واٹس ایپ نمبر: 03041711077

اسلام ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت، اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ لیکن جب انسان کے دل میں بغض و کینہ یعنی دوسروں سے نفرت، حسد، یا بددلی پیدا ہو جاتی ہے تو یہ اس کے ایمان، اخلاق، اور سکونِ قلب کو کھا جاتی ہے۔ بغض کا مطلب، ہے دل میں کسی کے لیے دشمنی یا نفرت رکھنا، جبکہ کینہ سے مراد ہے کسی کی برائی یا زیادتی کو دل میں چھپا کر انتقام یا بدلے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں اخلاقی بیماریاں انسان کے دل کو زنگ آلود کر دیتی ہیں۔ اسلام نے بغض و کینہ کو سختی سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ محبت و اخوت کے خلاف ہیں اور معاشرے میں انتشار، نفرت اور فساد کو جنم دیتے ہیں۔ بغض اور کینہ کے بارے میں قرآن اور حدیث دونوں میں مذمت اور وعیدیں بیان کی گئی ہے ۔سب سے پہلے قرآن پاک میں دیکھتے ہیں کہ اللہ پاک کیا ارشاد فرماتا ہے ۔اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ (پ26، الحجرات: 10)

ویسے تو بہت ساری آیات ہیں جو بغض اور کینہ سے بچنے کا درس دیتی ہیں لیکن حصول برکت کے لیے یہاں پر ایک ہی آیت پیش کی کیونکہ موضوع میں حدیث کی روشنی میں کہا گیا ہے تو اس وجہ سے ایک ہی آیت پیش کی ہے ۔

آئیے اب حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں :

سہیل ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو اسے محبوب رکھ ، فرمایا: پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب کسی بندے کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ( وہ دنیا والوں کے لئے مقبول ہوجاتا ہے) اور جب اللہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تو بھی اسے مبغوض رکھ پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے بغض رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے عداوت رکھ دی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم، 2637 ، حدیث 201)

اسی طرح اور احادیث پر غور کرتے ہیں ۔

حضرت زبیر بن عوام (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں پہلی امتوں والا مرض گھس آیا ہے اور وہ حسد اور بغض ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے (مونڈ دیتا ہے) میرا یہ مطلب نہیں کہ بالوں کو مونڈ دیتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ ہوجاؤ اور اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت سے نہ ر کھو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم لوگوں میں محبت کو دوام بخشے ؟ وہ یہ کہ تم آپس میں سلام کو رواج دو ۔ (جامع ترمذی، 2510، حدیث 96)

ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں بغض کے حوالے سے، ابوحازم حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ( سنن ابن ماجہ، 143 ، حدیث 143)

اسی طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور ان کو حدفِ ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں تکلیف پہنچائی گویا اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔(جامع ترمذی، 3862، حدیث 262)

اسی طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں۔

حضرت ابودرداء (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ( ﷺ ) نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو روزے نماز اور صدقے سے افضل ہے۔ صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)نے عرض کیا کیوں نہیں ! آپ ( ﷺ ) نے فرمایا آپس میں محبت اور میل جول اس لئے کہ آپس کا بغض تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا آپس کی پھوٹ مونڈ دیتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سر کو مونڈ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (یعنی انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے) ۔ (جامع ترمذی، 2509 حدیث 95)

اسی طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں۔

حضرت سیدنا ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ)سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو ہر وہ بندہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان بغض اور ناراضی ہو۔ تو کہا جاتا ہے: انہیں مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں۔“ ( سنن ابی داؤد، 4916 حدیث 144)

اسی طرح اب کینہ رکھنے والے کے بارے میں حدیث پر غور کرتے ہیں۔

سلیمان بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ کسی خیانت کرنے والے مرد یا خیانت کرنے والی عورت کی گواہی اور زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کی گواہی اور اپنے مسلمان بھائی سے کینہ و عداوت رکھنے والے کی گواہی جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد، 3601 حدیث 31)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین