اللہ پاک اپنے آخری نبی  ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک میں جہاں بری صفات سے بچنے کا حکم فرمایا اور جن میں یہ صفات ہیں انکی مذمت اور سزا کو بیان فرمایا وہیں اچھی صفات کو اپنانے کا حکم فرمایا اور جن میں یہ صفات ہیں انکی تعریف اور اجر کو بیان فرمایا ان اچھی صفات میں سے ایک صفت تواضع و عاجزی ہے تواضع کا مطلب ہے کہ اپنے کو دوسرے سے کم تر سمجھنا ،اپنی تعریف کو ناپسند کرنا ،اپنی خوبیوں پر فخر نہ کرنا قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مختلف انداز میں تواضع کا ذکر ہے چند آیات ذکر کی جاتی ہیں ۔

اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کو عاجزی و نرمی حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو ۔ (سورة الحجر الآیۃ: 88)

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں پر پروں کو بچھا دیتا ہے اس طرح انکے سامنے تواضع فرمائیں اور ان پر رحم فرمائیں ۔ (صاوی جلد 2 صفحہ 281 تحت الآیۃ )

اور پنے خاص بندوں کی ایک صفت تواضع و نرمی کے ساتھ چلنا بیان فرمائی : وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)ترجمہ: کنزالعرفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’بس سلام‘‘ ۔ (سورۃ الفرقان آیت 63)

یعنی رحمن کے بندے سکون، وقار اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ (تفسیر مدارک التنزیل جلد 2 صفحہ 547 تحت الآیۃ 63 )

اللہ پاک ہمیں عاجزی اور انکساری کا پیکر بنائے اور فخر و تکبر سے محفوظ فرمائے آمین ۔