دعوتِ اسلامی کے تحت 21 دسمبر 2023ء کو پاکستان کے شہر ملتان میں اسلامی بہنوں کے لئے ماہانہ سیکھنے سکھانے کا حلقہ لگایا گیا جس میں مقامی ذمہ داران کی بھی شرکت ہوئی۔

حلقے میں شریک اسلامی بہنوں کی تربیت کے لئے نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان کیاجس میں انہوں نے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع سمیت سالانہ ڈونیشن کی پلاننگ کے متعلق گفتگو کی اور شرکا کو مدنی پھولوں سے نوازا۔

آخر میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے دینی کاموں کے حوالے سے اسلامی بہنوں کو اچھی اچھی نیتیں کروائیں۔

پنجاب کے شہر ملتان میں 21 دسمبر 2023ء کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مختلف شعبہ جات کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ منعقد ہوا۔

اس مدنی مشورے میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں مدنی مذاکرہ دیکھنے / سننےکی ترغیب دلائی اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں شمولیت اختیار کرنے کے اہداف لئے۔

آخر میں ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں مزید ترقی و بہتری کے لئے اپنی اپنی رائے پیش کی۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 20 دسمبر 2023ء کو اسلامی بہنوں کو علمِ دین سے روشناس کرنے کے لئے بلاک 4 کراچی میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں قرب و جوار کی اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے تلاوت و نعت کے بعد ”معاشرے کی اصلاح“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بہنوں کو شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا ذہن دیا۔

بعدِ بیان دعا اور صلوٰۃ و سلام کا سلسلہ ہوا نیز اجتماع میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں نے نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن سے ملاقات بھی کی۔

11 دسمبر 2023ء کو بین الاقوامی سطح پر دینِ متین کی خدمت کرنے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مجلسِ مشاورت اور انٹرنیشنل افیئرز کی اسلامی بہنوں کی آن لائن میٹنگ ہوئی۔

بذریعہ انٹرنیٹ میٹنگ میں شریک دعوتِ اسلامی کی نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے تمام ذمہ دار اسلامی بہنوں سے گفتگو کرتے ہوئےچند اہم نکات پر مدنی پھول دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭تنظیمی طریقۂ کار کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے٭ماتحت اسلامی بہنوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے٭ نیکی کی دعوت دینے سے قبل اس کے مدنی پھول پڑھ کر نیکی کی دعوت دینے کے بہت سے فائدے ہیں اسی کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔

بعدازاں دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کے لئے ہونے والے رمضان ڈونیشن کے مدنی پھولوں پر بھی کلام کیا گیا جس میں باہمی مشاورت سے تبدیلی کی گئی۔

16 دسمبر 2023ء کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ماریشس (Mauritius)میں ہونے والے 3 دن کے رہائشی کورس میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت کا بذریعہ انٹرنیٹ بیان ہوا۔

اس موقع پر نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے اطاعت کے حوالے سے کورس میں شریک اسلامی بہنوں کی تربیت و رہنمائی کی اور انہیں ترغیب دلائی کہ ہم اللہ عزوجل اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کے ساتھ دینِ اسلام کا کام کریں نیز اپنی نگران اسلامی بہن کی بھی اطاعت کرنی چاہیئے۔


دعوتِ اسلامی کے تحت 9 جنوری 2024ء کو ڈسٹرکٹ جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان کے علاقوں للہ شریف، للہ ہندوانہ، للہ بھروانہ، کندوال میں علاقائی دوروں   کا انعقادکیا گیا۔

اسپیشل پرسن ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ جہلم کے ذمہ دار محمد رمضان رضا عطاری نے یوسی نگران للہ شریف ،قاری محمد صفدر عطاری اور یوسی نگران کندوال محمد ثاقب عطاری نے ڈیف ، نابینا اور معذور افراد اوران کے سرپرستوں سے ملاقات کی۔

انہیں شعبے کا تعارف کروایا اور علاقوں میں گونگے ، بہرے ، نابینا اور معذور اسلامی بھائیوں میں ہونے والے دینی کاموں کی معلومات دیں۔ علاوہ ازیں ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے اور مدنی قافلے میں سفر کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اپنے علاقے میں کئے گئے کاموں کو سراہا اور مزید تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ (رپورٹ: محمد رمضان رضا عطاری اسپیشل پرسن ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ جہلم، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )


عاشقانِ  رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے شعبہ اسپیشل پرسن کے تحت 8 جنوری 2024ء کو پنڈ دادن خان کے علاقوں پنڈ دادن خان ، سروبہ ، ٹوبہ میں علاقائی دوروں کا سلسلہ ہوا۔

مقامی ذمہ داران قمر اقبال عطاری نے محمد ناصر عطاری اور قاری عدنان علی عطاری کے ہمراہ 8 ڈیف اسلامی بھائی ، 3 نابینا اور 2 معذور اسلامی بھائی اوران کے سرپرستوں سے ملاقات کی ۔

دوران ِ ملاقات انہیں ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے اور مدنی قافلے میں سفر کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھی نیتوں کا اظہار کیاجبکہ ایک نابینا اسلامی بھائی نے مدرسۃ المدینہ برائے نابینہ افراد میں داخلہ لینے کی نیت کی۔

بعدازاں ذمہ داران کا آپس میں مدنی مشورہ ہوا جس میں اسپیشل پرسنز میں دینی کام کرنے کےحوالے سے تبادلہ ٔ خیا ل کیا گیا۔(رپورٹ: محمد رمضان رضا عطاری اسپیشل پرسن ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ جہلم، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )


حضرت آدم علیہ السّلام کی نہ ماں ہے نہ باپ بلکہ اللہ پاک نے ان کو مٹی سے بنایا ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص243)

حضرت آدم علیہ السّلام کی کنیت ابو محمد یا ابو البشر اور آپ کا لقب خلیفۃ اللہ ہے اور آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔آپ نے 960 برس کی عمر پائی اور بوقت وفات آپ کی اولاد کی تعداد ایک لاکھ ہو چکی تھی جنہوں نے طرح طرح کی صنعتوں اور عمارتوں سے زمین کو آباد کیا۔(تفسیر صاوی، پ1، البقرۃ: 30، ج1، ص48)

قرآن مجید نے حضرت آدم علیہ السّلام کے مختلف واقعات بیان فرمائے ہیں جو نصیحتوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہیں آئیے ہم بھی ان واقعات سے نصیحت کے مدنی پھول چننے کی کوشش کرتے ہیں:

پہلی نصیحت:اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا فرمایا۔

اس سے معلوم ہوا کہ خداوند قدوس ایسا قادر اور قیوم اور خلاق ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔رب تعالیٰ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا۔ اول یہ کہ مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ دوم یہ کہ تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہواور وہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو حضرت آدم علیہ السّلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرما دیا۔ سوم یہ کہ تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم علیہا السلام کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ چھا رم یہ کہ بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند قدوس نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہ السّلام ہیں کہ اللہ نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص246)

دوسری نصیحت:جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو اپنی خلافت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں میں جو مکالمہ ہوا وہ بہت ہی تعجب خیز ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی فکر انگیز اور عبرت آموز بھی ہے جسے قرآن مجید پارہ 1 سورۂ بقرہ آیت 30 تا 34 میں یوں بیان کیا گیاہے: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲) قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳) وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرےاور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔ بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1، البقرۃ: 30تا 34)

کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں فرمایا: بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔ (فرشتوں نے)عرض کی: (اے اللہ!)تو پاک ہے۔ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے (پھر اللہ نے)فرمایا: اے آدم!تم انہیں ان اشیاء کے نام بتادو۔تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تو(اللہ نے)فرمایا:(اے فرشتو!)کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اوریاد کروجب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا۔اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔

اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ اللہ پاک جو سب سے زیادہ علم و قدرت والا ہے اور فاعل مختار ہے جب وہ اپنے ملائکہ سے مشورہ فرماتا ہے تو بندے جن کا علم اور اقتدار و اختیار بہت ہی کم ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ جس کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے مخلص دوستوں اور صاحبان عقل ہمدردوں سے اپنے کام کے بارے میں مشورہ کر لیا کریں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا مقدس دستور ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 250)

تیسری نصیحت:فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السّلام کے بارے میں یہ کہا کہ وہ فسادی اور خوں ریز ہیں لہٰذا ان کو خلافت الٰہیہ سے سرفراز کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو خلافت کا شرف بخشا جائے کیونکہ ہم ملائکہ خدا کی تسبیح و تقدیس اور اس کی حمد و ثنا کو اپنا شعار زندگی بنائے ہوئے ہیں۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ بندے خداوند قدوس کے افعال اور اس کے کاموں کے مصلحتیں اور حکمتوں سے کماحقہ واقف نہیں ہیں اس لیے بندوں پر لازم ہے کہ اللہ کے کسی فعل پر تنقید و تبصرہ سے اپنی زبان کو روکے رہیں۔اور اپنی کم عقلی و کوتاہ فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ایمان رکھیں اور زبان سے اعلان کرتے رہیں کہ اللہ نے جو کچھ کیا اور جیسا بھی کیا بہرحال وہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے کاموں کی حکمتوں اور مصلحتوں کو خوب جانتا ہے جن کا ہم بندوں کو علم نہیں۔(المرجع السابق، ص252، 253)

چوتھی نصیحت:ابلیس نے حضرت آدم علیہ السّلام کو خاک کا پتلا کہہ کر ان کی تحقیر کی اور اپنے کو آتشی مخلوق کہہ کر اپنی بڑائی اور تکبر کا اظہار کیا اور سجدۂ آدم علیہ السّلام سے انکار کیا درحقیقت شیطان کے اس انکار کا باعث اس کا تکبر تھا۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تکبر وہ بری شے ہے کہ بڑے سے بڑے بلند مراتب و درجات والے کو ذلت کے عذاب میں گرفتار کر دیتی ہے بلکہ بعض اوقات تکبر کفر تک پہنچا دیتا ہے اور تکبر کے ساتھ ساتھ جب محبوبان بارگاہ الٰہی کی توہین اور تحقیر کا بھی جذبہ ہو تو پھر تو اس کی شناعت و خباثت اور بے پناہ منحوسیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔(المرجع السابق ص255)

پانچویں نصیحت:حضرت آدم علیہ السّلام کو اللہ پاک نے کتنے اور کس قدر علوم عطا فرمائے اور کن کن چیزوں کے علوم و معارف کو عالم الغیب والشہادۃ نے ایک لمحہ کے اندر ان کے سینہ اقدس میں بذریعہ الہام جمع فرما دیا جن کی بدولت حضرت آدم علیہ السّلام علوم و معارف کی کتنی بلند ترین منزل پر فائز ہو گئے کہ فرشتوں کی مقدس جماعت آپ کے علمی وقار و عرفانی عظمت و اقتدار کے روبرو سربسجود ہو گئی۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 255)

اس سے معلوم ہوا کہ جب حضرت آدم علیہ السّلام کے علوم و معارف کی یہ منزل ہے تو پھر حضور سید آدم و سرور اولادِ آدم خلیفۃ اللہ الاعظم حضرت محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علوم عالیہ کی کثرت و وسعت اور ان کے رفعت و عظمت کا کیا عالم ہوگا واللہ! حضرت آدم علیہ السّلام کے علوم کو سرکار دو عالم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے علوم سے اتنی بھی نسبت نہیں ہو سکتی جتنی کہ ایک قطرے کو سمندر سے اور ایک ذرے کو تمام روئے زمین سے نسبت ہے اللہ اکبر کہاں علومِ آدم اور کہاں علومِ سیدِ عالم!

فرش تا عرش سب آئینہ، ضمائر حاضر بس قسم کھائیے امید تیری دانائی کی


اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں انبیاء کرام اور ان کی قوموں کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، جس سے ہمیں بہت سی نصیحتیں اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں اسی طرح الله پاک نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السّلام کا بھی قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور حضرت آدم علیہ السّلام کے واقعات قرآن مجید میں ذکر فرمائے ان واقعات سے بھی ہمیں بہت سی نصیحتیں حاصل ہوتی ہیں۔انہی نصیحتوں میں سے چند نصیحتیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

شیطان کی دشمنی کی وجہ:فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷) اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ(۱۱۸) وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى(۱۱۹)ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے فرمایا اے آدم بےشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہےتو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ۔(پ16،طہ:117تا 119)

جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السّلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام و واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا یہ حسداس کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کی ہلاکت چاہتا ہے اور اس کا حال خراب کرنا چاہتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السّلام کے عمل سے مسلمانوں کے لیے تربیت:رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (۲۳) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ برا کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے ۔(پ 8، الاعراف: 23)

حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے اپنی لغزش کے بعد جس طرح دعا فرمائی اس میں مسلمانوں کے لئے یہ تربیت ہے کہ ان سے جب کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ا س کا اعتراف کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت کا انتہائی لَجاجَت کے ساتھ سوال کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا گناہ بخش دے اور ان پر اپنا رحم فرمائے۔ (پ8، الاعراف: 23)

شیطان کے وار سے بچنے کا نسخہ: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ- ترجمۂ کنز الایمان:اے آدم کی اولاد خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔(پ8،الاعراف:27)

شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر مُسلَّط فرمادیا ہے، اگر تم ا س سے مقابلہ و جنگ کرنے اور اسے (خود سے) دور کرنے میں مشغول ہوگئے تو تم تنگ آ جاؤ گے اور تمہارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا اور بالآخر وہ تم پر غالب آ جائے گا اور تمہیں زخمی و ناکارہ بنا دے گا ا س لئے اس کے مالک ہی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا اور اسی کی پناہ لینی ہو گی تاکہ وہ شیطان کو تم سے دور کر دے اور یہ تمہارے لئے شیطان کے ساتھ جنگ اور مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔

بیوی اور شوہر بھی ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھیں:فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍۚ-فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ علیہمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ-وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان:تو اُتار لایا انہیں فریب سےپھر جب اُنہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر ان کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے اور اُنہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(پ8، الاعراف:22)

بہتر یہ ہے کہ خاوند اور بیوی بھی ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہ رہیں ایک دوسرے کے ستر کو نہ دیکھیں۔ یہ نصیحت (وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ) الخ سے حاصل ہوئی دیکھو اس وقت کوئی ان دونوں کو ننگا نہیں دیکھ رہا تھا مگر انہوں نے ستر چھپانے کی کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شیطان کے مکرو فریب اور حسد کرنے سے بچنے اور اس سے حاصل ہونے والی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


الله تعالیٰ نے مختلف امتوں کی طرف اپنے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کے واقعات کو قرآن مجید میں ذکر بھی فرمایا انہیں انبیاء علیہم السلام میں سے اللہ تعالیٰ کے ایک وہ نبی بھی ہیں جن سے باقاعدہ طور پر آدمیوں کا آغاز ہوا میری مراد حضرت آدم علیہ السّلام اور آپ کے واقعے کو بھی قرآن پاک میں ذکر فرمایا آپ علیہ السّلام کے واقعے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے آیئے قرآن پاک میں موجود واقعہ آدم علیہ السّلام سے کچھ نصیحتیں حاصل کرتے ہیں۔

اہم کام پر مشورہ کرنا:اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30)

تفسیر:فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السّلام کی خلافت کی خبر اس لیے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت معلوم کریں اور اُن پر خلیفہ کی عظمت وشان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے پہلے ہی خلیفہ کا لقب عطا کر دیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اپنے ماتحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ اُس کام سے متعلق اُن کے ذہن میں کوئی بات ہو تو اس کا حل ہو سکے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے۔

شیطان نے کس بنیاد پر آدم علیہ السّلام سے بغض رکھا:فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷) اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ(۱۱۸) وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى(۱۱۹)ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے فرمایا اے آدم بےشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہےتو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ۔ (پ16،طہ: 117تا 119)

آیت نمبر 117 میں شیطان کا حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کو سجدہ نہ کرنا آپ عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ہے،یہاں اس دشمنی کی وجہ وضاحت سے بیان کی جاتی ہے۔جب ابلیس نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہ حسد ا س کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت چاہتا اور اس کا حال خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آدم علیہ السّلام کو شیطان کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ:وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1،البقرۃ:34)

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ غرور و تکبرایسا خطرناک عمل ہے کہ یہ بعض اوقات بندے کوکفر تک پہنچا دیتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ و ہ تکبر کرنے سے بچے۔

کس چیز نے ابلیس ملعون کو کافر بنایا؟وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1،البقرۃ:34)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تکبر اور حسد نے ہی ابلیس کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل کر دیا۔

نیک لوگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا:فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (پ1، البقرۃ: 37)

صراط الجنان میں اس کے تحت ہے:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام سے اجتہادی خطا ہوئی تو(عرصۂ دراز تک حیران و پریشان رہنے کے بعد) انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے رب!مجھے محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے میں معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو کیسے پہچانا حالانکہ ابھی تو میں نے اسے پیدا بھی نہیں کیا؟حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے عرض کی: اے اللہ پاک! جب تو نے مجھے پیدا کر کے میرے اندر روح ڈالی اور میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے عرش کے پایوں پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ لکھا دیکھا،تو میں نے جان لیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تو نے سچ کہا، بیشک وہ تمام مخلوق میں میری بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔تم اس کے وسیلے سے مجھ سے دعا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور اگر محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔(مستدرک،ومن کتاب آیات رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم التی فی دلائل النبوۃ، استغفارآدم علیہ السّلام بحق محمدصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، 3/517، حدیث:4286، معجم الاوسط، من اسمہ محمد،5/36، حدیث:6502، دلائل النبوۃ للبیہقی، جماع ابواب غزوۃ تبوک، باب ماجاء فی تحدیث رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔۔۔الخ، 6/489)

اس آیت اور حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بارگاہِ الٰہی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے۔


قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا عظیم اور بے مثل کلام ہے جو تمام انسانوں کے لیے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے اور ہر چیز کا واضح اور روشن بیان ہے قرآن پاک میں جس طرح حرام و حلال کے احکام گزشتہ امتوں کے واقعات اور جنت و دوزخ کے احوال کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں ہمارے لئے نصیحتوں اور عبر توں کا بے بہا خزانہ ہے انہی انبیاء علیہم السلام میں سےایک حضرت آدم علیہ السّلام بھی ہیں۔قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السّلام کے متعدد واقعات کو بیان کیا گیا ہے انہی واقعات میں سے 5 نصیحتیں پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔

مشورہ کرنا: الله پاک بے نیاز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے نہ کوئی اس کے ارادے میں دخل انداز ہو سکتا ہے نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے کسی کام میں چوں و چرا کر سکے مگر اس کے باوجود اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق (پیدائش) و خلافت کے بارے میں ملائکہ کی جماعت سے مشورہ فرمایا جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30) پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک بے نیاز اور مختار کل ہے جب وہ اپنے ملائکہ سے مشورہ فرماتا ہے تو اس سے سبق ملتا ہے کہ ہم بھی جب کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے مخلص دوستوں اور صاحبان عقل و علم سے مشورہ لے لیا کریں۔

عالم کی فضیلت: اللہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو آپ علیہ السّلام کے علمی فضل وکمال بلند درجات کے اعلان اور ملائکہ سے اس کا اعتراف کرانے کے لئے تمام فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو تمام ملائکہ نے روبر سجده کیا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ(۳۰) ترجَمۂ کنزُالایمان:تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے۔(پ14، الحجر:30)

پیارے اسلامی بھائیو! اس سےمعلوم ہوا کہ عالم عابد(عبادت گزار) سے افضل ہے کیونکہ ملائکہ عابد اور حضرت آدم عالم تھے۔اور ملائکہ نے آپ علیہ السّلام کو سجدہ کیا اور سجدہ انتہائی عاجزی اور اپنے سے بڑے درجے والے کو کیا جاتا ہے تو ہمیں بھی چا ہئے کہ عبادت کے ساتھ علم دین بھی حاصل کرتے رہا کریں۔

تکبر کی مذمت:اللہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما لیا تو تمام ملائکہ اور ابلیس لعین سے آپ علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا اور ابلیس لعین نے آپ علیہ السّلام کو خاک کا پتلا کہہ کر آپ کی تحقیر کی اور اپنی بڑائی اور تکبر کااظہار کرتے ہوئے سجدۂ آدم سے انکار کیا اور کافروں میں سے ہو گیا جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان: تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1،البقرۃ:34)

اس سے معلوم ہوا کہ تحقیر انبیاء علیہم السّلام اور تکبروہ مذموم فعل ہیں جو بڑے سے بڑے بلند مراتب و درجات والے کو ذلت کے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات یہ کفر تک پہنچا دیتے ہیں، اللہ پاک ہمیں تکبر سے بچنے تعظیم انبیاء علیہم السلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا:ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے یہ فرشتہ نہیں بلکہ جن تھا جو آگ سے بنا تھا اور فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اللہ پاک کی بارگاہ میں بہت مقرب اور بڑے بلند درجات و مراتب سے سرفراز تھا اور بہت زیادہ عبادت گزار تھا۔مگر جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے اپنی عبادت اور علم پر گھمنڈ کیااور سجدے سے انکار کر کے ہمیشہ کے لئے ملعون ہو گیا جیسے کہ قرآن پاک میں اس کا یہ قول بیان کیا گیا ہے: قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: بولا میں اس سے بہتر ہوں۔(پ8، الاعراف: 12)

پیارے اسلامی بھائیو! اس سے ایک بہت بڑا درس یہ ملا کہ ہمیں ہر گز ہرگز اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر گھمنڈ اور غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے ہمیشہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے رہنا چا ہے۔

مقبولانِ بارگاہ الٰہی کے وسیلے سے دعا کرنا:حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو آپ نے ندامت کے با عث تین سو برس تک آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اور روتے رہے پھر جب آپ پر عتاب الٰہی ہوا تو آپ نے حضور اکرم نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کی جیسا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ- ترجمۂ کنز الایمان:پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی۔ (پ1، البقرۃ:37) ابن منذر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں وہ کلمات یہ ہیں، ترجمہ: اے اللہ تیرے بندہ خاص محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جاہ و مرتبہ کے طفیل میں اور ان کی بزرگی کے صدقے میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہےمیں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ بخش دے۔یہ دعا کرتے ہی اللہ پاک نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور آپ کی مغفرت فرمادی اس سے معلوم ہوا کہ مقبولان بارگاہ الٰہی کے وسیلے سے دعا کرنا جائز اور حضرت آدم علیہ السّلام کی سنت ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی کسی اہم کام کی دعا کریں تو مقبولان بارگاه کے وسیلے سے کریں۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


انبيائے کرام عليہم السلام کے واقعات میں ہمارے لئے بہت سے درس و نصیحتیں ہیں لہٰذا ان واقعات کو درس حاصل کرنے کی نیت سے پڑھیں۔یہاں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے حاصل ہونے والی چند نصیحتیں بیان کی جاتی ہیں:

(1)حکمِ الٰہی کے مقابل قیاس کا استعمال: فرشتوں نے کسی پس و پیش کے بغیر حکمِ الٰہی پر فوری عمل کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السّلام کو سجده کیا جبکہ شیطان نے حکمِ الٰہی کو اپنی عقل کے ترازو میں تولا، اسے عقل کے خلاف جانا اور اس پر عمل نہ کر کے بربادی کا شکار ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ حکمِ الٰہی کو من و عن اور چوں چرا کے بغیر تسلیم کرنا ضروری ہے۔حکمِ الٰہی کے مقابلے میں عقل استعمال کرنا، اپنی فہم و فراست کے پیمانے میں تول کر اس کے درست ہونے يا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا اور مخالف عقل جان کر عمل سے منہ پھیر لینا کفر کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

(2)تکبر کی مذمت:ابلیس سے سرزد ہونے والے گناہوں میں بنیادی گناه تکبر تھا۔حديث پاک میں ہے: تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔تکبر کبیرہ گناہ ہے اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور متکبروں کو قیامت کے دن لوگ اپنے پاؤں سے روندیں گے۔

(3)لمبی امیدوں سے نجات کا طریقہ: شیطان مردود کا بہت بڑا ہتھیار لمبی امیدیں دلانا ہے چنانچہ وہ لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی سوچ انسان کے دل، دماغ میں بٹھا کر موت سے غافل، تو بہ سے دور اور گناہوں میں مشغول رکھتا ہے، حتی کہ اسی غفلت میں اچانک موت آجاتی ہے اور گناہوں سے تو بہ اور نیکی کرنے کی طاقت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔اس کا حل موت،قبر اور آخرت کی یاد ہے۔

(4)تخلیقات الٰہی میں خلاف شرع تبدیلیوں کا شرعی حکم: اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلاف شرع تبدیلیاں حرام ہیں اور ان سے بچنا لازم ہے جیسے لڑکیوں کا ابرووں کے بالوں کو خوبصورتی کے لئے باریک کرنا، چہرے وغیرہ پر سوئیوں کے ذریعے تل یا کوئی نشان ڈالنا، مرد یا عورت کا بدن پر ٹیٹو بنوانا، مختلف خوشی و غیرہ کے مواقع پر چہرے کو مختلف رنگوں سے بگاڑنا، لڑکوں کا اپنے کان چھیدنا، لڑکیوں کا سر کے بال لڑکوں جیسے چھوٹے چھوٹے کاٹنا اور مرد کا داڑھی منڈانا۔

(5)انبیاء کی گستاخی کا حکم:اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام کی گستاخی ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا میں زندگی بھر کی عبادت و ریاضت برباد ہو جاتی ہے۔ابلیس جیسے انتہائی عبادت گزار کا انجام اس کی عبرت انگیز مثال ہے۔