کسی
عورت کو جس کے آپ مالک نہیں ہوں نہیں چھوا۔ (سیرتِ رسولِ عربی،ص371)
حضور ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ حیا فرمانے والے تھے۔اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی
النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ :
بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ 22، الاحزاب:53)
حیا وہ خلق ہے جس کے ذریعے انسان قبائحِ شرعیہ کے ارتکاب سے
بچتا ہے۔حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس میں غایت درجے کی حیا تھی۔چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے زیادہ حیا والے تھے۔جب
حضور ﷺ کسی چیز سے کراہت فرماتے تو ہم آپ کے چہرۂ انور سے پہچان جاتے۔ آپ کا چہرۂ
انور لطیف تھا،ظاہری جلد باریک تھی۔ آپ حیا کی وجہ سے جس بات کو مکروہ سمجھتے اس
سے بالمشافہ کلام نہ فرماتے یہ آپ ﷺ کی شریف النفسی تھی۔( بخاری،4/151)( مسلم، 4/1809)یعنی
غایتِ حیا کے سبب آپ اپنی کراہت کی تصریح نہ فرماتے تھے، بلکہ ہم اس کے آثار چہرۂ
انور میں پاتے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور ﷺ کی
بارگاہ میں اس طرح حاضر ہوا کہ آپ نے اس سے کچھ نہ فرمایا اور آپ کسی کی موجودگی
میں ناگوار بات کی نسبت کلام نہ فرماتے تھے۔ پس جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا:تم
اس سے کہہ دیتے کہ اس کو دھو ڈالو اور ایک روایت میں یہ ہے کہ تم اس کو کہہ دیتے
کہ اس کو اتار دے۔(تو وہ اتار دیتا)(ا بوداود،5/143)(شمائل محمدیہ،ص273)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی حضور ﷺ
کا ستر نہ دیکھا۔(ابن ماجہ،5/217 )
شرم و حیا کا وصف مبارک بھی دوسرے اوصاف حمیدہ کی طرح
حضورﷺکی ذاتِ اقدس میں اکمل طور پر تھا۔چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے
ہیں:آپ کثرتِ حیا کی وجہ سے کسی شخص کے چہرے پر نظر نہیں جماتے تھے۔( ذکر جمیل،ص100)
حیا کی تعریف:اصطلاح میں حیا یک ایسی رقت ہے جو انسان کے چہرے پر اس وقت نمودار ہوتی ہے جب
وہ کسی مکروہ عمل کو دیکھے جس کا نہ کرنا بہتر ہو۔ اسلام حیا کی تعلیم دیتا ہے۔حضور
ﷺکی سیرتِ طیبہ سے حیا کی تعلیم ملتی ہے۔چنانچہ حضور ﷺنے فرمایا: چار چیزیں رسولوں
کی سنتوں میں سے ہیں:( 1) عطر لگانا( 2) نکاح کرنا( 3) مسواک کرنا( 4) حیا کرنا۔
نصِّ قرآنی : حضور ﷺ کی حیا کے بارے میں اللہ پاک کا قرآنِ پاک میں یہ فرمان سب سے بڑا
گواہ ہے :
اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی
النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ :
بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ 22، الاحزاب:53)
احادیثِ مبارکہ:آپ ﷺ کی شانِ حیا کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیا دار تھے۔(
سیرتِ مصطفیٰ ،ص613
حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ
عنہم سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ حیا کی وجہ سے کسی کے چہرے پر نظر جما کر باتیں نہ
فرماتے تھے اور آپ کسی کی مکروہ بات کو اضطرارًا ، کنایتًا بیان فرما دیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کبھی حضور ﷺ کا ستر
نہیں دیکھا۔
حضور ﷺ نے فرمایا: بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے
ہیں۔ جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔(مستدر ک،1/ 176، حدیث:
66 )
اسلام اور حیا کا آپس میں وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے۔
اسی لیے اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں،
اشتہارات اور مارننگ شوز وغیرہ کے نام پر معاشرے میں شرم و حیا کے سائبان میں چھید
کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔بے حیائی تباہی لاتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مردوں کے
اخلاق اور عادات بگڑنے سے معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور جب عورتوں میں یہ بیماری پھیل
جائے تو نسلیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔لہٰذا مرد ہو یا عورت اسلام دونوں کو حیا اپنانے کی تلقین کرتا ہے اور حیا کو تمام
اخلاقیات کا سرچشمہ قرار دیتا ہے ۔جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:حیا صرف خیر ہی لاتی
ہے۔(مسلم،ص 40، حدیث: 37 )
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور
اسلام کا خلق حیا ہے۔(ابن ماجہ،4 /460، حدیث: 4181)
حضورﷺ نے فرمایا : ایمان کے 70 سے زائد شعبے ہیں ۔حیا ایمان
کا ایک شعبہ ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: جس میں حیا نہیں وہ جو چاہے کرے ۔
حیا ایک ایسی چیز ہے جو مسلم و غیر مسلم ہر ایک میں کچھ نہ
کچھ ضرور ہوتی ہے۔کیونکہ غیر مسلم بھی کپڑوں کے بغیر باہر نہیں نکلتے۔ البتہ
عورتوں میں حیا زیادہ ہوتی ہے۔لیکن سب سے بڑھ کہ شرم و حیا کے پیکر ہمارے رسول
کریم ﷺ ہیں ۔
حیا کے معنی ہیں عیب لگائے جانے کے خوف سے چھینپنا۔اس سے
مراد وہ وصف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جو اللہ پاک اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ (مرقاة
المفاتيح )
حضور اقدس ﷺ کی حیا
کے بارے میں اللہ پاک قرآنِ کریم میں یوں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-ترجمہ : بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو
وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے۔ (پ 22، الاحزاب:53)
آپ کی شانِ حیا کو بتاتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو
سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:حضور ﷺ
کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیادار تھے ۔
آپ ﷺ ہر برے قول و فعل اور قابلِ مذمت حرکات و سکنات سے عمر
بھر ہمیشہ دور رہے ہیں اور آپ کا دامنِ عصمت پاک و صاف ہی رہانیز پوری حیاتِ
مبارکہ میں آپ ﷺ سے وقار کے خلاف کوئی عمل ظاہر نہ ہوا۔
حضرت عائشہ رضی الله عنہا حضور اکرم ﷺ کی حیا کے متعلق
فرماتی ہیں کہ آپ نہ فحش کلام تھے،نہ بے ہودہ گو،نہ بازاروں میں شور مچانے والے
تھے۔آپ یہ بھی فرماتی ہیں کہ کمالِ حیا کی وجہ سے میں نے کبھی بھی حضور اکرم ﷺ کو
برہنہ نہیں دیکھا۔ (سیرتِ مصطفیٰ)
حضور اکرم ﷺ نے بہت سی احادیثِ مبارکہ میں حیا کے متعلق فرمایا جن میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں:
حضور ا کرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا:بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔(ابن ماجہ)
حضور اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا:ایمان کے 70 سے زائد شعبے ہیں اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔(مسلم)
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک حیا اور ایمان دونوں
آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک کو اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
( مستدرک)
اس حدیثِ مبارک میں حیا کے بارے میں فرمایا گیا کہ حیا اور
ایمان ملے ہوئے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں حیا کی کتنی اہمیت ہے!حیا اسلام
کا ایک حسن ہے۔جس کے دل میں حیا نہ ہو،جس کی آنکھ میں حیا نہ ہو، جو بے حیا ہوگا
اس کا کردار ختم ہو جاتا ہے ۔ باحیا انسان باکردار ہوتا ہے۔ حیا کی اسلام میں اتنی
زیادہ اہمیت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے حیا کے
بارے میں یہاں تک فرمایا کہ جب حیا ختم ہوجائے توجو چاہے کرو۔ جیسا کہ انصاری
صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کےآخری نبی ،محمد عربی ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جب تم میں حیا نہ ہو تو جو چا ہو کر و۔ (بخاری)
حیا کی تعریف: حیا وہ خلق ہے جس کے ذریعے انسان قبائحِ شرعیہ کے ارتکاب سے بچتا ہے۔حضور ﷺ
کی ذاتِ اقدس میں غایت درجہ کی حیا تھی۔ حیا ایک ایسی رقت ہے جو انسان کے چہرے پر
اس وقت نمودار ہوتی ہے جب وہ کسی مکروہ فعل کو دیکھے جس کا نہ کرنا بہتر ہے۔اغضاء
وہ صفت ہے کہ جب انسان کسی ایسی چیز کو دیکھے جس کو اپنی طبیعت سے برا جانتا ہو،پھر
اس سے منہ پھیرے۔حضور ﷺ تمام اعلیٰ صفات کی طرح اس میں بھی سب سے بڑھ کر غضِ بصر
یعنی چشم پوشی کرنے والے تھے۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے آپ کی حیا کے متعلق فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ
اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ- (پ22،الاحزاب: 53)ترجمہ
کنزالعرفان: اے ایمان والو!نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو
جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے۔ یوں نہیں کہ خودہی اس کے پکنے کاانتظار کرتے رہو۔
تفسیر :یہ آیت
حضور ﷺ کی نعتِ پاک ہے۔اس آیت میں مسلمانوں کو اس دولت خانہ کا ادب و احترام
سکھایا گیا ہے جس میں وہ آفتابِ نبوت جلوہ گر تھے۔اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ
حضور ﷺ نے حضرتِ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور دعوتِ ولیمہ کے لوگ جماعت جماعت سے آتے تھے
اور کھاتے جاتے تھے۔لوگ کھا کر گئے مگر تین شخص کھانا کھا کر باتوں میں مشغول ہو
گئے اور باتوں کا سلسلہ اس قدر دراز ہو گیا کہ ان کا بیٹھنا حضور ﷺ پر بھاری ہوا۔حضور
ﷺ اس جگہ سے اس لیے اٹھے کہ یہ لوگ بھی ہمیں قیام فرما دیکھ کر اٹھ جائیں ، مگر وہ
حضرات نہ سمجھے۔مکان تنگ تھا اور گھر والوں کو بھی ان کی وجہ سے تکلیف ہوئی۔حضور ﷺ
وہاں سے اٹھ کر حجروں میں تشریف لے گئے۔دورہ فرما کر جو تشریف لائے تو ملاحظہ
فرمایا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔حضور ﷺ یہ دیکھ کر پھر واپس ہو گئے۔ تب ان لوگوں
کو یہ خیال ہوا اور وہ اٹھ گئے۔اس پر یہ آیتِ کریمہ اتری۔اس آیت سے حضور ﷺ کا خلق،کمالِ
حیا اور شان معلوم ہوئی کہ آپ کو اگر کسی سے تکلیف پہنچتی تو خود نہیں فرماتے بلکہ
رب کریم ارشادفرماتا ۔
احادیثِ مبارکہ:
1۔ حضور ﷺ کی پاک دامنی کا ذکر کس زبان سے کیا جائے!صرف
اتنا ہی بتادینا کافی ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی عورت کو جس کے آپ مالک نہ ہوں نہیں
چھوا۔چنانچہ ایک جلیلُ القدر صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پردہ والی
دوشیزہ سے بڑھ کر حیا دار تھے۔ جب آپ کسی معاملے کو نا پسند فرماتے تو ہم اسے آپ
کے چہرے سے پہچان لیا کرتے یعنی غایتِ حیا کے سبب سے آپ اپنی کراہیت کی تصریح نہ
فرماتے تھے بلکہ ہم اس کے آثار چہرۂ انور پر پاتے۔(شمائل محمدیہ،ص 203،حدیث:341)
2۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ
بہت زیادہ حیا فرمانے والے تھے۔ آپ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے وہ
عطا کردی ۔( دارمی،1/ 48،رقم:1)
3۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ یہ
نہ فرماتے کہ فلاں کا کیا حال ہے؟وہ ایسا کہتا ہے! بلکہ آپ یہ فرماتے کہ فلاں قوم کیا کرتی ہے؟ یا فلاں قوم کیا کہتی
ہے؟ اس سے ان کو باز رہنے کی تلقین فرماتے اور ایسا کرنے والے کا نام نہ لیتے۔(
ابو داود،5/143)
4۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ ﷺ کی بارگاہ میں اس طرح حاضر ہوا کہ آپ نے اس
سے کچھ نہ فرمایا اور آپ کسی کی موجودگی میں ناگوار بات کی نسبت کلام نہ فرماتے تھے۔ جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:تم اس سے کہہ دیتے کہ اسے دھو ڈالے۔(ابوداود،5/143)(شمائل
محمدیہ، ص273)
5۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ حضور ﷺ حیا کی وجہ سے کسی کے چہرے پر نظر نہ فرماتے
تھے اور کسی کی مکروہ بات کو اضطرارً کنایتاً فرما دیتے تھے۔ (ابن ماجہ،
ص68)
6۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:حضور ﷺ کی حیا اور تستر کی وجہ سے مجھے کبھی آپ کامحلِّ
شرم دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ (ابن ماجہ ،ص 662،1922)
وضاحت:ام
المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور جانِ عالم ﷺ کی شرم و حیا کی وجہ سے آپ کے ستر کی طرف نظر نہیں کرتی تو خود حضور
ﷺ تو کیا دیکھتے! اصولی بات تو یہ ہے کہ شرمیلے انسان کے سامنے دوسرے کو مجبوراً
شرم کرنی پڑتی ہے اور ایک دوسری روایت میں بالتصریح اس کی نفی ہے ۔چنانچہ
7۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:حضور جانِ
عالم ﷺ نے نہ کبھی میرے ستر کو دیکھا نہ میں نے کبھی حضور
ﷺکا ستر دیکھا۔ (شمائل محمدیہ، ص418)
8۔ حضرت ام سلمہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب حضور ﷺ صحبت فرماتے تو آنکھیں بند کر لیتے اور سر جھکا
لیتے۔(شمائل محمدیہ، ص418)
Dawateislami