عباس علی عطاری (درجۂ
ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ساندہ لاہور، پاکستان)
آئیے جانتے
ہیں ایک ایسی ہستی کے بارے میں جو اپنی جوانی کو، اپنی خواہشوں کو،اپنے وقت کو،اپنی
طاقت کو،اگر میں کہوں کہ وہ اپنی ساری زندگی کو، سب کچھ اپنی اولاد پر صرف کردیتی
ہے وہ کوئی اور نہیں وہ (ماں)ہے ماں کی محبت اولاد کےلئے بےلوث ہوتی ہے۔اگر والدہ جیسی
نعمت کا ساری زندگی بھی شکر ادا کیا جائے تو نہیں ہو سکتا ایک ماں کا اللہ پاک کی
بارگاہ میں کیا مقام ہے اور کیا حقوق ہے آئیے جانتے ہیں:
ماں
کا حق کیا؟ حضرت
ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور رسول راحت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا لوگوں میں میرے حسن سلوک کا سب
سے زیادہ مستحق کون ہے ؟۔حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
تمہاری ماں۔ اس شخص نے عرض کیا پھر کون ؟حضور نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: تمہاری ماں وہ شخص نے عرض کیا پھر کون ؟حضور سید عالم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری ماں اس شخص نے عرض کیا پھر کون؟حضور
پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تمہارے باپ۔
جہاد
سے اہم والدہ کا حق: ایک حدیث پاک میں ہےحضرت جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ
حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جہاد میں جانے کی اجازت
لینے کے لئے حاضر ہوئے تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تمہارے
والدین زندہ ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں (زندہ ہیں) آپ نے فرمایا: انہیں کے ساتھ
رہو کہ جنت انہیں کے پاؤں تلے ہے ۔ (نسائی جلد 2 صفحہ نمبر 303 کتاب الجہاد)
ایک حدیث پاک میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
تعالی عنہا سے مروی ہے کہ تین چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے ان میں سے دو یہ ہیں: ماں باپ کے چہرے کو اور قرآن مجید کو۔ (کنزالعمال جلد 16 صفحہ نمبر 476)
ایک حدیث پاک
میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جو مسلمان اپنے
ماں باپ کے چہرے کی طرف خوش ہوکر محبت کی نظر سے دیکھے گا اللہ تعالی اس کو مقبول
حج کا ثواب عطا فرماتا ہے۔(کنزالعمال جلد 16 صفحہ نمبر 469)
والدہ کے حقوق
میں سے چند حقوق ملاحظہ فرمائیں:(1) احترام کرنا۔زبان سے اف تک نہ کہے(2) محبت
کرنا۔ہاتھ پاؤں چومنا (3) اطاعت: ان کی فرماں برداری کرنا (4) خدمت: ان کے کام
کرنا۔حکم بجا لانا (5)ان کو آرام پہنچنا (6)ان کی ضروریات کو پوری کرنا۔(7)قرض ادا
کرنا(8)جب فوت ہوجائےتو دعائے مغفرت کرنا(9)ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا۔ (10) گاہ
گاہ ان کی قبر کی زیارت کرنا۔
والدین کی
مثال دو آنکھوں کی سی ہے، ایک دائیں ہے اور دوسری بائیں، اگر ایک آنکھ چلی جائے تو
بینائی متأثر ہوتی ہے اور اگر دونوں آنکھیں چلی جائیں انسان اندھا ہوجاتا ہے،
سواپنے والدین کی حفاظت اور خیال اپنی آنکھوں کی طرح کرو اور کہتے رہا کرو: رَّبِّ
ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(24) ترجمہ
کنزالایمان:اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(چھوٹی
عمر) میں پالا۔(پ15، بنیٓ اسرآءیل:24)
اللہ پاک ہمیں
اپنے والدین کا ادب کرنے ان کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
حافظ محمد انس عطاری (درجہ
اولی جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے مسلمانوں پر دوسرے مسلمانوں کے حقوق فرض کیے ہیں، جنہیں حقوق العباد کہا جاتا ہے،
حقوق العباد میں سب سے مقدم حقوق والدین کے ہیں اور پھر والدین کے حقوق میں زیادہ
اہمیت ماں کے حقوق کو حاصل ہے
ہمارے پیارے
آخری نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مقامات پر ماں کی
فرمانبرداری پر احادیث بیان فرمائی ہیں، کہیں ماں اور باپ دونوں کی فرمانبرداری
اور کہیں پر علیحدہ علیحدہ ان دونوں کی فرمانبرداری پر احادیث بیان فرمائی ہیں۔
چنانچہ فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ میں آدمی کو وصیت کرتا
ہوں اُس کی ماں کے حق میں، وصیت کرتا ہوں اُس کی ماں کے حق میں، وصیت کرتا ہوں اُس
کی ماں کے حق میں، وصیت کرتا ہوں اُس کے باپ کے حق میں۔(المسند، ج6، ص463، حدیث:
18812۔الحقوق لطرح العقوق، ص36)
اس حدیث میں
بار بار وصیت کرنے کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں باپ پر ماں کو ترجیح دے۔ مثلاً: ماں
باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو یا پھر دونوں
سفر سے آئے ہیں تو پہلے ماں کے پاؤں دبائے اور پھر باپ کے۔
اسی طرح ایک
اور حدیث جو کہ حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ) روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں
کہ: ایک شخص نے خدمت اقدس حضور پرنور میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اُس کے ساتھ نیک
رفاقت کروں؟ فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر؟ فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر؟
فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر؟ فرمایا: تیرا باپ ۔(صحیح البخاری، کتاب الادب،
حدیث: 5981 ج4، ص93)(الحقوق لطرح العقوق، ص36)
اس حدیث
مبارکہ میں پہلے والی حدیث کی طرح بار بار وصیت کی کہ ماں کو باپ پرخدمت میں ترجیح دی جائے لیکن ایک بات کا خیال رکھیں کہ
اگر والدین کا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو ماں کا ساتھ دیتے ہوئے معاذ اللہ باپ کو
کسی طرح تکلیف پہنچانے کی کوشش کی نہ جائے یا اسے جواب دیا جائے یا بے ادبانہ آنکھ
ملا کر بات کی جائے، تو یہ سب باتیں حرام اور اللہ کی معصیت (نافرمانی) ہیں اور اللہ
عزوجل کی معصیت (نافرمانی) میں نہ ماں کی اطاعت اور نہ باپ کی اطاعت، تو اسے ماں
باپ میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ہرگز جائز نہیں۔
اُم المومنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضور اقدس سید عالم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: شوہر
کا، میں نے عرض کی: اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا۔ (مستدرک،
کتاب البرّ و الصلۃ، باب بر امک ثم اباک ثم القرب فالقرب حدیث: 7326، ج5،
ص208)(الحقوق لطرح العقوق، ص35)
ماں کی عظمت
اور شان بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جنت
ماؤوں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (مسند الشّھاب، ج1، ص102، حدیث: 119)(سُمندری گُنبد،
ص5)
یعنی ان سے
بھلائی کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے اور اس سے متعلقہ ایک حدیث ہے کہ تاجدار دو
جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما، تو
ایسا ہے جیسے جنّت کی چوکھٹ (یعنی دروازے) کو بوسہ دیا ۔(دُرِّ مختار، ج9، ص606،
دارالمعرفۃ بیروت) (سُمندری گُنبد، ص5)
میٹھے اسلامی
بھائیو! ہمیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور خصوصاً اُن کے بڑھاپے میں
زیادہ خدمت کی تاکید فرمائی ہے۔ یقینا ماں باپ کا بڑھاپا انسان کو امتحان میں ڈال
دیتا ہے اور سخت بڑھاپے میں بعض اوقات بستر ہی پر بول و بزار (یعنی گندگی) کی
ترکیب ہوتی ہے جس کی وجہ سے عموماً اولاد بیزار ہو جاتی ہے، مگر یاد رکھیے! ایسے
حالات میں بھی ماں باپ کی خدمت لازمی ہے۔ بچپن میں ماں بھی تو بچے کی گندگی برداشت
کرتی ہی ہے اس لیے ہمیں چاہیے ہم اُن سے بدتمیزی اور لڑائی جھگڑا کرنے کے بجائے
اُن سے محبت سے پیش آئیں اور اُن کی فرمانبرداری کریں۔
دل
دکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ
اس میں ہے خسارہ آپ کا
(وسائل
بخشش، 377)
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
آج کے دور کے
اندرجو لوگ logic
کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اسلام کے احکام کو چھوڑ رہے ہیں جبکہ تمام چیزوں
کااسلام میں بیان کیا جا چکا ہے ایسی ہی ایک عظیم ہستی ہماری والدہ بھی ہے جو ہمیں
پہلے دن سے لیکر اپنے آخری سانس تک ہم سے محبت کرتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ ہم ان کی
قدر نہیں کرتے۔ جبکہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہاں بقیہ رشتوں کے
متعلق فرمایا وہیں پر ماں کی شان و عظمت کو بھی بیان کیا ہےبلکہ دین اسلام نے
والدین کے احترام کو اس حد تک ملحوظ رکھا ہے کہ کسی اور کے والدین کو بھی گالی
دینے کی اجازت نہیں دی یعنی دوسروں کے والدین کی بھی عزت کی جائے اور انہیں احترام
کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے لیکن ایک ہم
ہیں کہ اپنی والدہ کی قدر نہیں کرتے ایک تعداد ایسی ہے ہم میں سے کہ وہ اپنی والدہ
کو گالیاں دیتی نظر آتی ہے
چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک
شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں لیکن اس پر قادر
نہیں ہوں۔ اس کی بات سن کر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا کیا تیرے
والدین میں سےکوئی زندہ ہے؟ عرض گزار ہوا والدہ زندہ ہیں۔آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا پس تو اپنی ماں کی خدمت اور فرمانبرداری کے معاملے میں
اللہ عز وجل سے ڈر جب تو اس پر عمل کرے گا تو حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اور
جہاد کرنے والا ہو گا۔جب تیری ماں تجھے بلائے تو اس کی فرمانبرداری کے بارے میں
اللہ عز وجل سے ڈرنا یعنی اس کی نافرمانی نہ کرنا اور والدہ کے ساتھ حسن سلوک سے
پیش آنا۔(در منثور جلد چہارم صفحہ 172)
ایک اور حدیث
پاک میں ہے حضرت انس رضی الله تعالى عنہ فرماتے ہیں کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ (كنز
العمال جلد 16 صفحہ نمبر 461)
اورحضور نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے
کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے، حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ایک آدمی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے
حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون
ہے فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری والدہ ہے، عرض
کی کہ پھر کون ہے؟ فرمایا کہ تمہارا والد ہے۔ (بخاری، الصح كتاب الادب، باب من أحق
الناس، 5، 2227، قم، 2 5626 مسلم، الصح كتاب البر والصلة)
یہ تو مسلمان
والدہ کے متعلق ارشاد ہے جبکہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تو مشرک
والدہ کے متعلق بھی حسن سلوک کا ارشاد فرمایا :
حضرت اسماء
بنت ابوبكر رضى الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری ماں مکہ سے آئی ہے اور وہ مشرکہ ہےاور وہ دین اسلام
سے بھی بیزار ہے کیا میں اُس سے حسن سلوک کروں؟آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا ہاں اپنی ماں سے حسن سلوک کرو۔(مسلم، كتاب زكوة)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو والدہ کی فرمانبرداری کرنے کی توفيق عطا فرمائے۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عتیق الرحمن عطاری (درجۂ
سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان مکہ راولپنڈی، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو! ماں وہ انمول اور عظیم ہستی ہے جس کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ماں وہ
ہستی ہے جس کے احسانات کا بدلہ نہیں دیا جا سکتا ماں اپنی اولاد سے سب سے بڑھ کر
پیار کرتی ہے وہ اپنی اولاد سے وفاؤں کا بدلہ نہیں چاہتی لہٰذا جتنے ایک ماں کے
احسانات ہیں اتنا ہی زیادہ تاکید کے ساتھ ہمیں قرآن کریم اور احادیث کریمہ میں اپنی
ماں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے، بھلائی کرنے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے
کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے احادیث
طیبہ میں انسان سے ماں کے ساتھ بھلائی کرنے پر جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔
ماں کے ساتھ
بھلائی اور فرمانبرداری کرنے کے بارے میں درج ذیل احادیث ہیں۔
اچھے
برتاؤ کی حقدار ماں ہے:1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک
شخص نے عرض کیا یارسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے اچھے برتاؤ کا
زیادہ حقدار کون ہے؟ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری ماں
اس نے پھر عرض کیا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں عرض کیا پھر کون؟ فرمایا: تمہاری
ماں عرض کیا پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا: تمہاری
ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہار اباپ پھر تمہارا قریبی پھر قریبی۔
شرح حدیث: اس
سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے کیونکہ ماں بچے پر تین احسان
کرتی ہے پیٹ میں رکھنا،جننا،پرورش کرنا باپ صرف پرورش ہی کرتا ہے۔ بیٹا ماں باپ
دونوں کی خدمت کرے مگر مقابلہ کی صورت میں ادب و احترام باپ کا زیادہ کرے خدمت ماں
کی زیادہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان سے نرم اور نیچی آواز سے کلام کرے
مالی و بدنی خدمت کرے یعنی اپنے نوکروں سے ہی ان کا کام نہ کرائے بلکہ خود کرے ان
کا ہر جائز حکم مانے انہیں نام لے کر نہ پکارے اگر وہ غلطی پر ہوں تو نرمی سے ان
کی اصلاح کرے اگر قبول نہ کریں تو ان پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے۔ (مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:6, حدیث نمبر:4688، ص 353،قادری پبلشر)
کافرہ
ماں سے بھی حسن سلوک کرو: حضرت سیدتنا اسماء بنت ابی بکر رضی
اللہ تعالٰی عنہما سےروایت ہے فرماتی ہیں: رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں آئی اور اس وقت وہ مشرکہ تھی تو میں نے
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی ’’میری ماں
میرے پاس آئی ہے اور اسے کچھ طمع ہے کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں ؟
‘‘ارشادفرمایا: ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔
شرح حدیث:
معلوم ہوا کہ کافر و مشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔
حدیث پاک سے ماخوذ چند فوائد:عَلَّامَہ بَدْرُ
الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی فرماتے ہیں: اس حدیث پاک سے چند
فوائد حاصل ہوئے:
(1) جس طرح مسلمان ماں سے صلہ رحمی کرنا جائز ہے
اسی طرح کافرہ ماں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا جائز ہے۔
(2) یہ حدیث
پاک اُن علماء کی مستدل (یعنی دلیل) ہے کہ جو مسلمان بیٹے پر کافر ماں باپ کا نفقہ
واجب کرتے ہیں۔
(3) رشتہ
داروں سے ملاقات کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔
(4) اِس حدیث پاک میں سَیِّدتُنا اسماء رضی اللہ
عنہا کی فضیلت ہے کہ انہوں نے کافر ماں سے صلہ رحمی کرنے کے بارے میں غورو فکر کیا
اور یہی آپ کی شانِ عظیمی کے لائق تھا کہ آپ سَیِّدُنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی
بیٹی اور حضرتِ سَیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ ہیں۔
(فیضان رياض الصالحین,حدیث نمبر:312، ص 609، المدینة العلمیہ)
والدہ
کی خدمت کو لازم پکڑو:حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے والد جاہمہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور
عرض کیایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میرا جہاد میں جانے کا ارادہ
ہے میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا کیا تیری ماں ہے؟عرض کیا ہاں۔ فرمایا اس کی خدمت اپنے اوپر لازم
کر لے کہ جنت ماں کے قدموں کے تلے ہے۔(مسند للإمام أحمد بن حنبل، حدیث:15538، ص
1046، مکتبہ دار السلام)
ماں
کے ساتھ بھلائ کرنے کی جزاء:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی
علیہ وسلَّم نے فرمایا: میں جنت میں گیا، اس میں قرآن پڑھنے کی
آواز سنی،میں نے پوچھا یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن نعمان
ہیں۔ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہی حال ہے
احسان کا، یہی حال ہے احسان کا، حارثہ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے ۔(بہار
شریعت،جلد 3،حصہ 16، باب سلوک کرنے کا بیان، ص 552، المدینۃ العلمیہ)
ماں
سے بھلائی کرنے کی تاکید: حضرت ابو سَلامہ سَلامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے
ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرنے کی
وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں
آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ کے
ساتھ جس کا وہ والی ہو بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اُس سے تکلیف ہی
کیوں نہ پہنچی ہو۔
شرح حدیث:عربی میں مولیٰ کا لفظ آزاد کردہ غلام
یا دوست یا رشتے دار یا ساتھی سبھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں کوئی بھی معنی
مراد لے سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے تکلیف پہنچے لیکن اس کےبدلے میں تکلیف نہ دے بھلائی
تو یہی ہے کہ برائی کے بدلے نیکی کرے، اور جو اپنے سے رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑے۔ (سنن
ابن ماجہ، آداب کا بیان، والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا باب، جلد 2، ص 936، ح
3657، مکتبة البشری)
لہٰذا ہمیں
بھی چاہیے ہم اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کریں ان کے ہر حکم کو مانیں ان کو(اُف)تک
بھی نہ کہیں،ان کو آتے دیکھ کر باادب کھڑے ہوجائیں۔
اللہ کریم
ہمیں اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم
النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد سرور خان قادری (درجۂ سادسہ
جامعۃُ المدینہ شیرانوالہ گیٹ لاہور، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو الله پاک نے انسان کو بہت ساری نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے۔ ان نعمتوں
میں سے ایک عظیم الشان نعمت والدۂ محترمہ بھی ہیں۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے
الله پاک کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہئے۔
ماں کے ساتھ
حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے سے اللہ تعالیٰ دنیاوآخرت دونوں
جہان میں اپنا خاص فضل فرماتا ہے،اوروالدین کی خدمت وفرمانبرداری کرنے والوں کو
اکثر دنیا میں بہت آرام،سکون،خوشیاں اور مال و دولت نصیب ہوتا ہےاور آخرت میں تو
اس کے وارے ہی نیارے ہیں۔
جنت
کی چوکھٹ:ماں
کے قدموں کے نیچے جنت ہے ماں کی خدمت وفرمانبرداری کرنا جہاد سے بھی افضل عبادت
ہے۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم! میں جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں اور میں اس معاملے میں آپ کی اجازت لینے
آیا ہوا ہوں۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کیا تیری والدہ
زندہ ہے ؟عرض کی:جی ہاں! فرمایا ہمیشہ اس کے قدموں سے چمٹے رہو کیونکہ اس کے قدموں
میں جنت ہے۔ اس شخص نے یہ بات تین بار عرض کی تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ویسے ہی جواب ارشاد فرمایا۔(مجمع الزوائد،جلد8،صفحہ137)
ایک اور حدیث
شریف میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں
گیا اس میں قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا:یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا،
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔ (شرح السنّۃ، کتاب البرّ
والصلۃ، باب برّ الوالدین، 6/426، الحدیث: 3312)
اور شعب
الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی ماں کے ساتھ بہت
بھلائی کرتے تھے۔(شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، 6/184،
الحدیث: 7851)
علّامہ علی بن
محمد خازن رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد والدین کی خدمت سے
بڑھ کر کوئی اطاعت و فرمانبرداری نہیں۔
پیارے اسلامی
بھائیو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کی زندگی ہی میں ان کی قدر اور ان کی اطاعت
وفرمانبرداری کرلیں یہ نہ ہو کہ بعد میں پچتاوا ہو۔
الله کریم کی
پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی والده کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔اور جن کی والده اس دنیا فانی سے چلی گئیں ہیں ان کی بے حساب
بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد اویس عطّاری (درجۂ ثانیہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
انسان کو اللہ
تبارک و تعالی نے اس دنیا میں پیدا فرمایا انسان اس دنیا میں دو ہستیوں کے وسیلے
سے آتا ہے جنہیں ماں باپ کہا جاتا ہے اس سے پچھلے ماہنامہ میں ہم نے والد کی
فرمانبرداری پر احادیث پڑھی اس مرتبہ والدہ کی فرمانبرداری پر احادیث پڑھتے
ہیں۔والدین کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی کرنے کا حکم رب تعالی نے قرآن پاک میں دیا
ہے جبکہ قرآن و حدیث میں والدہ کے حقوق زیادہ بیان کیے گئے ہیں کیونکہ والدہ زیادہ
مشقتیں جھیلتی ہے بچے کی پیدائش پرورش وغیرہ کے مراحل کی مشکلیں ماں ہی جھیلتی ہے
ماں ٹھنڈی چھاؤں کی طرح ہے جس کے سائے میں جا کر انسان سکون پاتا ہے ایک صحابی رضی
اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی ایک راہ میں ایسے گرم پتھر تھے کہ اگر
گوشت کا ٹکڑا ان پر ڈالا جاتا تو کباب ہو جاتا میں اپنی ماں کو گردن پر سوار کر کے
چھ میل تک لے گیا ہوں کیا میں ماں کے حقوق سے فارغ ہو گیا ہوں سرکار صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تیرے پیدا ہونے میں درد کے جس قدر جھٹکے اس نے
اٹھائے ہیں شاید یہ ان میں سے ایک جھٹکے کا بدلہ ہو سکے (نیکی کی دعوت،ص445)واقعی
ماں نے اپنے بچے کے لیے سخت تکلیفیں اٹھائی ہوتی ہیں درد زہ یعنی بچے کی ولادت کے
دوران ہونے والے درد کو ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔ آئیے والدہ کی فرمانبرداری پر کچھ
احادیث پڑھتے ہیں:
سب
سے زیادہ حسن سلوک: (1) ایک شخص نے خدمت اقدس حضور پرنور صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں فرمایا
تیری ماں عرض کی پھر فرمایا تیری ماں عرض کی پھر فرمایا تیری ماں عرض کی پھر
فرمایا تیرا باپ۔(صحیح بخاری،حدیث 5971)
حضور
کی وصیت ماں کے حق میں: (2) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا: میں آدمی کو وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں وصیت کرتا ہوں اس
کی ماں کے حق میں وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں وصیت کرتا ہوں اس کے باپ کے
حق میں۔(ابن ماجہ، حدیث 3657)
مرد
پر سب سے بڑا حق: (3)ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
تعالی عنہا فرماتی ہیں میں نے حضور اقدس سید عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سے عرض کی عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے فرمایا شوہر کا میں نے عرض کی اور مرد پر
سب سے بڑا حق کس کا ہے فرمایا اس کی ماں کا۔(المستدرک،حدیث 7326)
جنت
ماں کے قدموں کے پاس: (4)حضرت سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ
تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ عزوجل
کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرا جہاد کرنے کا ارادہ ہوا تو میں آپ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں مشورہ کرنے چلا آیا تو رسول اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے عرض کی ہاں فرمایا
تو اس کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔(سنن
نسائی، کتاب الجہاد،ج 4،ص 11)
مشرکہ
ماں سے حسن سلوک:(5)حضرت
سیدتنا اسماء رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ
تھی قریش کے عہد اور اس کی مدت میں جبکہ انہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم سے معاہدہ کیا ہوا تھا اپنے باپ کے ساتھ مدینہ منورہ آئیں میں نے
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی
کر سکتی ہوں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ہاں تم اپنی ماں کے ساتھ
صلہ رحمی کرو۔(فیضان ریاض الحین, جلد 4, صفحہ 16)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ والدین کے ساتھ بھلائی اور اچھا سلوک کرنا صرف
مسلمان والدین کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اگر وہ دونوں کافر ہوں تب بھی ان کے ساتھ
اچھا سلوک کیا جائے گا۔اللہ عزوجل ہمیں اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی
فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
محمد اسجد عطّاری (درجۂ
ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو یقینا ماں باپ کا درجہ بہت بلند و بالا ہے ان کی دعائیں اولاد کے حق
میں مقبول ہوتی ہیں بس انہیں خوش رکھیے خوب ان کی خدمت کر کے دعائیں لیجیے ان کی
خوشی ایمان کی سلامتی اور ان کی ناراضی ایمان کی بربادی کا باعث ہو سکتی ہے آئیے
ایک حکایت پڑھتے ہیں ایک ڈاکٹر کا بیان ہے ایک شخص کو دل کا شدید دورہ پڑا بچنے کی
امید نہ تھی اس کی ماں بچھونے کے پاس بیٹھی دعا کر رہی تھی جو حاضرین نے سنی وہ
کہہ رہی تھی یا اللہ عزوجل میں اپنے بیٹے سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا ڈاکٹرز
علاج میں مشغول تھے اور محترمہ دعا میں لگی ہوئی تھی جب آخری وقت آیا مریض نے بلند
آواز سے کلمہ پڑھا ہونٹوں پر تبسم پھیل گئی اور روح پرواز کر گئی سبحان اللہ جس
مسلمان کی ماں آخری وقت اس سے خوش ہو اس کی بھی کیا شان ہے اور جس کو آخری وقت
کلمہ نصیب ہو جائے خدا کی قسم وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے چنانچہ اللہ عزوجل کے محبوب
دانائے غیوب منزہ عیوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان جنت نشان ہے جس کا آخری
کلمہ لا الہ الا اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا میٹھے اسلامی بھائیو اگر آپ کے ماں باپ
یا ان میں سے کوئی ایک ناراض ہے تو فورا ہاتھ جوڑ کر پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لیجئے
اس میں دونوں جہاں کی بھلائیاں ہیں۔
(1)کیا
میں نے والدہ کا حق ادا کر لیا؟ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے
بارگاہ نبوی میں عرض کی کہ ایک راہ میں ایسے گرم پتھر تھے کہ اگر گوشت کا ٹکڑا ان
پر ڈالا جاتا تو کباب ہو جاتا میں اپنی ماں کو گردن پر سوار کر کے چھ میل تک لے
گیا ہوں کیا میں ماں کے حقوق سے فارغ ہو گیا ہوں سرکار نامدار صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تیرے پیدا ہونے میں درد کے جس قدر جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں
شاید یہ ان میں سے کسی ایک جھٹکے کا بدلہ ہو سکتا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد 3)
(2)سب
سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی
عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں ہو کر عرض کی لوگوں میں سب سے
زیادہ میرے حسن سلوک کا حقدار کون ہے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا تیری ماں عرض کی پھر کون ارشاد فرمایا پھر تیری ماں عرض کی پھر کون ارشاد
فرمایا پھر تیری ماں عرض کی پھر کون ارشاد فرمایا پھر تیرا باپ۔(مسلم شریف, حدیث
2548)
(3)کافرہ
والدہ کے ساتھ بھی حسن سلوک حضرت سیدنا اسماء رضی اللہ تعالی عنہا
سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ تھی قریش کے احد اور اس کی مدت میں
جب کہ انہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معاہدہ کیا ہوا تھا
اپنے باپ کے ساتھ آئی میں نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا کیا میں
اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا ہاں تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔(صحیح بخاری،حدیث 5979)
جہاد
پر جانے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے (5)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی
اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جہاد میں جانے کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوا رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کیا تیرے والدین زندہ ہیں اس نے عرض
کی جی ہاں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا پس تو ان دونوں کی خدمت
میں رہ کر جہاد کر۔(صحیح مسلم, حدیث 2549)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو اللہ تعالی نے قرآن پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم
دیا ہے خصوصا ان کے بڑھاپے میں زیادہ خدمت کی تاکید فرمائی ہے یقینا ماں باپ کا
بڑھاپا انسان کو امتحان میں ڈال دیتا ہے بسا اوقات سخت بڑھاپے میں اکثر بستر ہی پر
بول و براز یعنی گندگی کی ترکیب ہوتی ہے جس کی وجہ سے عموما اولاد بیزار ہو جاتی
ہے یاد رکھیے ایسے حالات میں بھی ماں باپ کی خدمت لازمی ہے بچپن میں ماں بھی تو
بچے کی گندگی برداشت کرتی ہیں۔اس لیے ہمیں کبھی بھی ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے
اور تو اور ماں باپ کو محبت کے ساتھ دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب بھی ملتا ہے آپ
اپنے والدین کو خوش ہو کر محبت کے ساتھ دیکھیں ان شاءاللہ آپ کو مقبول حج کا ثواب
ملے گا۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
حاجی محمد فیضان (درجۂ ثانیہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
محترم
قارئین!ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہیں جو بچوں کی زندگی میں باد صبا کی مانند
ہے جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہے جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی
آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے اپنی خواہشات کو خاک میں ملا دیتی ہے جو خود نہیں
کھاتی اور اپنے بچوں کو کھلاتی ہے لیکن آج معاشرے میں ایسے نوجوان پائے جاتے ہیں
جو اپنی ماں کو گالیاں دیتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں۔
محترم قارئین!آپ
کے ذہن میں یہ سوال ابھرے گا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ وہ بھی تو انسان ہے مگر اتنی
تاکید کیوں دی جا رہی ہے کہ تم اسے اُف تک نہ کہو اس کا احترام کرو بلکہ اس کے
چاہنے والوں کا بھی ادب کرو جب یہ سوال ابھرے تو ماں کا لطف و کرم آپ سے سوال کرے
گا بیٹا بھول گئے وہ میں ہی ہوں جس نے تمہیں اپنے جگر کا خون دودھ بنا کر پلایا وہ
میں ہی ہوں جب تو بستر پر استنجاء کر دیتا تھا تو میں تمہیں دوسری جانب سلا دیتی
تھی خود وہاں سوتی تھی اور جب تو دوسری جانب بھی استنجاء کر دیتا تھا تو میں
سردیوں کی راتوں میں گیلے بستر پر سوتی اور تجھے اپنے سینے پر سلاتی۔ دل عزیز
سامعین ماں کی فرمانبرداری کا حکم اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے بھی فرمایا ہے آئیے آپ کے فرمان سے ماں کی فرمانبرداری کی اہمیت سمجھتے ہیں:
(1)مشرکہ
ماں سے بھلائی کا حکم حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی
ہیں کہ میری ماں آئی جب کہ وہ قریش میں مشرکہ تھی میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری ماں میرے پاس آئی ہیں وہ دین سے دور ہیں کیا میں ان
سے صلہ رحمی کروں فرمایا ہاں کرو۔ (مراۃ المناجیح ,حدیث 4692 ,جلد 6,ص 387)
(2)
ماں کی خدمت کا اجر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک
شخص نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی میں
جہاد کا شوق رکھتا ہوں مگر طاقت نہیں رکھتا فرمایا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ
ہے عرض کیا جی ہاں میری ماں زندہ ہے فرمایا تو اس کی خدمت میں اللہ پاک کی اطاعت
کرو جب تم ایسا کرو گے تو تم حاجی یعنی عمرہ کرنے والا اور مجاہد کا مرتبہ پاؤ گے۔(المعجم
الاوسط,حدیث 6915،ج 6،ص 171)
(3)
اچھے برتاؤ کا حقدار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے اچھے برتاؤ
کا زیادہ حقدار کون ہے فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض
کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہارا باپ۔ (مرآۃ
المناجیح،حدیث 4690,ج 6, ص 171)
(4)بھلائی
ایسی ہوتی ہے حضرت
عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت سنی میں نے کہا یہ کون
ہے عرض کیا یہ حارثہ ابن نعمان ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے اور وہ
اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکوکار تھے۔(مرآۃالمناجیح،حدیث 4708,ج 6,ص 393)
(5)
جنت ماں کے پاس ہےحضرت
معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جاہمہ نبی کریم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے حاضر ہوا ہوں تو آپ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے عرض کیا ہاں فرمایا اسے
مضبوط پکڑو کیونکہ جنت اس کے پاس ہے۔(مرآۃ المناجیح،حدیث 4718,ج 6،ص 402)
اللہ عزوجل سے
دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک اور فرمانبرداری کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
ساجد عطّاری (درجۂ خامسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
والدہ بچوں کی
زندگی میں باد صباء کی مانند ہے۔جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ ماں
کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے، ماں شفقت خلوص بے
لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے اس کا سایہ ہمارے لیے ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
ہے اس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دنیا میں پیدا نہیں ہوئی اور اس کی محبت میں
کبھی کمی نہیں آتی ہے احادیث مبارکہ کی روشنی میں والدہ کی فر نبرداری کے بارے میں
پانچ حدیثیں ذکر کرتا ہوں پڑھئے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے:
(1)
سب سے زیادہ حسن محبت کا مستحق: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ سب سے
زیادہ حسن محبت (یعنی احسان) کا مستحق کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: تمہاری ماں (یعنی
ماں کا حق سب سے زیادہ ہے) انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا تمہاری ماں۔
انہوں نے پوچھا پھر کون ؟ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر ماں کو
بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ پھر کون ؟ ارشاد فرمایا: تمہارا والد۔(بخاری کتاب
الادب، باب من احق الناس بحسن الصحبة 93/4، الحديث (5971)
(2)
کافرہ ماں کے ساتھ حسن سلوک: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، جس
زمانہ میں قریش نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معاہدہ کیا، میری
ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسول الله صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اعراض
کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں ؟ ارشاد فرمایا اس کے ساتھ سلوک کرو۔(بخاری
کتاب الادب، باب صلة الوالد المشرك: 96/4، الحدیث: 5978)
(3)
ماں کے ساتھ بھلائی کرنا جنت میں لے گیا: حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے
رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں گیا اس میں
قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا یہ کون پڑھتا ہے ؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن
نعمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی حال ہے
احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔ اور شعب الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ حارثہ
رضی اللہ عنہ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے۔ (شعب الایمان،الحدیث 7851)
(4)
ماں کی نافرمانی حرام ہے:حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ
رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماؤں کی
نافرمانی کو حرام کر دیا ہے۔(صحیح بخاری حدیث 3183، ج 2، ص 371)
(5)جنت
ماں کے قدموں کے نیچے:فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے جنت
ماؤوں کے قدموں کے نیچے ہے۔ یعنی ان سے بھلائی کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔(مسند
الشهاب، ج 1,ص 102, حدیث 119)
اللہ عزوجل
ہمیں اپنی والدہ کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
عبدالرحمٰن سلیم عطّاری
(درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان عثمان غنی کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کے لئے کئی رشتے بنائے ہیں۔ان سب رشتوں میں سب سے گہرا اور محبت بھرا
رشتہ ماں کا رشتہ ہے۔ماں وہ عظیم ہستی ہے کہ انسان اپنی ماں کی خدمت کر کے، اس کو
راضی کر کے دنیا و آخرت میں بہت کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ماں دنیا کے میٹھے ترین
کلمات میں سے ایک کلمہ ہے۔ ماں خلوص محبت شفقت کا مظہر ہوتی ہے۔
احادیث کریمہ
میں کئی مقامات پر ماں کی شان اور اس کی فرمانبرداری کے فضائل کو بیان کیا گیا ہے،ان
میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
(1)جنت
ماں کے قدموں کے نیچے:پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
بارگاہِ اقدس میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور عرض کی، یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم! میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم سے مشورہ لینے کو حاضر ہوا ہوں۔ ارشاد فرمایا: تیری ماں ہے؟ عرض کی، ہاں۔
فرمایا:اس کی خدمت لازم کرلے کہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔(مسند امام احمد بن
حنبل، حدیث 15538)
(2)زیادہ
حسن سلوک کا حقدار کون؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص
نے عرض کی: یارسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ
حقدار کون ہے؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے عرض
کی: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ اُس نے عرض کی: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ اُس
نے عرض کی: پھر کون۔ فرمایا: تمہارا باپ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا؛ تمہاری
ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہار اباپ، پھر تمہارا قریبی، پھر
قریبی۔(مشکاة المصابیح، حدیث:741)
(3)اگر
ماں نہ ہوتو خالہ سے اچھا سلوک کرو: ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول الله صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم! میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ ہوسکتی ہے؟ فرمایا:
کیا تیری ماں ہے؟ عرض کی: نہیں۔ فرمایا: کیا تیری کوئی خالہ ہے؟ عرض کی: ہاں۔
فرمایا: اس سے اچھا سلوک کرو۔(سنن ترمذی حدیث 1904)
(4)حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی چادر بچھا دی: روایت ہے حضرت
ابو طفیل سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مقام
جعرانہ میں گوشت تقسیم فرماتے دیکھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں حتی کہ نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قریب ہوگئیں تو حضور نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی
وہ اس پر بیٹھ گئیں میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حضور کی وہ ماں ہیں
جنہوں نے حضور کو دودھ پلایا ہے۔{مشکاة المصابیح }
(5)والدین
کی زیارت سے مقبول حج کا ثواب:رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی اپنے ماں باپ سے بھلائی کرنے والا لڑکا جو اپنے
والدین کو ایک نظر رحمت سے دیکھے مگر الله اس کے لیے ہر نظر کی عوض مقبول حج لکھتا
ہے عرض کیا کہ اگرچہ ہر دن سو بار دیکھےفرمایا ہاں الله بہت بڑا اور بہت پاک ہے۔ {مشکاة
المصابیح }
6:اس
شخص کی ناک خاک آلود ہو: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے، سرور کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین مرتبہ فرمایا:اُس کی ناک
خاک آلود ہو۔ کسی نے پوچھا:یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! کون؟
ارشاد فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور
جنت میں داخل نہ ہوا۔{صحیح مسلم حدیث 2551}
7:دنیا
میں ہی سزا حضرت
ابی بکرہ سے روایت ہے، رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:تمام
گناہوں میں سے الله جو چاہے بخش دے گا سوا ماں باپ کی نافرمانی کے کہ اس شخص کے
لیے موت سے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے۔{مشکاة المصابیح }
اللہ کریم
ہمیں بھی اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائےاوران کے تمام حقوق کو بجا
لانے اور ان کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
معین رمضان عطّاری
(درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
پیارے اسلامی
بھائیو الله پاک نے انسان کو بہت ساری نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے۔ ان نعمتوں
میں سے ایک عظیم الشان نعمت والدۂ محترمہ بھی ہیں۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے
الله پاک کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہئے۔
ماں کے ساتھ
حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے سے اللہ تعالیٰ دنیاوآخرت دونوں
جہان میں اپنا خاص فضل فرماتا ہے،اوروالدین کی خدمت وفرمانبرداری کرنے والوں کو
اکثر دنیا میں بہت آرام،سکون،خوشیاں اور مال و دولت نصیب ہوتا ہےاور آخرت میں تو
اس کے وارے ہی نیارے ہیں۔
جنت
کی چوکھٹ:ماں
کے قدموں کے نیچے جنت ہے ماں کی خدمت وفرمانبرداری کرنا جہاد سے بھی افضل عبادت
ہے۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک شخص حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم! میں جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں اور میں اس معاملے میں آپ کی اجازت لینے
آیا ہوا ہوں۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کیا تیری والدہ
زندہ ہے ؟عرض کی:جی ہاں! فرمایا ہمیشہ اس کے قدموں سے چمٹے رہو کیونکہ اس کے قدموں
میں جنت ہے۔ اس شخص نے یہ بات تین بار عرض کی تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ویسے ہی جواب ارشاد فرمایا۔(مجمع الزوائد،جلد8،صفحہ137)
ایک اور حدیث
شریف میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں گیا
اس میں قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا:یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا،
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔ (شرح السنّۃ، کتاب البرّ
والصلۃ، باب برّ الوالدین، 6/426، الحدیث: 3312)
اور شعب
الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی ماں کے ساتھ بہت
بھلائی کرتے تھے۔(شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، 6/184،
الحدیث: 7851)
علّامہ علی بن
محمد خازن رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد والدین کی خدمت سے
بڑھ کر کوئی اطاعت و فرمانبرداری نہیں۔
پیارے اسلامی
بھائیو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کی زندگی ہی میں ان کی قدر اور ان کی اطاعت
وفرمانبرداری کرلیں یہ نہ ہو کہ بعد میں پچتاوا ہو۔
الله کریم کی
پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی والده کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔اور جن کی والده اس دنیا فانی سے چلی گئیں ہیں ان کی بے حساب
بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
حافظ محمد اسد رضا (درجۂ سادسہ
جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ پاک
قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ
مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ (24) ترجمہ
کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے
رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(چھوٹی عمر) میں
پالا۔(پ15، بنیٓ اسرآءیل:24)
اس آیاتِ
مُبارَکہ کے تحت حضرت علّامہ مَولانا سَیِّدْ مُفتی محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب والِدَین پر ضُعْف (کمزوری) کا غَلَبہ ہو،
اَعضاء میں قُوَّت نہ رہے اور جیسا تُو بچپن میں اُن کے پاس بے طاقت تھا
ایسے ہی وہ آخرِ عُمْر میں تیرے پاس ناتُواں(کمزور)رہ جائیں۔ اِس لئے بندے کو
چاہئے کہ بارگاہِ اِلٰہی میں اُن پر فَضْل و رَحمت فرمانے کی دُعا کرے اور عَرض
کرے کہ یاربّ!میری خدمتیں اُن کے اِحسان کی جَزا (بدلہ)نہیں ہو سکتیں تُو اُن
پر کرم کر کہ اُن کے اِحسان کا بدلہ دے۔
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو!ماں ہی وہ مہربان ہستی ہے جو اَولاد کے لئے رو رو کر دُعائیں
کرتی ہے،ماں کی دُعا جنّت میں لے جاتی ہے، ماں کی دُعاربِّ کریم کا
فرمانبردار بناتی ہے،ماں کی دُعا بُرائیوں سے بچاتی ہے،ماں کی دُعا اَولاد
کو مقامِ وِلایت تک پہنچا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی والدہ کی
فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
والدہ کی
فرمانبرداری پر پانچ آحادیث ملاحظہ فرمائیں
اَلْحَدِيْثُ
الْاَوَّلُ:
وَعَنْ ابی ہریرة رَضِيَ اللهُ
عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ قَالَ:
اُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: اُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: اُمُّكَ، قَالَ:
ثُمَّ مَنْ قَالَ: اَبُوْكَ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! لوگوں
میں میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس
نےعرض کی: ’’ پھر کون؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’پھر
کون؟‘‘ارشادفرمایا: ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’پھر کون؟‘‘ ارشادفرمایا:
’’تمہارا باپ۔(مسلم: کتاب البر والصلة والآداب، جلد4/رقم:2548)
اَلْحَدِيْثُ
الثَّاْنِى:
عن ابي هريرة لَوْ ادرَكْتُ
وَالِدَيّ اوْ احَدَهُما وَقَدْ افْتَتَحْتُ صَلاةَ العشَاء وَقَرَأتُ
الفَاتِحَةَ فَدَعَتْنِى امَّى يَا مُحَمَّدُ لاجَبْتُها لَبَّيكِ ترجمہ:
حضرت ابو ہريره سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
اگر میں اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی پاتا اور میں نماز عشاء
کو شروع کر کے فاتحہ بھی پڑھ چکا ہوتا تو میری ماں مجھے پکارتی (یَا مُحَمَّدُ) اے
محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو ضرور میں جواب میں کہتا: لبیک۔ اے میری ماں
میں حاضر ہوں۔(جامع لکبیر للسیوطی، 75/7، رقم: 17847)
اَلْحَدِيْثُ
الثالث:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَنْظُرُ اِلَى
اُمِّهِ رَحْمَةً لَهَا اِلَّا كَانَتْ لَهُ بِهَا حَجَّةٌ مَقْبُولَةٌ
مَبْرُورَةٌ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاِنْ نَظَرَ اِلَيْهَا فِي
الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ وَاِنْ نَظَرَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ اَلْفِ
مَرَّةٍ فَاِنَّ اللَّهَ اَكْثَرُ وَاَطْيَبُ ترجمہ: حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنی ماں کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے مگر یہ کہ
اس کے لیے اسی فعل کی وجہ سے ایک مقبول حج کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، عرض کی کہ یا
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ اگرچہ اس کی طرف دن میں 100 مرتبہ بھی
دیکھے تو مدنی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ دن میں
ایک لاکھ مرتبہ بھی دیکھے تو بھی مقبول حج کا ثواب ملے گا۔(البر والصلۃ لامام ابن
جوزى 68/1 رقم: 48)
اَلْحَدِيْثُ
الرابع:
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ
السَّلَمِيِّ اَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اَرَدْتُ اَنْ اَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ اَسْتَشِيرُكَ
فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ اُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْزَمْهَا فَاِنَّ الْجَنَّةَ
تَحْتَ رِجْلَيْهَا ترجمہ: معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ
رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آئے، اور عرض کیا:
اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے
کے لئے حاضر ہوا ہوں، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے (ان سے) پوچھا: کیا
تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے
رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔(حدیث سنن نسائی: رقم الحديث: 3104)
مدنی پھول:
(1)حضرتِ
سَیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ والدین کے ساتھ اچھائی کس طرح
کی جائے؟ فرمایا: تمہاری ملکیت میں جو کچھ ہے اسے والدین پر خرچ کرو اور معصیت کے
علاوہ ہر بات میں ان کی اطاعت کرو۔
(2)والدین
بوڑھے ہوں یا جوان ہر حال میں ان کی خدمت کرنی چاہیے البتہ جوانی کے مقابلے بڑھاپے
میں وہ خدمت کے زیادہ حق دار ہیں۔
(3) بوڑھے
والدین کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لینی چاہئیں کہ بوڑھے کی دعا رب تعالیٰ کی
بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔
(4) بوڑھے والدین کی سخت باتوں پر بھی صبر کرنا
چاہیے اور ان کی سختی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے۔
والدین کا دل
دُکھانے والا اس دنیا میں بھی ذلیل وخوار ہوتاہے اور آخرت میں بھی عذابِ نار کاحق
دار ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔
یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و
تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔
Dawateislami