فون نمر۔03270075368

بعض گناہوں کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسا کہ قتل کرنا، حرام کھانا، جھوٹ بولنا وغیرہ اور بعض گناہ ایسے ہیں کہ جن کا تعلق باطن سے ہوتا ہے اور ان میں سے ایک گناہ بغض و کینہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کے لیے دل میں نفرت رکھنا۔ آئیے بغض و کینہ کی مذمت میں چند احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:235)

( 2) صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اﷲ (عزوجل) کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو۔ ( صحیح البخاری ‘‘ ،کتاب الأدب، باب یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا ۔۔۔ إلخ ،الحدیث: 6066 ،ج 4 ،ص 117۔2)

(3 ) حضرت زبیر سے مروی ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

( 4) حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

(5) رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: الْمُؤْمِنُ لَيسَ بِحقُود یعنی مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثالثۃ الغضب بالباطل الخ ، 1/ 124)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے اور اپنے دل میں کسی کا بغض و کینہ نہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن ﷺ