اللہ پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز سے اپنی امت کی اصلاح فرمائی ان میں سے ایک بہترین انداز مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے آئیے ہم بھی اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھتے ہیں:

(1) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ: حضرت مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ ( مسلم شریف، کتاب الجنۃ و صفت نعیمھا اہلھا باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیام، ص 1529 ، حدیث 2886)

(2) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْجَنَّةُ اَقْرَبُ اِلَى اَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذٰلِكَترجمہ: حضرت سیدناابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے اورجہنم بھی اسی طرح قریب ہے۔ (بخاری،کتاب الرقاق ،باب الجنۃ اقرب الی احدکم۔۔ الخ 4/243،حدیث 2488)

(3) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهٖ، أُعَلِّمُكُمْ: إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهٰى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَنَهٰى أَنْ يَسْتَطِيْبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهٖ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ تمہیں سکھاتا ہوں جب تم بیت الخلاء جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 باب آداب الخلاء حدیث 319 صفحہ نمبر 246 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)

(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

ترجمہ:حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘(مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تراحم المؤمنین ۔۔الخ ،ص 1396 حدیث 2586)

اللہ پاک ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسرے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اللہ پاک نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کائنات رنگا رنگ میں ہادی خلق ، معلم انسانیت بنا کر اور جوامع الکلم عطا فرما کر مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلی اندازِ تربیت عمدہ اخلاق اور بہترین تدبیر سے بنی آدم کو راہ ہدایت پر گامزن فرمایا اور ہر موڑ پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تربیت فرمانے کا انداز انتہائی دل نشین ہوا کرتا کبھی اپنے عمل سے تربیت فرماتے تو کبھی اشارے کے ذریعے نصیحت فرماتے کبھی اپنے فعل سے تعلیم دیتے تو کبھی اپنے قول سے وعظ فرماتے ، انہی میں سے ایک عمدہ پہلو ،، مثال کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے مثال مشکل بات کو سمجھانے اور دل میں اتارنے کا بہترین اور آسان ذریعہ ہے اعلی تعلیم یافتہ اور کم پڑھے لکھے شخص کو اگر مثال کے ذریعے سمجھایا جائے تو مضمون اس کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے اور وہ اسے بآسانی سمجھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر احادیث میں مثال کے ذریعے تربیت فرمائی ۔ آئیے ہم بھی ان میں سے چند احادیث پڑھتے اور قلوب و اذہان کو معطر کرتے ہیں:

(1) مومن و منافق کی مثال: ایمان انسان کا قیمتی اثاثہ اور عظیم سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کا سبب ہے جبکہ اس کے برخلاف کفر و نفاق اختیار کرنا ذلت و رسوائی اور دخول جہنم کا سبب ہے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تَفَيِّئُهَا الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة

ترجمہ: مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح (قدیم) کتاب الجنائز ج:2 ، حدیث :1541 ، باب عیادت المریض وثواب المرض)

(2) علم کی مثال: یقینا علم دین کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ فضائل تب ہی حاصل ہوں گے جب علم سے نفع بھی اٹھایا جائے اس کے برخلاف علم سے فائدہ نہ اُٹھانے کی صورت میں یہ علم بیکار مال کی طرح ہے کہ جو وبال و نقصان کا باعث ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث:280 باب العلم ص75 مکتبہ اسلامیہ)

(3) گناہوں کی بخشش: نماز ایک عظیم الشان عبادت ہے نماز جہاں ایک طرف اللہ و رسول کی خوشنودی ، مومن کی معراج ، دعا کی قبولیت اور ڈھیروں ثواب کے حصول کا ذریعے ہے تو دوسری طرف صغیرہ گناہوں کی بخشش کا بھی سبب ہے اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال کے ذریعے بیان فرمایاِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا

یعنی بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا ، یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مسلم شریف، کتاب المساجد، باب مشی الی الصلاۃ ص 332 حدیث 668 )

(4) اچھےو برے دوست کی مثال: انسانی زندگی پر اچھی و بری صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے اچھے دوست کی صحبت انسان کو نیک جبکہ صحبت بد انسان کو سرکش و بے باک بنا دیتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان نہیں دے سکتی بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔ ( مراہ المناجیح ج6 ص 590)

اس کے علاوہ کثیر احادیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تعلیم و تربیت فرمائی مگر افسوس ہم ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے سے نااشنا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین


حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت پر کمال شفیق اور مہربان ہیں ،آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ہمیں بہت سی چیزوں سے تربیت فرمائی اور پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ انداز بہت ہی خوبصورت انداز ہے کیونکہ مثال کے ذریعے مضمون پوری طرح دل میں اتر جاتا ہے اور مثال کے ذریعے اعلی تعلیم یافتہ یا کم پڑھنے لکھے شخص کو اچھے طریقے سے سمجھ آجاتی ہے ۔ آئیے کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت کی مثال کے ذریعے سے تربیت فرمائی:

(1) سخی اور بخیل کا خرچ کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول الله صلی علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ ؟ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا ۔ ( ریاض الصالحین، مترجم، ج 5 ، ص 237، حديث 560، مکتبۃ المدینہ )

(2) عمدہ خوشبو کاآنا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(3) آگ میں گرنے سے بچانا: حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انھیں آگے۔ میں کرنے سے بچاتا ہے اور میں تمھیں تمھاری کمر سے پڑ کر آگ میں گرنے سے بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔ ( ریاض صالحین مترجم ،ج 2، ص 531،حديث 163، مکتبۃ المدینہ )

(4) برائی کو نہ روکنے والوں کی مثال : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے۔ جنہوں۔ نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کرکے۔ اپنے حصے تقسیم کر لیے۔ بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا تو جو لوگ نچلے حصے میں تھے انھیں پانی لینے کے لیے۔ اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا۔ نچلے حصے والوں نے کہا کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گے اور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ (ریاض صالحین،مترجم ج 3 ، ص 60، حديث 187 ، مکتبۃ المدینہ )

(5) دنیا کی مثال: حضرت سیدنا مستورد بن شداد رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے۔ جسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔ ( ریاض الصالحین ،ج :4 ص : 671، حدیث نمبر 463 ، مکتبۃ المدینہ )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی بات بالکل نہیں مانتے اگر ہم کسی کی تربیت کرنا چاہیں تو سامنے والا سمجھتا ہے کہ یہ ہماری کیا تربیت کرے گا ، اس کو تو خود تربیت کی ضرورت ہے لیکن اگر ہم کسی کو مثال دے کر تربیت کریں تو سامنے والے کو اچھے طریقے سے بات سمجھ میں آجاتی ہے ، ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں جن باتوں کی مثال کے ذریعے تربیت فرمائی اگر اس پر فتن دور میں ہم ان احادیث پر عمل کریں گے تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے ہمیں ان احادیث پر عمل کر کے اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو علم سکھانے کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے ۔ ان میں سے ایک مؤثر طریقہ "مثالوں کے ذریعے سمجھانا" تھا۔ آپ ﷺ نے پیچیدہ باتوں کو سادہ اور عام فہم مثالوں سے واضح فرمایا، تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے۔

یہاں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے چند احادیث ذکر کرتا ہوں جس میں آپﷺنے مثالوں کے ذریعے امت کو تعلیم دی ۔

(1) اچھے اور برے دوست کی مثال :نبی پاک ﷺ نے برے دوست کے اثر کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب البر و الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)

اس مثال سے آپ ﷺ نے سکھایا کہ انسان پر اس کے دوست کی صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

(2)گناہ جھڑنے کی مثال : حضرت سیّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ موسمِ سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے توآپ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بےشک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا کے لئے نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں۔ (مسند احمد،مسند الأنصار،حديث أبى ذر الغفاری رضی الله تعالى عنہ،حدیث: 21556)

اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے نماز کے ذریعے گناہ جھڑنے کی مثال درخت کے پتوں سے دی کہ جس طرح ٹہنی کو ہلانے سے پے در پے پتے گرتے ہیں اسی طرح بندۂ مؤمن کے گناہ بھی نماز کے ذریعے گرتے ہیں۔

(3) ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں بیمار تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ، سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد،كتاب الجنائز ،باب عيادة النساء، حدیث: 3092)

مذکورہ حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے بیماری کے ذریعے گناہ دور ہونے کی مثال آگ اور سونے ، چاندی سے دی کہ جس طرح آگ ان دونوں کی میل کو دور کرتی ہے اسی طرح بیماری بھی انسان سے گناہوں کو دور کرتی ہے۔

حضور ﷺ نے مثالوں کے ذریعے مشکل سے مشکل بات کو آسان بنا دیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیشہ عملی اور سادہ ہوتی تھیں، تاکہ ہر طبقے کے لوگ سمجھ سکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اچھی مثالوں کے ذریعے دوسروں کو نیکی کی طرف بلائیں۔

رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک مکمل تربیتی نصاب ہے۔ مثال دے کر تربیت کرنا نہ صرف ذہن نشین کروانے میں مؤثر ہے بلکہ کردار سازی میں بھی مددگار ہے۔ آج کے والدین، اساتذہ، مبلغین، اور قائدین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی اس سنتِ تربیت کو اپنائیں تاکہ معاشرے میں علم کے ساتھ ساتھ کردار بھی پروان چڑھے۔ آئیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مثال کے ذریعے سے تربیت فرمانے کو پڑھیئے :

(1)بے فائدہ علم: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے اس خزانہ کی سی ہے جس سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے۔(مشکوٰۃ المصابیح، علم کا بیان، فصل ثالث ،جلد:1،صفحہ نمبر :39،حدیث نمبر: 260)

(2) دنیا فانی ہے: وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “

حدیث کی وضاحت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی بہت تنگ ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت خود بھی دائمی ہے اور اس کی نعمتوں کو بھی دوام حاصل ہے لہذا اگر اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں وہی ہے جو انگلی پر لگنے والے پانی کی حیثیت سمندر کے مقابلے میں ہوتی ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4،حدیث نمبر:463)

(3) خوبصورت محل: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ .وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سوائے اس اینٹ کے، تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر انبیاء ختم کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کر دیئے گئے ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)

حدیث کی وضاحت :سبحان الله! کیسی پیاری مثال ہے نبوت گویا نورانی محل ہے حضرات انبیاء کرام گویا اس کی نورانی اینٹیں،حضور صلی الله علیہ وسلم گویا اس محل کی آخری اینٹ ہیں جس پر اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور آخری نبی ہیں آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)

اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں

کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشش حسن سے

نہ بہار آور پہ رخ کرے کہ جھپک پلک کی تو خار ہے

(4) زندہ اور مردہ کی مثال: عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔( مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الدعوات ،باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ ،صفحہ نمبر:198،جلد:1،حدیث نمبر:2153)

آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

نبی کریم ﷺ کی تمثیلی تربیت نے امت کو نہ صرف سکھایا بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی دیا۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس عظیم تربیتی اسلوب کو اپنی تعلیم و تبلیغ میں زندہ کریں، تاکہ دل بدلے، سوچ بدلے، اور امت پھر سے سنور جائے۔

اللہ عزوجل ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین


تاریخِ انسانی میں اگر کوئی ایک شخصیت ہے جس نے سب سے مؤثر انداز میں لوگوں کی تربیت فرمائی، تو وہ نبی آخر الزمان، سید المرسلین محمد ﷺ کی ذاتِ مقدس ہے۔آپ ﷺ نے انسانیت کو اخلاق، عبادات، عقائد اور معاملات کا وہ درس دیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ ﷺ صرف معلم ہی نہیں بلکہ مربیِ کامل تھے، جن کا اسلوبِ تربیت قلوب کو چھو لیتا اور ذہنوں میں جاگزیں ہو جاتا۔

آپ ﷺ نے اپنی دعوت و نصیحت میں جو اسلوب اپنایا، ان میں تمثیلات (مثالوں) کا اندازِ بیان نہایت مؤثر تھا۔ آپ ﷺ فرماتے، سوال کرتے، ذہنوں کو متوجہ کرتے، پھر سادہ اور دل نشین مثال کے ذریعے مقصد کو سمجھاتے۔ یہی اسلوب آج بھی بہترین تعلیم و تربیت کے اصولوں میں شمار ہوتا ہے۔

(1) مومن، ایک زندہ اور نفع بخش درخت کی مانند: ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ بعد میں فرمایا: هِيَ النَّخْلَةُ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب: العلم، باب: فضل النخل، حدیث: 72، جلد: 1، صفحہ: 40، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

وضاحت: کھجور کا درخت فائدہ مند، ہر موسم میں سرسبز، مضبوط جڑوں والا، سایہ دار اور نفع بخش ہوتا ہے اور ایک مومن بھی ایسا ہی ہوتا ہے: وہ خیر بانٹتا ہے، ثابت قدم رہتا ہے، اور ہر حال میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

(2) گناہوں کی صفائی کی نہر: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ یعنی: اگر تمہارے دروازے پر ایک نہر ہو، اور تم اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہاؤ، تو کیا تمہارے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب: الصلوۃ، باب: الصلوات كفارة، حدیث: 528، جلد: 1، صفحہ: 178، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

وضاحت: جیسے پانی جسم کو صاف کرتا ہے، ویسے ہی نماز روح کو پاک کرتی ہے، گناہوں کو جھاڑ دیتی ہے۔

(3) مومنین کا باہمی تعلق ، ایک عمارت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک خوبصورت تمثیل میں یوں بیان فرمایا: المُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی: مومن، دوسرے مومن کے لیے ایسی عمارت ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر عملی مثال دی۔ (صحیح بخاری، کتاب: الأدب، باب: تشبيك الأصابع، حدیث: 481، جلد: 1، صفحہ: 167، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مومن ایک دوسرے کا سہارا ہیں، ایک کی کمزوری دوسرے کی طاقت سے پوری ہوتی ہے۔ یہ اخوتِ اسلامی کی بنیاد ہے۔

نبی کریم ﷺ کا تمثیلی اندازِ تعلیم محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ایک فکری انقلاب ہے ، جو عام آدمی سے لے کر فلسفی تک ہر ذہن کو قائل کرتا ہے ۔ یہی انداز آج اساتذہ، والدین، خطباء، اور ہر داعی کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم بھی تربیت کے اس نبوی منہج کو اپنائیں تاکہ ہماری بات بھی دلوں میں اُترے، کردار بدلیں، اور نسلیں سنوریں۔


اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے نہ صرف انسان کی عبادات بلکہ اس کی سیرت، معاشرت، اخلاق، تربیت اور فکری ارتقاء کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو معلمِ انسانیت، مزکیٔ نفس، اور مربیٔ کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے اپنی حکمت، نرمی، اخلاق اور بصیرت سے لوگوں کے دل جیتے، اور انہیں اعلیٰ تربیت دی۔ آپ کا اندازِ تربیت بے مثال تھا، جس میں سب سے مؤثر اسلوب تمثیل (مثالوں) کے ذریعے تربیت دینا ہے ۔

تمثیل یا مثال، کسی بات کو دوسرے انداز سے اس طرح پیش کرنا ہے کہ سننے والا اسے بہتر طور پر سمجھ سکے۔ نبی کریم ﷺ نے تمثیل کا استعمال نہ صرف علمی و عقلی وضاحت کے لیے کیا بلکہ اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت کے لیے بھی فرمایا۔

آپ ﷺ کی تعلیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مخاطب صرف معلومات حاصل نہ کرے، بلکہ دل سے سیکھے، سوچے اور اس پر عمل کرے۔ اس مقصد کے لیے آپ مثالوں، سوالات، ترتیبِ الفاظ اور موقع کی مناسبت سے بات کرتے۔ آپ ﷺ کی تمثیلات میں نہ مبالغہ ہوتا تھا، نہ گراوٹ، بلکہ انتہائی سادہ، عام فہم اور گہرا اثر رکھتی تھیں۔

قرآن کریم میں بھی تمثیل کا استعمال : اللہ تعالیٰ نے خود بھی قرآن کریم میں کئی مواقع پر تمثیلات بیان فرمائیں۔ جیسے مکھی، مکڑی، چراغ، درخت، بارش وغیرہ سے ایمان، کفر، اخلاص، نفاق اور اعمال کو سمجھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی قرآنی اسلوب کو اپنایا۔آپ ﷺ کی چند تمثیلیں درج ذیل ہیں :

(1) نیک و بد دوست کی مثال : نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

اس تمثیل سے صحبت کے اثرات واضح ہوتے ہیں، جو تربیتِ کردار میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

(2) پانچ نمازوں کی مثال نہر کے غسل سے : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

یہ مثال نمازوں کی اہمیت اور گناہوں کی صفائی کو خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔

(3) منافق کی مثال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً نبی ﷺ نے فرمایا: منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے بیچ بھٹکتی ہے، نہ اس طرف جاتی ہے، نہ اس طرف۔ (صحیح مسلم: حدیث 2770)

یہ مثال منافق کی تذبذب، بےاصولیت اور دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس اسلوبِ تربیت کے کئی فائدے ہیں :

فہم میں آسانی: تمثیل عام فہم انداز میں بات سمجھاتی تھی۔

یادداشت میں پختگی: مثالیں یاد رہتی ہیں، اس لیے صحابہ طویل عرصے تک بات یاد رکھتے۔

عمل کی تحریک: تمثیل سامع کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرتی۔

فطری رغبت: انسان فطرتاً قصہ اور مثال پسند کرتا ہے، اس لیے سننے میں دلچسپی بڑھتی۔

اگر آج ہم بھی تعلیم و تبلیغ میں آپ ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تو نہ صرف فہم و ادراک میں اضافہ ہوگا، بلکہ عمل کی طرف بھی رغبت پیدا ہو گی، اور سچی تربیت کا دروازہ کھلے گا۔

اللہ پاک سے دعا ہے ہمیں بھی اللہ پاک اس انداز تربیت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات میں بلکہ معاشرت، اور تربیت کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم معلم اور رہنما ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اُمت کی تعلیم و تربیت کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ نہایت حکمت پر مبنی تھا۔ ان طریقوں میں ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثالوں کے ذریعے بات سمجھاتے۔ یہ مثالیں بعض اوقات روزمرہ زندگی سے لی جاتیں، کبھی جانوروں، درختوں، یا گھریلو اشیاء سے، اور کبھی انسانی نفسیات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دی جاتیں ۔آئیے اس کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔

زندہ و مردہ کی مثال : عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2263)

تمہاری اور میری مثال : عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تعلیم نہایت حکیمانہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی مثالیں صرف الفاظ نہیں تھیں بلکہ حکمت، اور تعلیم و تربیت کا خزانہ تھیں۔ آج کے دور میں جب سیکھنے اور سکھانے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، پھر بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات دلوں میں اترے ، تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسلوب کو اپنانا ہو گا۔ چاہے ہم والدین ہوں، اساتذہ، مبلغین یا مقررین ۔ مثالوں کے ذریعے بات سمجھانا ایک سنتِ نبوی ہے، جو ہر دور میں مؤثر رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ( ان شاء اللہ عزوجل)

اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے سیکھنے، سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ رہتی دنیا کیلئے نہ صرف بہترین نمونہ بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے ۔ کائنات کے سب سے بہترین معلم حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

(1) عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2263 )

(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تزَالُ الرِّيْحُ تُمِيْلُهٗ وَلَا يزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ البَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزَّ حَتّٰى تَسْتَحْصَدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا۔(مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1542 )

اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مؤمن خوشی سے مرتا ہے اورمنافق جبرًا موت دیاجاتاہے،موت ایک ریل ہے جو دولہا کو سسرال تک پہنچاتی ہے اورپھانسی کے مجرم کو پھانسی تک مؤمن کی دنیوی تکلیفیں آخرت کی راحت کا سبب ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1542 )

(3)عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995 )

نارنگی سے تشبیہ دینے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”قرآن پاک پڑھنے والے مومن کو نارنگی کے ساتھ اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ تمام شہروں میں پائے جانے والے پھلوں میں سب سے بہترین پھل ہے۔اس میں بکثرت صفات مطلوبہ اور خواص ہیں ۔

(4)وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ۔ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ،3 ،حدیث نمبر ،2263 )

اللہ کریم کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے کہ ہمیں سنتوں کی چلتی پھرتی تصویر بننے کی توفیق عطا فرمائے اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانیت کو سیدھے راستے پر گامزن کر سکیں۔ ان انبیائے کرام علیہم السلام میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیجا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہ صرف الفاظ تک محدود تھیں بلکہ آپ نے عملی مثالوں، سادہ تشبیہات اور دلنشین حکایات کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی انہیں دین کی حقیقی روح سے روشناس کرایا۔ آپ کی یہ منفرد حکمتِ عملی آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، ان میں سے چند احادیث پڑھیئے:

مثالوں سے تربیت کی اہمیت: انسانی فطرت ہے کہ وہ مثالوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ مثالیں پیچیدہ تصورات کو آسان بنا دیتی ہیں، اور سننے والے کے ذہن میں ایک واضح نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ اسی نفسیاتی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں مثالوں کا استعمال فرمایا۔انہیں مثالوں میں سے چند مثالیں درج ذیل ہیں۔

(1) اچھے اور برےدوست کی مثال: عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(2) حلال اور حرام کا درمیانہ راستہ: عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ

ترجمہ:عامر (شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ عزوجل کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:52،ج1،ص33)

(3) دیا ہوا صدقہ واپس لینے کی مثال: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَشْتَرِي وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

ترجمہ: زید بن اسلم سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کردیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔( صحیح بخاری، کتاب: زکوۃ کا بیان، باب: کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟ حدیث نمبر: 1490، صفحہ:363، دارابن کثیربیروت )

(4) اللہ تعالیٰ کی حدود میں سستی برتنے اور اس میں مبتلا ہونے کی مثال: ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، ‏‏‏‏‏‏فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ فَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ تَأَذَّيْتُمْ بِي، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ

ترجمہ: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی حدود میں سستی برتنے والے اور اس میں مبتلا ہوجانے والے کی مثال ایک ایسی قوم کی سی ہے جس نے ایک کشتی (پر سفر کرنے کے لیے جگہ کے بارے میں) قرعہ اندازی کی۔ پھر نتیجے میں کچھ لوگ نیچے سوار ہوئے اور کچھ اوپر۔ نیچے کے لوگ پانی لے کر اوپر کی منزل سے گزرتے تھے اور اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ اس خیال سے نیچے والا ایک آدمی کلہاڑی سے کشتی کا نیچے کا حصہ کاٹنے لگا (تاکہ نیچے ہی سمندر سے پانی لے لیا کرے) اب اوپر والے آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو (میرے اوپر آنے جانے سے) تکلیف ہوتی تھی اور میرے لیے بھی پانی ضروری تھا۔ اب اگر انہوں نے نیچے والے کا ہاتھ پکڑ لیا تو انہیں بھی نجات دی اور خود بھی نجات پائی۔ لیکن اگر اسے یوں ہی چھوڑ دیا تو انہیں بھی ہلاک کیا اور خود بھی ہلاک ہوگئے۔( صحیح بخاری، کتاب: گواہیوں کا بیان، باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا، حدیث نمبر: 2686)

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے گھروں، مدارس اور معاشروں میں تعلیم و تربیت کے انہی حکیمانہ اصولوں کو اپنائیں، تاکہ بات دلوں تک پہنچے اور کردار کا حصہ بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ، ہادی عالم ، منبع علم و حکمت اور معلم کائنات ہیں اور ہر شعبہ زندگی کے افراد کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اسوہ نور ہیں ، جن پر وہ عمل کر کے ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لیتا ہے ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی اصلاح تعلیم و تربیت کے لیے نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا اور آپ نے سامع کی ذہنی وساطت کے مطابق تربیت کے ہر طریقے کو شرف عطا فرمایا ، انہی طریقوں میں سے دل کو متاثر کرنے اور بات کو موثر انداز میں سمجھانے کے لئے ایک طریقہ مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانا ہے ، یہ طریقہ صرف صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے ہی نہ مؤثر ثابت ہوا بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے روشنی کا مینار ہے ۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانے کی چند مثالیں مذکور ہیں :

(1) ذکر کرنے اور نہ کرنے والوں کی مثال: نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہیٰ کرنے اور نہ کرنے والوں کی تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ، مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے۔ (بخاری شریف ، کتاب الدعوات ، باب فضائل ذکر اللہ عزوجل ، حدیث نمبر : 6307، دارلحدیث قاہرہ)

(2) تمام مومنین رحم دلی اور پیار محبت میں ایک جسم کی طرح ہیں: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنین کو آپس میں پیار محبت اور رحمدلی کی تربیت دیتے ہوئے فرمایا : قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰى عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰى یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت آپس کی محبت آپس کی مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6011 دارالحدیث قاہرہ)

3 :پانچ نمازیں پڑھنا پانچ مرتبہ نہر میں نہانے کی طرح ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازیں پڑھنے کو نہر میں نہانے کے ساتھ تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا

یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا، فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (بخاری شریف ، حدیث نمبر : 528، دارالحدیث قاہرہ)

(4) مسکین پر خرچ کرنے والا اور بیوہ عورت پر خرچ کرنےوالا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت اور مسکینوں پر خرچ کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : یعنی بے شوہر والی اور مسکینوں پر خرچ کرنے والا الله کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا دن کو روزہ اور رات کو قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری شریف ، حدیث نمبر : 6006 ، دار الحدیث قاہرہ)

(5) متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے : رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے متکبرین کے عذاب کو تمثیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا : قَالَ: يُحْشُرُ الْمُتَكَبِّرُونَ أَمْثَالَ الذَّرِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يُسَاقُونَ إِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمّٰى: بُولَسُ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے مردوں کی صورت میں، جن پر ہر جگہ سے ذلت چھا جائے گی ، ہانکے جائیں گے دوزخ کے ایک قید خانہ کی طرف جسے بولس کہا جاتا ہے ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی اور وہ دوزخیوں کی پیپ پلائے جائیں گے جسے طینۃ الخبال، کہتے ہیں۔ (مراة المناجيح ، حدیث نمبر : 5112)

اس طرح اور بہت سی احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی مثالوں کے ساتھ تربیت فرمائی اور اس سے مبلغین و قارئین کے لئے درس بھی ہے کہ مخاطب کے ذہن کے مطابق کلام کیا جائے اور جس طریقے سے مخاطبین بات کو اچھی طرح سمجھے اس طریقے کو اپنے کلام اور تربیت میں شامل کریں۔ 


اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے متعدد گوشے اور بہت سے پہلو ہیں ، ان میں سے ہر گوشہ اور پہلو مخلوق کے انتہائی اہم ہے ، بالخصوص تعلیم کا پہلو ایک نہایت ہی عظیم اور روشن پہلو ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دینا بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا :

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے ۔ (الجمعۃ، آیت : 2 )

لہذا آپ نے اپنے اسی مقصد کو پورا فرماتے ہوئے تعلیم کے جتنے احسن طریقےہو سکتے تھے سب طریقوں سے امت کو تعلیم فرمائی ، انہیں طریقوں میں سے ایک طریقہ مثالوں سے سمجھنا بھی ہے ، ان میں سے چند احادیث پڑھیے:

حضور ﷺ اور سابقہ انبیاء علیہم السلام کی مثال: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ . قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیھم السلام کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی عمارت بنائی تو اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی لوگ اس کے اردگرد گھومتے رہے اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور کہتے اس اینٹ کو کیوں نہیں رکھا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین( صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں ۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین حدیث نمبر 3535 )

ذکر الٰہی کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال : عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے ۔ (صحیح البخاری ، کتاب الدعوات ، باب فضل ذکر اللہ عزوجل ، حدیث نمبر: 6407)

اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ذکر کرنے والے کو زندہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر نورِ حیات سے مزین ہے اور باطن ذکر کرنے کی وجہ سے علم و فہم اور ادراک سے روشن اور ذکر نا کرنے والے کو مردہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر اور باطن دونوں مردہ ہو چکے ہیں ۔

نیک اور برے دوست کی مثال : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے دوست کو مُشک والے کی مثل قرار دے کر نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی اور برے بد عقیدہ اور فاسقوں کو بھٹی والے کی مثل قرار دے کر ایسوں سے بچنے کی ترغیب دی ۔

الحمدللہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں بکثرت نیک لوگوں کی اور علما کی صحبت میسر آتی ہے لہذا آپ بھی دعوت اسلامی کے مشکبار ماحول سے وابستہ ہو جائیں تاکہ نیکی کا اور علم دین حاصل کرنے کا جذبہ حاصل ہو سکے۔