دعوت اسلامی کا دینی کام دنیا بھر میں جاری وساری ہے اور روز بروز ترقی کی طرف گامزن ہے دعوت اسلامی کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ ”شب وروز(News Department) بھی ہے۔

اس شعبے میں مختلف ممالک سے مختلف دینی کاموں کی مدنی خبریں موصول ہوتی ہیں جو دعوت اسلامی کی ویب سائیٹ”دعوتِ اسلامی کے شب وروز “پر اپلوڈ کی جاتی ہیں۔اسی سلسلے میں ساؤتھ افریقہ کے مختلف علاقوں سے ملنے والی مدنی خبروں کی تعداد 84 ہے۔

واضح رہے کہ ساؤتھ افریقہ اور یوکے کی مدنی خبریں انگلش زبان میں ٹرانسلیٹ کر کے ویب سائیٹ کی زنیت بنائی جاتی ہیں۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں ساؤتھ افریقہ میں شعبہ شارٹ کورسز کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ  ہوا جس میں ویلکم کابینہ کی اصلاحِ اعمال ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تربیت کی گئی نیز زیادہ سے زیادہ کورسز منعقد کروانے کا ذہن دیتے ہوئے کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے۔


دعوت اسلامی کے شعبہ اصلاحِ اعمال (اسلامی بہنیں)کے زیر اہتمام ساؤتھ افریقہ میں شعبہ اصلاح اعمال کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں ویلکم کابینہ کی اصلاحِ اعمال ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ملک سطح کی نگران اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کا فالواپ کرتے ہوئے تربیت کی اور دینی کاموں کو مضبوط بنانے نیز زیادہ سے زیادہ اصلاحِ اعمال اجتماع کا انعقاد کرنے کا ذہن دیا۔


دعوت اسلامی کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام ساؤتھ افریقہ میں بذریعہ انٹرنیٹ ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں کابینہ سطح کی شعبہ تعلیم ذمہ دار اسلامی بہن نے شعبہ تعلیم کی کارکردگی کو بڑھانے اور اسے مزید اچھے انداز سے بہتر کرنے کے مدنی پھول پیش کئے نیز اس ماہ سنتوں بھرے اجتماع منعقد کرنے اور وقت پر کارکردگی دینے کا ذہن دیا۔


دعوت اسلامی کے شعبہ اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کے زیر اہتمام ساؤتھ افریقہ ریجن میں بھی بڑی اسلامی  بہنوں کے لئے مدرسۃ المدینہ لگایا جاتا ہے جہاں اسلامی بہنوں کو فی سبیل اللہ مخارج کے ساتھ قراٰنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر دینی و اخلاقی تربیت کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ تادمِ تحریر ساؤتھ افریقہ ریجن میں اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کم و بیش 17درجات لگ رہے ہیں جن میں 19مدرسات اپنی دینی خدما ت سرانجام دے رہی ہیں جبکہ ان میں پڑھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد 119 ہے۔


دعوت اسلامی کے زیر اہتمام ماہ  ستمبر 2021ء میں ساؤتھ افریقہ کے علاقوں (جوہانسبرگ ، ویلکم، ڈربن، پیٹرماریٹیزبرگ ، پولکوانے، پرٹیوریا کیپ ٹاؤن، لیسوتھو) میں مدنی مذاکرہ دیکھنے کی کارکردگی موصول ہوئی جن کی مجموعی طورپر رپورٹ پیش خدمت ہے۔

اس ماہ 2ہزار 103 اسلامی بہنوں نے مکمل مدنی مذاکرہ دیکھنے کی سعادت حاصل کی۔


دعوت اسلامی کے شعبہ اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کے زیر اہتمام  ستمبر 2021ء میں ساؤتھ افریقہ کے علاقے جوہانسبرگ میں دو مقامات پر اسلامی بہنوں کے مدرسۃ المدینہ کا آغاز ہوچکا ہے جن میں اسلامی بہنیں ذوق وشوق کے ساتھ قراٰنِ پاک کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔مزید داخلے جاری ہیں۔

داخلے کی خواہش مند اسلامی بہنیں اپنے علاقے کی ذمہ دار اسلامی بہنوں سے رابطہ کریں۔


شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرْکَاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے جسم کو مختلف اعضاء زبان اور نگاہوں کو گناہوں اور فضولیات سے بچانے کے عظیم جذبے کے تحت یوم قفل مدینہ کی دینی تحریک کا آغاز فرمایا چنانچہ اکتوبر 2021ء کی پہلی پیر کو ساؤتھ افریقہ کے مختلف شہروں میں قفل مدینہ منایا گیا جن میں کم وپیش 242 اسلامی بہنوں نے 25 گھنٹے کا قفل مدینہ لگانے کی سعادت حاصل کی جبکہ 783اسلامی بہنوں نے رسالہ خاموش شہزادہ کا مطالعہ کیا۔


دعوت اسلامی کے شعبہ علاقائی دورہ (اسلامی بہنیں) کے زیر اہتمام آسٹریا (Austria) کے شہر(Vienna) میں علاقائی دورے کا سلسلہ ہوا جس میں کابینہ نگران اسلامی بہن نے مقامی اسلامی بہنوں کو بذریعۂ کال نیکی کی دعوت پیش کی اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے ون ڈے سیشن(one day session) میں بذریعہ انٹرنیٹ شرکت کرنے کی دعوت دی۔


دعوت اسلامی کے شعبہ کفن دفن (اسلامی بہنیں) کے زیر اہتمام آسٹریا (Austria) کے شہر ویانا (Vienna) میں بذریعہ انٹرنیٹ کفن دفن تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں کم و بیش 20 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور تربیتی اجتماع میں شریک اسلامی بہنوں کو غسل میت کا طریقہ، کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ سکھایا نیز مستعمل پانی کے مسائل اور اسراف کے متعلق احکامات بھی بیان کئے۔


اصلاح انسانیت کیلئے بھیجے گئے انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک سیدنا لوط علیہ السلام بھی ہیں جو کہ "اہل سدوم" کی طرف رسول بن کر تشریف لائے ۔ اہل سدوم(قوم لوط) لواطت (لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کرنے) جیسے بدترین فعل میں مبتلا تھی ۔

آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس حرام کام سے ان الفاظ میں روکا :کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔ تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر ، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔( الاعراف آیۃ 80-81)

اس تبلیغ پر قوم لوط نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جواب دیا:ان کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں(الاعراف : 82 )

قوم لوط بدستور اسی حرام کام میں مبتلا رہی یہاں تک کہ ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام دیگر فرشتوں کے ساتھ خوبصورت لڑکوں کی صورت میں مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آتے ہیں۔ اور آپ کو اس بات کی خبر دیتے ہیں ہم قوم لوط کو عذاب دینے کیلئے آئے ہیں ۔

اُدھر قوم نے جب یہ خبر سنی تو ناپاک ارادے سے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی۔حضرت لوط علیہ السلام نے جب قوم کی اس حرکت کو دیکھا تو بہت زیادہ غمگین ہوئے اور قوم سے فرمایا :یہ میرے مہمان ہیں مجھے رُسوا نہ کرو(الحجر آیۃ 68) تو قوم نے کہا :کیا ہم نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ اوروں کے معاملہ میں دخل نہ دو(الحجر آیۃ 70)

تو فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے عرض کی: اے لوط(علیہ السلام) ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں سے کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے ۔(ھود آیت: 81)

چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے اہل و عیال کو لے کر شہر سے نکل گئے، اُدھر عین صبح کے وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام نے شہر کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور سدوم سمیت پانچوں شہروں کو اتنا اونچا اٹھایا کہ ان کے مرغوں اور کتوں کی آوازیں اہل آسمان نے سنیں اور یہ اٹھانا اس قدر آہستگی سے تھا کہ کسی برتن میں موجود پانی نہ گرا اور نہ کوئی سویا ہوا شخص بیدار ہوا، اور پھر اتنی اونچائی سے جبریل امین علیہ السلام نے شہر اوندھا کر کے پلٹ دیا جس سے پورا شہر لوگوں سمیت تباہ و برباد ہوگیا اور جو اس وقت بستی میں نہ تھے وُہ جہاں کہیں سفر میں تھے وہیں ان پر پتھر برسا کر انہیں ہلاک کیا گیا ۔(تفسیر صراط الجنان سورۃ ھود آیۃ 82 ملخصا و ملتقطا)

یوں یہ قوم اس قدر خوفناک عذاب کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی۔


قرآنِ مجید میں قوم لوط  کا ذکر سترہ (17) مرتبہ آیا ہے،قومِ لوط کا مسکن شہر سدوم اور عمورہ تھا  جو بحر مردار کے ساحل پر واقع تھا، اورقریش  مکہ اپنے شام کے سفر میں برابر اسی راستہ سے آتے جاتے تھے۔یہ علاقہ پانچ اچھے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔ جن کے نام سدوم، عمورہ، ادمہ، صبوبیم اورضُغر تھے، ان کے مجموعہ کو قرآن کریم نے موتفکہ اور موتفکات (یعنی الٹی ہوئی بستیاں) کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ سدوم ان شہروں کا دار الحکومت اور مرکز سمجھا جاتا تھا۔

  جب حضرت لوط علیہ السلام  اردن  میں بحیرہ لوط  کے پاس جہاں سدوم اور عامورہ کی بستیاں تھیں  وہاں آکر رہائش پذیر ہوئے۔ تو  اللہ تعالیٰ نے  انہیں اہلِ سدوم کی ہدایت کے لیے نبی مبعوث فرمایا، یہاں کے باشندے فواحش اور  بہت سے گناہوں میں مبتلا تھے، دنیا کی کوئی ایسی برائی نہیں تھی جو ان میں موجود نہ ہو ، یہ دنیا کی سرکش، متمرد اور بداخلاق قوم تھی، ان سب  برائیوں کے ساتھ ساتھ یہ قوم ایک خبیث عمل کی موجد بھی تھی، وہ یہ کہ  وہ  اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے لڑکوں سے اختلاط رکھتے تھے، دنیا کی قوموں میں اس عمل کا اب تک کوئی رواج نہ تھا ، یہی وہ بدبخت قوم تھی جس نے  اس ناپاک عمل کو شروع کیا تھا، اور اس سے بھی زیادہ بے حیائی یہ تھی کہ وہ  اپنی اس بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے، بلکہ کھلم کھلا فخر کے ساتھ اس کو کرتے رہتے تھے۔

ان حالات میں  حضرت  لوط علیہ السلام نے اس قوم کو  ان کی بے حیائیوں  اور برائیوں پر ملامت کی اور شرافت وطہارت کی زندگی کی رغبت دلائی،  اور  ہر ممکن طریقے سے نرمی اور پیار سے انہیں سمجھایا اور نصیحتیں کیں ، اور  پچھلی قوموں کی بداعمالیوں کے نتائج  اور  ان پر آئے ہوئے عذابات بتاکر عبرت دلائی، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ الٹا   طنز کرتے ہوئے یہ کہنے لگے: " یہ بڑے  پاک باز لوگ ہیں، ان کو اپنی بستی سے نکال دو" اور بارہا  سمجھانے کے بعد یہ کہنے لگے: "ہم تو نہیں مانتے ، اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ"،  ادھر یہ ہورہا تھا  اور دوسری جانب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اللہ کے فرشتے انسانی شکل میں  آئے ،  ابراہیم علیہ السلام نے انہیں مہمان سمجھ کر ان کی تواضع  کرنی چاہی لیکن انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کردیا، یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ یہ کوئی دشمن ہے جو حسبِ دستور کھانے سے انکار کررہا ہے، اور پریشان سے ہوگئے،  تو مہمانوں نے کہا:

آپ  گھبرائیں نہیں، ہم اللہ کے فرشتے ہیں، آپ کے لیے بیٹے کی بشارت لائے ہیں اور قومِ لوط کی تباہی کے لیے بھیجے گئے ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تم ایسی قوم کو ہلاک کرنے جارہے ہو جس میں لوط علیہ السلام جیسا خدا کا برگزیدہ نبی موجود ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہے، لیکن اللہ کا یہی فیصلہ ہے کہ قومِ لوط اپنی  بے حیائی اور فواحش پر اصرار کی وجہ سے ضرور ہلاک ہوگی، اور لوط (علیہ السلام) اور ان کا خاندان  اس عذاب سے محفوط رہے گا، سوائے لوط  (علیہ السلام) کی بیوی کے وہ  قوم کی حمایت اور ان کی بداعمالیوں میں شرکت کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوگی۔

 فرشتے حضرت ابراہیم  علیہ السلام کے پاس  سے روانہ ہوکر  سدوم پہنچے ، اور  لوط علیہ السلام کے یہاں مہمان  ہوئے، اور یہاں یہ  فرشتے خوب صورت اور نوجوان لڑکوں کی شکل میں  تھے، لوط  علیہ السلام نے  ان کو دیکھا  تو بہت پریشان ہوئے کہ اب نہ جانے قوم ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گی،  ابھی  وہ اسی پریشانی میں تھے کہ قوم  کو خبر ہوگئی اور وہ لوط علیہ السلام کے  مکان پر چڑھ گئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ ان کو ہمارے حوالہ کردو، لوط  (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا، لیکن وہ  نہ مانے، تو انہوں سخت پریشانی میں کہا:  "کاش میں کسی مضبوط سہارے کی حمایت حاصل کرسکتا" !!

            فرشتوں نے ان کو پریشان دیکھ کر کہا کہ  آپ گھبرائیں نہیں ، ہم انسان نہیں ہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، اور ان کے عذاب کے لیے نازل ہوئے ہیں ، آپ راتوں رات  اپنے خاندان سمیت یہاں سے نکل جائیں ، تو فرشتوں کے پیغام کے بعد لوط  علیہ السلام  اپنے خاندان سمیت بستی سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکارکردیا اور یہیں رہ گئی،  جب رات کا آخری پہر ہوا تو عذاب شروع ہوگیا، سب سے پہلے ایک سخت ہیبت ناک چینخ  نے ان کو تہہ وبالاکردیا،  پھر ان کی آبادی کو اوپر  اٹھا کر  زمین کی طرف الٹ دیا گیا، اور پھر اوپر سے پتھروں کی بارش نے ان کا نام ونشان مٹادیا، اور گزشتہ قوموں کی طرح یہ بھی اپنی سرکشی کی وجہ سے انجام کو پہنچے۔