محمدسفیان
عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضانِ حسنُ جمالِ مصطفیٰ کراچی ، پاکستان)
واٹس ایپ نمبر : 03003498134
بُغض
کا مطلب ہے کسی کے لیے دل میں نفرت یا برائی چاہنا، جبکہ کینہ یہ ہے کہ کسی کی بات
یا زیادتی کو دل میں چھپا کر نفرت برقرار رکھنا۔
یہ
دونوں صفات انسان کے دل کو سخت اور بے سکون بنا دیتی ہیں، اور محبت، خلوص اور ایمان
کے نور کو بجھا دیتی ہیں۔ ایسے شخص کے چہرے پر بھی سکون نہیں رہتا کیونکہ دل کے
اندر نفرت کا زہر گردش کر رہا ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دل کو پاک
رکھو، معاف کرنا سیکھو، اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہو یہی ایمان کی اصل روح ہے۔
انسانی
زندگی کا سب سے حسین پہلو وہ جذبے ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور روحوں میں سکون پیدا
کرتے ہیں۔ محبت، اخوت اور ایثار وہ مقدس خوبیاں ہیں جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ
درجے پر فائز کرتی ہیں اور یہی اوصاف کسی معاشرے کو جنت کا نمونہ بنا دیتے ہیں،
جہاں ہر دل میں خیرخواہی، ہر نگاہ میں نرمی، اور ہر رشتے میں خلوص و اعتماد پایا
جاتا ہے۔
لیکن
جب ان پاکیزہ جذبات کی جگہ دلوں میں بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسے زہریلے احساسات
جنم لیتے ہیں، تو انسان کا باطن تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ محبت کے چراغ بجھ جاتے ہیں،
رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، اور معاشرہ نفرت و بے سکونی کی بھٹّی میں جھونک دیا جاتا
ہے۔ دل کا یہ میل نہ صرف انسان کو ربّ کی رحمت سے دُور کر دیتا ہے
آئیے
اب ہم رسولِ اکرم ﷺ کے چند مبارک ارشادات پر غور کرتے ہیں جن میں بُغض و کینہ کی
مذمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہم اپنے دلوں کو حسد، نفرت اور کینہ سے
پاک کرکے اللہ اور اس کے بندوں کے قریب ہو سکیں۔
عداوت
رکھنے والے کی مغفرت رُک جاتی ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس دن
اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں
کرتا، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو، تو
(ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر
لیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر و الصلة و الآداب، حدیث 6546)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ دلوں میں دشمنی اور کینہ رکھنے کی وجہ سے بندہ مغفرت سے محروم رہ
جاتا ہے، چاہے وہ بظاہر نیک اعمال ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
کینہ
رکھنے والے کی گواہی معتبر نہیں ہوتی : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد و عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور
بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیہ، حدیث 3600)
یہ اس
بات کی دلیل ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والا شخص عدالتِ الٰہی میں معتبر نہیں رہتا۔
نصفِ
شعبان کی رات میں کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی
طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے شرک کرنے
والے، بغض و عداوت اور کینہ رکھنے والے کے۔(سننِ ابنِ ماجہ، کتاب اقامت الصلاۃ
والسنۃ، حدیث 1390)
یعنی کینہ
رکھنے والا شخص اللہ کی رحمت سے محروم رہ جاتا ہے، گویا یہ صفت انسان اور ربّ کے
درمیان حائل یعنی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
بغض و کینہ
نیکیوں کو ختم کردینے والی بیماریں ہیں : چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سابقہ امتوں کی بیماری تمہاری طرف منتقل
ہو گئی ہے حسد اور بغض و عداوت، اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہیں۔ میں یہ نہیں
کہہ رہا کہ وہ بال مونڈتی ہیں بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،
کتاب الآداب حدیث 5039)
یعنی جیسے
استرا بال صاف کر دیتا ہے، اسی طرح بغض و حسد ایمان اور نیکیوں کو ختم کر دیتے ہیں۔
یہ صفات انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ باطن کو برباد کرتی ہیں۔
چونکہ
بغض و کینہ وہ زہر ہے جو انسان کے دل، ایمان اور معاشرے تینوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دل سے کینہ، حسد اور نفرت کو نکال کر خلوص،
محبت اور خیرخواہی سے اپنے دل کو روشن کرے، کیونکہ اللہ اُن دلوں کو پسند کرتا ہے
جو صاف، نرم اور محبت سے بھرے ہوں۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے بغض، کینہ اور حسد کو نکال دے، اور ہمیں محبت،
خلوص اور خیرخواہی سے بھرپور دل عطا فرمائے اور ہمیں اُن بندوں میں شامل فرمائے کہ
جو دوسروں کے لیے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آمین۔
Dawateislami