محمد
نواز (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
بغض و
کینہ کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ نے کئی مقامات پر اصلاح فرمائی ہے کہ بغض و کینہ
گناہ ہے ، آئیے بغض و کینہ کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجیے:
(1) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ
عَازِبٍ رضی اللہ عنہ مَا عَنِ النَّبيّ
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا
يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ
اَبْغَضَهُ اللهُ ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے
مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ
وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند
فرماتاہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث
نمبر:380)
(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ
الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا
تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ
سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے
حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور
ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،
حدیث نمبر:5028)
(3) روایت
ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری
سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن
یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:5039)
(4) روایت
ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ
سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو
گے میں نے عرض کیا : یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ
تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:5998)
(5) روایت
ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے
جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس
درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا پھر فرمایا: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک
ہوں گے: محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں
اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے
گا مجھے بہتان لگائیں گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:، حدیث
نمبر:6102)
اللہ
پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami