فون نمبر 03228448638

اللہ پاک کی رضا حصول جنت دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کے لیے جس طرح نیک اعمال کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ہر طرح کے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے پھر کچھ گناہوں کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسے کہ قتل غیبت رشوت وغیرہ اور کچھ کا باطن سے جیسے بغض و کینہ وغیرہ

بغض و کینہ انتہائی مہلک ( ہلاک کرنے والی ) اور خطرناک باطنی بیماری ہے جس کا ارتکاب اللہ پاک کی ناراضگی دخول جہنم اور دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے ۔

بغض و کینہ کی تعریف : انسان دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے تو اسے کینہ کہتے ہیں۔ ( احیاء العلوم کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ج 3 صفحہ 223 )

قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بغض و کینہ کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے اللہ پاک قرآن پاک میں بغض و کینہ کے وبال اور نتائج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ 7 المائدہ 91)

کثیر احادیث میں بھی بغض و کینہ کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ آپ بھی پانچ احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) دین کی تباہی: بعض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو مسلمان کے دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی یہ مونڈ( تباہ کر) دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہیں بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہیں۔ (سنن الترمذی کتاب صفت القیامہ ج 4 ص 228 الحدیث 2518)

(2) پچھلی امتوں کی بیماری: حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے: عنقریب میری امت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحق ہو گی، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی امتوں کی بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تکبر کرنا، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ،بخل کرنا یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ و فساد بن جائے۔ (المعجم الاوسط باب المیم ، من اسمہ مقدام ج6 ص 348 الحدیث 9016)

(3) مغفرت سے محروم : نبی اکرم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ہم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ بغض( کینہ ) رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ ( شعب الایمان ، باب فی الصیام ، ما جاء فی لیلتہ النصف من شعبان ج 3 ص 382 الحدیث 3835)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا : حضور نبی کریم روف الرحیم ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے : جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا ۔ ( حلیتہ الاولیاء ج 8 ص 105 الحدیث 11536)

(5) جہنم میں داخلہ: حضور نبی اکرم ﷺ میں فرمایا: بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ( المعجم الاوسط باب العین من اسمہ عبدالرحمن ج3 ص 301 الحدیث 4653)

پیارے اسلامی بھائیو! یاد رہے کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی کینہ و بغض رکھنا حرام ہے۔( فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 526 ) مسلمانوں کیلئے دل ہی دل میں پلنے والا بغض و کینہ اللہ رسول کی ناراضگی ، دنیا و آخرت میں رسوارئی اور جہنم میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے لہذا اس مہلک بیماری سے بچنا بے حد ضروری ہے ۔

چند طریقوں پر عمل کر کے بغض و کینہ جیسی بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے :

کینے کے اسباب (غصہ ،بدگمانی، شراب نوشی، جوا وغیرہ)دور کرنا، سلام مصافحہ کی عادت بنانا، مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا، کینے کے نقصانات پر غور کرنا کہ کینہ اللہ و رسول کی ناراضگی، دوزخ میں داخلے، بخشش سے محرومی اور بھی بہت سے گناہوں کا سبب بن سکتا ہے ۔

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ جیسی مذموم بیماری سے بچ کر اپنی رضا کے لیے مسلمان بھائیو سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین