محمد نعمان مصطفى (درجہ سادسہ جامعۃ
المدينہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
03284946469
رب
العالمین کی ذات نے ہمیں عدم سے وجود بخشا اور کائنات کو ہمارے لیے مسخر کیا اور
ہم میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے مادے کو رکھا جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے محبت
کرتے ہیں جہاں ہم ایک دوسرے سے محبت کرتےہیں ساتھ ہی ساتھ دل میں بغض و کینہ بھی چھپائے ہوتے ہیں جس کی احادیث مبارکہ میں کثرت
سے مذمت بیان کی گئی ہے :
حديث1: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا
وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ
عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو
الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى
هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ
مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ
اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ
وَعِرْضُهٗ ‘‘(رَوَاهُ
مُسْلِم
ترجمہ:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان
کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ
رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے
بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم
کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا
ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں
ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر
سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر
والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)
حديث3: وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
ترجمہ : روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے
میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے (احمد،ترمذی) ۔ وما توفيقى الا بالله
اللہ پاک ہمیں
احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami