اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اپنی کامل حکمت سے پیدا فرمایا اور انسان کی طبیعت میں مختلف طرح کے اوصاف رکھے اچھے بھی اور برے بھی اچھوں کی بنا پر انسان مدح و ستائش کا مستحق ہوتا ہے اور کچھ ایسے اخلاق ذمیمہ بھی ہیں جو انسان کے دنیاوی و اُخروی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں جن میں سے ایک بغض و کینہ بھی ہے، جو مومن کی صفات میں سے نہیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:المؤمن ليس بحقود ( احياء العلوم ،مترجم :پرو گریسو بکس مکتبہ :ص / 406) ترجمہ: مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔

کینہ، غصے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں آٹھ باتیں سامنے آتی ہیں:

1: حسد: یعنی تمہارا کینہ تمہیں اس بات پر مجبور کرے کہ تم اس سے زوال نعمت کی تمنا کرو اور اگر اسے نعمت ملے تم اس پر غمگین ہو جاؤ اور اگر کسی گناہ کا مرتکب ہو تو تمہیں خوشی حاصل ہو یہ منافقین کا کام ہے۔

2: دل میں حسد کو چھپانا کہ اس کو پہنچنے والی مصیبت پر خوشی ہو۔

3: اگر وہ شخص تمہیں بلائے اور تمہاری طرف ائے تو تم اس سے تعلق توڑدو۔

4: اس کو تم ذلیل و رسوا سمجھو۔

5: اس کے بارے میں ایسی گفتگو کرنا جو جا ئز نہیں مثلا جھوٹ غیبت راز فاش کرنا اس کے پردہ دری کرنا وغیرہ۔

6: اس کی بات تمسخر کے انداز میں نقل کرنا ۔

7: اسے مارنا یا کسی اور انداز میں جسمانی تکلیف پہنچا نا۔

8: اس کا حق ادا نہ کرنا قرض کی ادائیگی نہ کرنا صلہ رحمی سے پیش نہ آنا اور اس کا حق مارنا کینہ کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آٹھ آفات سے بچو اور کینہ کی وجہ سے اللہ تعالی کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہو جاؤ۔

نیز رسولُ اللہ ﷺ کے فرامین میں اس کی مذمت موجود ہے ، آئیے رسولِ کریم ﷺ کے فرامین سے اپنے دلوں کو اس مہلک بیماری سے پاک کرتے ہیں:

15 شعبان کو مغفرت سے محرومی:

(1) اللہ کے محبوب دانائے و غیوب عزوجل ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر یعنی اپنی قدرت کی شیان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔(شعب الايمان، باب فی الصيام، ماجاء فی لیلہ النصف من شعبان،الحديث: ٣٨٣٥،ج٣،ص٣٨٣)

پیر اور جمعرات میں مغفرت سے محرومی: (2) دافع رنج وملال صاحب جود و نوال ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : ہر ہفتے ، پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں۔ (الصحيح مسلم،كتاب البروصلۃ،باب النهي عن الشحناء،الحديث: ٦٥٤٧،ص١١٢٧)

جمعرات اور جمعہ کے دن مغفرت سے محرومی:

(3) سید المبلغین رحمت اللعالمین ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں آپس میں صلح کر لینے تک مؤخر کر دو۔ (جامع الاحادیث جلد 3 صفحہ 12 حدیث نمبر 6975)

احادیث مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوا کہ بغض و کینہ ایسی مہلک بیماریاں ہیں جو انسان کے اعمال کو برباد کرتی ہیں اور انسان کو بڑے عظمت والے دنوں میں بھی مغفرت سے محروم کر دیتی ہیں۔

اللہ تعالی ہر مسلمان کے دل کو ایسی مہلک بیماریوں سے دائمی شفا نصیب فرمائے۔