حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت پر کمال شفیق اور مہربان ہیں ،آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ہمیں بہت سی چیزوں سے تربیت فرمائی اور پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ انداز بہت ہی خوبصورت انداز ہے کیونکہ مثال کے ذریعے مضمون پوری طرح دل میں اتر جاتا ہے اور مثال کے ذریعے اعلی تعلیم یافتہ یا کم پڑھنے لکھے شخص کو اچھے طریقے سے سمجھ آجاتی ہے ۔ آئیے کچھ احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت کی مثال کے ذریعے سے تربیت فرمائی:

(1) سخی اور بخیل کا خرچ کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول الله صلی علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ ؟ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا ۔ ( ریاض الصالحین، مترجم، ج 5 ، ص 237، حديث 560، مکتبۃ المدینہ )

(2) عمدہ خوشبو کاآنا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(3) آگ میں گرنے سے بچانا: حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انھیں آگے۔ میں کرنے سے بچاتا ہے اور میں تمھیں تمھاری کمر سے پڑ کر آگ میں گرنے سے بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔ ( ریاض صالحین مترجم ،ج 2، ص 531،حديث 163، مکتبۃ المدینہ )

(4) برائی کو نہ روکنے والوں کی مثال : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے۔ جنہوں۔ نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کرکے۔ اپنے حصے تقسیم کر لیے۔ بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا تو جو لوگ نچلے حصے میں تھے انھیں پانی لینے کے لیے۔ اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا۔ نچلے حصے والوں نے کہا کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گے اور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ (ریاض صالحین،مترجم ج 3 ، ص 60، حديث 187 ، مکتبۃ المدینہ )

(5) دنیا کی مثال: حضرت سیدنا مستورد بن شداد رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے۔ جسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔ ( ریاض الصالحین ،ج :4 ص : 671، حدیث نمبر 463 ، مکتبۃ المدینہ )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی بات بالکل نہیں مانتے اگر ہم کسی کی تربیت کرنا چاہیں تو سامنے والا سمجھتا ہے کہ یہ ہماری کیا تربیت کرے گا ، اس کو تو خود تربیت کی ضرورت ہے لیکن اگر ہم کسی کو مثال دے کر تربیت کریں تو سامنے والے کو اچھے طریقے سے بات سمجھ میں آجاتی ہے ، ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں جن باتوں کی مثال کے ذریعے تربیت فرمائی اگر اس پر فتن دور میں ہم ان احادیث پر عمل کریں گے تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے ہمیں ان احادیث پر عمل کر کے اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین