ابو
ثوبان عبدالرحمن مدنی عطاری ( درجہ تخصص فی اللغۃ العربیۃ فیضان مدینہ کاہنہ نو
لاہور ، پاکستان)
فون نمبر:03044479208
اللہ پاک،قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ
یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ
وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ
کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے
میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
کینہ
یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے،
نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)
انسانی
معاشرت کا حسن، باہمی محبت، الفت اور خیر خواہی میں مضمر ہے۔ جب یہ خوبصورت رشتے
بغض و کینہ کی بدصورتی کا شکار ہوتے ہیں تو نہ صرف معاشرہ بلکہ انفرادی زندگی بھی
تاریک ہو جاتی ہے۔ بغض و کینہ درحقیقت ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو دلوں کو زہر
آلود کر دیتی ہے، رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے اور انسان کو نیکیوں سے دور کر
دیتی ہے۔ یہ وہ منفی جذبات ہیں جو شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے ہیں، جن کا مقصد انسان
کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ اسلام نے ان مہلک بیماریوں سے بچنے کی پرزور تلقین کی
ہے اور ان کے نقصانات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ آئیے بغض و کینہ کے متعلق چند
احادیث مبارکہ پڑھیے:
دل کی
پاکیزگی ایمان کا درجہ: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ
قَالَ:لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ،
يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ
بِالسَّلَامِ(صحيح البخاري،كتاب الأدب،باب الھجرہ،حدیث: 6077)ترجمہ: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی
سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو
یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام
میں پہل کرے۔
اس
حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام قطع تعلق کو پسند نہیں کرتا۔ سلام میں پہل کرنا بغض کے
زہر کا علاج ہے۔ جو شخص پہل کرتا ہے، وہ دراصل دل کی صفائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
باہمی
تعلقات کی خرابی: عَنْ اَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا
تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحيح
مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6530) ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت
کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض
نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے (ایک دوسرے کے) بھائی بن
کر رہو۔
اس
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر بغض، حسد اور قطع تعلق سے منع فرمایا ہے اور
مسلمانوں کو اخوت و بھائی چارے کی تلقین کی ہے۔ بغض کی وجہ سے ہی حسد اور روٹھنے
جیسے منفی رویے جنم لیتے ہیں جو معاشرتی تعلقات کو تباہ کر دیتے ہیں۔
بہترین
انسان کون؟: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ
النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ،قَالُوا:
صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ ، قَالَ هُوَ
التَّقِيُّ النَّقِيُّ ، لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَلَا بَغْيَ ، وَلَا غِلَّ، وَلَا
حَسَدَ (سنن
ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)
ترجمہ:عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب
سے بہتر کون ہے؟ ﷺ نے فرمایا: ” مخموم القلب اور زبان کا سچا“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، مخموم
القلب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرہیزگار، صاف دل جس میں کوئی
گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد۔
کینہ
رکھنے کی ممانعت: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: تُفْتَحُ
أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ
لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ
وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا،
أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا(صحيح
مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6544)
ترجمہ:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:پیر اور جمعرات کے دن
جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ
تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اس بندے کے سوا جس کا اپنے بھائی کے ساتھ بغض
ہو، چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو
مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔
دل کی
صفائی ایمان کی علامت اور جنت کی کنجی ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کے لیے خیر چاہتا ہے،
اللہ اس کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بغض و کینہ چھوڑ کر محبت، معافی اور
خیر خواہی اختیار کرنا ہی ایمان کی روح ہے۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں دلوں کو نفرت سے پاک رکھنے، دوسروں کو معاف کرنے، اور محبت و اخوت کا
پیکر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
Dawateislami