تواضع یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری کرے اور مخلوق کے ساتھ نرم مزاج، شفیق، اور خاکسار ہو، چاہے وہ کسی بھی عہدے، دولت یا علم میں بلند کیوں نہ ہواوراسلام نے تواضع کو مومن کی پہچان اور کامیاب زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے ۔  قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(1) وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

 ترجمۂ کنز الایمان:اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل بیشک الله کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا ۔ (لقمن : 31 آیت نمبر 18)

یہ آیت تکبر کی سخت مذمت اور تواضع کی واضح تعلیم دیتی ہے ۔ انسان کو ہمیشہ شائستہ اور متوازن رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

(2) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (الفرقان:25 آیت نمبر 63)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی نشانی یہ بتائی کہ وہ متواضع ہوتے ہیں، غرور و تکبر سے دور رہتے ہیں، اور اپنی چال میں بھی انکساری ظاہر کرتے ہیں ۔

(3) تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے ۔ (الْقَصَص:28 آیت نمبر 83)

اللہ تعالیٰ نے جنت ان لوگوں کے لیے مخصوص کی جو عاجزی اختیار کرتے ہیں اور تکبر سے بچتے ہیں ۔

(4) لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳)

 ترجمۂ کنز الایمان:فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (النحل:16، آیت 23)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک مغروروں کو پسند نہیں فرماتا لہذا انسان کو عاجزی و انکساری کرنی چاہیے ۔ اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی و انکساری کرنے اور تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین