کینہ وہ مہلک باطنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دنیا و آخِرت کا ‏خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے مضر ( نقصان دہ) اثرات ‏سے اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی نہیں بچ پاتے اور ‏یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سُکون برباد کر دیتی ہے۔ ‏خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں، ایک ‏دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں، ذلیل و رُسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی ‏کوشش کی جاتی ہے، اپنے مسلمان ‏بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے ‏خلاف سازشیں کی جاتی ہیں ‏جس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مِثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

کینہ پَرور کے شب و روز رَنج اور غم میں گُزرتے ہیں اور وہ پست ہمّت ہو جاتا ہے ۔ دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے ‏اور ‏خود بھی ترقّی سے محروم رہتا ہے۔ امام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اَقَلُّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا رَاحَةً اَلْحَسُودُ وَالْحَقُودُ ‏دنیا میں کینہ ‏پرور اور حاسدین سب سے کم سُکون پاتے ہیں ۔‏( بغض و کینہ ، ص15)‏

‏ بغض و کینہ کی مذمّت کے متعلّق 3 احادیثِ کریمہ پڑھیے : ‏

‏(1) مغفرت سے محرومی:‏ اللہ کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: اللہ پاک ‏‏(ماہ) شعبان کی پندرہویں رات اپنے ‏بندوں پر ( اپنی قدرت کے شایان شان ) تجلّی فرماتا ہے ، مغفرت چاہنے والوں کی ‏مغفرت فرماتا ہے اور رَحم طلب کرنے والوں پر ‏رَحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‏(شعب الايمان،3/382، حدیث: 3835)‏

‏(2) دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ نہ ہو :حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ ‏سے ‏ارشاد فرمایا: یَا بُنَیَّ اِنْ قَدَرْتَ اَنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِاَحَدٍ فَافْعَلْ یعنی اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‏کہ ‏تمہاری صبح و شام ایسی حالت میں ہو کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ نہ ہو تو ایسا ہی کیا کرو ۔‏( ترمذی، 4/309، حدیث : ‏‏2687 )‏

‏(3) کینہ پروری دوزخ میں لے جائے گی ‏: جناب رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا ‏يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ ‏مُسْلِم ٍ یعنی بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنّم میں ہیں ، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو ‏سکتے۔‏ ( معجم اوسط، 3/301، حدیث : 4653 )‏

فقیہ ابواللّیث سمرقندی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دُعا قبول نہیں کی ‏جاتی (1) حرام کھانے والا ‏‏(2) کثرت سے غیبت کرنے والا اور (3) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے ‏مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد موجود ہو۔ ‏( بغض و کینہ ، ‏ص 12)‏

معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کینہ، بغض، چغل خوری اور حسد میں مبتلا ہو تو وہ متّقی و پرہیز گار کہلانے کا حقدار نہیں ، بظاہر ‏وہ ‏کیسا ہی نیک صورت و نیک سیرت ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہر و باطن میں نیک بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ ‏ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏