محمد فہد مدنی ( مدرس جامعۃ
المدینہ فیضان اسلام اقبال ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو علم سکھانے کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے ۔
ان میں سے ایک مؤثر طریقہ "مثالوں کے ذریعے سمجھانا" تھا۔ آپ ﷺ نے پیچیدہ
باتوں کو سادہ اور عام فہم مثالوں سے واضح فرمایا، تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے۔
یہاں آپ ﷺ کی
سیرت طیبہ سے چند احادیث ذکر کرتا ہوں جس میں آپﷺنے مثالوں کے ذریعے امت کو تعلیم
دی ۔
(1) اچھے اور برے دوست کی مثال :نبی پاک ﷺ نے برے دوست کے اثر کو بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرمایا: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک
اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا
تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب البر و الصلۃ والادب ۔باب
استحباب مجالسۃ الصاحین و مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
اس مثال سے آپ
ﷺ نے سکھایا کہ انسان پر اس کے دوست کی صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
(2)گناہ جھڑنے کی مثال : حضرت سیّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
آپ ﷺ موسمِ سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے توآپ نے ایک
درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی:
یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بےشک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا
کے لئے نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں۔
(مسند احمد،مسند الأنصار،حديث أبى ذر الغفاری رضی الله تعالى عنہ،حدیث: 21556)
اس حدیث مبارکہ
میں آپ ﷺ نے نماز کے ذریعے گناہ جھڑنے کی مثال درخت کے پتوں سے دی کہ جس طرح ٹہنی
کو ہلانے سے پے در پے پتے گرتے ہیں اسی طرح بندۂ مؤمن کے گناہ بھی نماز کے ذریعے
گرتے ہیں۔
(3) ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں
بیمار تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میری
عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ
تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ، سونے اور چاندی
کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد،كتاب الجنائز ،باب عيادة النساء، حدیث:
3092)
مذکورہ حدیث
مبارکہ میں نبی ﷺ نے بیماری کے ذریعے گناہ دور ہونے کی مثال آگ اور سونے ، چاندی
سے دی کہ جس طرح آگ ان دونوں کی میل کو دور کرتی ہے اسی طرح بیماری بھی انسان سے
گناہوں کو دور کرتی ہے۔
Dawateislami