اللہ پاک نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کائنات رنگا رنگ میں ہادی خلق ، معلم انسانیت بنا کر اور جوامع الکلم عطا فرما کر مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلی اندازِ تربیت عمدہ اخلاق اور بہترین تدبیر سے بنی آدم کو راہ ہدایت پر گامزن فرمایا اور ہر موڑ پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تربیت فرمانے کا انداز انتہائی دل نشین ہوا کرتا کبھی اپنے عمل سے تربیت فرماتے تو کبھی اشارے کے ذریعے نصیحت فرماتے کبھی اپنے فعل سے تعلیم دیتے تو کبھی اپنے قول سے وعظ فرماتے ، انہی میں سے ایک عمدہ پہلو ،، مثال کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے مثال مشکل بات کو سمجھانے اور دل میں اتارنے کا بہترین اور آسان ذریعہ ہے اعلی تعلیم یافتہ اور کم پڑھے لکھے شخص کو اگر مثال کے ذریعے سمجھایا جائے تو مضمون اس کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے اور وہ اسے بآسانی سمجھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر احادیث میں مثال کے ذریعے تربیت فرمائی ۔ آئیے ہم بھی ان میں سے چند احادیث پڑھتے اور قلوب و اذہان کو معطر کرتے ہیں:

(1) مومن و منافق کی مثال: ایمان انسان کا قیمتی اثاثہ اور عظیم سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کا سبب ہے جبکہ اس کے برخلاف کفر و نفاق اختیار کرنا ذلت و رسوائی اور دخول جہنم کا سبب ہے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تَفَيِّئُهَا الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة

ترجمہ: مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح (قدیم) کتاب الجنائز ج:2 ، حدیث :1541 ، باب عیادت المریض وثواب المرض)

(2) علم کی مثال: یقینا علم دین کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ فضائل تب ہی حاصل ہوں گے جب علم سے نفع بھی اٹھایا جائے اس کے برخلاف علم سے فائدہ نہ اُٹھانے کی صورت میں یہ علم بیکار مال کی طرح ہے کہ جو وبال و نقصان کا باعث ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث:280 باب العلم ص75 مکتبہ اسلامیہ)

(3) گناہوں کی بخشش: نماز ایک عظیم الشان عبادت ہے نماز جہاں ایک طرف اللہ و رسول کی خوشنودی ، مومن کی معراج ، دعا کی قبولیت اور ڈھیروں ثواب کے حصول کا ذریعے ہے تو دوسری طرف صغیرہ گناہوں کی بخشش کا بھی سبب ہے اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال کے ذریعے بیان فرمایاِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا

یعنی بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا ، یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مسلم شریف، کتاب المساجد، باب مشی الی الصلاۃ ص 332 حدیث 668 )

(4) اچھےو برے دوست کی مثال: انسانی زندگی پر اچھی و بری صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے اچھے دوست کی صحبت انسان کو نیک جبکہ صحبت بد انسان کو سرکش و بے باک بنا دیتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان نہیں دے سکتی بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔ ( مراہ المناجیح ج6 ص 590)

اس کے علاوہ کثیر احادیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تعلیم و تربیت فرمائی مگر افسوس ہم ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے سے نااشنا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین