اللہ پاک نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ،انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر سب سے آخر میں تمام انسانیت کی تعلیم و تربیت لے لیے اپنے پیارے حبیب سب سے آخری نبی محمد ﷺ کو معلِّم کائنات بنا کر بھیجا۔ رسول کریم ﷺ کا انداز تربیت کیسا کمال کا تھا کہ کبھی پریکٹیکل کر کے دیکھاتے ہیں اور صحابہ کرام سے فرماتے ہیں یوں کرو ۔کبھی آپ چند الفاظ میں اس طرح تربیت فرماتے گویا کے سمندر کوزے میں بند فرما دیتے۔اور کبھی انسانی فطرت کے مطابق امثلہ کے ذریعے تربیت فرماتے کہ انسان اس چیز کو جلدی قبول کرتا ہے جو عقل و سمجھ میں آتی ہے آئیں ہم ان احادیث کریمہ کو پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے پیاری پیاری مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی ہے :

(1) بادشاہ کی چراگاہ : عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللہ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:۵۲ ، ج۱،ص۳۳)

ترجمہ:عامر (شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔

سبحان اللہ حضوراکرم ﷺ یہ ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں کہ جس طرح ہر بادشاہ کی ایک محفوظ و مخصوص چراگاہ ہوتی ہے جس میں کسی جانور کو چرانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کو ’’ حِمیٰ‘‘کہتے ہیں اسی طرح بادشاہوں کے بادشاہ اللہ تعالیٰ نے بھی کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرا کر ہر شخص کو منع فرمادیاہے کہ خبردار کوئی اس کے قریب نہ جائے ۔تو یہ حرام چیزیں گویا اللہ تعالیٰ کی ’’حِمیٰ‘‘ ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی حمی میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے پاس کسی کو پھٹکنے کی اجازت نہیں ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو حرام اورمُشْتَبَہ دونوں قسم کی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ضروری ہے۔

(2) زندہ اور مردہ : وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(مسلم،بخاری)

یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اللہ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں یا جیسے مردے کو کوئی دوا یا غذا مفید نہیں ایسے ہی غافل کو کوئی عمل وغیرہ مفید نہیں اللہ کا ذکر کرو پھر دوسرے اعمال،ذاکر مرکر بھی جیتا ہے غافل زندہ رہ کر بھی مردہ ہے ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2263 )

(3) مشک سے بھرا تھیلا: وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَؤُوْهُ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَ فَقَرَأَ وَقَامَ بِهٖ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا، تَفُوْحُ رِيْحُهٗ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهٗ فَرَقَدَ وَهُوَ فِيْ جَوْفِهٖ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلٰى مِسْكٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن سیکھو پھر اسے پڑھا کرو کیونکہ جو قرآن سیکھے اور اس کی قراءت کرے اور اس پرعمل کرے اس کی مثال اس تھیلے کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہو جس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور جو اسے سیکھے پھر سویا رہے اس طرح کہ اس کے سینے میں قرآن ہو وہ اس تھیلے کی طرح ہے جو مشک پر سربند کردیا گیا ہو (ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

سبحان اللہ اس حدیث پاک میں باعمل حافظ قرآن کی مثال مشک کے ایسے تھیلے سے دی جس کی خوشبو پھیل رہی ہے اور بے عمل کی مثال مشک کے اس تھیلے سے جس کا منہ بند ہے کے اس کے اندر خوشبو تو ہے مگر باہر آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اللہ پاک ہمیں رسول کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں متعدد مقامات پر مثالوں کے ذریعے ہماری تربیت کی گئی ہے۔مثال کے ذریعے بات جلدی سمجھ میں آجاتی ہے اور یاد رہ جاتی ہے ۔کئی باتیں ایسی پیچیدہ ہوتی ہیں کہ سامنے والے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر مثال بیان کر دی جائے تو اپنی بات سمجھانا آسان ہوجاتا ہے ۔جانِ عالم ﷺ چونکہ معلم بنا کر بھیجے گیے، کئی مقامات پر آپ ﷺ نے اپنی اعلیٰ باتیں مثالوں کے ذریعے بیان کیں تاکہ آپ ﷺ کے غلاموں کے لیے آپ ﷺ کے مبارک فرامین کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا آسان ہوجائے ۔

نمازی کی مثال: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اس پر کچھ میل رہ جائے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اس پر کچھ میل باقی نہ بچے گا۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:پانچ نمازیں اسی طرح ہیں، اﷲ تعالیٰ ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری،کتاب مواقیت الصلاة،باب الصلوات الخمس کفارة، حدیث528،دارالکتب العلمیہ)

حوض کوثر کی مثال: سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے حوض (کوثر) کی مسافت ایک مہینہ (کا راستہ) ہے وہ مربع ہے یعنی اس کے چاروں کونے برابر ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس کے کوزے چمک اور زیادتی میں آسمان کے ستاروں کے مثل ہیں جو شخص اس میں سے پیے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔(صحیح مسلم،کتاب الفضائل ،باب اثبات حوض نبینا ﷺ و صفاتہ،حدیث2292 ،دارالکتب العلمیہ)

توبہ کرنے والے کی مثال: خادمِ رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا اُونٹ چَٹیَل میدان میں گم ہونے کے بعد اچانک مل جائے ۔(صحیح بخاری ،کتاب الدعوات،باب التوبۃ،حدیث 6309 ،دار الکتب العلمیہ)

قرآن پڑھنے والے مومن و منافق کی مثال: حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)

دل کی مثال: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا ، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ان دلوں کی صیقل کیا ہے ارشاد فرمایا موت کی زیادہ یاد اور قرآن کریم کی تلاوت ۔(کنز العمال،کتاب الاذکار ،ج 2،ص241،حدیث3924،موسسۃ الرسالۃ)

مسجد جلدی آنے والے کی مثال : پیارے آقا تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر مسجد میں آنے والوں کی حاضری لکھتے ہیں جو لوگ پہلے آتے ہیں ان کو پہلے اور جو بعد میں آتے ہیں ان کو بعد میں اور جو شخص جمعہ کی نماز کو پہلے گیا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے مکہ شریف میں قربانی کے لیے اُونٹ بھیجا۔ پھر جو دوسرے نمبر پر آیا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے گائے بھیجی پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے دنبہ بھیجا پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے مرغی بھیجی اور جو اسکے بعد آئے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے انڈا بھیجا ، پھر جب امام خطبہ کے لیے اُٹھتا ہے تو فرشتے اپنے کاغذات لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔(صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب الاستمارع الی الخطبۃ ،حدیث 929 ،دار الکتب العلمیہ)

اللہ پاک ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے معاشرے کے اخلاقی حالات بہت ہی خراب تھے لوگوں میں

شرک اور بت پرستی، ظلم و جبر اور ناانصافی، قتل و غارت، معمولی باتوں پر لڑائیاں وغیرہ عام تھیں ، تو اس وقت اللہ پاک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کائنات بنا کر بھیجا، تاکہ آپ لوگوں کی تربیت فرمائیں ، انہیں اخلاقِ حسنہ سکھائیں اور آپ علیہ السلام نے اس فریضے کو احسن انداز میں ادا فرمایا ،آپ علیہ السلام کا مبارک انداز تھا کہ جب آپ علیہ السلام لوگوں کی تربیت فرماتےتو مثال دیکر تربیت فرماتے کیونکہ مثال کے ساتھ سمجھانا فہم کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ ان احادیث مبارکہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) علم سے فائدہ اٹھانے کی تربیت خزانہ کی مثال دیکر فرمائی: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارمِيُّ روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔(لمعات التنقیح فی شرح مشکات المصابیح جلد1، کتاب العلم ۔فصل الاول ، ص 615 ۔حدیث: 280 مکتبہ علومِ اسلامیہ)

(2) اچھے دوست بنانے کی تربیت مشک اٹھانے والے کی مثال دیکر فرمائی : عنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب البر و الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)

سبحان اللہ کتنے پیارے انداز میں صالحین کی صحبت اختیار کرنے اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی تربیت فرمائی ۔

(3) اللہ پاک کا ذکر کرنے کی اہمیت کو زندگی کی مثال دیکر بیان فرمایا: عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔( کتاب: لمعات التنقیح فی شرح مشکوٰۃ المصابیح ۔ جلد 5 ۔ کتاب الدعوات ۔ باب ذکر اللہ والتقرب اِلیہ ، حدیث نمبر:2263 ، مکتبہ علومِ اسلامیہ)

(4) قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کے متعلق تربیت کرتے ہوئے مثال دیکر فرمایا: عنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص 1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)

ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کا جو انداز اپنایا وہ انسانی فہم کے عین مطابق تھا، اسی لیے آپ علیہ السلام نے علم، دوستی، ذکرِ الٰہی اور قرآن کی حفاظت کو روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سمجھایا۔ یقیناً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہمارے لیے أسوَأِ حسنہ ہے، اگر ہم بھی آپ علیہ السلام کے مبارک انداز کو اپنالیں تو اپنے ماتحت افراد ( چاہےوہ اپنی فیملی کے ہوں یا دفتر کے) انکی تربیت کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کے آخری نبی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موڑ پر اصلاح و تربیت فرمائی مگر یہ اصلاح فرمانے کا انداز مختلف تھا ،انہی میں سے ایک طریقہ مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے ، آئیے ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھتے ہیں اور علم میں اضافہ کرتے ہیں:

(1) علم سے نفع اٹھانے اور نہ اٹھانے والے کی مثال: عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَصَابَ اَرْضًا فَكاَنَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَاَنْبَتَتِ الْكَلَاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَكَانَ مِنْهَا اَجَادِبُ اَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا وَسَقُوْا وَزَرَعُوْا، وَاَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا اُخْرَى، اِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَاً فَذٰلِكَ مَثَلَ مَنْ فَقُهَ فِي دِيْنِ اللهِ تَعَالیَ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَاْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي اُرْسِلْتُ بِهِ

ترجمہ: حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک نے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ پاک نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ تعالی کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ تعالی نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔( مسلم شریف کتاب الفضائل باب بیان مثل ما بعث النبی من الھدی والعلم، ص 1283 حدیث 2287 )

(2) رسولُ اللہﷺ اور امت محمدیہ کی مثال : عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ( مسلم کتاب الفضائل باب الشفقت علی امتہ ص 1284 حدیث 2285 )

(3) احکام الہی نافذ کرنے والے کی مثال: عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْقَائِمِ فِی حُدُوْدِ اللَّہِ ، وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلَی سَفِیْنَۃٍ ، فَصَارَبَعْضُہُمْ اَعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ اَسْفَلَہَا ، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِی اَسْفَلِہَا اِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاء ِ مَرُّوْا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ ، فَقَالُوْا : لَوْ اَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ، فَاِنْ تَرُکُوْہُمْ وَمَا اَرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعًا ، وَاِنْ اَخَذُوْا عَلَی اَیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا

ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ پاک کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے تقسیم کر لیے ، بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا توجو لوگ نچلے حصے میں تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا ۔ نچلے حصے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گےاور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ (بخاری شریف کتاب الشرکت باب ھل یقرع فی القسمتہ والستھام فیہ، ج 2 ،ص 143 ،حدیث : 2593)

(4) اچھے اور برے دوست کی مثال نماز : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(5) دنیا و اخرت کی مثال: وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ: حضرت مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ ( مسلم شریف، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا اہلھا باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیامۃ، ص 1529 ، حدیث 2886)

اللہ پاک ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر کریں تو بھی کم ہے کہ اس نے ، ہمیں اپنے پیارے محبوب صلی علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پیدا فرما کر ہم پر بڑا حسان فرمایا ہےاللہ تعالٰی کے آخر ی نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی مثالوں سے امت کی تربیت فرمائی جیسا کہ حدیث پاک میں بھی آیا ہے :

آیئے ہم بھی کچھ ایسی احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں کہ جس سے میں نبی پاک (صلی علیہ وآلہ وسلم )نے مثال سے تربیت فرمائی ہے:

(1)حضور علیہ السلام کی اپنی امت پر شفقت: حضرتِ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہے اور میں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کرآگ ( میں گرنے) سے بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔(فیضان ریاض الصالحین٬جلد2٬حدیث نمبر163ص531)

(2)علم سیکھنے اور سکھانے والے کی مثال: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر پڑی تو زمین کے ایک عمدہ حصے نے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایا اور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیا تو اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایا اور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور جس چیز کے ساتھ اللہ عزوجل نے مجھے بھیجا اس نے اُسے نفع پہنچایا تو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی ( تکبر کی وجہ سے) اور اللہ عَزَّوَجَل کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کیا۔ ( فیضان ریاض الصالحین ،جلد2،حدیث نمبر162، ص526)

(3)اچھے اور بُرے دوست کی مثال :حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحر و بر نے ارشاد فرمایا: ”اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشک اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی۔ (فیضان ریاض الصالحین ،جلد4،حدیث نمبر363، ص148)

(4)آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال: حضرت سید نا مُسْتَورِ دُ بن شَدَّادِ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لو ٹتی ہے۔(فیضان ریاض الصالحین ٬جلد4، حدیث نمبر463، ص671)

(5) سخی اور بخیل کی مثال ہے: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله صلى الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (فیضان ریاض الصالحین ، جلد5،حدیث نمبر،560،ص237)

(6) مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک: حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی آپس میں دوستی، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین ٬جلد٬2حدیث نمبر،224،ص،235)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم کو ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ان احادیث مبارکہ کو پڑھ کر ان کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


الحمد للہ عزوجل ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتیوں کی وقتاً فوقتاً تربیت فرماتے رہے ہیں اور تربیت دینے میں ایک اہم پہلو ہے کہ کسی مثال کے ساتھ سمجھایا جائے تو بات جلدی سمجھ میں آ جاتی ہے ۔ آئیے ملاحظہ کرتے ہیں کہ ہمارے پیارے، آخری نبی نے مثالوں کے ساتھ کیسے تربیت فرمائی ہے :

مشک کی مثل : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: قرآن سیکھو اور پڑھو اس لیے کہ جس نے قرآن کو سیکھا پھر اسے پڑھا اور قائم کیا یعنی اس پر عمل کیا، اس کی مثال ایک مشک سے بھری ہوئی تھیلی کی سی ہے کہ اس کی خوشبو ہر جگہ پھیلتی رہتی ہے اور جس نے اسے یاد کیا اور پھر سو گیا تو وہ اس کے دل میں محفوظ ہے جیسے مشک کی تھیلی کو باندھ کر اور رکھ دیا گیا ہو۔ (ترمذی، باب فضائل القرآن، حدیث نمبر 2876 ،صفحہ 1940)

انوکھی فضیلت : حضرت ابوہریر ﷺ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا جہاد سے واپسی تک اس شخص کی طرح سے جو روزہ دار، قیام کرنے والا اور اللہ کی آیات پر عمل کرنے والا ہو اور روزہ نماز سے تھکنے والا نہ ہو۔ (مسند احمد ،حدیث 9928، 10007)

دین اور عزت محفوظ : حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شبہ ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنادین اور عزت محفوظ کر لی اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے تو قریب ہے کہ جانور اس چرا گاہ سے بھی چر لیں۔ (بخاری ، باب البيوع، حدیث نمبر 2051، صفحہ نمبر 170)

نیک ہم نشین: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: نیک ہم نشین کی مثال خوشبو والے کی طرح ہے ۔ اگر تو اس سے کچھ نہ بھی خریدے تو عمدہ خوشبو کو اس سے پاہی لے گا اور بُرے ہم نشین کی مثال بھٹی دھونکانے والے کی طرح ہے اگر تو اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تجھے ضرور پہنچے گا۔ (ابوداؤد، باب الادب ، حدیث نمبر 4829 صفحہ نمبر 1578 )

اللہ پاک ہمیں ان مثالوں سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


(1) جماعت کے ساتھ منسلک رہنا: حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں بھی تم لوگوں کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں ۔ جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ منسلک رہنا ۔ اس لیے کہ جو جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی الگ ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی مگر یہ کہ وہ دوبارہ جماعت سے مل جائے ۔( ترمذی ، الامثال ، رقم 2863، ص 1939 ۔مسند احمد: 202، 130/4)

(2) مال کی حرص : حضرت مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص انسان کے دین کو خراب کرتی ہے۔(ترمذی، الزهد ، رقم 1890، 2376)

(3)جنت میں پڑوس : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بچیوں کی پرورش کی ، میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی مثل داخل ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا ۔ ( ترمذی، البر والصلۃ ، رقم 1914، ص 1845)

(4) نیکیاں کھانے والی چیز: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے۔ (ابوداؤد، الادب ، رقم 4903 ص 1583)


اللہ عزوجل نے قرآنِ مجید میں جگہ جگہ سرکار علیہ السلام سے امرٌ باالمعروف ونھیٌ عنِ المنکر اور تبلیغِ دین کی اشاعت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور حضور علیہ السلام نے اپنی اُمّت کی تربیت کبھی قرآن کریم کے احکامات بیان کرکے کی ، کبھی پچھلی امّتوں کے حالات و واقعات بتاکر اور کبھی مثالوں کے ذریعے فرمائی ہے ۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی کی راہنمائی کرنے کیلئے اسے کسی مثال کے ذریعے سمجھانا سامنے والے کیلئے بہت مفید ہوتا ہے ۔دیکھیے کس طرح سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے نماز میں بار بار ہاتھوں کے اٹھانے کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔

(1) حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک عالِم کی فضیلت مثال کے ذریعے سمجھائی۔ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ۔ایک ان میں سے عابد تھا دوسرا عالِم۔تو سرکا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عابد پر عالِم کی فضیلت ایسی ہے جیسے کہ میری فضیلت تمہارے ادنٰی آدمی پر۔ (مشکٰوۃشریف،کتاب العلم حدیث نمبر 16،ص 183)

(2) اور ایک حدیث شریف میں باوضو رہنے کی فضلیت کو مثال کے ذریعے سمجھایا جیسا کہ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جو فرض نماز کیلئے اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طرح ہے اور جو چاشت کےلئے نکلے کہ یہ نماز ہی اسے نکالے تو اس کا ثواب عمرہ والے کی طرح ہے اور نماز کے بعد دوسری نماز جس کے درمیان کوئی بیہودہ بات نہ ہو اس کی علّیین میں تحریر ہے ۔( مشکٰوۃ شریف ، باب المساجد، فصل ثانی ، حدیث نمبر 40، ص 439)

(3) ایک حدیث شریف میں درست سجدہ کرنے کو مثال کے ذریعے سمجھایا، حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک سجدہ کرے تو وہ اپنے گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھے اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے ۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ،جلد اول، حدیث نمبر 235 ص2702)

(5) ایک مقام پر نا اَہل پر علم پیش کرنے کو مثال کے ذریعے سمجھایا جیسا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ نا اہل پر علم پیش کرنے والا ایسا ہے جیسے سوروں کو موتی ،جواہرات اور سونے کے ہار پہنانے والا ۔( مشکٰوۃشریف ،جلداول،کتاب العلم،حدیث نمبر206،ص196)

(6) ایک اور جگہ حلال و حرام کے مابین مُشتبہ والی چیزوں میں پڑجانے والی کی مثال بیان فرمائی جیسا کہ عامر (شعبی) سے روایت انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں۔( مشکٰوۃ شریف ،جلد اول ، حدیث نمبر52،ص33)

اللہ جل شانہ نے آقا کریمﷺ کو نوع انسانیت کی رشد وھدایت کے لیے مکمل مثال بنایا اورفطرت انسانی کے قریب ترمذہب ، اسلام کے ساتھ مبعوث فرمایا نیز اپنی پاکیزہ کتاب میں نبی پاک ﷺ کے اطوارواخلاق نیز آپ کی حیات بابرکات کو ایمان والوں کے لیے بحیثیت رول ماڈل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہ ِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنزالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (الاحزاب: 21)

یعنی آپ ﷺکی حیات طیبہ زندگی کےہر موقع پر ہمارے لیے مشعل راہ ہے جس کا ایک پہلو مثالوں کے ذریعے تربیت کرنے کا عمدہ اور جامع طریقہ ہے۔

مثال کے ذریعے تربیت کی افادیت: کسی بھی چیز کو مثال کے ذریعے سمجھانا انسانی ذہن کے بہت قریب ہے وہ اس لیے کیونکہ یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے سوچنے اورسمجھنے کی ذہنی صلاحیت دوسرے سے بلکل جدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص بات میں پوشیدہ معانی ومفاہیم کا ادراک نہیں کرسکتا لہذا اپنی بات کو سامنے والے تک درست اور واضح انداز میں پہنچانے کے لیے مختلف امثال سےمدد لی جاتی ہے تاکہ سامنے والے کے دل میں وہ بات گھر کرجائے اور وہ اس بات سے صحیح معنوں میں فائدہ حاصل کرسکے بالخصوص ایک مبلغ کے انداز تربیت میں اس عنصر کا پایا جانا بہت ضروری ہے تاکہ وہ نیکی کی دعوت کو مزید مؤثر بنا سکے۔

تربیت نبویﷺ کی مختلف مثالیں: سید المبلغینﷺکے انداز تربیت میں مثالوں کے ذریعےتربیت کا پہلو جا بجا پایا جاتا ہے چونکہ آپﷺصحابہ کرام علیہم الرضون بلکہ اپنی تمام امت کے لیے معلم کی حیثیت رکھتے ہیں ایک حدیث مبارکہ میں مصطفےٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بناکر بھیجا گیا ہے ۔ (ابن ماجہ،1/150،حدیث :229)

آپ ﷺ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کی بحیثیت معلم دین ودنیا کے مختلف امور میں مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی کیونکہ بہترین معلم وہ ہوتا ہے جو اپنی بات انتہائی آسان اور سہل انداز میں سامنے والے پر واضح کردےجیسا کہ ایک موقع پر نماز کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر چلتی ہوئی نہر کی سی ہے، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو۔ ( مسلم، كتاب المساجد ومواضع:(668)

یعنی جب کوئی شخص دن میں پانچ مرتبہ کسی نہر میں غسل کرے تو وہ بلکل میل کچیل سے پاک ہوجائے گا اسی طرح جوشخص دن میں پانچ نمازیں ان کے وقت پر ادا کرے بھلا اس پر گناہ کے اثرات کس طرح باقی رہ سکتے ہیں؟ سبحان اللہ !آپ ﷺنے نمازکی فضیلت کس عمدہ طریقے سے بیان فرمائی تاکہ نماز کے لیے اہتمام کرنےپر ایمان والوں کی رغبت میں اضافہ ہو اور وہ اس کی ادائیگی میں کوشش کریں اسی طرح حفظ قرآن پاک کی اہمیت و حساسیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اگروہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔ (صحيح بخاري، كتاب فضائل القرآن، حدیث: 5031)

یعنی قرآن پاک کو حفظ کرنے کے بعد لازم ہے کہ بندہ اس کی قراءت کے ذریعے حفاظت کرے وگرنہ یہ قرآن اسے بھلا دیا جائے گا ۔

اب یہاں حدیث مبارکہ میں بیان کردہ ان مثالوں سے معلوم ہورہا ہے کہ کسی بات کی فضیلت یا عظمت کو بیان کرنے کے لیے مثال کے ذریعے اسے پیش کرنا کتنا مؤثر ہے کیونکہ اس طرح سامنے والے کے دل میں اس بات کی فضیلت یا عظمت گھر کرجاتی ہے اور اس کام کو کرنے یا نہ کرنے کی طرف رغبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

امتیوں سے محبت کا بےمثال تعلق: سرکار کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے جہاں مختلف مقامات پر تربیت فرمائی وہیں اپنی امت کے ساتھ شفقت اور محبت کے تعلق کو بھی مثال کے ذریعےبیان فرمایا: فرمان مصطفی ﷺ: میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے اورمیں تمہاری پشتوں سے پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں (جہنم کی آگ میں) گرتےچلے جا رہے ہو۔( سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله ﷺ حدیث: 2874)

یعنی امتی اپنے گناہوں کے سبب جہنم کی آگ میں گرنے لگتے ہیں اور آقاکریم ﷺ اپنی شفاعت سے انھیں جہنم کی آگ سے نجات دلواتے ہیں اسی حدیث مبارکہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنے کلام میں فرماتے ہیں :یعنی آپﷺ اپنی امت پر اتنے مشفق ومہربان ہیں کہ ان کا اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں داخل ہونا آپﷺ کو گوارا نہیں۔

ختم نبوت پر مثال: اسی طرح اپنے آخری نبی ہونے اور آپ ﷺکے بعد نبوت کے دروازے بند ہونے کی طرف بھی ایک خوبصورت مثال کے ذریعے اشارہ فرمایا ، فرمان مصطفی ﷺ :ترجمہ:”میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا پھر اسےمکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ، پھرلوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی (سنن ترمذی، كتاب الأمثال عن رسول الله ﷺحدیث: 2862)

یعنی حضورﷺ قصر نبوت کی اس آخری اینٹ کی طرح ہیں جس سے یہ مکمل ہوگیا یعنی اب آپ ﷺکے بعد اس تسلسل میں مزید کسی نبی کی گنجائش نہیں کیونکہ آپﷺ کی تشریف آوری سے اس خوبصورت گھر کی تکمیل ہوگئی لہذا اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آسکتا۔

مدنی آقاﷺ کے انداز تربیت کے ان چند پہلوؤں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک معلم کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی تربیت کے لیے وہ انداز اختیار کرے کہ جو ان کی سمجھ اور نفسیات کے زیادہ قریب ہوتبھی وہ بحیثیت استاد یا مبلغ کے کامیابی حاصل کرسکے گا جس کا سب سے بہترین انداز مثالوں کے ذریعے تربیت بھی ہے۔ رب تعالی ہمیں سیرت نبوی ﷺ کے اس پہلو پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


محمد یاسر رضا عطّاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ غلامان رسول اوکاڑہ ، پاکستان)

Wed, 26 Nov , 2025
36 days ago

الله کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت اور معلم انسانیت ہیں۔ اللہ کریم نے آپ کی معلمانہ حیثیت و شان کو بیان کرتے ہوئے سورہ آل عمران آیت نمبر 164 میں آیات تلاوت کرنے، تزکیہ نفس فرمانے اور کتاب و حکمت سکھانے کا ذکر فرمایا۔ خود حضوراکرم نے ارشاد فرمایا:وَإِنَّمَا ‌بُعِثْتُ ‌مُعَلِّمًا ترجمہ:میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (ابن ماجہ، باب العلماء والحث على طلب العلم، ص125، حدیث: 229)

قرآن کریم سرچشمہ ہدایت ہے۔ اس میں ہر انداز سے تربیت کی گئی۔ ایک انداز امثلہ کے ذریعے تربیت کرنا بھی ہے۔ اب جو جس طریقے کو آسان جانے اس پر عمل پیرا ہو اور منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ(۲۷)ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو ۔ (پ23، الزمر: 27)

اور مثال بیان فرماتے ہوئے سورہ عنکبوت آیت نمبر 41 میں بتوں کے عاجز ہونے کو مکڑی کی مثل کہا گیا۔

قرآن مجید کے طرزتربیت پر عمل کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں مثالوں کو ذکر کیا ۔ چند احادیث درج ذیل ہیں۔

روزے کی مثال: اَلصَّومُ جُنَّةٌ ترجمہ: روزہ ڈھال ہے۔ (بخاری، باب الصوم، ج1، ص947، حدیث: 1894 پروگریسو بکس)

روزہ نفس کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ نفس ٹوٹ جانے پر انسان بہت سی نیکیاں کر سکتا ہے۔ اور گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ (مراة المناجح شرح مشکوة المصابیح ، ج1، ص 42، نعیمی مکتب خانہ گجرات)

نماز کی مثال: اَرَاَيْتُمْ لَوْ اَنَّ نَه‍ْرًا بِبَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا ه‍َلْ يَبقى مِن دَرَنه شَيْءٌ قَالُوا:لَا يَبقى مِن دَرَنه شَيْءً.قَالَ فَذلَكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُواللّه بِه‍ِنَّ الْخَطَايَا ترجمہ: بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر نہر ہو اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا۔ فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ اللہ ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (بخاری، فصل الصلاة لوقتھا ، ج1، ص325، حدیث: 528 پروگریسو بکس)

یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہے کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے۔ (مراة المناجح شرح مشکوة المصابیح ، ج1، ص 350، نعیمی مکتب خانہ گجرات )

الله پر توکل: لَوْ اَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُوْنَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاسًاوَ تَرُوحُ بِطَا نًا ترجمہ: اگر اللہ پر جیسا چاہیے ویسا توکل کرو تو تم کو ایسا رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب فِی التَّوَكُّلِ عَلَی اللہ، ص 481، حدیث: 2344، دارالسلام)

حق توکل یہ ہے کہ فاعل حقیقی اللہ تعالی کو ہی جانے، بعض نے فرمایا کہ کسب کرنا نتیجہ اللہ پر چھوڑنا حق توکل ہے ۔ جسم کو کام میں لگائے دل کو اللہ سے وابستہ رکھے۔ (مراة المناجح شرح مشکوة المصابیح ، ج7، ص 83، نعیمی مکتب خانہ گجرات )

دنیا کے عارضی ہونے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اَنَا وَالدُّنْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَکَہَا ترجمہ:میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں (کچھ دیر )بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔(مسند احمد ، ج1، ص 391، حدیث: 17104، مؤسسۃ الرسالہ)

تاجدار مدینہ ﷺ نے اپنے معلم ہونے کا حق احسن طریقے سے ادا کیا اور رہتی دنیا کے لیے مثال قائم کی کہ ایک معلم کو کیسا ہونا چاہیے اور اس میں کیا صفات ہونی چاہئیں۔ اللہ کریم ہمیں ان مثالوں کے ذریعے ارشادات نبوی کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔


رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ تربیت و اصلاح کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دعوت و تربیت کے لیے جو اسلوب اختیار فرمایا، وہ نہایت حکیمانہ، مؤثر اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے۔ ان اسالیب میں سے ایک نہایت مؤثر طریقہ " مثال سے تربیت" ہے۔ آپ ﷺ نے پیچیدہ مفاہیم کو سمجھانے، دلوں پر اثر ڈالنے اور ذہنوں میں نقش کرنے کے لیے بارہا مثالوں کا سہارا لیا۔

مثالوں کے ذریعہ مفہوم کو واضح کرنا: رسول اللہ ﷺ نے مجرد باتوں کو عملی مثالوں سے واضح کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی تاکہ وہ بات آسانی سے ذہن نشین ہو جائے۔ نیک صحبت اور بری صحبت کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِیسِ الصَّالِحِ وَالجَلِیسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ ترجمہ:نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک (عطر) بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی مانند ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح، حدیث: 5534، جلد 3، صفحہ 123، دار طوق النجاة)

اس حدیث میں آپ ﷺ نے صحبت کے اثر کو اتنی خوبصورت مثال سے واضح فرمایا کہ سننے والا فوراً سمجھ جائے۔

عملی مثالوں سے سمجھانا: کبھی آپ ﷺ صرف زبانی مثال پر اکتفا نہیں فرماتے بلکہ کسی چیز کو عملی طور پر دکھا کر بات سمجھاتے۔ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَنْكِبَيَّ، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی اجنبی یا مسافر ہوتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6416، جلد 5، صفحہ 235، دار طوق النجاة)

کندھے پر ہاتھ رکھنا ایک محبت بھرا عملی اشارہ تھا جس سے بات کا اثر دوچند ہو گیا۔

زمین پر خط کھینچ کر سمجھانا: آپ ﷺ بعض اوقات زمین پر لکیریں کھینچ کر بھی بات کو سمجھاتے تاکہ وہ تصور ذہن میں نقش ہو جائے۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَطًّا، فَقَالَ: هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ... ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ سُبُلٌ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ دوسرے راستے ہیں۔ (مسند احمد، حدیث: 3945، جلد 1، صفحہ 435، دار الرسالۃ)

یہ تربیت کا نہایت مؤثر طریقہ تھا، جس سے بات صرف سنی نہیں جاتی بلکہ دیکھی اور سمجھی بھی جاتی۔

مثالوں سے نصیحت مؤثر بنانا: نصیحت کو مؤثر بنانے کے لیے بھی آپ ﷺ مثالوں کا استعمال کرتے۔

قیامت کے دن بندے کے اعمال کے متعلق فرمایا: إِذَا لَمْ تَسْتَحْ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 3483، جلد 4، صفحہ 117)

یہ دراصل ایک اخلاقی اصول ہے جو تمثیل کے انداز میں بیان ہوا کہ اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر کوئی بھی برائی کرنے میں رکاوٹ نہیں رہتی۔

رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت نہایت جامع، فطری اور مؤثر تھا۔ آپ ﷺ نے تمثیل کے ذریعے صحابہ کے دلوں میں علم و حکمت، اخلاق و کردار اور ایمانی بصیرت کی روشنی بھری۔ آپ کی دی گئی مثالیں آج بھی معلمین، مربیین اور داعیانِ حق کے لیے کامل نمونہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی اصلاح و دعوت کے کاموں میں اسی پیغمبرانہ اسلوب کو اپنائیں تاکہ بات اثر رکھے اور دلوں میں اترے۔