وقار
حسین عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فيضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی کو معاف
کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ
کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے
۔
مسلمانوں
کو قرآن واحاديث میں تواضع، عاجزی و انکساری اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے ۔ اس
ضمن میں بہت سے فضائل بھی آئے ہیں ذیل میں
تواضع اور عاجزی کا قرآنی بیان ہے ۔
(1) فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ
اَسْلِمُوْا-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)ترجمہ کنزالایمان:تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور
اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو ۔ (پ17،آیت 34)
یعنی عاجزی
و انکساری اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری سنادو کہ انکے لیے انکے رب کے حضور
انعام ہیں ۔
(2) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ
الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے لیے عاجزی کا بازو
بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں
نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (بنی اسرائیل،24)
اس آیت میں
حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی
کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے
ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۱۷۱، ملخصاً)
گویا زبانی
کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا
برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔
(3) وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ
وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے اور ان سے گم ہوجائیں گی جو
بناوٹیں کرتے تھے ۔ (النحل16،آیت87)
مختصر یہ
کہ اسلام میں عاجزی اور تواضع کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ آخرت میں مشرکین عاجزی کرنا چاہیں گے لیکن اس
وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔ لہذا دنیا میں ہی اس صفت کو اپنایا جائے اور
حضور اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کیا جائے ۔
حضرت ابن
عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ
کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے ۔
(مراۃالمناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1505)
Dawateislami