۔فون نمبر 03025641100

بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے لیے دشمنی یا نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اسی نفرت کو چھپا کر رکھنے کا نام ہے، جو کہ ایک باطنی مرض ہے۔ بغض اور کینہ دونوں ہی منفی جذبات ہیں اور ان میں اصل فرق یہ ہے کہ بغض کا اظہار ہو سکتا ہے جبکہ کینہ دل میں پوشیدہ رہتا ہے۔

(1)کینے کو ختم کرنے کی علامت: روایت ہے عطاء خراسانی سے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا آپس میں مصافحہ کرو کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ہدیے تحفے دو محبت کرنے لگو گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4639)

(2)کینے کے مذمت: روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی (ترمذی) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781)

(3)حسد اور بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

(4)عرب سے بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله ! میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:5998)

(5)بد مذہب سے بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بغض رکھے گا انصار سے کوئی وہ شخص جو الله اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6250)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین