انکساری خود داری کے ساتھ ہو وہ بہت اچھی ہے لیکن جس اِنکساری میں بے عزتی ہے وہ انکساری نہیں بلکہ احساسِ کمتری ہے ۔ حرص، انتقام کی چاہت اور تکبر شیطان کی صفات ہیں اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سخاوت، عفو و درگُزر اور تواضع اختیار کرنا چاہیے ۔  جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تواضع اختیار کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسےدنیا و آخرت میں بلندی عطا فرمائے گا ۔

( 1 ) انکسار ی کرنا : وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (بنی اسرائیل،24)

اس آیت میں حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو ۔

( صراط الجنان ، پارہ نمبر : 15 ، سورۃ بنی اسرائیل ، آیت نمبر : 24 جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 444 ،مکتبۃ المدینہ)

( 2 ) اطاعت کرنا : اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان : اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی

ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (النحل،48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے کیونکہ سایہ دائیں اور بائیں جھکنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور اسی کا اطاعت گزار ہے، اسی کے سامنے عاجز اور اسی کے آگے مسخر ہے اوراس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ظاہر ہے ۔

( صراط الجنان ، پارہ : 14 ، سورۃالنحل ، آیت نمبر : 48 ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 328 ، مکتبۃ المدینہ )

( 3 ) آخرت کی فکر کرنا :وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(۸۷) ترجمۂ کنز العرفان : اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ (النمل،87)

یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے ۔

( صراط الجنان ، پارہ نمبر : 20 ، سورۃالنمل ، آیت نمبر : 87 ، جلد نمبر : 7 ، صفحہ نمبر : 243 ، مکتبۃ المدینہ )

( 4 ) اللہ سے ڈرتے رہنا : اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةًؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا(۴۴)

ترجمۂ کنز العرفان :اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا اور وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی شے اسے عاجز کرسکے ۔ بیشک وہ علم والا، قدرت والا ہے ۔ ( پارہ نمبر : 22 ، سورۃالفاطر ، آیت نمبر : 44 )

( 5 ) نرمی اختیار کرنا : وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے ۔ (پارہ نمبر : 14 ، سورۃ النحل ، آیت نمبر : 87 )