مثال کی اہمیت اور حکمت: مثال کی اہمیت تعلیم و تربیت میں بہت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، جب کوئی بات ذہنی طور پر مشکل ہو، تو مثال اسے سادہ اور قابلِ فہم بنا دیتی ہے۔مثال دینا تربیت کا نہایت حکیمانہ طریقہ ہے۔ یہ بات کو واضح کرتی ہے،یادگار بناتی ہے،سننے والے کی دلچسپی قائم رکھتی ہےاور دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے۔انسانی دماغ تصویری یا عملی مثالوں کے ذریعے سمجھائی جانے والی بات کوجلدی سمجھتا اور زیادہ عرصہ یاد رکھتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کا اندازِ تربیت نہایت مؤثر اور محبت پر مبنی ہے، سرکار مدینہ ﷺ نے نرمی، مثالوں، سوال و جواب اور عملی نمونہ کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی۔ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم و تربیت کے لیے مثال کے ذریعے سمجھانے کو کثرت سے استعمال فرمایا۔ ذیل میں احادیث مبارکہ سے کچھ حکمت آموز مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

پہلی مثال : صحبت کا اثر : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۔ (بخاری، کتاب البیوع باب فی العطار وبيع المسک ۲/۲۰، الحدیث: (۲۱۰۱)

بیان کردہ حدیث مبارکہ کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے ، حکیم الامت مُفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سُبْحٰنَ اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)!کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بُروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نُقصان کبھی نہیں دے سکتی،بھٹّی والے سے مُشک نہیں ملے گا گرمی اور دُھواں ہی ملے گا،مُشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مُشک یا خوشبو ہی ملے گی۔(حدیثِ پاک کے اس حصے”مُشک والا یا تو تجھے مُشک ویسے ہی دے گا یاتُو اس سے خرید لے گا، اور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی“ کی شرح میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:)یہ اَدنیٰ نفع کا ذکر ہے ،مشک خرید لینا یا اس کا مُفت ہی دے دینا اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا اَدنیٰ نفع ہے۔خیال رہے کہ ابُوجہل وغیرہ دشمنانِ رسول،حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں، وہاں حاضری مَحَبَّت سے حاصل ہوتی ہے۔(حدیثِ پاک کے اس حصے”اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتُو اس سے بدبوپائے گا“کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:)اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ حتَّی الْامکان بُری صحبت سے بچو کہ یہ دِین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت اختیار کرو کہ اس سے دِین و دُنیا سنبھل جاتے ہیں۔ سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،بُرے یار کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔(مرآۃ المناجیح،۶/۵۹۱)

دوسری مثال : مسلمانوں کے حقوق اور اُن کی عظمت کا بیان: مسلم شریف میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكىٰ مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعىٰ لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ: مؤمنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بےخوابی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے۔ (مسلم، ص١٠٧١، باب تراحم المؤمنین وتعاطفھم وتعاضدھم،حدیث:٦٥٧٦)

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “ علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ بخار ایک حرارتِ غریبہ ہے جو دِل میں پیدا ہوتی ہےاور پورے بدن میں پھیل جاتی ہےجس سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہے۔ اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے حقوق کی تعظیم ، ایک دوسرے کی مددکرنےاور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کادرس دیاگیاہے۔‘‘

فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی تکلیف اور راحت میں تمام اَعضاء آپس میں موافق ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو دُکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اِس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت ، اُن کی معاونت اور ایک دوسرے سے شفقت واضح ہوتی ہے۔ ‘‘ (فيضان رياض الصالحین جلد : ٣,باب حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان۔ حدیث نمبر : ٢٢٤)

تیسری مثال: گناہوں سے پاک ہونے کا آسان طریقہ : عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ (فيضان رياض الصالحین جلد :٤, حدیث نمبر : ٤٢٩)

اس حدیث پاک میں فرمایا: ” کہ جو نہر تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہو ۔ “یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر موجود نہر تک تم با آسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دُور کر سکتے ہو اِسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم باآسانی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کر سکتے ہو ۔نماز یا دیگر عبادات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کبیرہ گناہ توبہ سے ہی معاف ہوتے ہیں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ پہلی صف میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نمازوں کی برکت سے ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ۔

(نوٹ: اس موضوع پر کتب احادیث میں کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں ۔جن میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امت کی اصلاح و رہنمائی کے لیے مثال کے ساتھ تربیت فرمائی ہے۔)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف عقائد،عبادات اور معاملات کو سنوارتا ہے بلکہ تربیتِ نفس اور حسنِ سلوک کی بھی بنیاد فراہم کرتا ہے۔نبی ‏کریم ﷺ کی حیات طیبہ انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے جنہیں اللہ تبارک و تعالٰی نے نہ صرف وحی کا حامل بنا کر بلکہ ”معلّمِ انسانیت“ بنا کر بھی مبعوث فرمایا ۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے : اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلَّمًا

ترجمہ : بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ،کتاب السنہ، باب : فضل العلماء والحث علی طلب العلم،حدیث نمبر: 229 ، صفحہ نمبر 75 )

آپ ﷺ کی تعلیمات میں مثالوں سے تربیت فرمانا ، ایک عظیم اسلوب ہے ،آپﷺ نے تعلیم و تربیت کا وہ حسین و مؤثر انداز و اسلوب اپنایا جس میں نہ تو جبر تھا اور نہ ہی ‏سختی تھی بلکہ محبت ،تمثیل ،تشبیہ اور حکمتیں تھی آپ ﷺ نے معرفتِ خدا سے لیکر زندگی گزارنے کے ہر پہلو کی مثالوں سے تربیت فرمائی تاکہ لوگوں کے قلوب و ‏اذہان میں بات اتر جائےاور با آسانی سمجھ آجائے۔ یہ مضمون انہی مثالی اندازِ تربیتِ نبویﷺ کی عکاسی کرے گا۔

(1) ختم نبوت کی مثال : ‏ اسی طرح جب آپ ﷺ نے انبیا اور اپنے آخری نبی ہونے کی تعلیم و تربیت فرمائی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت و زیبائش سے اس کو آراستہ کیا لیکن کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی اب تمام ‏لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑجاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ‏ہوں۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ﷺ ، حدیث نمبر : 3535، صفحہ نمبر 1619 )

یہ مثال واضح کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے انبیائے کرام کی عمارت کو مکمل کرنے والی آخری اینٹ کی حیثیت سے خود کو بیان فرمایا ۔یہ ختمِ نبوت کا بیان نہایت خوبصورت تشریحی انداز ہے جو عقیدے کو واضح اور ‏مضبوط بناتا ہے۔

(3) رحمۃ للعالمین کی صفت کی مثال : ‏ اسی طرح جب آپ نے جہنم کی بات سمجھانی چاہی اور اپنی رحمت و شفقت کی تعلیم و تربیت فرمائی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا:‏ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی ،جب اس کے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو پروانے اور کیڑے مکوڑے جو آگ پر گِرتے ہیں اس میں گِرنے لگے اور آگ ‏جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔( صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصی، حدیث نمبر: 6483، صفحہ نمبر 2866 )

اس مثال میں نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ جیسے ایک شخص آگ جلا کر کیڑے مکوڑے کو اس سے بچانے کی کوشش کرے ویسے ہی آپﷺ لوگوں کو جہنم سے بچانے کے لئے روک رہے ہیں۔ یہ ‏آپﷺ کی رحمت و شفقت کی اعلی مثال ہے۔

(4) مومن کی مثال : ‏ اسی طرح جب آپ نے مومن کی صفات سمجھانی چاہی اور مومن کو کس طرح ہونا چاہئے اس کی تربیت فرمائی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا :‏ مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت ‏جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک اللہ تعالٰی جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، حدیث نمبر : 5644، صفحہ نمبر 2548 )

یہ مثال مومن کی صبر اور عاجزی کی تعلیم دیتی ہے کہ مومن آزمائشوں میں جھکتا رہتا ہے مگر پھر اٹھتا ہے ، جیسے فصلیں جھکتی اور سنبھلتیں ہیں لیکن جو شخص تکبر کرتا ہے بدکار ہوتا ہے تو اللہ اسے برباد کر ‏دیتا ہے ۔

ان تمام احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لئے مثالوں کا استعمال زیادہ کیا ہےتاکہ سیکھنے والوں کو آسانی سے سمجھ آئے وہ اس پر عمل ‏کریں اور بات کو ہمیشہ کر لئے یاد رکھیں، آپﷺ نے مثالوں سے زندگی سنوارنے کا راستہ سکھایا ، بس یہی نبوی اسلوب ہے جو زندگی کو سنوارتا ہے اللہ تعالٰی ہمیں عمل ‏کی توفیق عطا فرمائے۔

کسی بھی چیز کی مثال بیان کرنے کا مطلب کسی ایسے جزئیہ کوبیان کرنا جو اس چیز کی وضاحت کیلئے ہو اورمثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے۔اورمثال اپنےممثل لہ کا عین یا غیر ہے ۔صوفیا فرماتے ہیں کہ مثال اپنے ممثل لہ کا عین ہے،جبکہ اہل شرع کے نزدیک غیر ہے ۔اوربعض نے کہا نہ عین ،نہ غیر ہے۔اورمثال میں کامل مشابہت کاہونا ضروری ہے ۔کیونکہ کثرت حروف کثرت معنی پر دلالت کرتے ہیں ۔مثل اور مثال یہ نصوص میں دوالفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ان میں کچھ فرق ہے کہ مثل تمام اوصاف میں مشترک ہوتی جبکہ مثال کسی ایک وصف میں مشترک ہویانہ ہو۔کسی بھی چیز کومثال سے بیان کرنے میں سنت الہیہ وسنت نبویہ بھی ہے۔کہ قرآن مجیدواحادیث کریمہ میں کئی مقامات پر مثالوں کے دریعے بات کوسمجھایا گیاہے ۔جیسا کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ (۱۷۱)ترجمہ کنزالایمان: اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں۔ (پ2، البقرۃ: 171)

اس آیت میں کافروں کی مثال بیا ن فرمائی گئی کہ جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے، یونہی کافروں کا حال ہے۔

اوراب احادیث کی طرف آتےہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے کیسی تربیت فرمائی ۔ جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن میں پانچ نمازیں پڑھنے والے کی مثال اس طرح ہے کہ تمہارے دروازے کے سامنے جاری نہر میں دن میں پانچ مرتبہ نہائے۔فرمایا کیااس میں کوئی میل باقی رہے گی ؟ (یعنی نمازی بھی اسی طرح گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ کی میل نہیں ہوتی ۔) (المسلم،مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261ھ)،رقم٢٨٤،ج١،ص٤٦٣،دار إحياء التراث العربی بيروت)

اور صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے کی طرح ہے جسکا ذائقہ وبو اچھی ہے ۔قرآن پاک نہ پڑھنے والے کی مثال کھجور کی طرح ہے کہ جسکی بو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے ۔اورقرآن پاک پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ کی طرح ہے جسکاذائقہ کڑوااور بو اچھی ہے۔اور قرآن پاک نہ پڑھنے والے منافق کی مثال حنظلہ کی طرح ہے جس کیلئے بو نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔( صحيح بخاری،الامام البخاری الجعفی،رقم٥٤٢٧،ج٧،ص٧٧،دار طوق النجاة)

اس حدیث پاک میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مومن ومنافق قرآن پڑھنے ونہ پڑھنے والے کے درمیان بڑے احسن وسہل مثالوں کے ساتھ فرق فرمایا ہے۔

تیسیر بشرح جامع الصغیر میں ایک حدیث پاک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ مومن کی مثال عطار(عطربیچنے والا)کی طرح ہے کہ اوراگر اسکے ساتھ چلے توتجھے نفع دےاوراگر اسکاشریک ہو توتجھے نفع دے۔

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک میں علماوصلحا کی صحبت کی طرف راہنمائی فرمائی گئی ہے ۔کیونکہ اس میں دنیاوآخرت کانفع ہے۔ (التيسير بشرح الجامع الصغير،الامام المناوی القاهری (المتوفى: 1031ه)،ج٢،ص٣٧٢،مكتبۃ الامام الشافعی الرياض)

اورصحیح البخاری شریف کی حدیث پاک حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی نے بڑا حسین وجمیل مکان بنایا لیکن دیوار میں سے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ۔توجب لوگوں نے مکان کےاردگرد چکرلگایا اورکہنے لگے کیااس جگہ اینٹ نہیں لگائی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں اورمیں خاتم النبیین ہوں۔ ( صحيح البخاری،الامام البخاری الجعفی،رقم٣٥٣٥،ج٤،ص١٨٦،دار طوق النجاة)

مذکورہ احادیث کریمہ میں خوبصورت انداز میں مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی گئی ۔ اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


ہمارے پیارے آقا خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دنیا کے سب سے بہترین معلم تھے ، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات جامع ،موثر اور حکمت سے بھرپور تھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تربیت کے مختلف انداز اپنائے جن میں ایک نمایاں انداز مثالوں کے ذریعے تعلیم و تربیت فرمانا بھی ہے ، آپ کی دی ہوئی مثالیں سادہ اور فہمیدہ ہوتی تھی ان مثالوں سے دین کے پیچیدہ مسائل بھی آسانی سے سمجھا دیے جاتے تھے۔ دنیا کے ہر کامیاب مربی و معلم نے اس انداز کو اپنایا مگر جو انداز نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنایا وہ سب سے اعلی موثر اور حکیمانہ تھا اور یہ انداز آج بھی تربیت و تعلیم کا موثر ترین طریقہ ہے ۔ آئیں اس کی چند مثالیں دیکھتے ہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی :

(1) نبوت کی مثال عمارت سے: حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے ایک خوبصورت عمارت بنائی مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی لوگ اس عمارت کو دیکھ کر حیران ہوتے اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ بھی لگا دی جاتی میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ ( ارشاد اساری لشرح صحیح بخاری ،ج 8 ، ص 39 ، حدیث: 3535 )

(2) نماز کی مثال نہر سے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے کیا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گی صحابہ نے عرض کی : نہیں یا رسول اللہ !آپ ﷺ نے فرمایا : یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری ، ج 2 ، ص 183 ، حدیث 528 )

(3) امر باالمعروف کی مثال کشتی سے : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کی مثال ایک کشتی میں سوار لوگوں کی سی ہے کچھ اوپر اور کچھ نیچے، نیچے والے پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس جاتے ہیں اگر وہ کہیں کہ ہم نیچے ہی سوراخ کر لیتے ہیں اور اوپر والے انہیں نہ روکیں تو سب غرق ہو جائیں گے اور اگر وہ انہیں روکیں تو سب بچ جائیں گے ۔( ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری ، ج 5 ، ص 507 ، حدیث 2493 )

(4) مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے تم اس سے جو بھی چیز لو گے وہ تمہیں نفع دے گی۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری ، ج 12 ، ص 201 ، حدیث 5444)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی جو ہر حال میں فائدہ مند ہوتا ہے چاہے پھل ہو یا سایہ اور جس کا ہر حصہ مفید ہوتا ہے۔

(5) نیک اور برے ساتھی کی مثال: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک (خوشبو) اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک اٹھانے والا یا تو تمہیں تحفے میں دے گا، یا تم اس سے خوشبو خریدو گے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو آئے گی۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔ (ارشاد الساری ، حدیث نمبر 5534) 


اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تمام انسانیت کے لیے معِلّم بنا کر بھیجا۔آپﷺ نے تبلیغ اسلام اور تربیت کے لیے ایسے منفرد انداز اختیار فرمائے جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے سبب ہدایت ہیں ۔آپﷺ نے نہ صرف پیغام خدا کو پہنچایا بلکہ دین اسلام کو سمجھانے کے لیے ایسے پراثر طریقے اختیار فرمائے جن کے ذریعے سے بات سننے والا اُس بات کو قبول بھی کرتا بلکہ اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر لیتا۔انہی منفرد طریقوں میں سے ایک مثالوں سے تربیت کرنا بھی ہے ۔

مثال بیان کرنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی غیر واضح اور غیر محسوس چیز کو محسوس چیز کیساتھ تشبیہ دے کر سمجھانا تاکہ بات اچھی طرح سمجھ آجائے۔ قرآن کریم میں یہ طرزِ عمل بکثرت استعمال کیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ (پ1، البقرۃ: 26)

بعض علما نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے معبودوں کی کمزوری کو مکڑی کے جالوں وغیرہ کی مثالوں سے بیان فرمایا تو کافروں نے اس پر اعتراض کیا ۔اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: 26، 1/ 361، طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: 26، 1/ 213-214، ملتقطاً)

اسی عمدہ و اعلیٰ انداز کی جھلک ہمیں کریم آقا ﷺ کے فرامین مقدّسہ میں بھی نظر آتی ہے ، ذیل میں پانچ احادیث طیبہ ملاحظہ فرمائیں:

(1) زندہ اور مردہ: عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ اللہ کا ذکر کرے اور جو نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔ (بخاری کتاب الدعوات ،باب ذکر اللّہ ،ج1،ص1036،ح6407، دار الحدیث قاھرہ)

(2) حضور ﷺ اور سابقہ انبیا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ . قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے آنے والے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت اور مکمل عمارت بنائی ہو، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے ہیں، اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں: کاش یہاں وہ ایک اینٹ بھی لگا دی جاتی! آپ ﷺ نے فرمایا: " وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں (یعنی آخری نبی ہوں)۔(بخاری کتاب المناقب ،باب خاتم النبیین ﷺ،ج1، ص577،ح3535 ، دار الحدیث قاھرہ)

(3) گناہوں سے پاکیزگی: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا. قَالَ : فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو، اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: "نہیں، کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(بخاری کتاب: مواقیت الصلاۃ،باب صلوات الخمس کفارۃ ،ج1،ص104،ح528 ، دار الحدیث قاھرہ)

(4) منافق کی مثال: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ﷺسے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے کبھی اِس ریوڑ میں چرتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ میں۔(مسلم ،کتاب: صفات المنافقین، ج 1،ص883،ح2784 ، دار الحدیث قاھرہ)

(5) سب سے بڑی مصیبت: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس کی عصر کی نماز فوت ہو جائے، گویا اس کا اہل و مال (گھر والے اور مال و دولت) سب کچھ چھین لیا گیا ہو۔(بخاری ،کتاب:مواقیت الصلاۃ ،باب:اِثم من فاتتہ العصر ،ج1،ص106،حدیث:552، دار الحدیث قاھرہ)

اگر ہم کریم آقا ﷺ کے اس انداز تبلیغ کو اختیار کریں تو دعوت دین کو احسن طریقے سے لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اپنے حکیمانہ اسلوب اور دل نشین اندازِ گفتگو کے ذریعے اپنے غلاموں کی وہ تعلیم و تربیت فرمائی،جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے تعلیم و تربیت کا ایک خوب صورت نصاب (Syllabus) بن گئی،انہی حکیمانہ اسلوب اور دلوں پر اثر کرنے والی گفتگو میں سے مثالوں (Examples) کا استعمال کرکے تربیت فرماناہے،تاکہ مشکل باتوں کا سننے والوں کے لیے سمجھنا آسان ہو اور ذہنوں میں نقش ہوجائے اسی طرح عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا آسان ہو، چنانچہ موضوع کے متعلق چند احادیث پڑھیئے:

(1) صحابہ ستاروں کی مثل: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آسمانِ ھدایت کے تارے ہیں،ان کی پیروی کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔(مشکوۃالمصابیح،ج2،ص355،حدیث6018)

(2) اہل بیت کشتی نوح کی مثل: جس طرح جنتی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے طریقوں پر چلنا نجات کا راستہ ہے،اسی طرح اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرنا بھی نجات کا ذریعہ ہے،چنانچہ اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ

یعنی آگاہ رہو! کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے،جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۔(فضائل صحابہ احمد بن حنبل، فضائل الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما، حدیث1402)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:دوسری حدیث میں ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے،گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔الحمد ﷲ! اہل سنت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔ (مراۃالمناجیح،ج8،ص405قادری پبلشرز)

(3) اچھے اور برے دوست کی مثال: دوست زندگی کا ایک حصہ ہے،اچھے دوست دنیا میں بھی فائدہ پہنچاتے ہیں اور آخرت میں بھی جبکہ برے دوست دونوں جہان میں نقصان کا سبب بنتے ہیں،جیساکہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے کہ: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالجَلِيسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے،مشک اٹھانے والا یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔(مسلم،کتاب البر و الصلۃ ، رقم: 2628)

سبحان الله! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔(مرآۃالمناجیح،ج6،ص400قادری پبلشرز)

(4) ذکر اللہ کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال: اللہ پاک کے ذکر سے اپنی زبان کو تر رکھنا روح و بدن،دل و دماغ اور زندگی کو سکون بخشتا ہےاور اس کے برعکس ذکرِ الٰہی و یاد خدا سے غفلت برتنا،زندگی کو ویران اور پریشان بنادیتا ہے،چنانچہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ یعنی اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی طرح ہے۔(بخارى،کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ ،رقم:6407)

لہذا ذکرِ الٰہی میں مصروف رہ کر حقیقی زندگی گزاریئے اور مردہ دلی و مردہ زندگی سے محفوظ رہیے۔

(5) امتی اور حضورﷺکی مثال: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ اپنی امت کی بہت زیادہ بھلائی چاہنے والے ہیں،چنانچہ آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ

’’میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو.‘‘(مسلم،کتاب الفضائل، باب شفقۃ ﷺ ۔۔الخ، ج4،ص1790رقم:2285)

قارئین کرام!اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ تو ہمیں جہنم سے بچانے پر کس قدر حریص ہیں، ایک ہم ہیں کہ اسی طرف جانے والے اعمال کرتے ہیں،اگر ہم اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنے کا ذہن رکھتے ہیں تو فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے بہترین تعلیم و تربیت ہے، جس پر عمل کرنا ہمیں دونوں جہان میں کامیابی دلاسکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں فرامین مصطفیٰ ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے ہر خوبی سے نوازا ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا بات کرنے کا انداز، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے درمیان رہنے کا انداز، آپ کا تربیت کرنے کا طریقہ ، سب بے مثل و بے مثال ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی کو قرآن کریم میں اسوہ حسنہ کے نام سے ذکر کیا ہے۔

اسی کے ساتھ، آپ کا تربیت فرمانے کا انداز، لوگوں کو سمجھانے کا طریقہ بھی بہت خوب تھا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مثالوں سے سمجھاتے تھے۔ اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان کو کسی چیز کی مثال دی جائے تو وہ جلدی سمجھ جاتا ہے اور اس کو یاد رکھنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نماز کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں تربیت فرماتے ہوئے فرمایا۔ جسے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم موسمِ سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے۔ تو آپ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بے شک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا کے لئے نَماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔(مسند احمد، ج 8، ص 133، حدیث: 21612)

اسی طرح، ایک اور مقام پر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز کے ذریعے گناہوں کے ختم ہونے کی مثال بیان فرماتے ہوئے صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا:بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گا؟ صحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ (بخاری، ج 1، ص 196، حدیث: 528)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مثال دے کر نماز کی عظمت اور تاثیر کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دل میں بٹھایا، تاکہ وہ نماز کی حفاظت کریں۔ اور جس طرح ظاہری میل کچیل نہانے سے دھل جاتا ہے، ویسے ہی نماز دل کی گندگی، روحانی غفلت اور گناہوں کے اثرات کو دھوتی ہے۔

اور دنیا کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب مثال دی ہے: حضرت سیّدُنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا گزر چھوٹے کان والے بکری کے ایک مُردہ بچے کے پاس سے ہوا۔ کچھ صحابۂ کرام بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا کان پکڑا اور فرمایا: تم میں سے کون اسے ایک درہم میں خریدنا چاہے گا؟ لوگوں نے عرض کی: ہم اسے کسی بھی چیز کے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتے، ہم اس کا کیا کریں گے؟ ارشاد فرمایا: “کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تم کو مل جائے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا کہ اس کا ایک کان چھوٹا ہے، اور اب جبکہ یہ مرچکا ہے، کوئی اسے کیسے لے گا؟ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کی قسم! جیسے تمہاری نظروں میں یہ مُردہ بچہ کوئی وقعت نہیں رکھتا، اللہ پاک کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔(مسلم، ص 1210، حدیث: 7418)

آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک مری ہوئی بکری کے بچے کی مثال دے کر صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھائی کہ جس طرح وہ مردہ اور ناقص جانور کسی کے کام کا نہیں، اسی طرح اللہ کے نزدیک یہ دنیا بھی بے وقعت ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل صحیح طریقے سے سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے، دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، دنیا کی محبت سے بچائے، اور اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم


اللہ پاک نے رسولُ اللہ ﷺ کو معلمِ انسانیت بنا کر مبعوث فرمایا۔ چنانچہ رسولِ پاک ﷺ کا فرمان ہے:

إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا یعنی میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ، ج1، ص218، رقم 229 باب: فضل العلماء والحث على طلب العلم)

آپ ﷺ نے تربیتِ انسانی کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے، جن میں سے ایک مؤثر طریقہ ”مثالوں کے ذریعے تعلیم دینا“ ہے ۔ رسولُ اللہ ﷺ کی تعلیمات میں مثالوں کا استعمال ایک نہایت حکیمانہ اسلوب تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ نے مشکل باتوں کو عام فہم انداز میں سمجھایا۔ یہ طریقہ نہ صرف سمجھنے میں آسان ہوتا ہے بلکہ ذہن میں نقش بھی ہو جاتا ہے۔موضوع کے متعلق چند فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ کیجیے :

(1) ذکرُ اللہ نہ کرنے والے کی مثال: جو لوگ ذکر اللہ نہیں کرتے، ان کی مثال دیتے ہوئے اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الَّذِیْ یَذْكُرُ رَبَّهٗ، وَالَّذِیْ لَا یَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ترجمہ: جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (صحیح بخاری، ج8، ص86، رقم: 6407 كتاب: الدعوات، باب : فضل ذكر الله عزوجل)

جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہوتا ہے اور مردہ کا جسم ویران، ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد اور غافل کا دل ویران ہوتا ہے۔

(2) بغیر ذکرُ اللہ کے مجلس سے اٹھنے کی مثال: جو لوگ اپنی مجلس سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اٹھتے ہیں، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَا مِنْ قَوْمٍ یَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا یَذْكُرُونَ اللہ َ فِیْهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِیفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً ترجمہ: جو لوگ کسی مجلس سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اٹھتے ہیں، وہ مردار گدھے کی مانند اٹھتے ہیں، اور یہ ان کے لیے حسرت کا باعث ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، ج5، ص115، رقم 4855، کتاب الادب ، باب کراھیۃ أن یقوم الرجل من مجلسہ ولا يذكر الله)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ نے اس کی تشریح میں فرمایا: گویا یہ غافل لوگ مردار گدھا کھا کر اٹھے، جو پلید بھی ہے، حقیر بھی اور شیطان کا مظہر بھی، کیونکہ اس کے بولنے پر لاحول ،پڑھی جاتی ہے۔ غرض یہ کہ اللہ کے ذکر سے خالی مجلسیں مردار گدھے کی طرح ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے گویا وہ مردار کھا رہے ہیں۔(مراۃ المناجیح، ج3،ص361)

(3) قرآن کی تلاوت نہ کرنے والے کی مثال: دل ایک لطیف اور عجیب چیز ہے، جس کا صحیح رہنا ضروری ہے۔ قرآن کی تلاوت اس دل کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ جو لوگ قرآن کی تلاوت نہیں کرتے، ان کے بارے میں اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ جَوْفِهِ شَیْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، كَالْبَیْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: جس کے سینے میں قرآن نہیں، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔(جامع ترمذی، ج5، ص35، رقم 2913 باب: فضائل القرآن عن رسول اللہ ﷺ)

جیسے گھر انسان و سامان سے آباد ہوتا ہے، ویسے ہی دل قرآن سے آباد ہوتا ہے۔ جو دل قرآن سے خالی ہو، وہ دل ویران اور بے برکت ہوتا ہے۔

(4) حافظِ قرآن کی مثال: حافظِ قرآن بننا اللہ پاک کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اگرچہ حفظِ قرآن فرض نہیں، مگر جب کوئی شخص حفظ کرے تو یاد رکھنا اس پر ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَیْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ: حافظِ قرآن کی مثال رسی سے بندھے اونٹ کے مالک جیسی ہے، اگر نگرانی کرے تو قابو میں رہے گا، ورنہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔ (صحیح بخاری، ج6، ص193، رقم 5031، کتاب: فضائل القرآن، باب استذکار القرآن، وتعاھدہ)

قرآن کو یاد رکھنے کے لیے مسلسل دہرانا ضروری ہے، ورنہ وہ دل سے محو ہو جاتا ہے۔(یعنی بُھلا دیا جاتا ہے) اگر حافظ قرآن قرآنِ پاک کو دل میں بِٹھا لے تو وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔

اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کا تربیتی اسلوب اتنا جامع اور مؤثر ہے کہ آج بھی آپ ﷺ کی دی گئی مثالیں دلوں کو روشن کرتی ہیں۔ آپ ﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ مشکل بات کو مثال کے ذریعے آسان بنایا جائے تاکہ عام و خاص سب افراد سمجھ سکیں۔ آج کے دور میں اس اسلوب کو بھی اپنائیں، تو تعلیم و دعوت مزید مؤثر بن سکتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دین کی بات کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لیے حکمت، محبت اور مثالوں کے ساتھ پیش کریں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔

اللہ تعالی نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیشتر کمالات و انعامات اور معجزات سے مشرف فرمایا اور آپ کو رحمت اللعالمین بناکر اور اپنا خاص رسول بناکر بھیجا آپ کے سر پہ ختم نبوت کا تاج سجایا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی جس کی حفاظت کی ذمہ داری اس نے خود لی ، الغرض آپ کو بیشتر کمالات سے مشرف فرمایا ، آپ کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ آپ معلم کائنات ہیں، قرآن کریم میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ ترجمہ کنز الایمان: اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں۔ (پ28، الجمعۃ: 2)

اور حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مبارک زندگی میں بہترین انداز میں اپنی اس فرضیت کو ادا کیا ، بے شمار کافروں اور مشرکوں کو دین اسلام سے وابستہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ آپ مثالوں کے ذریعے بھی صحابہ کرام کو سمجھاتے تھے تاکہ صحابہ کرام ان باتوں کو بہترین انداز میں سمجھ سکیں ، میں آپ کے سامنے کچھ احادیث پیش کرتا ہوں جس کے ذریعے آپ سمجھ سکیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس بہترین انداز میں مثالیں دے کر صحابہ کرام کی تربیت و تعلیم فرماتے :

(1) لوگوں میں معزز بننے کا نسخہ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنِ اتَّقَى الشَّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِيْنِهِ وعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِيْ الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِيْ الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيْهِ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شبہات سے بچا تحقیق اس نے اپنا دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں بھی پڑ گیا جیسا کہ بکریاں چرانے والا چرواہا کہ ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس بکریاں چراتا ہے تو قریب ہے کہ وہ اس ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان، حدیث نمبر 52۔ صحیح مسلم: کتاب المساقاۃ، حدیث نمبر 1599 صفحہ نمبر 862 ۔انظر في الاربعين النوويه صفحہ نمبر 45)

(2) والدین سے برا سلوک قیامت کی نشانی: اسی طرح میں آپ کے سامنے ایک اور حدیث پاک پیش کرتا ہوں : قَالَ أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کنیز اپنے آقا کو جنے گی۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 8، صفحہ نمبر 21 انظر في الاربعين النوويه صفحہ نمبر 29)

اس حدیث پاک کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی عظمت و مقام کو بیان فرمایا، اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح فرماتے ہیں اور اسی طرح شرح ابن دقیق میں ہے اولاد نا فرمان ہو گی، بیٹا ماں سے ایسا سلوک کرے گا جیسا کوئی کنیز سے تو گویا ماں اپنے مالک کو جنے گی یعنی ماں باپ کی نافرمانی کا عام ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ، یہاں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے ذریعے ماں اور باپ کی عظمت کو بیان فرمایا کہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے لہذا ہمیشہ ماں باپ کا ادب و احترام کیا جائے۔

کامیاب استاد بننے کا طریقہ کار:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنزالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (الاحزاب: 21)

حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے ایک رول ماڈل ہے اور خاص طور پر آج کے دور میں جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایک اچھا استاد بنے تو اسے چاہیے کہ وہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرے اور ایک استاد کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو ان کی نفسیات کے مطابق پڑھائے یعنی جب کوئی اہم چیز کا ذکر کرنا ہو تو اس کو مثال کے ذریعے سمجھائے اور سائنسی اعتبار سے بھی اس کے کثیر فوائد ہیں مثلاً اس سے یاداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور متعلقہ چیز ایک عرصے تک ذہن میں منقوش رہتی ہے۔ 


اسلام ایک کامل دین ہے، جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ تعلیمات کے ذریعے نہ صرف عقائد و عبادات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اخلاق و کردار، معاملات و معاشرت اور تربیت ِانسانیت کے ہر پہلو کو روشن کرتا ہے۔ اس دینِ فطرت کے عظیم معلم ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنہیں اللہ پاک نے تمام انسانوں کے لیے رہنما بنا کر بھیجا۔اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تعلیم و تربیت نہایت حکیمانہ، مؤثر، سادہ مگر گہرا اور ہر ذہن و قلب پر اثر انداز ہونے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت، نصیحت اور اصلاحِ امت کے لیے مختلف اسالیب اپنائے، کہیں سوال و جواب، کہیں خاموشی،کہیں اشارات، کہیں عمل کے ذریعے، اور کئی مقامات پر مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانے کا طریقہ اختیار فرمایا ۔ آئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانے کے متعلق چند فرامینِ مصطفیٰ ملاحظہ فرمائیے ۔

(1) اچھے اور برے دوست کی مثال: ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نیک دوست اور بُرے دوست کی مثال مُشک (عطر) فروش اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے، مُشک فروش یا تم کو ہدیے میں مشک دیدے گا یا تم اس سے خرید لو گے، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو چنگاریوں سےتمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے بدبُو آئے گی۔ (صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ ولآداب ، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ، و مجانبۃ قرناء السوء ، صفحہ : 1088 ، حدیث : 6692 )

یہ حدیت بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اچھے دوست اور اچھی صحبت کو اختیار کرنا چاہیے۔کیونکہ نیک صحبت ایمان و کردار کو نکھارتی ہے ۔اور بری صحبت بربادی کا سبب بنتی ہے۔

(2) مومن اور کجھور کا درخت: اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟تو لوگوں نے جنگل کے مختلف درختوں کی طرف دھیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میں نے یہ بات اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ جواب فلاں فلاں سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا۔( صحیح البخاری ، کتاب العلم،باب الحیاء فی العلم ، صفحہ: 223 ، حدیث : 131)

اس حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ، کھجور کی طرح مومن ہمیشہ فائدہ دیتا ہے، اس کی ہر چیز اور حالت سے خیر حاصل ہوتی ہے۔

(3) پانچ نمازیں دریا میں نہانے کی طرح: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے جسم کا کوئی میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے عرض کی: اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب المشی الی الصلاۃ تمحی بہ الختایا و ترفع بہ الدرجات، جلد : 1 ، صفحہ : 462، حدیث:283 ، المطبعۃ عیسیٰ البابی الحلبی قاہرہ )

اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح نہانے سے جسم پاک ہوتا ہے، اسی طرح نماز سے روحانی میل صاف ہوتا ہے۔یعنی نماز گناہوں کو مٹانے اور دل کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔

(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال خبردار کرنے والے کی طرح : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق ، باب الانتھاء عن المعاصی، صفحہ : 1524 ، حدیث: 6484 )

اس حدیث پاک سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ ہمیں ہر حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیے اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان سے بچنا چاہیے ۔ تاکہ دنیا و آخرت میں رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے، ان کی سیرت سے روشنی حاصل کرنے اور آپ صلی اللہ کے بتائے ہوئے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف آخری نبی بنایا، بلکہ ایک بہترین معلم اور تربیت فرمانے والا بھی بنایا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے دین کی باتوں کو صرف الفاظ کے ذریعے نہیں، بلکہ مثالوں کے ذریعے اس انداز میں سمجھایا کہ وہ باتیں دلوں میں اتر گئیں۔ آپ ﷺ نے ان مثالوں کو بیان کرنے کے مختلف ذرائع اور انداز اختیار فرمائے جن کا مقصود آسانی سے مخاطب کو بات سمجھانا ہے اور یہ انداز کلام میں ایک بلیغ انداز ہے کہ جس میں مثال کے ذریعے متکلم غیر واضح حقیقت کو مخاطب کے فہم و شعور میں اجاگر کرنے یا قریب تر لانے کے لیے اسے کسی محسوس واضح چیز سے تشبیہ دے، جیسا کہ قرآن پاک میں الله پاک نے ارشاد فرمایا : وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)

جس طرح قرآن کریم میں مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی گئی ہے ایسے ہی احادیث میں بھی فرمائی گئی ہے،جس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :

(1) اچھی اور بری صحبت کی مثال : حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً۔ یعنی نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال کستوری (خوشبو) بیچنے والے اور بھٹی میں پھونک مارنے والے کی سی ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو تحفے میں دے گا، یا تم اس سے خرید لوگے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو محسوس ہوگی۔ اور بھٹی میں پھونک مارنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔(بخاری ،کتاب الذبائح و الصید ، باب المسک ، جلد:1 ، صفحہ 1035 ، حدیث:5534،الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: الحادیہ عشرہ ، سن طباعت : 2022 )

نیک لوگوں کی صحبت انسان کو نیک بنا دیتی ہے اور بُرے لوگوں کی صحبت انسان کو برا بنا دیتی ہے

(2) مومن اور کافر کی مثال: حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الدُّنْيَا سِجْنُ المُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الكَافِرِ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ ( ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء ان الدنیا سجن المؤمن۔۔۔الخ، جلد: 1 صفحہ: 556 ، حدیث: 2324 ، الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ، سن طباعت: 2019)

مومن کے لیے دنیا اس وجہ سے قید خانہ ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا بلکہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا مکلف بنایا گیا ہے جبکہ کافر کے لیے یہ دنیا اس وجہ سے جنت ہے کیونکہ اسے کسی بھی چیز کا مکلف نہیں بنایا گیا اس کے لیے جو بھی عیش و آرام ہے وہ صرف دنیا میں ہے آخرت میں دائمی عذاب ہو گا۔

(3) رزق کی مثال: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا۔ یعنی اگر تم اللہ پر ایسا بھروسا کرو جیسا کہ واقعی بھروسا کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں رزق اسی طرح دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے: وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ (ترمذی ، کتاب الزھد ، باب فی التوکل علی اللہ ، جلد:1 صفحہ: 560 ، حدیث: 2344 ، الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ،سن طباعت: 2019)

صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا توکل نہیں، بلکہ کوشش کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرنا اصل توکل ہے۔

جیسے پرندے بغیر کچھ جمع کیے، صرف محنت اور بھروسے سے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔

(4) مال اور عزت کی مثال: حضرت ابن کعب بن مالک الانصاری نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا ذئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ، بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ۔ یعنی دو بھوکے بھیڑیے جو کسی بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں، وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور عزت کی حرص (لالچ) انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔(ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء فی اخذ المال ، جلد:1 ، صفحہ: 565 ، حدیث: 2376 ، الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ، سن طباعت: 2019 )

جیسے بھیڑیے بکریوں کو چیر پھاڑ کر تباہ کر دیتے ہیں، ویسے ہی اگر انسان کے دل میں مال اور شہرت کی شدید خواہش ہو، تو وہ اس کے ایمان، اخلاص اور دینداری کو تباہ کر دیتی ہے۔ یعنی دنیا کی لالچ بندے کو دینی فساد میں مبتلا کر دیتی ہے۔

(5) مومن کی مثال : حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى یعنی تم دیکھو گے کہ مومن (آپس میں) ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت رکھنے اور ہمدردی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ جب جسم کا ایک عضو (حصہ) تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ (بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمۃ الناس و البھائم ، جلد:1 ، صفحہ: 1444 ، حدیث: 6011 ، الناشر: بیروت - لبنان ، طبعہ: الثالثہ ، سن طباعت: 2024

تمام مومنین ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، جیسے جسم کے اعضا۔ اگر ایک کو تکلیف ہو، تو باقی سب کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔


انسان کی یہ فطرت ہے وہ لہو ولعب سے خوش رہتا ہے لیکن جب اسے کوئی نیکی یا اصلاح کی بات کی جائے تو اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اسی لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کی فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی توجہ کو طلب کرنے کے لیے مثالیں دیکھ کر بات سمجھانے کا اسلوب اپنایا اور مثالوں کے ذریعے سے اپنی امت کو سمجھانے کی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ اور بھی وجوہات ہیں ان میں سے کچھ بات کو واضح کرنا اور آسان کرنا اور گہرے مفہوم کو آسان کرنا مثالوں کے ذریعے سے سمجھانا انبیا کی سنت ہے اور طریقہ قرآنی ہے ان تمام وجوہات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنی امت کو مثالوں کے ذریعے سمجھاتے وہ احادیث جن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مثالوں کے ذریعے سے تربیت فرمائی ان میں سے چند کا مطالعہ کیجیے :

(1)حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( صحیح بخاری ، کتاب المغازی ،باب غزوة تبوك وهى غزوةالعسرة ،حدیث نمبر 4416 صفحہ ،794 ،مکتبہ دارالکتب علمیہ)

(2)حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : نیک ہم نشین کی مثال خوشبو والے کی طرح ہے اگر تو اس سے کچھ بھی نہ خریدے تو عمدہ خوشبو کو اس سے پا ہی لے گا اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی دھونکانے والے کی طرح ہے اگر تو اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تجھے ضرور پہنچے گا ۔( صحیح بخاری ،کتاب الذبائح والصید والتسمیۃ علی لصید ،باب المسک، حدیث نمبر 5534،صفحہ نمبر ،1035،مکتبہ دارالکتب علمیہ)

(3)حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : بے شک میری مثال اور اس کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس شخص جیسی ہے جس نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا : اے قوم میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے میں تمہیں واضح طور پر اس سے ڈرانے والا ہوں لہذا اپنے آپ کو بچا لو چنانچہ اس کی قوم میں سے ایک جماعت نے اس کی بات مانی لہذا راتو رات نکل کر پناہ گاہ میں جا چھپے اور بچ گئے جبکہ ایک جماعت نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے مقامات پر ہی رہے منہ اندھیرے لشکر نے ان پر حملہ کر دیا پس انہیں ہلاک کر کے غارت گری کا بازار گرم کیا پس یہ مثال ہے اس کی جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس شخص کی مثال جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اس جھٹلایا۔ (صحیح بخاری ،کتاب الرقائق، باب الانتہاءعن المعاصی، حدیث نمبر 6482 ،صفحہ 1184، مکتبہ دار الکتب العلمیہ)

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا : آپ کی اور آپ کی امت کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ بادشاہ نے ایک بڑا مکان بنایا پھر اس میں ایک گھر بنایا وہاں ایک دسترخوان لگا کر ایک قاصد کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دے چنانچہ بعض نے دعوت قبول کی اور بعض نے دعوت قبول نہ کی ۔یعنی اللہ بادشاہ ہے وہ بڑا مکان اسلام ہے اور اس کے اندر والا گھر جنت ہے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ رسول ہیں ، جس نے آپ کی دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں بھی داخل ہوگا ، جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے اس میں موجود چیزیں کھا لیں۔ (صحیح بخاری ،کتاب الاعتصام باالکتاب واالسنۃ،باب اقتداء سنن رسول اللہ ،حدیث نمبر7280،صفحہ نمبر 1381،مکتبہ دار الکتب علمیہ)

چنانچہ ان مثالوں میں ہمارے لیے بے شمار عبر ت و نصحتیں موجود ہیں ہم ان مثالوں کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں اور امثال الاحادیث ہمارے لیے نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں مثالوں کے ذریعے کیوں سمجھایا تاکہ ہم غور و فکر کریں عبرت و نصیحت حاصل کریں اور ہم شوق سے پڑھیں اور غور سے سنیں غیر شعوری طور پر ان سے جو مسائل و نصیحت حاصل ہوتے ہیں ان پر عمل کریں مثالوں کے ذریعے سے تربیت فرمانا یہ صرف احادیث میں نہیں بلکہ یہ طریقہ قرآنی بھی ہے تمثیلات کا موضوع بڑی اہمیت رکھتا ہے اس میں تدبر کرنا اور قرآن وحدیث سمجھنا نہایت ضروری ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)

قرآن مجید نے بھی بہت زیادہ مثالوں سے سمجھایا اللہ تعالی ہمیں قرآن وحدیث دونوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین