تاریخِ انسانی میں اگر کوئی ایک شخصیت ہے جس نے سب سے مؤثر انداز میں لوگوں کی تربیت فرمائی، تو وہ نبی آخر الزمان، سید المرسلین محمد ﷺ کی ذاتِ مقدس ہے۔آپ ﷺ نے انسانیت کو اخلاق، عبادات، عقائد اور معاملات کا وہ درس دیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ ﷺ صرف معلم ہی نہیں بلکہ مربیِ کامل تھے، جن کا اسلوبِ تربیت قلوب کو چھو لیتا اور ذہنوں میں جاگزیں ہو جاتا۔

آپ ﷺ نے اپنی دعوت و نصیحت میں جو اسلوب اپنایا، ان میں تمثیلات (مثالوں) کا اندازِ بیان نہایت مؤثر تھا۔ آپ ﷺ فرماتے، سوال کرتے، ذہنوں کو متوجہ کرتے، پھر سادہ اور دل نشین مثال کے ذریعے مقصد کو سمجھاتے۔ یہی اسلوب آج بھی بہترین تعلیم و تربیت کے اصولوں میں شمار ہوتا ہے۔

(1) مومن، ایک زندہ اور نفع بخش درخت کی مانند: ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ بعد میں فرمایا: هِيَ النَّخْلَةُ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب: العلم، باب: فضل النخل، حدیث: 72، جلد: 1، صفحہ: 40، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

وضاحت: کھجور کا درخت فائدہ مند، ہر موسم میں سرسبز، مضبوط جڑوں والا، سایہ دار اور نفع بخش ہوتا ہے اور ایک مومن بھی ایسا ہی ہوتا ہے: وہ خیر بانٹتا ہے، ثابت قدم رہتا ہے، اور ہر حال میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

(2) گناہوں کی صفائی کی نہر: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ یعنی: اگر تمہارے دروازے پر ایک نہر ہو، اور تم اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہاؤ، تو کیا تمہارے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب: الصلوۃ، باب: الصلوات كفارة، حدیث: 528، جلد: 1، صفحہ: 178، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

وضاحت: جیسے پانی جسم کو صاف کرتا ہے، ویسے ہی نماز روح کو پاک کرتی ہے، گناہوں کو جھاڑ دیتی ہے۔

(3) مومنین کا باہمی تعلق ، ایک عمارت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک خوبصورت تمثیل میں یوں بیان فرمایا: المُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی: مومن، دوسرے مومن کے لیے ایسی عمارت ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر عملی مثال دی۔ (صحیح بخاری، کتاب: الأدب، باب: تشبيك الأصابع، حدیث: 481، جلد: 1، صفحہ: 167، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مومن ایک دوسرے کا سہارا ہیں، ایک کی کمزوری دوسرے کی طاقت سے پوری ہوتی ہے۔ یہ اخوتِ اسلامی کی بنیاد ہے۔

نبی کریم ﷺ کا تمثیلی اندازِ تعلیم محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ایک فکری انقلاب ہے ، جو عام آدمی سے لے کر فلسفی تک ہر ذہن کو قائل کرتا ہے ۔ یہی انداز آج اساتذہ، والدین، خطباء، اور ہر داعی کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم بھی تربیت کے اس نبوی منہج کو اپنائیں تاکہ ہماری بات بھی دلوں میں اُترے، کردار بدلیں، اور نسلیں سنوریں۔