رضوان علی قادری رضوی (درجۂ ثانیہ جامعۃُ المدنیہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
محترم
اسلامی بھائیو!اللہ ربُّ العزّت نےاپنے بندوں کو قرآن پاک میں اخلاقِ حسنہ اپنانے
کی ترغیب دی، اور غرور و تکبر سے بچنے کا حکم فرمایا ۔ تواضع یعنی عاجزی و انکساری ایک ایسی خوبی ہے
جو مومن کے دل کو نرم، زبان کو شیریں اور معاشرے کو حسین بنا دیتی ہے ۔ قرآن کریم
میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ
عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل
ان سے کلام کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں ۔ (سورۃ الفرقان: 63)
سبحان
اللہ!یہ ہے اللہ کے خاص بندوں کی شان ، نہ تکبر، نہ غرور، نہ سختی ،بلکہ نرمی، حلم
اور عاجزی ۔
ایک اور
مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ
لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان:زمین میں اتراتا نہ چل، بے شک تو زمین کو نہ پھاڑ سکے گا
اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکے گا ۔ (سورۃ الاسراء: 37)
اے عاشقانِ
رسول!قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل عزت عاجزی میں ہے ۔ جتنا بندہ جھکتا ہے، اللہ اُسے اتنا ہی بلند
کرتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا:جو اللہ کے لیے
عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے ۔ (مسلم شریف)
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے غرور و بڑائی کو مٹا دیں، عاجزی و انکساری کو اپنا شعار
بنائیں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خاص بندوں میں شامل فرما دے ۔
دعوتِ عمل:آئیے
آج نیت کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ عزوجل ہم ہمیشہ نرم مزاج رہیں گے، بڑوں کا ادب اور
چھوٹوں پر
شفقت کریں گے، اور اپنے اخلاق سے دینِ اسلام کی خوشبو پھیلائیں گے ۔
Dawateislami