اللہ تعالی نے بنی آدم کو جن اعلی صفات کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ان صفات میں سے ایک وصف تواضع ہے ۔  تواضع ایک ایسی خوبی ہے جو انسان کے اخلاق و کردار کو نکھارتی ہے دل میں نرمی محبت و الفت پیدا کرتی ہے اور باطن کو ستھرا کرتی ہے متواضع انسان مخلوق کے ساتھ ہمیشہ نرمی ادب اور محبت سے پیش آتا ہے ۔

تواضع(عاجزی)کسے کہتے ہیں؟لوگوں کی طبیعتوں اور ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے ان کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرنا اور اپنے آپ کو حقیر وکمتر اور چھوٹا خیال کرنا عاجزی وانکساری کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،ص81)

قارئینِ کرام! اللہ پاک نے اپنی پیاری کتاب قرآن مجید میں اس اعلی صفت کو مختلف مقامات میں بیان فرمایا چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمہ کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان63)

اس آیت کریمہ میں اللہ پاک مومنین کے اعلی اوصاف کا تذکرہ فرما رہا ہے ان اوصاف میں سے ایک وصف تواضع عاجزی و انکساری ہے کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ (صراط الجنان، ج7، ص49)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (پارہ21، سورۃ القمان 18)

اس آیت کریمہ میں حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ (صراط الجنان، ج7، ص496)

مزید برآں ایک مقام پر اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مومنین کے ساتھ شفقت نرمی اور تواضع کے ساتھ پیش آنے کا ارشاد فرمایا ۔

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمہ کنز العرفان: اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو ۔ (پارہ14، سورۃ الحجر88)

یعنی اے حبیب! ص ﷺ ، آپ مسلمانوں پر رحمت اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر ا س طرح رحم فرمائیں جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر اپنے پروں کو بچھا دیتا ہے ۔ (صراط الجنان،ج5، ص266)

ان آیات میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ تواضع اختیار کرنا چاہیے کسی کو حقیر اور ذلت بھری نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہے وہ امیر ہو یا غریب ۔ کیونکہ حقیقی بلندی عاجزی اختیار کرنے میں ہے نہ کہ غرور و تکبر میں جو اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے اللہ اسے آپنا پسندیدہ بندہ بنا لیتا ہے ۔

بس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں تواضع اختیار کریں تکبر سے بچیں تاکہ ہم اللہ پاک کے نیک بندوں کی صف میں شامل ہوں جائیں تواضع عاجزی و انکساری اختیار کرنے کا ایک بہترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرے عاجزی کے فضائل کا مطالعہ کرے ۔ عاجزی اختیار نہ کرنے کے نقصانات پر غور کرے تو انشاءاللہ ہمارے اندر تواضع جیسی اعلی صفت پیدا ہو جائے گی ۔