رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک مکمل تربیتی نصاب ہے۔ مثال دے کر تربیت کرنا نہ صرف ذہن نشین کروانے میں مؤثر ہے بلکہ کردار سازی میں بھی مددگار ہے۔ آج کے والدین، اساتذہ، مبلغین، اور قائدین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی اس سنتِ تربیت کو اپنائیں تاکہ معاشرے میں علم کے ساتھ ساتھ کردار بھی پروان چڑھے۔ آئیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مثال کے ذریعے سے تربیت فرمانے کو پڑھیئے :

(1)بے فائدہ علم: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے اس خزانہ کی سی ہے جس سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے۔(مشکوٰۃ المصابیح، علم کا بیان، فصل ثالث ،جلد:1،صفحہ نمبر :39،حدیث نمبر: 260)

(2) دنیا فانی ہے: وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “

حدیث کی وضاحت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی بہت تنگ ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت خود بھی دائمی ہے اور اس کی نعمتوں کو بھی دوام حاصل ہے لہذا اگر اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں وہی ہے جو انگلی پر لگنے والے پانی کی حیثیت سمندر کے مقابلے میں ہوتی ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4،حدیث نمبر:463)

(3) خوبصورت محل: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ .وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سوائے اس اینٹ کے، تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر انبیاء ختم کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کر دیئے گئے ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)

حدیث کی وضاحت :سبحان الله! کیسی پیاری مثال ہے نبوت گویا نورانی محل ہے حضرات انبیاء کرام گویا اس کی نورانی اینٹیں،حضور صلی الله علیہ وسلم گویا اس محل کی آخری اینٹ ہیں جس پر اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور آخری نبی ہیں آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)

اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں

کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشش حسن سے

نہ بہار آور پہ رخ کرے کہ جھپک پلک کی تو خار ہے

(4) زندہ اور مردہ کی مثال: عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔( مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الدعوات ،باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ ،صفحہ نمبر:198،جلد:1،حدیث نمبر:2153)

آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

نبی کریم ﷺ کی تمثیلی تربیت نے امت کو نہ صرف سکھایا بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی دیا۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس عظیم تربیتی اسلوب کو اپنی تعلیم و تبلیغ میں زندہ کریں، تاکہ دل بدلے، سوچ بدلے، اور امت پھر سے سنور جائے۔

اللہ عزوجل ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین