محمد ارسلان سلیم ( درجہ خامسہ
، جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
الله پاک اور اس کے محبوب مكرم شفیع معظم رحمت دو عالم ﷺ نے قرآن
وسنت میں ہدایت اور راہنمائی عطا فرمانے کے مختلف ذرائع اور انداز اختیار فرمائے ہیں،
جس میں ایک طریقہ امثلہ کے ذریعے مخاطب کو بات سمجھانا ہے اور انداز کلام میں یہ ایک
بلیغ انداز ہے جس میں مثال کے ذریعے غیر واضح حقیقت کو متکلم مخاطب کے فہم و شعور
میں اجاگر کرنے یا قریب تر لانے کے لیے اسے کسی محسوس واضح چیز سے تشبیہ دیتا ہے،
اس لیے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱)
ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)
کتاب اللہ کی طرح ذخیره حدیث میں بھی ہمیں متعد
دار شادات مصطفوى ملتے ہیں جس میں ہادیِ برحق رسول صادق ﷺ نے مثالوں کے ذریعے بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
(1) حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
کہ اللہ پاک کے آخری صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھنے والے
مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور
قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا
ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ
کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی
نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔ (سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)
(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ
عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ ثُدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا
فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ إِلَّا سَبَغَتْ أَوْ وَفَرَتْ عَلَى
جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيلُ
فَلَا يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا إِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا
فَهُوَ يُوَسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ
، ترجمہ حدیث حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی
مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو
خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر
آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے
نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ
کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں
ہو تا۔( فیضان رياض الصالحین جلد : 5، حدیث نمبر :560)
(3) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ
بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ
أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرُ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ : حضرت سیدنا مُسْتَورِدُ بن شَدَّ اد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے
جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر
لوٹتی ہے۔“ ( فیضان رياض الصالحین جلد :4،حدیث نمبر : 463)
(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ
بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَالُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطْفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ
: حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَيْہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا
کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو
جاتا ہے۔“۔ ( فیضان رياض الصالحین جلد : 3، حدیث نمبر : 224)
(5) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلَى حَصِيرٍ
فَقَامَ وَقَدْ أَثَرَ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا رَسُولَ
اللَّهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِي
وَلِلدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ
شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَكَهَا (مشكاة
المصابيح، كتاب الرقاق الفصل الثانی الحديث : ۵۱۸۸، ج ۲، ص ۲۴۷)
ترجمہ: حضرت عبد الله بن مسعود
رضی الله تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ ایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی
کا نشان پڑ گیا تھا تو عبد اللہ بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا
رسول الله ! کاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے
لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کر دیتے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا
کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں کچھ دیر بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔(
منتخب حدیثیں، حدیث نمبر : 24)
Dawateislami