تواضع ایک
نہایت ہی عمدہ وصف ہے ۔ جو رب تعالیٰ کے
فضل سے ہی نصیب ہوتا ہے ۔ تواضع یعنی عاجزی
و انکساری کا حکم قرآن و سنت اور تصوف میں ملتا ہے اور اس کے برعکس تکبر کی وعید
بھی ملتی ہے ۔ آج ہم تواضع یعنی عاجزی اور
انکساری کے متعلق جاننے کی کوشش کرے گے ۔
رحمٰن کے
بندے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ
اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور
جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام ۔ (سورۃ الفرقان، پارہ 18 آیت 63
)
اس آیت
مقدسہ میں زمین پر آہستہ یعنی عاجزی اور درمیانی رفتار سے زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلو بلکہ عاجزی اختیار کرو ۔
زمین پر
اتراتے ہوئے نہ چلو: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ
لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو
پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔ (سورۃبنی
اسرائیل، پارہ 15، آیت ۳۷)
اس آیت میں
بھی ہمیں تکبر سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
اللہ رب
العزت ہمیں تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ
واصحابہ وبارک وسلم ۔
Dawateislami