توصیف
الرحمن عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
03260062811
کینہ یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت
کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 53) کسی
بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا
عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ
54) مومن کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دل میں بغض و کینہ نہیں رکھتا بلکہ وہ
انہیں دور کرنے کے لیے دل کو ذکر الہیٰ سے تر ، معافی اور در گزر سے کام لیتا ہے
۔ آیئے اب ہم بعض و کینہ کی مذمت حدیث کی
روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) دین کو تباہ کر دیتا ہے : وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ ترجمہ : روایت ہے حضرت زبیر سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ
دیتی ہے ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف
، باب اچھی باتوں کا بیان ، ج : 6 ، حدیث: 5039)
(2)
تحفہ لینا اور دینا : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَهَادَوْا
فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ
لِجَارَتِهَا وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی فرمایا آپس میں ہدیے لو دو کہ ہدیہ سینہ کا کینہ دور
کرتا ہے کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ جانے اگر چہ بکری کی کھری کا ٹکڑا ہی ہو
۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب تجارتوں کا بیان ، ج : 4 ، حدیث 3028)
(3) صبح وشام کس طرح گزارے؟ وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ
لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي
قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ترجمہ: روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے
ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ
صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو۔
( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، ایمان کا باب ، ج : 1 ، حدیث : 175 )
(4) سلامت دل والا: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:
قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:
كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ
نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا
إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت عبد اللہ
ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے
عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان
والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر
نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ، ج : 7 ، حدیث: 5221)
بغض و کینہ کے چند علاج :
(1) سلام ومصافحہ کی عادت بنا لیجئےکہ سلام میں
پہل کرنا اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا یا گلے ملنا آپ کے کینے کو ختم کردیتا ہے،
نیز تحفہ دینے سے بھی محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے۔
(2) ایمان
والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے۔ پارہ 28 سورۂ حشر، آیت نمبر 10 کو یاد کرلینا
اور وقتاً فوقتاً پڑھتے رہنا بھی بہت مفید ہے۔
(3) مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجئے۔
محبت کینے کی ضد ہے لہٰذا اگرہم رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت رکھیں
گے تو کینے کو دل میں آنے کی جگہ نہیں ملے گی اور دیگر فضائل بھی حاصل ہوں گے۔
(4) سوچئے اور عقلمندی سے کام لیجئے۔ کینے کی بنیاد
عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی
آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز
جگہ مت دیجئے ۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 55 ۔ 57)
دعا ہے
کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے صدقے ہم سب کو بغض و کینہ اور تمام باطنی بیماریوں سے
نجات عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami