الله پاک اور اس کے محبوب مكرم شفیع معظم رحمت دو عالم ﷺ نے قرآن وسنت میں ہدایت اور راہنمائی عطا فرمانے کے مختلف ذرائع اور انداز اختیار فرمائے ہیں، جس میں ایک طریقہ امثلہ کے ذریعے مخاطب کو بات سمجھانا ہے اور انداز کلام میں یہ ایک بلیغ انداز ہے جس میں مثال کے ذریعے غیر واضح حقیقت کو متکلم مخاطب کے فہم و شعور میں اجاگر کرنے یا قریب تر لانے کے لیے اسے کسی محسوس واضح چیز سے تشبیہ دیتا ہے، اس لیے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)

کتاب اللہ کی طرح ذخیره حدیث میں بھی ہمیں متعد دار شادات مصطفوى ملتے ہیں جس میں ہادیِ برحق رسول صادق ﷺ نے مثالوں کے ذریعے بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔

(1) حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔ (سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ ثُدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ إِلَّا سَبَغَتْ أَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَا يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا إِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ ، ترجمہ حدیث حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہو تا۔( فیضان رياض الصالحین جلد : 5، حدیث نمبر :560)

(3) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرُ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ : حضرت سیدنا مُسْتَورِدُ بن شَدَّ اد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔“ ( فیضان رياض الصالحین جلد :4،حدیث نمبر : 463)

(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَالُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطْفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَيْہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“۔ ( فیضان رياض الصالحین جلد : 3، حدیث نمبر : 224)

(5) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَرَ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِي وَلِلدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَكَهَا (مشكاة المصابيح، كتاب الرقاق الفصل الثانی الحديث : ۵۱۸۸، ج ۲، ص ۲۴۷)

ترجمہ: حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ ایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کا نشان پڑ گیا تھا تو عبد اللہ بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله ! کاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کر دیتے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں کچھ دیر بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔( منتخب حدیثیں، حدیث نمبر : 24)


رسولِ اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے معلم و مربی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ ﷺ نے حکمت، مثالوں، عمل، اور محبت سے دلوں کو فتح کیا۔ آپ ﷺ کا اندازِ تربیت انتہائی مؤثر اور منفرد تھا، جس میں سے ایک نمایاں طریقہ ”مثالوں (تمثیل) کے ذریعے تربیت“ ہے۔

مثالوں کے ذریعے تربیت کے فائدے: (1) بات جلدی سمجھ میں آتی ہے (2) یادداشت میں رہتی ہے (3) تصور قائم ہو جاتا ہے (4) سامع کی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے (5) عمل کی تحریک ملتی ہے۔

(1) مشک والے اور لوہار کی مثال: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ یعنی نیک اور بُرے ساتھی کی مثال کستوری والے اور لوہار کی سی ہے۔( صحیح البخاری، كتاب الذبائح والصيد، باب المسك (من أمثال الأصحاب)، جلد: 7، صفحہ: 2505 ، حدیث نمبر: 5534، دار الفكر)

(2) آگ کی مثال: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًاوَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ترجمہ: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلا دی ، میں تمہیں اس سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر تم فرار ہو رہے ہو۔ (صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب: بيان مثال، جلد: 4، صفحہ: 1788 ، حدیث نمبر: 2284، دار احياء التراث العربی)

رسول اللہ ﷺ نے تمثیل کے ذریعے نہ صرف بات سمجھائی بلکہ عمل کی تحریک بھی دی۔ آپ ﷺ کا ہر انداز حکمت، شفقت اور فہم پر مبنی تھا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب تربیت کو اپنائیں تاکہ دلوں میں علم جاگزیں ہو اور عمل کی راہیں کھلیں۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ، آیئے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثال کے ساتھ تربیت فرمانا ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) دل کی مثال: روایت ہے ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے : دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، فصل:ایمان کا بیان ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان ، جلد:1 حدیث نمبر:103)

(2) ہدایت وعلم کی مثال: حضرت ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔( مشکوٰۃ المصابیح، فصل: ایمان کا بیان ، باب: قرآن وسنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 حدیث نمبر:150)

(3)میری اور تمہاری مثال: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین ، فصل:سنت، باب: سنت کے آداب ، جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )

(4) اہل بیت کی مثال: روایت ہے حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑےہوئے فرمایا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، فصل: فضائل کا بیان، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے فضائل، جلد:8 حدیث نمبر:6183)

(5) صحابہ کرام کی مثال: روایت ہے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا ، حسن نے فرمایا کہ ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح، فصل: فضائل کا بیان، باب: حضرات صحابہ کرام کے فضائل ، جلد:8 حدیث نمبر:6015 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ      ترجمہ کنزالایمان: ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی ۔ (پ1، البقرۃ: 17)

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا: ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی: یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ ہدایت دی یا اُس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اسے ضائع کردیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ،ان کا انجام حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کردیا اور وہ بھی جو مومن ہونے کے بعد مرتد ہوگئے اور وہ بھی جنہیں فطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق کو سننے ، ماننے، کہنے اور دیکھنے سے محروم ہوگئے تو کان، زبان، آنکھ سب بیکار ہیں۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد1 ص90 مکتبۃ المدینہ)

پیارے اسلامی بھائیو !اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مؤمنین اور منافقین اور دیگر چیزوں کی مثالوں کو بیان فرمایااور ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مقامات پر مثالیں دیکر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تربیت فرمائی کیونکہ مثالوں کا بیان حکمت کے مطابق اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتا ہے، اسی مناسبت سے پانچ احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں :

(1) پانچ نمازوں کی مثال: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ:فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا، فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1،ص 339، الفصل الاول،باب نماز کا بیان ، حدیث 519،مکتبہ اسلامیہ)

(2) سخی اور بخیل کی مثال: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔( فیضانِ ریاض الصالحین جلد 5, ص 237، باب جودو سخاوت کا بیان)

(2) صحابہ کی مثال نمک کی طرح: وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ قَالَ الْحَسَنُ: فَقَدْ ذَهَبَ مِلْحُنَا فَكَيْفَ نَصْلُحُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا ، حسن نے فرمایا کہ ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،باب حضراتِ صحابہ کے فضائل، جلد 8 الفصل الثانی،حدیث 6015)

(3) دنیا کی مثال کپڑے کی طرح: عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم: مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ حضرت انس سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا ،قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 7، ص 275 الفصل الثالث، باب قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہوگی،حدیث نمبر 5273مکتبہ اسلامیہ)

(4) مؤمن اور ایمان کی مثال: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهٖ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى آخِيَّتِهٖ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأُوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6، ص 72، الفصل الثانی ،باب دعوت کا بیان، حدیث 4065 مکتبہ اسلامیہ)

(5)قرآن والے کی مثال: وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6، ص 286 ،باب آداب تلاوت، الفصل الاول، حدیث2083 مکتبہ اسلامیہ)

اللہ پاک ہمیں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایک اہم طریقہ مثالوں سے سمجھانا تھا۔ آپ ﷺ نے مختلف مواقع پر مثالوں کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی، جس سے نصیحتیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مثالوں کے ذریعے تربیت کے لیے مختلف انداز اپنائے۔ کبھی آپ نے کوئی واقعہ بیان کیا، کبھی کوئی تمثیل پیش کی، اور کبھی کسی جانور یا چیز کی مثال دے کر سمجھایا۔ اس طرح کی تربیت سے لوگوں کو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(1)نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ذراع اس کے قریب آتا ہوں اور جب بندہ ایک ذراع میرے قریب آتا ہے تو میں ایک بازو اس کے قریب آتا ہوں جب میری طرف چل کے آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کے جاتا ہوں ۔ (صحیح بخاری شریف۔ ج2 کتاب الرد علی الجھمیۃ وغیرھم التوحید۔حدیث نمبر 7536صفحہ 683)

(2) حضرت سیدنا ابو ہریر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے ( مسلم کتاب الجنۃ۔۔۔الخ باب یدخل الجنۃ اقوام۔۔۔ الخ ، ص 284حدیث:1522)

(3) حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال کھیتی کے پودے کی طرح ہے ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے اور منافق کی مثال سنوبر کی ہے جو سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ ہوا اسے ایک ہی دفعہ اکھاڑ دیتی ہے ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 361 کتاب المرضی حدیث نمبر5643)

(4) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نبیِّ کریم ﷺ کی بیماری میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضورکو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ کو سخت بخار آ رہا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے۔ فرمایا: ہاں! جس مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو دور کرتا ہے جیسا کہ درخت کے پتے کرتے ہیں ۔(صحیح بخاری جلد دوم صفحہ362کتاب المرضی باب شدۃ المرض حدیث نمبر5647)


(1) جنت کی بشارت : عَنْ ابی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَاهُ أَفْئدَتُهُمْ مِثْلُا افئدة الطير حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضور نبی کریم رؤف رحیم صلى الله تعالى علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے۔(فیضانِ ریاض الصالین ،جلد 2 ، صفحہ 42 مکتبۃ المدینہ)

حدیث مذکور میں اُن لوگوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی نرم وکمزور ہوں گے ، جس طرح رزق کے معاملے میں پرندے اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ایساہی توکل ان لوگوں کا ہو گا۔ جس طرح پرندوں کے دلوں میں حسد ، بغض، کینہ وغیرہ نہیں ہو تا اس طرح ان نیک بختوں کے دل بھی اِن صِفاتِ مذمومہ سے پاک ہوں گے ۔ (فیضانِ ریاض الصالین ،جلد 2 ، صفحہ 42 مکتبۃ المدینہ)

(2)بخار کو برا نہ کہو : محمد بن یوسف نے کہا ہمیں سفیان نے بیان کیا انہوں نے اعمش سے روایت کیا انہوں نے ابراھیم تیمی سے انہوں نے حرث بن سوید انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضورکو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ کو سخت بخار آ رہا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے۔ فرمایا: ہاں! جس مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو دور کرتا ہے جیسا کہ درخت کے پتے گرتے ہیں ۔ (صحیح بخاری ،جلد 2، صفحہ362،کتاب المرضی باب شدۃ المرض، حدیث نمبر5647)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر پہلو کو نہایت حکمت، نرمی اور فطرتِ انسانی کے مطابق سمجھایا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرتِ طیبہ سے ہمیں تعلیم و تربیت کا ہر اسلوب سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرماتے، تاکہ تعلیم نہ صرف آسان ہو بلکہ دل نشین بھی ہو جائے۔ آپ کا اندازِ تربیت مختصر، مؤثر اور حکمت سے بھرپور ہوتا۔ چنانچہ ذیل میں ایسی ہی چند احادیث نقل کی گئی ہے آپ بھی پڑھیے :

(1) مؤمن اور منافق کی مثالیں : ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم نے فرمایا :قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)

(2) نيک اور برے لوگوں کی صحبت کا اثر : ابوبردہ بن ابی موسی اپنے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(3) پانچویں نمازوں کی مثالیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال اس گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروزاے پر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ حسن کہنے لگا کہ پھر تو اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔ (صحیح مسلم، کتاب: مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان، باب: مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ حدیث نمبر: 668 جلد :2، صفحہ: 132 )

(4) حافظ قرآن کی مثال : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص 1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب ذوالجلال ہمیں ان احادیث کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی زندگانی اسوہ حسنہ ہے ، ارشاد باری ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنزالایمان: ےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (الاحزاب: 21)

پس آپ ﷺ نے جو تعلیمات ارشاد فرمائیں ان میں سے جو تعلیمات مثالوں کے ذریعے سمجھائیں ہیں ان میں سے چند پڑھنے کی سعادت حاصل کیجیے:

(1)صدقہ کی مثال : حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سری (یعنی آہستہ ) قراءت کی بلند آواز سے قراءت پر اتنی فضلیت ہے جتنی پوشیدہ صدقہ کی علانیہ صدقہ پر۔ ( قوت القلوب، الفصل التاسع عشر، كتاب الجهر بالقرآن .. الخ، ج1 ص110 )

(2)خوف خدا کے سبب ہونے والی حالت کی مثال : حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا : یعنی شَبِ معراج میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ملائے اعلیٰ میں دیکھا، اللہ عزوجل کے خوف کے سبب وہ ایسے تھے جیسے اونٹ کی پشت پر ڈالی جانے والی پرانی چادر ہو۔ ( المعجم الاوسط ، ج3،ص309 حدیث4679)

(3) گناہوں کی مثال سمندر کی جھاگ سے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحٰن الله، 33 مرتبہ الحمد الله، اور 33 مرتبہ اللہ اکبر کہا ۔ یہ ننانوے ہیں پھر 100 کا عدد پورا کرنے کے لئے لاإله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شَيءٍ قدير کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔(صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، الحديث 597 ص301)

(4)قبر کی مثال: قبر دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ۔ ( احیاء العلوم جلد 1 ص903 مترجم مکتبہ المدینہ)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

رسول اللہ ﷺ کا اندازِ تربیت نہایت حکیمانہ، مؤثر اور دل نشین ہے ۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی اصلاح اور تعلیم کے لیے مختلف طریقے استعمال فرمائے، جن میں ایک اہم طریقہ مثالوں (تمثیلات) کے ذریعے تربیت دینا ہے ۔ آپ ﷺ کی بیان کردہ مثالیں نہ صرف آسان فہم ہوتیں بلکہ سننے والوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتیں۔ اس طریقہ تربیت سے نہ صرف مفہوم واضح ہوتا بلکہ سننے والا اس میں اپنے لیے نصیحت بھی پاتا۔

(1) نیکی اور برائی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور اس بات کی مثال جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس بارش کی مانند ہے جو زمین پر برسی۔ (صحیح بخاری: 79، صحیح مسلم: 2282)

اس حدیث میں آپ ﷺ نے وحی اور دعوتِ اسلام کو بارش سے تشبیہ دی، اور انسانوں کی فطرت کو زمین سے۔ بعض زمین پانی کو جذب کر کے پودے اگاتی ہے، بعض پانی روک لیتی ہے، اور بعض نہ جذب کرتی ہے نہ اگاتی ہے۔ یہ تمثیل اس بات کو واضح کرتی ہے کہ لوگ دین کی طرف کس طرح مختلف رویہ رکھتے ہیں۔

(2) برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی سی ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خوشبو خرید لوگے یا کم از کم خوشبو محسوس کرو گے۔ لیکن بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بدبو ہی پاؤ گے۔ (صحیح بخاری: 5534، صحیح مسلم: 2628)

یہ مثال نہایت مؤثر طریقے سے اچھے اور برے دوست کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔

(3) نماز کی اہمیت: آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟" صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی پانچ وقت کی نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری: 528، صحیح مسلم: 667)

یہ تمثیل نماز کی تطہیر روحانی کو اس قدر سادہ انداز میں بیان کرتی ہے کہ ہر کوئی اس کی اہمیت کو سمجھ سکے۔

(4) ہدایت کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی، اور جب آگ روشن ہو گئی تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے، اور وہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں تمہیں آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں کود رہے ہو۔ (صحیح بخاری: 6483)

یہ تمثیل رسول اللہ ﷺ کی امت کے لیے شفقت اور محبت کو ظاہر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ آپ ﷺ کس طرح گناہ سے بچانے کی مسلسل کوشش کرتے۔

رسول اللہ ﷺ نے تمثیلات کے ذریعے تربیت کا جو انداز اختیار فرمایا، وہ نہایت مؤثر اور دل نشین ہے

یہ طریقہ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ(۲۷)ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو ۔ (پ23، الزمر: 27)

آپ ﷺ کے یہ طریقے آج کے معلمین، خطباء اور والدین کے لیے رہنما اصول ہیں کہ وہ تعلیم و تربیت کو محض زبانی نصیحت تک محدود نہ رکھیں بلکہ مؤثر مثالوں سے مزین کریں تاکہ دلوں میں اثر ہو اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مثالیں سادگی ، حکمت اور گہرائی کا حسین امتزاج ہوتیں ہیں، جو سننے والوں کے ذہن میں نقش ہو جاتیں ہیں، آئیے آپ بھی چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:

حدیث نمبر 1: اچھے اور برے دوست کی مثال: ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

حدیث نمبر 2 :مؤمن کی مثال: روایت ہے حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح : کتاب الجنائز: باب عیادالمریض وثواب المرض۔ فصل اول جلدنمبر1 : حدیث نمبر:1453 : صفحہ نمبر 137 )

حدیث نمبر 3: جہاد کرنے والے کی مثال: روایت حضرت سلیمان بن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے: اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار ، رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا ہو ، نہ روزے سے تھکے نہ نماز سےحتی کہ اﷲ کی راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح: کتاب الجہاد: باب الجہاد : فصل اول : جلد نمبر 2: حدیث نمبر 3611: صفحہ نمبر 340)

حدیث نمبر 4:میرے صحابہ کی مثال: روایت ہے حضرت انس سے ،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 حدیث نمبر:6015 )

حدیث نمبر 5: میری امت کی مثال: روایت ہے حضرت جعفر سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے فرماتے ہیں، فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے : خوش ہوجاؤ خوشی سناؤ کہ میری امت کی مثال بارش کی ہے ، نہیں کہا جاتا کہ اس کی پچھلی اچھی ہے یا کہ اگلی یا اس باغ کی سی ہے جس میں سے ایک سال ایک فوج نے کھایا پھر ایک سال دوسری فوج نے کھایاشاید کہ آخری فوج چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ اچھی ہو ، وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کے درمیان مہدی ہوں اور آخر مسیح ہوں لیکن اس کے درمیان ٹیڑھی فوج ہے نہ وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 حدیث نمبر:6287)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی دعوت، تبلیغ اور تربیت کے طریقے بےمثال اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف وحی الٰہی کو پہنچایا بلکہ دین کو سمجھانے کے لیے ایسے مؤثر انداز اپنائے جن سے سننے والے کے دل پر نہ صرف وہ بات اثر انداز ہوتی ہے بلکہ وہ اس کو ذہن نشین ہو جاتی ہے، انہی مؤثر اندازوں میں سے ایک انداز مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے ، جو حضور علیہ السلام کی دانائی اور حکمتِ عملی کا اعلیٰ مظہر ہے۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر امثال کو بیان فرمایا ہے، جیسا کہ رشادہوتا ہے:

اِنَّ اللہ َ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ (پ1، البقرۃ: 26)

اور طریقہ ہمیں حضور سید عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک کلام میں بھی نظر آ تا ہے چنانچہ

(1) حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے ۔ میں کھلا ڈرانے والاہوں ۔ بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے ۔ اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا ۔ یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح/جلد1/ حدیث نمبر 150)

اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کا بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح/جلد1/ حدیث نمبر 150)

(2) روایت ہے کہ عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو ادھر بلا رہا ہے:

اس حدیث پاک کےتحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دین حق کو قرآن شریف میں صراط مستقیم فرمایا گیا یعنی سیدھا راستہ جو نہایت آسانی سے رب تک پہنچادے،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خط کھینچ کر اس کی مثال دکھادی۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح / جلد/1 /حدیث نمبر/166)

(3) حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اُس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اُس پر کچھ میل رہ جائے گا؟ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: اُس پر کچھ میل باقی نہ بچے گا۔حضور صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”پانچ نمازیں اسی طرح ہیں،اﷲتعالیٰ اِن کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے:

اس حدیث پاک کے تحت مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:7 , حدیث نمبر:1043 )

(4) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے دو درختوں کو دیکھا، ایک درخت کے پاس گئے، اس کی ایک شاخ پکڑی اور اسے جھٹکا دیا تو اس سے پتے جھڑ گئے۔ پھر دوسرے درخت پر بھی یہی عمل فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: بے شک جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے جسم سے ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے ان درختوں سے پتے جھڑ گئے۔(مسند احمد بن حنبل/ حدیث نمبر /21316)

رسول اللہ ﷺ نے دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے جس اعلیٰ حکمت اور مثالوں والے انداز کو اپنایا، وہ رہتی دنیا تک اساتذہ، علما اور والدین کے لیے راہ ہدایت ہے۔ ہر دعوت دینے والا اگر حضور ﷺ کا

یہ مبارک اور حکمت بھرا انداز اپنائے تو دین کی دعوت کو زیادہ مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس طریقہ کار سے بات بات کو اچھے طریقے سے سمجھائی جا سکتی ہے ۔


اسلام میں کلام اللہ کے بعد کلام رسول اللہ کا درجہ ہے یعنی احادیث مبارکہ کا اور کیوں نہ ہو کہ اللہ کے بعد رسول کا مرتبہ ہے ۔حدیث مبارکہ میں ہمارے لیے زندگی کے مختلف معاملات میں رہنمائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پیارے انداز میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی ہے۔ کبھی وعظ کے ذریعے کبھی اشاروں سے کبھی مثالوں سے تربیت فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانے کے متعلق چند احادیث درج ذیل ہیں:

(1) حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی حدود کو قائم رکھنے والوں اور ان میں مبتلا ہونے (یعنی توڑنے والوں)کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے جہاز میں قرعہ اندازی کی بعض کے حصے میں نیچے والا حصہ آیا اور بعض کے حصے میں اوپر والا ، نیچے والوں کو پانی کی ضرورت کے لیے اوپر والوں کے پاس جانا پڑتا وہ ان کی وجہ سے زحمت میں پڑ جاتے پس نچلے حصے والوں میں سے ایک شخص نے کلہاڑی لی اور اپنے حصے میں سوراخ کرنے لگا (تاکہ پانی تک رسائی ہو) ایسی صورت میں اگر اوپر والے اس (سوراخ کرنے والے) کو(سوراخ کرنے سے) نہ روکیں (اور یہ خیال کریں کہ وہ جانے اور ان کا کام ہمیں ان سے کیا واسطہ) تو اس صورت میں سوراخ کرنے والا خود بھی غرق یعنی ہلاک ہو جائے گا اور دونوں فریق بھی اور اگر وہ ان کا ہاتھ روک دیں گے تو دونوں فریق ڈوبنے سے بچ جائیں گے اور وہ خود بھی۔(صحیح بخاری ، حدیث:2493،ج2، ص1343)

مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث پاک میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے یعنی اگر دیکھا جائے تو اس حدیث پاک میں مثال کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی اہمیت پر تربیت فرمائی گئی ہے۔

(2)حضرت ابو موسی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ہدایت اور علم کی مثال جو رب نے مجھ کو دے کر بھیجا ہے اس بہت سی بارش کی طرح ہے جو کسی زمین پر پہنچی اس کا کچھ اچھا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور گھاس اور بہت چارہ اگایا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کر لیا جس سے اللہ تعالی نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود بھی پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصے میں پہنچا جو چٹیل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہو اور اسے اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔ (مراة المناجيح شرح مشكاة المصابیح جلد1،حدیث نمبر 150،ص350)

اس حدیث پاک میں بھی مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش ہے اور انسانوں کے دل مختلف اقسام کی زمین چنانچہ مومن کا دل قابل کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقوی کے پودے اگتے ہیں اور علماء مشائخ کے سینے تالاب ہیں جن سے قیامت تک مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی اور منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہے کہ نا فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔(مراة المناجيح شرح مشكاة المصابیح جلد1،حدیث نمبر 150،ص350)

(3)حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:463)

(4)روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1541)

یعنی مسلمان کی زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے یعنی مسلمان کی زندگی کو کچی کھیتی کی مثال کے ساتھ اور کفار کی زندگی کو صنوبر کے سخت تنے والے درخت کے ساتھ سمجھا دیا گیا ۔

یہ چند احادیث پیش کی گئی ہیں جن میں مثالوں کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت فرمائی ہے ۔ اللہ پاک ہمیں احادیث کو پڑھنے انہیں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین