تواضع بابِ تَفَاعُلٌ کا مصدر ہے جس کا لغوی معنی ہے انکساری کرنا،عاجزی و نرمی ظاہر کرنا ۔ تواضع کہتے ہیں اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ہر ایک کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آنا یہ صفات انسان کے اندر آ جائے تو اللہ  تعالیٰ اس کو بلندی عطا فرماتا ہے ایسا شخص لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے ۔ جو عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلندی عطا فرماتا ہے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے اس کی بے شمار مثالیں ہیں ان میں سے ایک مثال آپ شیطان لعین کو دیکھ لے یہ کتنا بڑا عبادت گزار تھا فرشتوں کا استاد تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے تکبر کیا اپنے آپ کو بڑا سمجھا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو ان کو تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور مجھے آگ سے پیدا کیا گیا تو شیطان نے تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو پھر اللہ پاک کی بارگاہ سے وہ ملعون ہو گیا ۔ تو شیطان لعین کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت عاجزی اختیار کرتے رہیں نرمی اختیار کریں تکبر سے بچیں اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھیں بلکہ ہمیشہ جھک کے رہیں ۔ اللہ پاک اس کو پسند فرماتا ہےجو جھک کے رہتا ہے، جو درخت جھکا ہوا ہوتا ہے لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جو درخت اکڑا ہوا ہوتا ہے اس کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔

قرآن پاک میں بھی تواضع یعنی عاجزی کا بیان ہے کثیر آیات ہیں کچھ آیات یہاں ذکر کی جاتی ہیں :

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمۂ کنز العرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (پارہ 19 سورہ فرقان کی آیت نمبر 63)

تفسیر صراط الجنان :اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں : اس آیت میں بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے ۔ ( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً)

کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا ۔

(بنی اسرائیل:۳۷)

سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے ۔ اَحادیث میں بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔

( بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی ﷺ بالسکینۃ عند الافاضۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ۱ / ۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱)

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے،نبی کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں کی ہیبت ختم کر دیتا ہے ۔

( حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹)

(3)حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے ۔

(کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸ / ۱۷۵، الحدیث:۴۱۶۱۴، الجزء الخامس عشر)

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

ترجمۂ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے ۔ (پارہ 21 سورہ لقمٰن آیت نمبر 18)

تفسیر صراط الجنان :وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: اورلوگوں سے بات کرتے وقت آپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر: یہاں سے حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ ( مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۹۱۹، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۴۷۱، ملتقطاً)

فخر اور اِختیال میں فرق: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہے جیسے علم ، حسن ، خوش آوازی ، نسب ، وعظ وغیر ہ اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیا ل ہے جیسے مال ، جائیداد ، لشکر ، نو کر چاکر وغیرہ،مراد یہ ہے کہ نہ ذاتی کمال پر فخر کرو اور نہ بیرونی فضائل پر اتراؤ،کیونکہ یہ چیزیں تمہاری اپنی نہیں بلکہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلََّ کی عطا کی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہے وآپس لے لے ۔

کسی شخص کو حقیر نہیں جاننا چاہئے: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے ۔ غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں ، ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے ۔

اکڑ کر چلنے کی مذمت: آیت میں اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا گیا ،اس مناسبت سے یہاں اکڑ کر چلنے کی مذمت پر مشتمل دو اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1)حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے،حضور اقدس ص ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑکر چلتا ہے،وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔

( مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما، ۲ / ۴۶۱، الحدیث: ۶۰۰۲)

(2) حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روآیت ہے،حضور اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب میری امت اکڑ کر چلنے لگے گی اور ایران و روم کے بادشاہوں کے بیٹے ان کی خدمت کرنے لگیں گے تو اس وقت شریر لوگ اچھے لوگوں پر مُسَلَّط کر دئیے جائیں گے ۔ ( ترمذی، کتاب الفتن، باب-۷۴، ۴ / ۱۱۵، الحدیث: ۲۲۶۸)

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا ۔ (پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 24)

تفسیر صراط الجنان :وَ اخْفِضْ لَهُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ: اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو ۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۱۷۱، ملخصاً)

گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمل نہ کرو ۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عاجزی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے :

عَنْ عِيَاضِ بنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ اللهَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ وَلَا يَبْغِي اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ،ترجمہ حدیث :حضرت سَیِّدُنَاعیاض بن حِمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تَواضُع اختیار کرو،یہاں تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے ۔ “

عجز و اِنکساری کے دِینی و دُنیاوی فوائد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاحسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کافرمان ہے کہ تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل جانے ۔ حضرت سَیِّدُنَاابو زید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ”جب تک انسان یہ گُمان رکھے کہ مخلوق میں اس سے کمتر بھی کوئی موجود ہے تو وہ متکبر ہے ۔ “ علامہ قرطبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول ہے کہ انکساری اور عاجزی کا نام تواضُع ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی ایساہو جس کے سامنے وہ تواضع کرے اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہے اور وہ لوگ ہیں جن کے لئے تواضع اختیار کرنے کا حکم خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےدیاہےجیسے،امامُ الانبیاء ،محمد مُصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حاکِم ،عالِم، امام اور والِد وغیرہ ۔ یہی وہ قابلِ تعریف تواضع ہے جو دونوں جہاں میں بلندی وعظمت کا باعث بنتی ہے ۔ رضائے الٰہی کے لئے مسلمانوں کےسامنےعاجزی کرنا مَحمود ومُستحب ہےاور جو اس طرح تواضع کرےگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دِلوں میں اِس کی قدر ومنزلت پیدا فرما دے گا، اس کا اچھا تذکرہ ہوگا اور آخرت میں اس کا مقام بلندہوگا ۔ خیال رہے کہ کسی دنیا دار اور ظالِم کے سامنے عاجزی کرناذِلَّت و ناکامی ہےجو ایسا کرے گا وہ ہر معاملے میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں اس کی رُسوائی ہوگی ۔ منقول ہےکہ ”جس نے کسی مالدار کے لئے اس کی مالداری کی وجہ سے تواضع اختیار کی اس کے دِین کا تہائی حصہ ضائع ہو گیا ۔ “

کفار پر فخر کرنا عبادت ہے :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:” یعنی عجز و اِنکساری اختیارکرو تاکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر تکبر نہ کرے نہ مال میں نہ نسب و خاندان میں نہ عزت یا جتھہ میں اور کوئی مسلمان کسی بندے پر ظلم نہ کرے نہ مؤمن پر نہ کافر پر ظلم سب پر حرام ہے مگر کِبر و فخر مسلمان پر حرام ہے کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے ۔ “

مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

(1) تواضع یہ ہے کہ جب انسان گھر سے نکلے تو ملنے والے ہر مسلمان کو خود سے افضل سمجھے ۔

(2) جب تک انسان یہ گمان کرے کہ مخلوق میں اس سے کمتر انسان ہیں تو وہ متکبر ہے ۔

(3) تواضع کرنے والے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ پیدا فرما دیتا ہے اور لوگوں میں اس کا اچھا تذکرہ ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کوبلندمقام عطا فرمائےگا ۔

(4) دنیا دار اور ظالِم کے لئے تواضع اختیار کرنے والا دنیا و آخرت میں ذِلت و خواری اٹھائےگا ۔

(5) کوئی شخص آپنے اچھے اَخلاق اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے کسی دوسرے پر فخر نہ کرے کہ اصل کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں ۔

(6) جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عجز و اِنکساری کو اختیار کیا گویا کہ اس نے آپنے اور ظلم و فساد اور عِناد کے درمیان رُکاوٹ کھڑی کردی ۔

(7) کفار پر فخر کرنا عبادت ہے کہ یہ نعمتِ ایمان کا شکر ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ َہمیں عجز واِنکساری اختیار کرنے اور غرور و تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:602)

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زادَ اللهُ عَبْدًا بعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا،وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُترجمہ حدیث :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور درگُزر کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلّ َعزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے اور جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔ “

دنیا و آخرت میں بلندی :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا ۔ ‘‘ اس کی دو وجہیں ہیں:ایک معنیٰ یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور نقصان دینے والی چیزوں کو اُس سے دُور فرماتا ہے اور مال میں ہونے والی ظاہری کمی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پوشیدہ برکت کے ذریعے پوری فرمادیتا ہے ۔

دوسرا معنیٰ یہ کہ صدقہ کرنے سے مال میں جو کمی واقع ہوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بدلے آخرت میں ثواب عطا فرما کر اس کمی کو پورا فرما دے گا ۔ ’’درگزر کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ عزت میں اضافہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ اس کی بھی دو جہتیں ہیں:ایک تو اس کا ظاہری معنیٰ ہے کہ جس شخص کی خطا کو معاف کیا جائے اس کے دل میں معاف کرنے والے کے لئے عزت و اِحترام بڑھ جاتا ہے ۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ معاف کرنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ آخرت میں اجر وثواب دے گا اور اُس کی عزت آخرت میں بڑھائے گا ۔

انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے شرمی کی انکساری، انکساری نہیں بلکہ اِحساسِ پستی ہے،جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ۔

مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول:

(1) صدقات وخیرات سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتاہے اور اس میں برکت دے دی جاتی ہے ۔

(2) جو عَفْو ودرگُزر سے کام لے اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے ۔

(3) معاف کرنے سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے لیکن معافی اپنے حقوق میں ہونی چاہیے نہ کہ شرعی حقوق میں ۔

(4) دینی ،قومی مجرموں کو اُن کے جرم کی شرعی سزا ضرورملنی چاہیے تاکہ جرائم کا خاتمہ ہو ۔

(5) رضائے الٰہی کے لئے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے عاجزی اختیار کرنا بلندی درجات کا باعث ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں صدقہ وخیرات کرنے ، اپنے مسلمان بھائیوں کو معاف کرنے اور عاجزی وانکساری اختیارکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:603)