محمد جنید (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
نمبر:03274848212
اللہ
پاک نے انسان کو عقل و تعمیز اور تصرف کے اختیارات عطا فرمائے اب انسان کو فلاح و
کامیابی کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری اور ہر طرح کے ظاہری گناہوں اور باطنی
گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ باطنی گناہوں میں سے ایک مضموم بیماری بغض و کینہ بھی ہے
جس کی کثیر احادیث میں مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی بغض و کینہ کی مذمت میں
پانچ احادیث پڑھتے ہیں اور عمل کی نیت کرتے ہیں:
(1) بغض
رکھنے والوں سے بچو : اللہ کے محبوب، دانائے غیوب ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: الله عز جل (ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے
بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان ) تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی
مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں
کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فى ليلۃ ۔ ۔ ۔
الخ، ج 3 ص 383، حدیث: 3835 )
(2)بغض
دین کو مونڈ دیتا ہے : اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب
عزوجل ﷺ نے ارشادفرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بعض دین کو مونڈ ڈالتا یعنی
تباہ کر دیتا ہے ۔ (كنز العمال، کتاب
الاخلاق، قسم الاقوال ، الجزء : 3ج 2، ص 28 حدیث: 5486)
(3)کینہ
پروری مسلمان کے دل میں نہیں ہے: حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چغل خوری
اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔(معجم
اوسط 3/301حدیث،4653)
(4)حسد
اور بغض دین کو مونڈ دیتی ہے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت
کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو
مونڈ دیتی ہے۔ (سنن الترمذی ، كتاب صفۃ القيمۃ ، 4/ 228 ، الحديث 2518)
(5)تم
لوگ بھائی بھائی بن کر رہو مدینے کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان
ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا تُحَاسِدُوا وَلَا تُبَاغِضُوا وَلَا تُدَابِرُوا وَكُونُوا عِبَادَ
اللَّهِ إِخْوَانًا یعنی آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض وعداوت نہ رکھو، پیٹھ
پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو بھائی
بھائی ہو جاؤ۔(صحيح البخاری، كتاب الادب، 4 / 117 ، الحديث : 6066)
اللہ پاک ہمیں
احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami