ارسلان
حسن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
بغض یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی
معنی الحقد الخ، 3/ 223)
قرآن
وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا
ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ
یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ
وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ
کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے
میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
بغض وکینہ
کا حکم: کسی بھی
مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت
سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘
(1)
مغفرت سے محروم : امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ
عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک
شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے
اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم
فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان،
باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ الخ،383/3،
حدیث:3835 )
(2) دین
کو تباہ کر دیتا ہے : حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ
بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا) ہے۔‘‘( موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب
مدارة الناس، 545/7، حدیث:149)
(3)
بخشش سے محروم : حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں
کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر
مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ
رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم،
کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث:
36(2565)
(4) جنت
کی خوشبو بھی نہ پائے گا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اس حال
میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا ۔ ( حلیۃ الاولیاء
، 108/8 ، الحدیث: 11536)
(5)
بھائی بھائی ہو جاؤ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو ، آپس
میں بغض و عداوت نہ رکھو ، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ
کے بندو ! بھائی بھائی ہو جاؤ ۔ ( صحیح البخاری ، کتاب الادب ، 117/4، الحدیث :
6066)
اللہ تعالی ہمیں اس
بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami