جو  عاجزی اختیار کرتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ”اس کی دو صورتیں ہیں: (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دنیا میں بلند مقام عطا فرمادے اور (2)عاجزی کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بیٹھ جاتی اوراللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے نزدیک رفعت و بزرگی عطا فرما دیتا ہے ۔ اسی لیے ہمیں لوگوں کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنا چاہیے ۔ آیئے اسی ضمن میں چند قرآنی آیات پڑھتے ہیں:

(1)صرف اللہ پاک کی ہی بارگاہ میں عاجزی کریں: اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور کیا انہوں نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔ (سورۃ النحل آیت نمبر48)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ دار جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کا حال یہ ہے کہ سورج طلوع ہوتے وقت اُس کا سایہ دائیں طرف جھک جاتا ہے اور سورج غروب ہوتے وقت اس کا سایہ بائیں طرف جھک جاتا ہے اور سائے کا ایک سے دوسری طرف منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور اس کی بارگاہ میں اپنی عاجزی، انکساری اور کمزوری کا اظہار کرنا ہے کیونکہ سایہ دائیں اور بائیں جھکنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور اسی کا اطاعت گزار ہے، اسی کے سامنے عاجز اور اسی کے آگے مسخر ہے اوراس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال ظاہر ہے اور جب کفار سایہ دار چیزوں کا یہ حال اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اس میں غورو فکر کر کے عبرت و نصیحت حاصل کریں کہ سایہ و ہ چیز ہے جس میں عقل،فہم اور سماعت کی صلاحیت نہیں رکھی گئی تو جب وہ اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہے اور صرف اسی کو سجدہ کر رہا ہے تو انسان جسے عقل،فہم اور سماعت کی صلاحیت دی گئی ہے اسے زیادہ چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور صرف اسی کے آگے سجدہ ریز ہو ۔ (تفسیرسمرقندی، النحل، تحت الآیۃ48،2 / 237،)

(2)عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو: وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)

ترجمۂ کنز العرفان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور عاجزی کرنے والوں کیلئے خوشخبری سنادو ۔ (سورۃ الحج آیت نمبر 34)

(3)قیامت کے دن سب اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہوں گے:وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے ۔ (سورۃ النمل آیت نمبر 87)

(4)عاجزی کرنے والوں کیلئے بڑا ثواب ہیں: اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)

ترجمۂ کنز العرفان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردارعورتیں اور سچے مرداور سچی عورتیں اور صبرکرنے والے اور صبر کرنے والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے رکھنے والے اورروزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 35)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو ۔ ( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم ۔ ۔ ۔ الخ، تواضعہ لہم، ص230، الحدیث: 802)

اللہ پاک آپ کو اور مجھے قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ اللہ پاک ہم سب کو عاجزی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔