مستقیم عطاری (درجہ سابعہ
مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
کسی کو
سمجھانا کسی کو نصیحت کرنا یہ ایک ایسا کام ہے جس کو ہر
کوئی کما حقہ نہیں کر پاتا، ہمارے پیارے دین اسلام نے
ہماری اس حوالے سے رہنمائی فرمائی ہے ، قرآن پاک کی سورۃ النحل آیت 125 میں اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا :اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ کنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت
سے۔ (پ14، النحل: 125)
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کے کسی کو رب کی طرف بلانا ہے تو اس کو
حکمت کے ذریعے بلانا ہے ، حکمت سے نصیحت کرنا بہت طریقوں سے
ہوسکتا ہے ، ان میں سے کسی کو مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے ، مثال کے ذریعے سمجھائی جانی والی بات برسوں تک یاد رہتی
ہے اور جلد سمجھ بھی آجاتی ہے ، جس کو ہمارے پیارے آقا صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو مختلف چیزیں مثالوں کے ذریعے سمجھائیں ،ان
میں سے چند احادیث نقل کی جا رہی ہیں، پڑھیے :
ایک دن درخت سے پتے جھاڑ کر نمازی کے گناہوں کے
جھڑنے کو سمجھایا: عَنْ أَبِی ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ
مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَا
أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ
الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّ الصَّلَاۃَ یُرِیدُ بِہَا وَجْہَ اللَّہِ فَتَہَافَتُ
عَنْہُ ذُنُوبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ہَذَا الْوَرَقُ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ حضرت
ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے فرمایا کہ ایک روز سردی
کے موسم میں جب کہ درختوں کے پتے گررہے تھے ۔ (یعنی پت جھڑ کا موسم تھا) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم باہر
تشریف لے گئے تو آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں ( اور انہیں ہلایا) تو ان
شاخوں سے پتے گرنے لگے ۔ آپ نے
فرمایا اے ابوذر! حضرت ابوذر رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے
عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ!آپ نے فرمایاجب مسلمانبندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے
نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے کہ یہ پتے درخت سے جھڑ رہے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 21596، جلد
5، صفحہ 179)
اس کے علاوہ
بھی کثیر احادیث اس موضوع پر موجود ہیں کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت آسان انداز میں مثال دے
کر سمجھایا ۔
نوٹ: ہمیں بھی نبی پاک کی سیرت کے اس حسین پہلو سے سیکھنے کو ملا کے جب بھی ہم کسی کو کوئی بات سمجھائیں اس
کو مثال کے ذریعے حکمت سے سمجھایا جائے۔
احد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
فیضان کنز الایمان کراچی ، پاکستان)
کسی چیز کو
مثال کے ذریعے سمجھنا اور کسی چیز کو بغیر مثال کے سمجھنا ۔ ان دونوں میں بڑا فرق
ہے۔ جب کسی تقریر میں اصول و ضوابط قواعد و قوانین بیان کئے جاتے ہیں پھر اسکی
مثال بیان کی جاتی ہے تو ذہن اس کو جلد قبول کرتا ہے اور بات آسانی سے سمجھ آجاتی
ہے ۔
مثال کا لغوی
معنی، مانند،نمونہ،تشبیہ،نظیر ۔
اصطلاحی تعریف: کسی شے کو اسکے غیر کے ساتھ جانچنے و پرکھنے کو مثال دینا
کہتے ہیں۔ (لسان العرب جلد 1 صفحہ547) سرکار علیہ السلام ہر قول و فعل میں امت کی کامل اصلاح
فرماتے ہیں ۔ اور پیارے آقا علیہ السلام نے کئی بار مثال دیکر بھی اپنی بات کو
سمجھایا ہے
(1)ختم
نبوت کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیا علیھم السلام کی مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ
چھوڑدی، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں
نہ رکھی؟ پھر سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : میں
قصر نبوت کی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔ (صراط الجنان جلد 8 صفحہ 48 ،
مسلم، کتاب الفضائل۔ باب ذکر کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین حدیث شریف
2286)
(2)اچھی اور
بری صحبت کی مثال: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے
کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس
سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس
سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب
البر و الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و
مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
(3)پانچ
فرض نمازوں کی مثال: حضرت ابوہریرہ رضی
الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو؟ کہ اگر تم میں سے
کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے کیا اس پر
کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اس پر
میل کچیل نہیں رہے گی۔آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہ مثال ہے پانچ
نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری،کتاب
مواقیت الصلاۃ،باب الصلوات الخمس کفَّارة، رقم الحدیث 528،ص 200)
(4)
صحابہ کرام کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ، آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جسکی اقتداء کرو گے ہدایت پاجاؤ
گے ۔ (مشکات المصابیح جلد 2 حدیث شریف 6018)
(5)
اہل بیت اطہار کی مثال: حضرت ابو ذر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ، سرکار علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: تم میں میرے اہلبیت کی
مثال کشتی نوح کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا، اور جو رہ گیا برباد ہوگیا۔
( معجم الکبیر للطبرانی جلد 3 حدیث شریف2665)
اعلی حضرت
عاشق اصحاب و اہلبیت رسالت احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں:
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
(حدائق بخشش صفحہ153)
ساہر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
کسی بھی
معاشرے کی تعمیر میں تعلیم و تربیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور جب تعلیم مثال
کے ساتھ دی جائے تو وہ نصیحت دل میں اتر جاتی ہے۔ رسولِ
اکرم ﷺ، معلمِ کامل اور مربی اعظم ہیں ، آپ ﷺ نے مثالوں
اور تمثیلات کے ذریعے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ آپ کی یہ حکمتِ
تربیت آج بھی ہر معلم، مبلغ، والد، اور قائد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مثال
کے ذریعے عقیدہ کی اصلاح: حضرت
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ، فرمایا نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص
کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا
ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی
اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور
ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں
ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا ۔یہی اس کی مثال ہے جس نے میری
اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے
لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔( بخاری ، كتاب : الرقاق باب الانتهاء عن المعاصي،
8/ 101) رقم:6482)
پانچوں
نمازوں کی فضیلت ایک نہر کی مثال سے : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”پانچ نمازوں کی
مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ ہر
روز اُس نہر سے پانچ بار غسل کرے۔“ مسند احمد ،
15/ 311، رقم : 9505)
اس حدیث میں
نماز کی فضیلت کا ذکر ہے کہ نماز کی مثال ایک نہر کی سی ہے جس طرح کوئی شخص کسی
نہر میں روزانہ پانچ بار نہائے تو اس پر کوئی میل کُچیل باقی نہیں رہے گا اسی طرح
اگر کوئی شخص روزانہ نمازِ پنجگانہ ادا کرے تو اس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ
باقی نہ رہے گا۔
رب
کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والی کی مثال مردہ و
زندہ سے: حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے : اس کی مثال جو رب کا ذکر
کرے اور جو نہ کرے ، زندہ و مردہ کی سی ہے ( صحیح بخاری كتاب : الدعوات باب فضل ذكر الله عز وجل،
8/ 86، رقم :6407)
یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر
آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران ہے ۔
قرآن
پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال: حُضورِ انور ﷺ
نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ
بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور
کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال
پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی
مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“ (صحیح بخاری، كتاب
الأطعمۃ، باب ذكر الطعام ، 7/ 77، رقم
: 5427)
اچھے
اور بُرے دوست کی صحبت کی مثال : حضرتِ سَیِّدُنا
ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ،
سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی
دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا
تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا
تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘( صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب في
العطار وبيع المسك (3/ 63) رقم (2101)
سُبْحٰنَ اللہ
! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں
کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی ، بھٹی والے سے مشک نہیں
ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا ، مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں ، مشک یا
خوشبو ہی ملے گی ۔ مشك والے سے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا
اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنیٰ نفع ہے
۔
عملی
مثال سے اخلاقی تربیت: عبداللہ بن
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے
فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ
کھجور کا درخت ہے، لیکن حاضرین میں، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا (اس لیے بطور ادب میں چپ رہا) پھر
آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا
درخت ہے۔(صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب بيع الجمار وأكلہ، 3/
78، رقم: 2209)
کھجور کا ہر
حصہ مفید ہوتا ہے: پھل، گٹھلی، پتّے، تنا، شاخیں، حتیٰ کہ چھال بھی۔ مسلمان کی بھی یہی شان ہے کہ اس کی زندگی بھی فائدہ مند،
اور موت کے بعد بھی فائدہ باقی رہتا ہے (علم، دعا، صدقہ، اولادِ صالح)۔ کھجور کا
پھل ہمیشہ آتا ہے، پتے نہیں جھڑتے، جیسے مؤمن کا عمل نفع دیتا
ہے، دعائیں ضائع نہیں جاتیں۔
ان تمام احادیث
طیبہ سے رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا یہ انداز ہمیں سکھاتا
ہے کہ نصیحت اگر مثال کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے، اور عمل پر ابھارتی ہے۔ والدین،
اساتذہ، خطباء اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب
کو اپنائیں تاکہ دل جیتنے والی تربیت ممکن ہو سکے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبدالرحمن عطاری (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان ضیاء الدین سیالکوٹ ، پاکستان)
مثال ایک ایسا
فن ہے کہ جس کے ذریعے کسی بھی بات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جب کسی چیز کی مثال دی
جاتی ہے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس سے تربیت
حاصل کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام علوم
کا منبع بنایا ہے اسی وجہ سے کائنات کا ہر فن نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیاگیا ، تو مثال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کی کچھ احادیث پڑھیئے:
((1 مجھے ہدایت کیساتھ بھیجا گیا : وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
صَلَّى اللہ ُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ
بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ
مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ
الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللہ ُ
بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى
إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ
مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ،
وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ
أُرْسِلْتُ بِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا : رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر
بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ
اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اُگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا
جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا
پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے
اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے
نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی
مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر
بھیجا گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1، کتاب الایمان ،باب
قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 142، صفحہ نمبر 28)
((2دل کے بارے میں : وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلّٰى اللہ ُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ
فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے : دل کی
مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہر ، باطن الٹیں پلٹیں
۔(مشکوٰۃ المصابیح ، جلد
1، کتاب الایمان تقدیر پر ایمان لانے کا با،حدیث نمبر 95، صفحہ نمبر 22)
((3سیدھے راستہ کے بارے میں : وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ
أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ضَرَبَ اللہ ُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا
وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيْهِا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ
سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اِسْتَقِيْمُوا
عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا
هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا
تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ
الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللهِ وَأَنَّ
السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ الله وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلٰى رَأْسِ الصِّرَاطِ
هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهٖ ھُوَ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ
كُلِّ مُؤْمِنٍ
روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی
اللہ عنہ سے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : کہا اللہ نے سیدھے
راستہ کی مثال قائم فرمائی اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں
کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ
رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو
پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے
ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا پھر اس کی تفسیر یوں
فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے اور کھلے ہوئے دروازے اللہ کے محرمات ہیں اور
لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدیں ہیں اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا
قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والا اللہ کا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،
جلد 1، کتاب الایمان ،باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 181، صفحہ
نمبر 32)
((4دوستی کے بارے میں : عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ
رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی
تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى
مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُما سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی
طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی
کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ،حدیث
نمبر:224)
اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
تربیت کا مقصد
صرف معلومات دینا نہیں بلکہ دلوں کو بدلنا اور کردار کی تشکیل کرنا ہوتا ہے۔ اگر
تاریخ انسانی میں کسی شخصیت کو کامل ترین مربی کہا جا سکتا ہے، تو وہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ نے لوگوں کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور
سچائی کی ایسی تخم ریزی کی کہ دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مثالوں، تمثیلات اور حکایات کے ذریعے جو انداز تربیت اختیار فرمایا،
وہ آج بھی علم و اصلاح کے میدان میں رہنمائی کرتا ہے۔
مثالوں کا
اسلوب محض انسانی طریقہ نہیں بلکہ ربانی حکمت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا
ہے: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ
نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور
اُنہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20، العنکبوت: 43)
یہی اسلوب نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنایا اور امت کی تعلیم میں مثالوں کو بنیاد
بنایا۔
(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک
عبرت انگیز مثال: آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس
نے روشنی پھیلائی تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے، اور وہ انہیں بچانے کی کوشش
کرتا ہے، اور میں تمہیں (جہنم کی آگ سے) بچا رہا ہوں، مگر تم میری گرفت سے نکل نکل
کر اس میں جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبیﷺ لو
تعلمون ما أعلم، ج 5، ص 235، حدیث: 6483، دار السلام )
اس حدیث میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت سے شفقت، اور ان کی غفلت کا دردناک
نقشہ ایک مثال کے ذریعے کھینچا۔
(2) اجتماعتی زندگی میں مثال کا استعمال: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومنوں کی آپس میں محبت، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم
کی مانند ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں
مبتلا ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلہ، باب تراحم المؤمنین،
ج 4، ص 1999، حدیث: 2586، دار الفکر)
یہ ایک جامع
مثال ہے جو اسلامی معاشرے میں اجتماعی ہمدردی اور وحدت کی بنیاد رکھتی ہے۔
(3) ایک حکمت آموز تمثیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، معلوم نہیں کہ ابتدا
میں برکت ہے یا آخر میں۔ (سنن ترمذی، کتاب الامثال، باب ما جاء في مثل أمة محمد ﷺ،
ج 5، ص 88، حدیث: 2869، دار ابن حزم)
یہ مثال امت
کو امید، تسلسل اور صلاحیت کے ساتھ جڑے رہنے کا پیغام دیتی ہے۔
نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلوب تربیت میں تمثیل و حکایت کا استعمال صرف الفاظ کی
خوبصورتی کے لیے نہ تھا، بلکہ یہ تعلیم میں دل نشینی، اصلاح میں تاثیر اور کردار
سازی میں گہرائی کا راز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر مثال ایک عملی درس،
ہر حکایت ایک اخلاقی سبق اور ہر تشبیہ ایک تربیتی پُل تھی جو انسان کو جہالت سے
علم، غفلت سے عمل، اور گناہ سے نجات کی طرف لے جاتی تھی۔
آپ جانتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور بعثت رسول کا بنیادی اصول تہذیب
نفوس(یعنی انسان کی تربیت کرنا) ہے۔ اور انسان کی تربیت کرنے میں
مربی (تربیت کرنے والے) کا انداز تربیت ایک اساسی اہمیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم چونکہ معلم و مربی و مصلح و منتظم کائنات ہیں ۔
تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے اندازِ تربیت بھی انوکھے،نرالے اور غیر معمولی ہونے چاہئیں اور اس کا اندازہ آپ کی سیرت و احادیث سے بخوبی لگایا جا
سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کس طرح مقتضائے حال کے مطابق حکمت عملی کے
ساتھ اپنے صحابہ کرام کیلئے تعلیم و تربیت کے نئے نئے مختلف انداز و اسالیب اختیار
فرماتے جن کا کامل احاطہ انسان کے بس کی بات نہیں ۔حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی
اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ اسالیب میں سے ایک اسلوب مثال کے ذریعے تربیت
فرمانا بھی ہے۔ یہ وہ اسلوب ہے جس کا استعمال ہمیں قرآن میں بھی کئی جگہ نظر آتا
ہے ۔ اس طرح کے اسلوب کا تعلیم و تربیت میں ایک بہت بڑا اور اہم کردار ہے۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ مثال کے ذریعے کوئی بھی بات سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، اس بات کو اپنی زندگی میں نافذ العمل کرنے کی جستجو پیدا
ہوتی ہے، بات دلچسپ اور پر اثر ہو جاتی ہے، سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، مفہوم کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس طرح
تربیت کرنے کے بعد تربیت کی تاثیر دیرپا ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے
صحابہ کرام اور امت کی تربیت کیلئے بارہا اس انداز کو اختیار فرمایا جس کی کئی
مثالیں کتب احادیث میں ملتی ہیں۔ جن میں سے کچھ مثالیں ذیل میں موجود ہیں:
(1)
نماز اور نہر کی مثال: عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ
يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ
، قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَذَلِكَ مِثْلُ
الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے
آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہاری کیا رائے ہے تم
میں سے کسی کے دروازے کے پاس ایک نہر ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو
تم کیا کہتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گی ۔ صحابہ نے کہا کہ کوئی میل
باقی نہیں رہے گی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال پانچ نمازوں
کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب مواقیت
الصلاۃ ،باب الصلاۃ الخمس کفارۃ،ج1، ص 113 ، مکتبہ سلطانیہ)
(2)
اللہ کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال: قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ
رَبَّهُ ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ہمارے
پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی مثال جو
اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا زندہ اور
مردہ کی سی ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب الدعوات ،باب فضل ذکر اللہ عزوجل ،ج8، ص 86،
مکتبہ سلطانیہ)
(3)بے
عمل اہل علم کی مثال: قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ العِلْمَ ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ
بِه كَمَثَلِ اللَّذِي يَكْنِزُ الكَنْزَ فَلَا يُنْفِقُ مِنْه ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو علم سیکھے اور اور اسے آگے نہ بتائے اس کی مثال
اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن اس میں سے خرچ نہیں کرتا ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،اردو، باب
الألف:احمد بن المعلی الدمشقی، ج 1 ، ص 411 ، حدیث 689)
(4)صدقہ
واپس لینے والے کی مثال: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلُ
الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي
قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ ہمارے پیارے
آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو اپنا صدقہ واپس
لے لیتا ہے اس شخص کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے تاکہ اسے
کھا سکے۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الھبات ، باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ والھبۃ بعد القبض،ج
3، ص 1230 ،حدیث نمبر 1622، مکتبہ دار احیاء التراث العربی بیروت)
(5)دنیا
و آخرت کی مثال: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ
إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ
بِمَاذَا يَرْجِعُ۔ہمارے پیارے آخری
نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا
آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور دیکھے
کہ وہ انگلی کتنا سا پانی لے کر آئی ہے۔(سنن ترمذی ،ابواب الزھد ،باب ما جاء فی
جوان الدنیا علی اللہ ،ج 4 ،ص 561 ، 2323 ،مکتبہ مصطفی البابی الحلبی مصر)
(6)
حافظ قرآن کی مثال: عنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ
الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن
عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی
طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ
دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص
1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)
(7)
علما کی مثال: قَالَ
النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي
الْأَرْضِ، كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ
الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ، أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ
الْهُدَاةُ ہمارے پیارے آخری نبی
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ بے شک زمین پر علما کی مثال آسمان پر موجود ان ستاروں کی سی ہے جن کے ذریعے
بحر وبر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے
تو قریب ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہو جائیں۔ (مسند امام احمد ،اردو،حضرت انس بن
مالک کی مرویات، ج 5، حدیث نمبر 12627)
حاصل کلام یہ
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تربیت کیلئے جو جو انداز اختیار فرمائے ان
میں سے ایک انداز ”مثالوں سے تربیت فرمانا“ بھی بہت عمدہ اور مؤثر طریقہ ہے اور یہی
انداز ہمیں قرآن کریم میں
کئی مقامات پر ملتا ہے۔ اور ہمیں تو آج کے دور میں
اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی نہایت ضرورت ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی اور دوسروں کی
تربیت مؤثر انداز میں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
قرآن کریم کی طرح احادیث کریمہ میں بھی مثالوں کا استعمال بکثرت
ملتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب اور قیامت تک آنے والے
امتیوں کو دین کا پیغام آسانی اور وضاحت کے ساتھ سمجھانے کے لیے کئی مواقع پر روز
مرہ زندگی سے مثالیں دی ہیں ۔ یہاں بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
پہلی
مثال اور اس کی وضاحت : حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری اور مجھ
سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کے سجانے اور
سنوارنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ
اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے، بھلا یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟ فرمایا: وہ اینٹ
میں ہوں۔ میں سارے انبیاء سے آخری ہوں ۔ (صحیح بخاری ، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۵۳۵ ج ۲ ص ۴۸۴)
اہل اسلام کا یہ
مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ﷺ اللہ
کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اس عقیدہ ختم نبوت کا منکر
کافر و مرتد یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
دوسری
مثال اور اس کی وضاحت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس پر پت جھڑ نہیں آتا ( اس کے پتے نہیں جھڑتے) اور
وہ مسلمان کی مانند ہے۔ مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ ابن عمر کا کہنا ہے کہ لوگوں
کا دھیان جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میرے ذہن میں آگیا
کہ ہو نہ ہو کھجور کا درخت ہے۔ مگر حیا آڑے آئی آخر کار صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ
ہی بتلائیے وہ کون سا درخت ہے۔ فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری ، کتاب
العلم ، الحدیث: ۷۲ ، ج ۱ ص ۴۳)
اس حدیث شریف
میں مومن کی مثال کھجور کے درخت کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جس
طرح کھجور کا تقریباً ہر جز نفع بخش ہے اسی طرح مومن کا ہر فعل نفع
بخش ہوتا ہے ۔
تیسری
مثال اور اس کی وضاحت: حضرت نعمان
بن بشیر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی
حدوں کو قائم رکھنے والوں اور توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کشتی کے سواروں نے
اپنا حصہ تقسیم کر لیا۔ بعض کے حصے میں اوپر والا حصہ آیا اور بعض کے حصے میں نیچے
والا پس جو لوگ نیچے تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس جانا پڑتا تھا
انہوں نے کہا کہ کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کے پاس جانے
کی زحمت سے بچیں پس اگر وہ انہیں ان کے ارادے کے مطابق چھوڑے رہیں تو سب ہلاک ہو
جائیں اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو سارے بچ جائیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الشركۃ،
الحدیث: ۲۴۹۳، ج۲، ص۱۴۳)
اس حدیث شریف
میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا
گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ
ترک کر دیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ہمارا کیا نقصان ہے! تو یہ
سوچ غلط ہے۔ اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے
ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو
کشتی میں سوار ہیں، اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں
ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ج۶، ص۵۰۴)
محمد احمد عطاری (درجہ اولی جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
ضرورت انسانی
کو پورا کرنے کے لیے آپس میں گفتگو کرنے کی حاجت پیش آتی رہتی ہے ۔ گفتگو کا انداز
ہر آدمی کا مختلف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کلام کرتے ہیں تو فورا اُن کی بات سمجھ آجاتی
ہے۔ بعض لوگ کلام کرتے ہیں لیکن فورا سمجھ نہیں آتی۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں ہمارے لیے
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ہمارے پیارے
آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے امتیوں سےکلام فرماتے ہوئے مختلف
مقام پر مثالوں سے تربیت فرمائی یہاں تک کہ کلام باری
تھا جس میں اللہ تعالی نے بھی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ آئیں مثالوں سے تربیت فرمانے کی
ایک جھلک احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں :
(1)
اچھے اور برے دوست کی مثال : ترجمہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم
اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ (بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
(2)
آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال : حضرت
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی
انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر
لوٹی ہے۔ (مسلم ،کتاب اللجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ، باب فناءالدنیاوبیان الحشر یوم
القیامیۃ، ص1529،حدیث،2757)
(3)
سخی اور بخیل کی مثال : حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں
کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب
خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے
ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹا دیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ
کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا ۔ (بخاری،کتاب الزکاۃ،باب مثل المتصدق
والبخیل،1/486،حدیث:1443 بتغیر قلیل)
(4)
علم سیکھنے اور سکھانے والے کی مثال : حضرت سیدنا
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال
اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کے ایک عمدہ حصے نے اس پانی کو چوس کر
گھاس اور بہت سبزہ اگایا اور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیا
تو اللہ عزوجل نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کے انہوں نے خود پیا،دوسروں
کو پلایا اور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان
تھا،اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اگائی ،(تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے
اللہ عزوجل کے دین کو سمجھا اور جس چیز کے ساتھ اللہ عزوجل نے مجھے بھیجا اس نے
اسے نفع پہنچایا تو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔(اور
دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس علم کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اور
اللہ عزوجل کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کیا۔ (مسلم،کتاب
الفضائل،باب بیان مثل ما بعث النبی من الھدوالعلم،ص1253،حدیث: 2282)
(5)
آخری نبی :نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ
تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جس طرح ہارون کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،جلد 2،حدیث 4416)
پیارے اسلامی
بھائیو! حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہماری مثالوں سے تربیت فرمائی کہ دنیا کے
مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی جائے،اچھے دوست بنانے چاہیے اور برے دوستوں سے دور
رہنا چاہیے،سخاوت کرنی چاہیے،اور ہمیں ان مثالوں سے علم حاصل کرنا چاہیے۔
محمد فیضان علی عطاری (درجہ
سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد ، پاکستان)
نبی کریم ﷺ معلم
اعظم، رہبر اور مصلح ہیں۔
آپ ﷺ نے صرف عبادات کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اخلاقی
معاشرتی اور عملی زندگی کو سنوارنے کی بھی تربیت فرمائی۔آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے
ایسے اسلوب اختیار فرمائے جو نہایت مؤثر، دل نشین اور قابلِ عمل تھے۔ ان میں سے ایک
عظیم اور مؤثر طریقہ ”مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا“ ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا یہ اسلوب
نہایت سادہ، فطری اور عقل و فہم سے قریب تھا۔ جب آپ ﷺ کسی بات کو دلوں میں راسخ
کرنا چاہتے تو اسے ایک سادہ اور جامع مثال کے ذریعے سمجھا دیتے۔ یہ مثالیں ایسی
ہوتیں جو روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتی تھیں اور سامع کے ذہن میں فوراً بیٹھ جاتیں۔
پانچ احادیث
مبارکہ ملاحظہ کیجئے جن میں پیارے آقا ﷺ نے مثال کے ذریعے تربیت فرمائی ہے۔
(1) مؤمن اور منافق کی تلاوت : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :مؤمن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی
خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے۔ اور قرآن نہ پڑھنے والے مؤمن کی مثال اس کھجور
کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے۔ اور منافق کے قرآن
پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے
اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس
کا ذائقہ کڑوا ہے۔(بخاری،باب فضائل القرآن،رقم الحدیث 5020،ص 1298)
(2) نہر کی مثال : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو؟ کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اور وہ
دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے کیا اس پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اس پر میل کچیل نہیں رہے گی۔آپ صلی الله
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہ مثال ہے پانچ نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے
تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری،کتاب مواقیت الصلاۃ،باب الصلوات الخمس
کفَّارة، رقم الحدیث 528،ص 200)
(3) بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال :حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر دو
زرہیں لوہے کی ہوں۔ جب صدقہ کرنے والا صدقہ دینے کا ارادہ کرے تو وہ اس پر کشادہ
ہو جائے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے نشانات کو مٹا دے۔ اور جب بخیل صدقہ کرنے کا
ارادہ کرے تو وہ اس پر تنگ ہو جائے اور اس کے ہاتھ اس کے گلے میں پھنس جائیں اور
ہر حلقہ دوسرے حلقے میں گھس جائے۔ (بخاری،کتاب الزکاة،باب مثل المتصدق والبخیل،رقم
الحدیث 1443،ص 402)
(4) درخت کے پتے جھڑنے کی مثال : حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک الحمدللہ ، سبحان الله اور ولا اله إلا الله والله اکبر بندے کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس
درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ (ترمذی،کتاب الدعوات،رقم الحدیث 3533،ص 808)
(5) چرواہے کی مثال :حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں
کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شبہ ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنا دین اور عزت
محفوظ کر لی اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔ اس کی
مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے تو قریب ہے کہ
جانور اس چراگاہ سے بھی چر لیں۔ (بخاری،کتاب البیوع،باب الحلال بیِّن والحرام الی
آخرہ،رقم الحدیث 2051،ص 536)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! نبی کریم ﷺ کی دی گئی مثالیں نہ صرف عقل و فہم کے مطابق ہیں بلکہ
ان کے اندر ایک گہرا پیغام اور سبق بھی ہوتا ہے
۔ یہ اسلوبِ تربیت آج بھی معلمین، خطباء، والدین اور تمام مربیین کے لیے مشعل راہ
ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی اصلاح اور دوسروں کی تربیت کے لیے نبی کریم ﷺ کے اس
طریقے کو اپنائیں تاکہ بات کو نہ صرف سمجھایا جا سکے بلکہ دل میں بھی اتارا جا
سکے۔
الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محمد حفیظ الرحمن عطاری (درجہ ثانیہ
مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپﷺ صحابہ کرام رضی
اللہ تعالٰی عنہم اور دیگر لوگوں کو نہایت مؤثر اور
دلنشین انداز میں تربیت دیتے تھے اور اس تربیت میں مثالوں کا استعمال ایک کلیدی حیثیت
رکھتا تھا۔ آپ ﷺ عام اور روزمرہ کی چیزوں یا واقعات کی مثالیں دے کر پیچیدہ سے پیچیدہ
تصورات اور احکامات کو انتہائی آسانی سے سمجھا دیتے۔ یہ اندازِ تعلیم اس قدر مؤثر
تھا کہ بات دلوں میں اُتر جاتی تھی اور فراموش کرنا مشکل ہوتا تھا۔
قرآن مجید میں
بھی اللہ تعالیٰ نے مثالوں کا بکثرت استعمال کیا ہے تاکہ
لوگوں کو حقائق سمجھائے جا سکیں۔ اس لیے یہ طریقہ خود اللہ تعالیٰ
کا سکھایا ہوا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی اسلوب کو اپنایا۔قرآن کریم میں مختلف مقاصد کے لیے مثالیں دی گئی ہیں، جیسے توحید
کو سمجھانا، شرک کی قباحت بیان کرنا، نیکوکاروں کا انجام بتانا، یا گناہگاروں کی
حالت واضح کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ
مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳)ترجمہ
کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور اُنہیں نہیں
سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20، العنکبوت: 43)
ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا: وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا
لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ
یَتَذَكَّرُوْنَۚ (۲۷) ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک
ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں
دھیان ہو ۔ (پ23،
الزمر: 27)
یہ آیات اس
بات کی دلیل ہیں کہ مثالوں کے ذریعے بات سمجھانا اللہ تعالیٰ
کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اسی سنتِ الٰہی پر چلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی تربیت فرمائی۔ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں بے شمار مواقع پر مثالوں کے ذریعے پیچیدہ
سے پیچیدہ مسائل کو انتہائی آسان بنا کر پیش کیا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(1) ایمان اور کفر کی مثال (ایمان کے درجات):حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ
أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا
اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَىٰ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ
شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِترجمہ: "ایمان
کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ لا الٰہ الا اللہ، کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی
ایمان کی ایک شاخ ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 35)
اس
حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کو ایک درخت کی مانند قرار دیا جس کی کئی شاخیں ہیں،
اس مثال سے ایمان کی جامعیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
(2)
پانچ وقت کی نمازوں کی مثال (گناہوں کا دھل جانا): حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ
أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَىٰ مِنْ
دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَىٰ مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ:
فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
ترجمہ: بھلا یہ
بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل
کرے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، کوئی میل باقی نہیں رہے گا۔ آپ
ﷺ نے فرمایا: یہی حال پانچوں نمازوں کا ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا
ہے۔(صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، حدیث: 528، صحیح
مسلم، کتاب المساجد، حدیث: 667)
اس مثال کے ذریعے
آپ ﷺ نے نماز کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹنے کو نہایت واضح اور عام فہم
انداز میں بیان فرمایا کہ انسان فوراً سمجھ جاتا ہے کہ نماز کس طرح گناہوں کا
کفارہ بنتی ہے۔
(3) نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال (صحبت کا
اثر): رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ
وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ
الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ترجمہ: نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے
جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی میں کام کرنے والا۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں
کچھ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو تو آئے گی۔
اور بھٹی میں کام کرنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس سے بری بدبو
آئے گی۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2101، صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:
2628)
اس حدیث میں
آپ ﷺ نے انسانی صحبت کے گہرے اثرات کو سمجھانے کے لیے دو متضاد پیشوں کی مثال دی،
جس سے اس بات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے کہ ہمیں اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر
کرنا چاہیے۔
(4) مال کی مثال (صدقہ کی اہمیت): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:یَقُولُ ابْنُ آدَمَ:
مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ
لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ترجمہ: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ
تجھے تیرے مال میں سے بس وہی ملا جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر
دیا، یا اللہ کی راہ میں دے کر محفوظ کر لیا۔ باقی سب کچھ تو چھوڑ کر جانے والا ہے
اور لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزھد، حدیث: 2959)
اس مثال سے آپﷺ
نے مال کی حقیقی قدر اور اس کے فانی ہونے کو واضح کیا، اور صدقہ کی اہمیت پر زور دیا
کہ صرف وہی مال فائدہ دے گا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا۔
(5) دنیا کی بے ثباتی کی مثال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کُنْ فِي الدُّنْيَا
كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ترجمہ:
دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ چلتا عارضی طور پر ٹھہرنے والا ہوتا ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6416)
یہاں آپ ﷺ نے
دنیاوی زندگی کو ایک عارضی سفر اور دنیا کو ایک سرائے سے تشبیہ دی تاکہ انسان دنیاوی
معاملات میں زیادہ مگن نہ ہو اور آخرت کی تیاری کرے۔
رسول اللہ ﷺ
کا مثالوں سے تربیت فرمانے کا انداز کئی وجوہات کی بنا پر نہایت مؤثر ہے :
(1) پیچیدہ
اور گہری باتوں کو عام فہم بنا دیتا ہے ۔
(2) مثالیں
ذہن میں بیٹھ جاتی تھیں اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے ۔
(3) خشک نظریات کے بجائے مثالوں سے بیان کی گئی بات دل کو زیادہ
چھوتی ہے ۔
(4) مثالیں اکثر کسی خاص عمل کی ترغیب یا اس سے باز رکھنے کے
لیے دی جاتی ہیں۔
(5) مخاطب کی توجہ حاصل کرنے اور اسے بات سننے پر آمادہ کرنے
کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے ۔
قرآن و حدیث کی
روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نبوی حکمت
اور بصیرت سے انسانی نفسیات کا گہرا ادراک رکھتے ہوئے مثالوں کو تبلیغ و تربیت کا
ایک بنیادی جزو بنایا۔ آپ ﷺ کا یہ اسلوب نہ صرف صحابہ کرام کے لیے ہدایت کا باعث
بنا بلکہ آج بھی ہمارے لیے ایک مثالی طریقہ ہے کہ ہم کس طرح دین کے احکامات اور
اقدار کو مؤثر طریقے سے دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ہر اس موقع پر مناسب
مثال پیش کی جہاں بات کو مزید واضح اور قابلِ فہم بنانے کی ضرورت تھی۔
اللہ تعالٰی سے یہ التجاء ہے کہ اللہ تعالٰی
ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
سنّتوں پر عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیّین
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ہمارے پیارے
آقا سید الانبیاء ﷺ جیسا دانا اور علم و حکمت والا نہ کوئی تھا، نہ ہے اور نہ
ہوگا۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ کی کئی طریقوں سے تربیت و رہنمائی فرماتے۔ انہیں طریقوں میں
سے ایک بہترین اور عمدہ طریقہ مثالوں کے ذریعے سمجھانا ہے۔
ایسی کئی روایات ملتی ہیں کہ جن میں حضورﷺ نے کئی موضوعات پر مثالوں کے ذریعے
صحابہ کرام کی تربیت فرمائی۔ ان میں سے چند آپ کے سامنے پیش کی
جاتی ہیں:
(
1)مومن اور کافر کی زندگی کی مثال: وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ :مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تَفَيِّئُهَا
الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ
وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا
شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
روایت ہے حضرت
کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی
ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی
موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی
کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔
یعنی مسلمان کی
زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و
صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی
غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , حدیث نمبر:1541)
(
2) اہل بیت کی عظمت، مثال کے ذریعے: عن ابی ذَرٍّ أَنَّهٗ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ:
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ
بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ
عَنْهَا هَلَكَ(مشکوۃ،حدیث 6183) روایت
ہے حضرت ابو ذر سے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑے ہوئے فرمایاکہ میں نے نبی ﷺ کو
فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب
نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا
ہلاک ہوگیا۔
مفتی احمد یار
خان نعیمی فرماتے ہیں کہ دروازہ کعبہ اس لیے پکڑا تاکہ اس حدیث کی اہمیت سننے
والوں کو معلوم ہو جائے۔ اور جیسے طوفان نوحی کے وقت ذریعہ نجات صرف کشتی
نوح علیہ السلام تھی ایسے ہی تاقیامت ذریعہ نجات صرف محبت اہل بیت اور ان کی اطاعت
ان کی اتباع ہے،بغیر اطاعت و اتباع دعویٰ محبت بے کار ہے۔ (کتاب:مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:6183)
(3)
نیکیوں کی ترغیب، مثال کے ذریعے: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ-: إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ
الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ،
ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ أُخْرٰى فَانْفَكَّتْ
أُخرٰى حَتّٰى تَخْرُجَ إِلَى الأَرْضِ مشکوۃ، (حدیث 2371)
روایت ہے حضر ت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول ﷺ نے: اس شخص کی مثال جو پہلے گناہ کرتا ہو پھر نیکیاں
کرنے لگے اس کی سی ہے جس پر تنگ زرہ تھی جو اس کا گلا
گھونٹ رہی تھی پھر اس نے ایک نیکی کی تو ایک چھلا کھل گیا پھر
دوسری نیکی کی تو دوسرا کھل گیا حتی کہ وہ زرہ زمین پر گر گئی۔
مراة المناجیح
میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اس کے متعلق کچھ یو بیان فرماتے ہیں:گناہ
چھوڑ کر یا گناہ کے ساتھ ساتھ بعض لوگ پہلے صرف گناہ کرتے ہیں بعد میں گناہ چھوڑ
کر صرف نیکیاں کرنے لگتے ہیں یہ تو اعلیٰ درجہ کے ہیں اور بعض لوگ پھر بعد میں
اگرچہ گناہ کرتے رہیں مگر نیکیاں بھی کرنے لگتے ہیں یہ بھی غنیمت ہے۔غالب یہ ہے کہ
یہاں پہلی جماعت مراد ہے۔
یہ بہت نفیس
مثال ہے کہ جیسے زرہ سارے جسم کو گھیر لیتی ہے،اور اگر تنگ ہو تو تمام بدن کو تکلیف
دیتی ہے ایسے ہی گناہوں میں گھرا ہوا ہر طرح برا ہوتا ہے اللہ
کے نزدیک بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی اس کو قلبی کوفت بھی رہتی ہے،نیکی سے دل
کو خوشی ہوتی ہے،گناہ سے دل کو رنج اگرچہ کبھی یہ خوشی و غم بعض اوقات محسوس نہ
ہوں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2375)
(4)
اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال:وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ
الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ (صحیح بخاری،حدیث
6407)روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں، رسول ﷺ نے فرمایا : اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو
نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے۔
یعنی جیسے
زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے
غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت
کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان
پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اللہ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق
حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2263)
(5)
دنیا کی مثال: عَنْ أَنَسٍ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا
مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ
فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ
فِي شُعَبِ الإِيمَان (مشکوۃ،حدیث
5515)
روایت ہے حضرت
انس سے فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے
کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا ،
قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے۔
تشبیہ نہایت ہی
بلیغ ہے جس میں بتایا گیا ہے دنیا اب قریب الختم ہے مگر یہ قرب رب تعالٰی کے علم
کے لحاظ سے ہے نہ کہ ہمارے حساب سے،وہاں کا ایک دھاگہ بھی بہت دراز ہوتا ہے اس لیے
یہ نہیں کہاجاسکتا کہ قریبًا اس فرمان کو چودہ سو برس ہوچکے اب تک وہ دھاگہ ٹوٹا ہی
نہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 , حدیث نمبر:5515)
بے شک حضور ﷺ
کا ہر فرمان تمام امت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ حضورﷺ
کے فرامین کی پیروی کر کے ہی ہم اپنی دنیا اور آخرت دونوں
سنوار سکتے ہیں۔لہذا جن چیزوں سے حضورﷺ نے منع فرمایا ان سے ہمیشہ پرہیز کرنا اور
جن چیزوں کا حکم فرمایا ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے کےمحبوب دانائے
غیوبﷺ کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد اسد جاوید (دورہ حدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
حضرت محمد
مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کو معلم بنا کر بھیجا گیا ، آپ ﷺ نے
دین کی باتیں سمجھانے کے لیے کئی طریقے اپنائے جیسا کہ براہِ راست نصیحت
کرنا،سوالات کے جوابات دینا،عملی نمونہ پیش کر کے تربیت فرمانا اور خاموشی یا
خاموش رویہ اختیار کر کے سمجھانا وغیرہ انہیں میں سے ایک طریقہ مثال دے
کر تربیت فرمانا بھی ہے ، انسانی فطرت ہے کہ وہ آسان بات جلدی سمجھتا ہے خاص طور
پر جب کوئی بات مثال دے کر سمجھائی جائے تو وہ دل میں اتر جاتی ہے اور لمبے عرصے تک
یاد رہتی ہے، نبی پاک ﷺ نے بہت
سے موقعوں پر دین کی اہم باتوں کو آسان اور سادہ مثالوں سے بیان فرمایا۔ ذیل میں انہیں مثالوں پر مشتمل چند احادیث بیان ذکر کی
جاتی ہیں:
(1) صاحب قرآن کی مثال اونٹ مالک کی مانند: قرآن پاک پڑھنے ، اسے یاد رکھنے کی ترغیب دیتے
ہوئے صاحب قرآن کو اونٹ کے مالک سے تشبیہ دی کہ جس طرح وہ اونٹ کو باندھ کر رکھے
گا تو اس سے قابو میں رہے گا ورنہ وہ بھاگ جائے گا اسی طرح قرآن پاک کو پڑھنا چھوڑ
دیں گے تو وہ بھی سینوں سے نکل جائے گا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ
الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا
أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ، قرآن کے
حافظ کی مثال اس اونٹ والے کی سی ہے جس نے اونٹ کو مضبوطی سے باندھ رکھا ہو۔ اگر
وہ اس (اونٹ) کی نگرانی کرتا رہے تو اسے قابو میں رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تو
وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری،کتاب فضائل القرآن،باب استذکار القرآن و تعاھدہ،حدیث:5031)
(2) پانچوں نمازوں کی مثال دن میں پانچ بار غسل
کرنے سے: الله پاک کے آخری نبی
محمد عربی ﷺ نے پانچوں نمازیں پڑھنے والے کو نہر میں پانچ بار غسل کرنے والے سے
تشبیہ دی کہ جس طرح اس کے جسم پر میل کا اثر باقی نہیں رہتا اسی طرح پانچوں نمازیں
ادا کرنے والا شخص گناہوں کے میل سے پاک و صاف ہو جاتا ہے ، حضرت سیدنا ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ
نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ:
ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ:
فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا
بتاؤ اگر تم میں
سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو، جس میں وہ روزانہ پانچ بار غسل کرے، تو کیا اس کے
جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نےعرض کی : نہیں، کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی
مثال پانچ نمازوں کی ہے، جن کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب المواقیت،باب الصلوات الخمس،حدیث: 528
)
(3) مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: مومن کو کجھور کے درخت سے تشبیہ دی کہ جس طرح
کھجور کا درخت ہر حالت میں فائدہ مند ہوتا ہے چاہے اس کا پھل ہو یا لکڑی یا پھر اس
کی شاخیں اسی طرح ایک مرد مومن بھی اپنے تمام تر افعال سے دوسرے لوگوں کو فائدہ ہی
پہنچاتا ہے ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ
شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي
مَا هِيَ فَوَقَعَ
النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي
أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
درختوں میں ایک
درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور وہ مسلمان کی مثال ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت
ہے؟ لوگ جنگل کے درختوں میں سوچنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میرے دل میں
آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں شرما گیا۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ! بتایئے وہ کون سا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ
کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب الحیاء فی العلم، حدیث: 131)
(4) نیک و بد دوست کی مثال: نیک و بد دوست میں فرق بیان کرتے ہوئے دونوں کی
مثال دی کہ نیک دوست عطر فروش کی طرح ہے اس سے ہر وقت خوشبو ہی آئے گی اور برا
دوست لوہار کی طرح ہے دور سے گزریں تو بھی آگ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے ، حضرت ابوموسیٰ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ
الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ،
وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً،
وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا
خَبِيثَةً نیک اور برے ساتھی کی
مثال ایسی ہے جیسے عطر بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی والا۔ عطر والا یا تو تمہیں
کچھ دے دے گا، یا تم اس سے کچھ خرید لو گے، یا تمہیں اس کی خوشبو پہنچے گی۔ اور
لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہو گی۔(صحیح
بخاری، کتاب الذبائح والصید، باب الجزار، حدیث: 5534)
(5) نفاق سے بچنے کی ترغیب: نفاق سے بچنے کی ترغیب دلاتے ہوئے منافق کی مثال ارشاد
فرمائی کہ وہ اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے پاس جائے یعنی منافق شخص کسی کا بھی
مخلص نہیں ہوتا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مَثَلُ
الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى
هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً منافق
کی مثال اس بکری کی مانند ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران پھرتی ہے، کبھی ایک طرف
جاتی ہے اور کبھی دوسری طرف۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب ذکر المنافقين واحکامهم،
حدیث نمبر: 7043)
(6) مسئلہ
ختمِ نبوت مع مثال: ختم نبوت کے مسئلہ کو
ذہنوں میں پختہ کرنے کے بہت پیاری مثال دے کر سمجھایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلِي
وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ
وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا
بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ، فَكُنْتُ أَنَا
تِلْكَ اللَّبِنَةَ
میری اور مجھ
سے پہلے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی ہو، مگر ایک
اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران
ہوتے مگر کہتے: کاش یہ اینٹ بھی لگ جاتی۔ تو میں وہ آخری اینٹ ہوں۔(صحیح مسلم،
کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ خاتم النبیین ﷺ، حدیث:2286)
Dawateislami