حافظ
عبد السبحان(درجہ اولیٰ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا،اس کے
تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے،بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ
احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔اگر اس نے استغفار نہ کیا تویہ غلطی اس کے
خالق و مالک کو اس سے ناراض کردے گی۔اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی
برداشت نہیں ہوتی۔اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر
گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہوئے توبہ کرتا ہے کہ
اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے
احساسات اور پھر استغفار کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان
کےحصہ میں آتا ہے۔
مغفرت کے پانچ حروف کی نسبت سے استغفار کرنے
کے 5 فضائل):
(1)
دلوں کے زنگ کی صفائی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ خاتم النبیین، محبوب ربّ العالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
فرمان دلنشین ہے: بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء(یعنی
صفائی)استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)
(2)
پریشانیوں اور تنگیوں سے نجات:حضرت عبداللہ بن
عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محبوب ربّ ذوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اس
کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی
جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ،4/257،حدیث:
3819)
(3)
خوش کرنے والا اعمال نامہ: حضرت زبیر بن
عوّام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
فرمان مسرت نشان ہے: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے
تو اسے چاہیے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد، 10/347،حدیث: 17579)
(4)خوشخبری:حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہ مدینہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ خوشخبری ہے اس کے لئے جو اپنے نامہ
اعمال استغفار کو کثرت سے پائے۔(ابن ماجہ،4/257،حدیث: 3818)
(5)ایمان پر خاتمے کی دعا: ترجمہ: اے اللہ پاک! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ جان کر ہم تیرے ساتھ
کسی چیز کو شریک کریں اور ہم اس سے استغفار کرتے ہیں جس کو نہیں جانتے۔(مسند امام
احمد، 7/146،حدیث: 19625-ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص 311) اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا
ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے اور استغفار کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین۔
حافظ
سید مزمل علی (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
استغفار کا مطلب ہے کسی سے معافی مانگنا یا گناہوں کی
مغفرت طلب کرنا استغفار ایک اہم عبادت ہے جو قرآن و حدیث میں بڑی فضیلتوں کے ساتھ
ذکر ہوئی ہے یہاں چند قرآنی آیات اور حدیثوں کی روشنی میں استغفار کے فضائل کو پیش
کیا جا رہا ہے۔
احادیث رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بھی استغفار
کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت اِبن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جو شخص ہمہ وقت استغفارکرتا
رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہر تنگی کے وقت اس کے نکلنے کے لئے راہ پیدا کردیتا ہے اور ہر
غم سے نجات دیتا ہے اور اسے اس راہ سے رزق عطا فرماتا ہے جس کا وہ گمان بھی نہ
کرسکے۔(ابو داؤد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ فرماتے تھے کہ بخدا میں اللہ تعالیٰ سے دن میں
70 مرتبہ سے بھی زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔(صحیح بخاری)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ
تعالیٰ نے مجھ پر میری امت کو دو امانتیں دینے کے بارہ میں وحی نازل کی جو یہ ہیں: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)ترجمۂ کنز الایمان:
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور
اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33) پس جب میں ان سے الگ ہوا تو میں نے ان میں قیامت تک کے
لئے استغفار چھوڑا۔(جامع ترمذی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے
گناہوں کی بخشش مانگے اور بخشش کی امید رکھے گا میں تجھے بخش دوں گا۔تجھ میں جو بھی
گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں لَوْبَلَغَتْ ذُنُوبُکَ عَنَانَ
السَّمَاءِ اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش
مانگے میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تو اس حال میں مجھے ملے
کہ ساری زمین تیرے گناہوں سے بھری ہو تو میں بھی اُتنی ہی بڑی مغفرت کے ساتھ تیرے
پاس آؤں گا۔(سنن ترمذی)
حافظ
روبیل (درجہ اولیٰ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
دین ہمیں گناہوں سے بچنے کا درس دیتا ہے۔لہٰذا اگر خلوصِ نیت
کے ساتھ استغفار کی جائے تو بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں اور گناہوں
کا خاتمہ ہوتا ہے۔اب ہم استغفار کے متعلق چند احادیث مبارکہ پیش کریں گے۔
(1)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اس
کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد3 ، حدیث نمبر:2356)
(2)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو الٰہی تو میرا رب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو
نے مجھے پیدا کیا،میں تیرا بندہ ہوں اور بقد ر طاقت تیرے عہدوپیمان پر قائم ہوں میں
اپنے کئے کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں
اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں مجھے بخش دے،تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا،
حضور نے فرمایا کہ جو یقین قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے
مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقین دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے
مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد3 ، حدیث
نمبر:2335)
(3)رسول اﷲصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو
استغفار کو اپنے پر لازم کرلے تواﷲاس کے لیے ہرتنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات
دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد3 ، حدیث نمبر:2339)
(4)امام محمدغزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبیِّ کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیشہ بلند درجات کی طرف ترقی فرماتے ہیں اور جب آپ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ترقی کرتے تو اپنے
پہلے حال پر اِستِغفَار کرتے ہیں۔(فتح الباری،ج 12،ص85،تحت الحدیث:6307)
(5)علّامہ ابنِ بطّال مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
انبیائے کرام علیہمُ السَّلام (کسی گناہ پر نہیں بلکہ)لوگوں میں سب سے زیادہ شکر
گزاری و عبادت گزاری کے باوجود اللہ پاک کا کما حقّہ حق ادا نہ ہوسکنے پر
اِستِغفَار کرتے ہیں۔ (شرح بخاری لابن بطال،ج10،ص77)
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں
دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے اور ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا
فرمائے اٰمین۔
عبدالباسط
عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃُ المدینہ فیضان نور مصطفےٰ کراچی،، پاکستان)
شریعت مطہرہ ہماری ہر جگہ ہر وقت اصلاح کرتی اور ہماری
غلطیوں کوصحیح کرتی رہتی ہے اور ہم پر ہمارے رب کاکتنا بڑا احسان ہے کے ہم بار بار
گناہ کریں اور پھر سچے دل سے اپنے رب سے توبہ استغفار کریں تو وہ ہماری توبہ و
استغفار قبول فرماتا ہےبیشک ہمارا رب رؤف و رحیم ہے اپنے بندوں سے زیادہ پیار کرنے
والاہے آپ ایک بار سچے دل سے توبہ و استغفار کر کے تو دیکھیں میرےرب نے چاہا تو
ضرور آپ کی توبہ و استغفار قبول ہوگیں۔ استغفار کے بے شمار فضائل و فوئد ہیں، خود
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: وَاللہِ
اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ
سَبْعِینَ مَرَّۃً ترجمہ:خدا کی قسم! میں دن میں
ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں
توبہ کرتا ہوں۔(مشکاۃ المصابیح، ج1، ص434، حدیث:2323)
اگر چہ تمام انبیاءکرام معصوم ہیں، گناہوں سے پاک ہیں اور
اگر نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بات کریں تو نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم رحمۃ للعٰلمین ہیں گناہ تو ان کے پاس ہی نہیں آسکتاپھر بھی استغفار
کرتے تھے، خدارا استغفار کی کثرت کریں تو کیوں نا سب استغفار کی کثرت کریں سب اپنا
اپنا معمول بنالیں روزانہ کی بنیاد پر جتنا زیادہ پڑھ سکتے ہیں پڑھیں آئیں اب میں
جنت کے چار حروف کی نسبت سے استغفار کے 4فضائل بیان کرتا ہوں:
(1)دِلوں کے زَنگ کی صفائی: حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین، محبوبِ ربُّ
العالَمِین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے: بے شک لوہے کی
طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جِلاء (یعنی صفائی)اِستِغْفار کرنا
ہے۔(مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)
(2) پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات:حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ
محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے
اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور
ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں
سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)
(3)سیِّدُ الْاِسْتِغفار پڑھنے والے کے لئے
جنّت کی بشارت:حضرت شَدّادبن اَوس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ
المُرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ یہ سیِّدُ الْاِسْتِغفار
ہے: اَللّٰہمَّ
اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ اَنَا
عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ
اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّه
لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ جس نے
اِسے دن کے وَقت ایما ن و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا
انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے اور جس نے رات کے وقت اِسے ایمان و یقین کے ساتھ
پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے۔(بخاری،
4/190، حدیث: 6306)
(4)نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت: حضرت عبدُ اللہ بن بُسْر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
نے شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے
اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفار کو کثرت سے پائے۔(ابنِ ماجہ، 4/257)
توبہ و اِستغفار کے 4فوائد:
(1)اللہ پاک توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(پ2، البقرۃ: 222)
(2)جو اِستغفار کو لازم کرلے اللہ پاک اس کی تمام مشکلوں میں
آسانی، ہرغم سے آزادی اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(ابوداؤد،ج2،ص122،
حدیث1518)
(3)اِستغفار سے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔(مجمع البحرین،ج
4،ص272،حدیث: 4739)
(4)جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم
لکھنے والے فرشتوں کواس کے گناہ بُھلادیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ
پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ
قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی
گواہ نہ ہوگا۔(الترغیب والترھیب، ج4، ص48، رقم:17)
رزق میں برکت:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو
اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا
فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب
الاستغفار، 4/257، حدیث:3819)
محمد
اُمیم (درجۂ ثانیہ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
استغفار ایک عبادتی عمل ہے جو اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ
ہے۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے اور برکتوں کو بلند کرنے کا ذریعہ
ہے۔اسلامی تعلیمات میں احادیث کی روشنی میں استغفار کے کئی اہم فضائل اور فوائد بیان
کئے گئے ہیں جو ہماری روحانیت کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں دنیا اور آخرت میں فائدہ
پہنچاتے ہیں۔
(1)حضرتِ سَیِّدُنا شَدَّاد بِنْ اَوْس رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: یہ سَیِّدُ الْاِسْتِغْفَار ہے: اَللّٰہم
اَنْتَ رَبِّی لَا اِلَہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا
عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ
اَبُوْ ءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ واَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ
فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ ترجمہ: اے اللہ تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا
میں تیرا بندہ ہوں اور بقدرِ طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں میں اپنے کئے کے
شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں
کا اعتراف کرتا ہوں مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔(بخاری، کتاب
الدعوات، باب افضل الاستغفار، 4/189، 190، حدیث:6306)
(2)حضرتِ سَیِّدُناابو موسی اَشعَرِی رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ پاک نے میری امت کے
لئے مجھ پر دو اَمن (والی آیتیں) اتاریں ہیں، ایک: وَ مَا
كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب
تم ان میں تشریف فرما ہو۔اور دوسری: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ
وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور
اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33) جب میں
دنیا سے پردہ کر لوں گاتو ان میں قِیامت تک کے لئے اِستِغفار چھوڑ دوں گا۔(ترمذی،
کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، 5/56، حدیث:3093)
(3)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں
نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک کی
قَسَم!میں ایک دن میں 70مرتبہ سے بھی زیادہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ وا
ِستِغفَار کرتا ہوں۔(بخاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، 4/190،
حدیث:6307)
(4)عَلَّامَہ اِبن بَطَّال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
لوگوں میں سب سے زیادہ انبیائے کرام علیہم السّلام عبادَت کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اللہ
پاک کا شکر ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود وہ تَقْصِیر(کمی) کا اِعتراف کرتے رہتے ہیں،
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک کا حق ادا نہ ہوسکنے پر وہ اللہ پاک سے اِستِغفَار کرتے ہیں۔(شرح
بخاری لابن بَطّال، کتاب الدعائ، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، 10/77)
(5)حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
تاجدارِ رسالت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر تم
گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کروتو اللہ پاک
تمہاری توبہ قُبول فرمالے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، 4/490، حدیث:4248)
استغفار ایک عظیم عبادت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت،
رحمت، مشکلات کا حل اور برکتیں فراہم کرتی ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم روزانہ اس عمل کو
اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں فائدہ حاصل کرسکیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھنے کی اور عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تمام عالم اسلام کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا
فرمائے اور کل مسلمین مسلمات مؤمنین مؤمنات کی مغفرت فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
محمدارحم
رضا عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
اللہ پاک نے ثواب اور نیکیوں والے کام کو معین فرمادیا ہے
اسی طرح گناہوں والے کام کو بھی معین فرمادیا ہےلیکن جب انسان کوئی کام کرتا ہے تو
وہ اس میں اپنے لئے فائدے اور نقصانات کو دیکھتا ہے اسی وجہ سے قرآن پاک اور
احادیث مبارکہ میں کسی کام کو کرنے کے فضائل بیان کئے گئے اسی حوالے سےیہاں ایک
خاص کام توبہ اور استغفار کرنے کے فضائل اور فوائد بیان کئے جارہے ہیں۔
استغفار کے حوالے فرامین مصطفی ٰ:
اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
بیشک میں بھی دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم،کتاب الذکر
والدعاءوالتوبہ والاستغفار،باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص1449،
حدیث:2702)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: جس نے استغفار کو لازم پکڑلیا تو
اللہ اس کی تمام مشکلوں میں آسانی ہر غم میں آزادی اور بے حساب رزق عطا فرماتا
ہے۔(سنن ابی داؤد،کتاب الوتر،باب فی الاستغفار، 2/122، حدیث:1518)
(1)جس نے اپنے
اوپر استغفار کو لازم کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی کو دور فرمائے گا اور ہر
تنگی سے اسے راحت عنایت فرمائے گااور ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا کہ جہاں سے اُسے
گمان بھی نہ ہوگا۔
(2)بےشک لوہے کی طرح دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے اور اُس کی
صفائی اِستغفار کرنا ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار،حدیث 3819)
(3)جو اِس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کا نامہ اعمال اُسے
خوش کرے تو چاہئے کہ وہ اِستغفار میں اضافہ کرے۔ (نوادرالاصول،ص 541، حدیث775)
مغفرت سے استغفار مراد ہے کسی کا عیب چھپالینا مغفرت ہے
اور سزانہ دینا معافی ہے۔(معجم اوسط، باب الالف، 1/245، حدیث:839)
ایک بزرگ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:ایک بار نصف رات گزر جانے
کے بعد میں جنگل کی طرف نکل کھڑا ہوا۔راستے میں میں نے دیکھا کے چار آدمی ایک
جنازہ اٹھائے جارہے ہیں میں سمجھ کے شاید انہوں نے اس کو قتل کیا ہے اور اس کی لاش
کو ٹھکانے لگانے جارہے ہیں جب وہ میرے نزدیک آئے تو میں نے ہمت کر کے پوچھا کیا تم
نے اس کو خود قتل کیا ہے یا کسی اور نے اب تم اس کو ٹھکانے لگانے جارہے ہوانہوں نے
کہا نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے نہ ہی یہ مقتول ہے بلکہ ہم مزدور ہے اور اس کی ماں
نے ہمیں مزدوری دینی ہے وہ اس کی قبر کے پاس ہمارا انتظار کر رہی ہے میں تجسس میں
آگیا اور ان کے ساتھ قبرستان گیا اور دیکھا کہ ایک قبر کے پاس ایک بوڑھی عورت کھڑی
تھی۔ میں اس عورت کے قریب گیا اور پوچھا کے آپ اپنے بیٹے کو دن کے وقت میں یہاں کیوں
نہیں لائیں تو اس عورت نے کہا کے یہ جنازہ میرے بیٹے کا ہے اور یہ شرابی اور گناہ
گار تھا ہر وقت شراب کے نشے اور گناہ کے دلدل میں غرق رہتا تھا جب اس کی موت کا
وقت قریب آیا تو اس نے مجھے تین نصیحتیں کیں( ۱) جب میں مرجاؤں تو میری گردن میں
رسی ڈال کر گھر کے اردگرد گھسیٹنا اور لوگوں سے کہنا کے گنہگاروں اور نافرمانوں کی
یہی سزا ہوتی ہے(۲)مجھے رات کے وقت میں دفن کرنا کیونکہ جو بھی میرے جنازے کو
دیکھے گا لعن طعن کرے گا (۳)جب مجھے قبر میں رکھنے لگو تو میرے ساتھ اپنا ایک سفید
بال بھی رکھ دینا کیونکہ اللہ سفید بالوں سے حیا فرماتا ہے ہوسکتا ہے کے وہ مجھے
اس کی وجہ سے عذاب سے بچالے۔جب یہ مر گیا تو پہلی وصیت کے مطابق گردن میں رسی ڈالی
تو غیب سے آواز آئی!اے بوڑھیا اسے یوں مت گھسیٹو اللہ نے اسے اپنے گناہ پر شرمندگی
کی وجہ سے معاف فرمادیا ہے۔ میں نے نمازے جنازہ پڑھی اور اس بوڑھی عور ت کا بال اس
کے ساتھ رکھ کر قبر میں رکھا۔ تو اس کا جسم حرکت میں آیا اور کفن سے ہاتھ اٹھایا
اور آنکھے کھولی ہمیں مخاطب کر کے مسکراتے ہوئے کہا: اے شیخ! ہمارا رب بڑا غفور
الرحیم ہے وہ احسان کرنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے اور گناہ گاروں کو بھی معاف کردیتا
ہے یہ کہہ کر اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں اور ہم اس کی قبر پر مٹی ڈال
کر واپس آگئے۔(حکایات الصالحین، ص78)
ہمیں بھی چاہیے کہ
ہر وقت اللہ پاک سے توبہ کرتے رہیں اور اس کی نعمت پر شکر اداکرتے رہیں۔
استغفار ایک بہت ہی اہم عمل ہے جو ہمیں اللہ سے مغفرت کی
دعا کرنے کا موقع دیتا ہے۔یہ ہمیں اپنے گناہوں کو تسلیم کرنے اور ان سے توبہ کرنے
کا ذریعہ بنتا ہے۔استغفار کرنے سے ہمارے دل کی پاکی، روح اور ذہن کی صفائی میں
اضافہ ہوتا ہے۔استغفار اللہ کی بخشش کا دروازہ ہے اور ہمیں نیکیوں کی طرف رجوع
کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
استغفار کرنے کی فضیلتوں کے بارے میں احادیث سننا بہت اہم
ہے۔آئیے استغفار کے حوالے سے کچھ احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں
ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 6858)
(2)حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو
فرماتے ہوئے سنا: اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے
گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا،
چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں
ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب
کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔اے آدم کے بیٹے!
اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح
کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش
دوں گا)۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3540)
(3)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں
نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایک مجلس میں سو مرتبہ
(یہ استغفار کہتے ہوئے ) شمار کرتے تھے:رَبِّ اغْفِرْلِی وَتُبْ عَلَیَّ
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ یعنی اے
میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما۔بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا،
نہایت مہربان ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3814)
(5)حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مبارک ہو اس شخص کو جسے اپنے نامہ اعمال میں زیادہ
استغفار ملا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3818)
ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ استغفار کے بہت فضائل ہیں
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جو ہم سے خطائیں ہوئیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے معافی
مانگیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتے رہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھنے اور اس پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
محمد
عاطف انصاری (درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدينہ فيضان ابو عطّار ملير كراچی، پاکستان)
انسان جو ہے وہ ایک خطا کا پتلا ہے بعض اوقات نہ چاہتے
ہوئے بھی وہ اتباع شیطان کے سبب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس صورت میں بندہ کو چاہیے
کہ وہ اپنے کئے ہوئے گناہ پر نادم ہو کر اپنے رب کی بارگاہ میں یہ امید کرتے ہوئے
حاضر ہو کہ رب تعالیٰ گناہ کو معاف فرمادے گا۔ توبہ و استغفار کرے کیو نکہ اللہ
تعالیٰ استغفار کو پسند فرماتا ہے۔ہمارے موضوع کا نام بھی استغفار ہی ہے چونکہ
ہمارا موضوع استغفا ر ہے تو سب سے پہلے ہمیں استغفار کا طریقہ آنا چاہیے اس کے لئے
چند شرطیں ہیں۔
استغفار کی شرائط: اپنے گناہوں پر استغفار کرنے کیلئے 3 شرائط ہیں:(1) بندہ اپنی کی ہوئی خطا
کا اقرار کرے(2)بندہ اپنی کی ہوئی خطا پر شرمندہ ہو(3)بندہ اپنی کی ہوئی خطا کو
آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنا دست قدرت پھیلاتا ہے رات میں تاکہ
استغفار کرے دن کو گناہ کرنے والا اور اللہ پاک اپنا دست قدرت پھیلا تا ہے دن میں
تاکہ استغفار کرے رات کو گناہ کرنے والا۔(مسلم)
غلام
حسین عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان اہل یبت لیاری کراچی، پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! موجودہ دور میں علم دین سے دوری بہت
زیادہ ہوگئی ہے جس کے سبب لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ ہم جو یہ کام کر رہیں ہیں آیا
کہ اس میں کوئی غیر شرعی بات تو نہیں میرا یہ کرنا گناہ تو نہیں یہ بات یاد رہے کہ
انسان خطا کار ہے ہر دن انسان سے چھوٹے بڑے گناہ ہوتے رہتے ہیں بندہ بچنے کی بہت
کوشش کرتا ہے لیکن پھر بھی نفس و شیطان کے دھوکے میں آ کر گناہوں کا شکار ہوجاتا
ہے اسی لیے ہمیں ہر وقت اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہئے
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار
دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں سے کچھ پیش خدمت ہیں:
ہر
تنگی سے چھٹکارا:رسول اﷲصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو
استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلے تواﷲاس کے لیے ہرتنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے
نجات دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(ابوداؤد،ابن
ماجہ)
بہت خوبیاں:حضرت عبداللہ بن بسر فرماتے ہیں، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا: اس کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔ (ابن
ماجہ)
اللہ پاک توبہ قبول فرماتا ہے:حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ
رَسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر ابنِ آدم کے
پاس سونے کی ایک وادی ہو توچاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو
مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ پاک سے توبہ کرے تو اللہ پاک اس کی
توبہ قُبول فرماتاہے۔(مسلم)
دن میں 100 مرتبہ استغفار:نَبِیّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے
لوگو!اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ پاک کے
حضور توبہ کرتا ہوں۔ (مسلم)
پیارے اسلامی بھائیو! ساری احادیث سے استغفار کے دینی و دنیوی
فوائد معلوم ہوئے لیکن ان میں آخر الذکر حدیث سے استغفار کی اہمیت بھی پتا چلتی ہے
کہ اللہ کے نبی تو معصوم ہوتے ہیں یعنی ان کو گناہ کا خیال ہی نہیں آ سکتا اب جو
نبیوں کا بھی سردار ہو جب پیارے آقاصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دن میں 100 بار
استغفار کر رہے ہیں تو ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہمیں تو ہر وقت استغفار کرنا چاہئے
اللہ پاک ہمیں کثرت سے توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس دنیا میں بے شمار مخلوقات کو پیدا
فرمایا ہے، کوئی حیوان کی شکل میں ہے، کوئی جنات کی شکل میں ہے تو کوئی انسان کی
شکل میں ہے، بیشک ان تمام مخلوق میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا لیکن انسان خطا
کا پتلا ہے، کہیں نہ کہیں انسان خطا کر بیٹھتا ہے مگر اس خطا پر شرمندہ ہونا اور اس
سے توبہ کرنے میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اور اسی استغفار کرنے میں رب کی رضا
ہے، اسی سے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ
جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا
اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) ترجَمۂ کنزُ
الایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں
اور پھراللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ
قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(پ5، النسآء: 64)
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کے بندہ گناہ کرنے کے بعد استغفار
کرے تو اللہ اسے بخش دے گا۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ
یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ
فَضْلٍ فَضْلَهٗؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر
اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا(فائدہ) دے گا ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر
فضیلت والے کواس کا فضل پہنچائے گا۔(پ11، ھود:3)
آیات مبارکہ کے بعداحادیث شریف میں کئی جگہ استغفار کی فضیلت
کو بیان کیا گیا ہے ایک حدیث مبارکہ بیان کرتے ہے: عَنْ اَبِي
سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم قَالَ کَانَ فِي بَنِي اِسْرَائِيْلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً
وَتِسْعِيْنَ اِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ یَسْأَلُ فَأَتَی رَاھِبًا فَسَأَلَهُ
فَقَالَ لَهُ ھَلْ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ فَجَعَلَ یَسْأَلُ فَقَالَ
لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قَرْیَةَ کَذَا وَکَذَا فَاَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَنَاءَ
بِصَدْرِهِ نَحْوَہا فَاخْتَصَمَتْ فِيْهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ
الْعَذَابِ فَاَوْحَی اللهُ اِلَی ھَذِهِ اَنْ تَقَرَّبِي وَاَوْحَی اللهُ اِلَی
ھِذِهِ اَنْ تَبَاعَدِي وَقَالَ قِيْسُوْا مَا بَيْنَہما فَوُجِدَ اِلَی ھَذِهِ اَقْرَبَ
بِشِبْرٍ فَغُفِرَلَهُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ اخرجه البخاري
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیے تھے اور پھر مسئلہ
پوچھنے نکلا تھا (کہ اس کی توبہ قبول ہو سکتی یا نہیں)۔ وہ ایک راہب کے پاس آیا
اور اس سے پوچھا: کیا (اس گناہ سے) توبہ کی کوئی صورت ممکن ہے؟ راہب نے جواب دیا:
نہیں۔ اس نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا۔ پھر اس نے ایک اور شخص سے پوچھا تو اس نے
بتایا کہ تم فلاں بستی (میں جہاں نیک لوگ رہتے ہیں) جاؤ (ان کے ساتھ مل کر توبہ
کرو۔) وہ اس بستی کی طرف روانہ ہوا لیکن ابھی نصف راستے میں بھی نہیں پہنچا تھا کہ
اس کی موت واقع ہو گئی۔رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ کون اس کی
روح لے جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ اس کی لاش کے قریب ہو جائے
اور دوسری بستی کو حکم دیا کہ اس کی لاش سے دور ہو جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں
سے فرمایا: اب دونوں کا فاصلہ دیکھو جس طرف کا فاصلہ کم ہو اسے اس بستی کے رہنے
والوں کے حساب میں ڈال دو۔ اور جب فاصلہ ناپا گیا تو اس بستی کو (جہاں وہ توبہ
کرنے جا رہا تھا) ایک بالشت لاش سے زیادہ قریب پایا اور اس کی مغفرت کر دی گئی۔ یہ
حدیث متفق علیہ ہے۔
ان آیات و حدیث سے معلوم ہوا کے بندہ کتنے ہی گناہ کیوں نہ
کرلے اگر اپنے رب سے توبہ واستغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور
اسے بخش دے گا۔
محمد مدثر
رضوی عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور،پاکستان)
استغفار کی تعریف: اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتے ہوئے اللہ
پاک سے معافی طلب کرنا استغفار کہلاتا ہے۔
استغفارسے پریشانیاں دور ہوتی ہیں: حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی
کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم
کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا
فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ
ہوگا۔(ابن ماجہ، صفحہ 257، حدیث: 3819)
اعمال نامہ میں خوشی کا سبب:حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی
کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہےکہ
اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ نامہ اعمال میں استغفار کا اضافہ
کرے۔(معجم اوسط، صفحہ 245، حدیث 839)
استغفار کرنے والے
کے لئے خوشخبری:
حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے
شہنشاہ مدینہ قرار قلب و سینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا
کہ خوشخبری ہے اس کے لئے جو اپنے اعمال میں استغفار کو کثرت سے دیکھے۔(مراٰۃ
المناجیح، جلد3، حدیث:2356)
استغفار دل کے زنگ کو دور کرنے کا سبب:ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: گناہ مومن کے دل میں کالا داغ پیدا کرتا ہے اور اس کے لئے توبہ
و استغفار ایسی ہے جیسے زنگ آلود لوہے کے لئے صیقل۔(تفسیر نعیمی، جلد 3، صفحہ 306)
استغفار کے سبب گناہ معاف: ترمذی شریف میں ہے کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے: اے بندے اگر تیرے
گناہ بادل تک پہنچ جائیں پھر تو استغفار کرے تو میں بخش دوں گا اور کوئی پرواہ نہ
کروں گا۔(تفسیر نعیمی، جلد 3، صفحہ 306)
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھئے کہ استغفار کے کس قدر فضائل و
برکات ہیں اس لئے ہمیں کثرت سے استغفار کرنا چاہئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ہمارے آقا
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتے تھے تو سوچئےہمیں
کتنا استغفار کرنا چاہئے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
انسان میں شر کی دوطاقتیں ہوتی ہیں، ایک انسانی نفس جو
اندرونی طاقت ہے اور دوسرا شیطان جو کہ بیرونی طاقت ہے، یہ دونوں طاقتیں انسان کو
گناہوں کی طرف راغب کرتی ہیں، اس لیے اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان سے کچھ نہ
کچھ غلطیاں اور گناہ صادر ہوجاتے ہیں،کیوں کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔سوائے انبیائے
کرام علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں، ان سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا، وہ
ان دونوں شر کی طاقتوں سے محفوظ ہوتے ہیں، انہیں جو نفس عطا کیاجاتا ہے، وہ نفس
مطمئنہ ہوتا ہے، حالت نوم میں بھی ان کا دل بیدار رہتا ہے، اور ان کا مزاح بھی
اتنا پاکیزہ ہوتا ہے کہ حق کے دائرے سے باہر نہیں ہوسکتا۔
توبہ و استغفار کی فضیلت:انسان چونکہ خطا کا پتلا ہے تو ان خطاؤں کےازالے کے لیے
قرآن کریم میں راہنمائی کی گئی ہے، چنانچہ اللہ پاک سورۂ آل عمران میں ارشاد
فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً
اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا
لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ
یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی
جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے
سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں۔(پ4،آلِ عمرٰن:135)
اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کسی سے گناہ سرزد
ہوجائے تو اسے چاہیے فوراً اللہ کو یاد کرے،ایسے لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں،یہ لوگ
گناہ کے بعد فوراً توبہ اور استغفار کرنے لگتے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں،
گناہوں پر جمتے نہیں ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ مغفرت اور دخول جنت سے نوازے گا۔
امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت انس رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو شیطان رونے لگا اور شیطان نے کہا: اے
میرے رب، تیری عزت وجلال کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں
گی اور وہ زندہ رہیں گے، میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا، تو اللہ نے فرمایا: میری
عزت وجلال کی قسم! جب تک میرے بندے مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے،میں مسلسل ان کو
بخشتا رہوں گا۔
اس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم شمار کیا
کرتے تھے کہ حضورنبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک مجلس کے اندرسو سو
مرتبہ یہ کلمہ دہراتے تھے۔اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما بے شک
تو توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔(سنن ابو داؤد، رقم: 1516)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب نماز سے فارغ ہوتے تو (پہلے) تین مرتبہ استغفار کرتے
اور (پھر) یہ دعا پڑھتے: اللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ
تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ۔(صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول کریم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ کی قسم! میں دن میں ستر بار سے
زیادہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا اور توبہ کرتا ہوں۔(صحیح بخاری)
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ رب
العزت اپنے نیک بندوں کا جنت میں مرتبہ بڑھائے گا۔ انسان کہے گا کہ اے میرے
پروردگار! یہ درجہ مجھے کیسے نصیب ہوا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تیرا لڑکا تیرے
لئے استغفار کرتا رہا ہے۔اس لئے تجھے یہ بلند درجہ نصیب ہوا۔(مسند امام احمد)
آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ ابلیس
نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قسم کھا کر کہا کہ میں تیرے بندوں کو اس وقت تک
گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا جب تک ان کے جسم میں روح ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے
جلال اور عزت کی قسم کھا کر فرمایا۔جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں انہیں
بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد)
ان احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاتم المعصومین ہونے کے باوجود امت کو ترغیب دلانے
کے لیے دن میں کئی مرتبہ استغفار کا اہتمام فرمایا کرتے،اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ
ہم بھی زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کریں اور اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی
طلب کریں۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
Dawateislami