انسان جتنا
ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو جتنا ہی علم کیوں نہ حاصل کر لے جتنا ہی قابل کیوں نہ بن
لے انسان کی قابلیت اس کے علم اور اس کے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ نہ
وہ اپنی پڑھائی پر غرور کرے اور نہ وہ اپنے علم اور فن کے پر غرور کرے ہاں اصل پڑھا لکھا وہ ہے جو کسی سے بات کرے
تو اس کے لہجے سے اس کا علم نظر آئے اور جب وہ چلے تو اس کے چلنے کے انداز سے اس
کی قابلیت کا پتہ چلے اور جب وہ کسی سے گفتگو کرے تب اس کی عادات سے اس کے قابل
ہونے کا اندازہ لگایا جائے ۔
جیسے کہ
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے
جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس
سلام‘‘ ۔ (الفرقان 25 آیت 63)
اس آیت سے
ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کے وہ برگزیدہ انسان ہوتے ہیں جو زمین پر آہستہ
چلتے ہیں نہ کہ تکبر کے ساتھ چلتے ہیں اور
جب کوئی جاہل ان سے بات کرتا ہے تو وہ اس کو آگے سے جواب نہیں بلکہ صرف یہ کہہ دیتے
ہیں کہ سلامتی ہو تجھ پر ۔
اور ایک
جگہ پر اللہ تعالی نے زمین پر اترا کر چلنے غرور سے چلنے سے منع فرمایا ہے :جیسا
کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (بنی
اسرائیل :37)
اس آیت سے
ہمیں معلوم ہوا کہ جو شخص زمین پر اکڑ کر چلے گا زمین پر غرور و تکبر کے ساتھ چلے
گا تو وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور جو اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں وہ زمین پر آہستہ
اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے امین ۔
Dawateislami