اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ انسانی اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دین اسلام محبت، اخوت، رواداری، اور دلوں کی صفائی کا درس دیتا ہے، جبکہ بغض (دشمنی) اور کینہ (دل میں نفرت یا حسد رکھنے) کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بغض و کینہ کو نہ صرف گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی  قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں گے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف دشمنی اور نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں دبائے رکھنا اور اس کا بدلہ لینے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو نہ صرف روحانی طور پر تباہ کرتیں ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتی ہیں۔

احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت:

(1) ایمان کی نفی: ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی نصیحت کی ہے چنانچہ فرمایا : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏‏‏‏‏‏لَاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تم جنت میں اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم ( کامل ) مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ " (ابن ماجہ ، 4/200 ، حدیث : 3692)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل آپس کی محبت کے بغیر ممکن نہیں اور بغض و کینہ محبت کی ضد ہیں۔

(2) اعمال کی قبولیت کا انکار: حضرت سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجئے۔ یہاں تک کہ صلح کر لیں۔‘‘(صحیح مسلم 2/317)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والوں کے اعمال بھی لٹکے رہتے ہیں اور مغفرت نہیں ہوتی جب تک وہ آپس میں صلح نہ کریں۔

(3) دل کی صفائی کی ترغیب: "حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، نور والے مصطفےٰ ﷺ کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا : اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ یا رسولَ اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا : کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ ، صُدُوقُ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان والا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ ﷺ ! صُدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا) کسے کہتے ہیں ، یہ تو ہم جانتے ہیں ، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا : وہ متقی شخص جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو ، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو ، نہ کینہ ہو ، نہ ہی حسد ہو۔" (ابنِ ماجہ ، کتابُ الزُّہد ، جلد : 4 ، صفحہ : 475 ، حدیث : 4216)

یہ حدیث ایک مؤمن کے اعلیٰ اخلاق کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ بغض و کینہ سے پاک دل رکھتا ہے۔

بغض و کینہ کے نقصانات:

1 روحانی نقصان: دل میں بغض و کینہ رکھنے والا انسان ہمیشہ بے سکون رہتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔

2 معاشرتی فساد: بغض و کینہ معاشرتی رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھائی بھائی سے، دوست دوست سے دور ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

3 اعمال کی بربادی: جیسا کہ حدیث میں آیا کہ بغض رکھنے والے کے اعمال معلق ہو جاتے ہیں اور ان کی قبولیت رُک جاتی ہے، جو کہ ایک مؤمن کے لیے بڑا نقصان ہے۔

4 نفسیاتی اثرات: مسلسل بغض رکھنے سے انسان کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خوشی محسوس نہیں کر پاتا، اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔

بغض و کینہ سے بچنے کے طریقے:

1 معاف کرنے کی عادت: اس بات کو یاد کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف فرمانے والا ہے، اور اس نے ہمیں بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

2 دعاؤں میں دل کی صفائی کی درخواست: نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے پاک فرما۔ الخ"(مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2501)

3 سلام کو عام کرنا: سلام آپسی محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی دوری کو ختم کرتا ہے۔

4 حسد اور کینہ کے خلاف جہاد: یہ مجاہدہ (نفس کے خلاف جنگ) کرنا ضروری ہے، اور قرآن کی تلاوت، ذکر، اور صحبت صالحین سے اس میں مدد ملتی ہے۔

اسلام ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو محبت، رواداری، اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ بغض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانیت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں، اور محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک کر کے ان اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں جن کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین