قرآن مجید میں الله پاک فر ما تا ہے: اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ترجَمۂ کنزُالایمان: اپنے رب سے معافی مانگو۔(پ11، ھود: 3)

استغفاریعنی جوگناہ ہو چکے ان سے بارگاہ الٰہی میں معافی مانگنا یہ وہ مجرب عمل ہے،جس کے سبب گناہ معاف ہوتے ہیں، رزق میں کشادگی ہو تی ہے،آزمائشیں دور ہو تی ہیں، الله پاک را ضی ہوتا ہےاور اس کے علاوہ کئی دینی ودنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے احادیث میں کئی فضائل بیان فرمائے،چنانچہ

(1)غضب الٰہی دور ہوتا ہے:حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں،حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:اللہ پاک فرماتاہے: میں زمین والوں پر عذاب اتارنا چاہتا ہوں،جب میرے گھر آباد کرنے والے اور میرے لیے باہم محبت رکھنے والےاورپچھلی رات کو استغفار کرنے والے دیکھتا ہوں تو اپنا غضب ان سے پھیر دیتا ہوں۔(شعب الایمان، حدیث9051)

(2)بخشش کا ذریعہ:نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشادفرمایا:شیطان نے کہا:اےمیرےرب!تیری عزت وجلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں،میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا،اللہ پاک نےفرمایا:میرے عزت و جلال کی قسم!جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، حدیث11244)

(3)رزق کا ملنا:کئی ایسے وظائف و اوراد ہیں،جن سے رزق میں وسعت ہوتی ہے اور رزق کی تنگی ختم ہوتی ہے،ان میں سے ایک عمل استغفار بھی ہے چنانچہ حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لیے ضروری قرار دیا تو اللہ پاک اسے ہر غم و تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سےاسےوہم وگمان بھی نہ ہوگا۔ (ابن ماجہ، حدیث 3819)

(4)سو بار استغفار:استغفار و بخشش طلب کرنا، یوں تو گناہوں سے ہوتا ہے، مگر نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گناہوں سے معصوم ہیں،اس کے باوجود استغفار فرماتے، چنانچہ سرکارصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ پاک سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ (مشکوة حدیث2324)

(5) خوشخبری:بروز قیامت نیکو کار اپنےنامہ اعمال کو دیکھ کر خوش ہوگا اور جس کا اعمال نامہ نیکیوں سے مزین ہوگا،اس کے لیے کئی بشارتیں ہوں گی،چنانچہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔(مشکوة، حدیث2356)

یعنی اس نے مقبول استغفار بہت کیے ہوں،جو اس کے نامہ اعمال میں لکھے جا چکے ہوں،مقبول استغفار وہ ہے جو دل کے درد،آنکھوں کےآنسواوراخلاص سے کیاجائے،صرف اخلاص بھی کافی ہے۔(مرآةالمناجیح، ج3،حدیث2356)

اللہ پاک ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطافرمائےاور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔آمین


یاد رہے زندگی میں الله پاک نے انسان کو کئی طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے اب چاہے وہ انعام ظاہری ہو یا باطنی، اور باطنی انعام و نعمتوں کا مل جانا ظاہری نعمتوں کے مقابلے میں کئی درجہ بہترین ثابت ہوتا ہے جیسے عبادت نماز وغیرہ میں خشوع و خضوع یعنی دل کا لگنا، دل کا حسد،تکبر،بغض جیسی گندی بیماریوں سے پاک و صاف ہونا، ان نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت توفیق کا ملنا بھی ہے، اب چاہے صدقہ کرنے کی ہو، نوافل پڑھنے کی ہو یا علم دین حاصل کرنے کی ہو بالعموم عام حالت میں،بالخصوص گناہ کرنے کے بعد توبہ کرکے الله پاک سے مغفرت طلب کرنے کی ہو لہٰذا اسی مناسبت سے کچھ استغفار یعنی مغفرت و بخشش طلب کرنے کے فضائل و فوائد بیان کئے جاتے ہیں:

کئی مصیبتوں کا حل:حضرت سیّدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے خُشک سالی کی شکایت کی، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اِستغفار کرنے کا حکم دیا، دوسرا شخص آیا، اس نے تنگ دستی کی شکایت کی تو اسے بھی یہی حکم فرمایا، پھر تیسرا شخص آیا، اُس نے اولاد نہ ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا، پھر چوتھا شخص آیا، اس نے اپنی زمین کی پیداوار کم ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا۔حضرت رَبیع بن صَبِیح رحمۃ اللہ علیہ وہاں حاضر تھے انہوں نے عرض کی: آپ کے پاس چند لوگ آئے اور انہوں نے مختلف حاجتیں پیش کیں، آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ اِستغفار کرو؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے سامنے یہ آیات پڑھیں(جن میں اِستغفار کو بارش، مال، اولاد اور باغات کے عطا ہونے کا سبب فرمایا گیا ہے): فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱) وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔تم پر شرّاٹے کا مینہ(موسلا دھار بارش) بھیجے گا۔اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔(خازن، نوح، ج4، ص335، تحت الآیۃ:10تا12)

اِستغفار کے 4فوائد:

(1)اللہ پاک توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(پ2، البقرۃ: 222)

(2)جو اِستغفار کو لازم کرلے اللہ پاک اس کی تمام مشکلوں میں آسانی، ہرغم سے آزادی اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(ابو داؤد،ج2،ص122، حدیث:1518)

(3)اِستغفار سے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔(مجمع البحرین،ج 4،ص272، حدیث:4739)

(4)جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم لکھنے والے فرشتوں کواس کے گناہ بُھلادیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔(الترغیب والترھیب،ج4،ص48، رقم:17)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک سیاہ نشان بن جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرلے اور (گناہ سے) ہٹ جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔(لیکن) اگر وہ ڈٹا رہے اور زیادہ (گناہ) کرے تو یہ نشان بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے (پورے) دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور یہی وہ رَان (زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں فرمایا ہے: كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)ترجمہ کنزالایمان: کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ (اخرجہ الترمذی فی السنن، کتاب: تفسیر القرآن، باب: ومن سورۃ ویل للمطففین، 5/434، الرقم: 3334، وابن ماجہ فی السنن، کتاب: الزھد، باب: ذکر الذنوب، 2/1418، الرقم: 4244، والنسائی فی السنن الکبری، 6/110، الرقم: 10251، 11658، وفی عمل الیوم واللیلۃ، 1/317، الرقم: 418، والحاکم فی المستدرک، 2/562، الرقم: 3908۔)

الله پاک ہمیں ہر وقت استغفار و بخشش طلب کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


تمام انسانوں میں سے سب افضل و اعلیٰ ذات انبیاء و مرسلین کی ذات ہے ان مبارک ہستیوں کو اللہ پاک نے ہر گناہ سے معصو م رکھا۔اپنے اولیاء کو محفوظ رکھتا ہے ،مان کے علاوہ کوئی بھی انسان چاہے کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس سے گناہ کا سرزد ہونا ایک ممکن بات ہے کیونکہ ابن آدم سے غلطی کا صدور اور اس کا گناہ میں پڑنا ایک فطری بات ہے۔جیسا کہ حدیث پاک میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: كلُّ بني آدم خَطَّاءٌ وخيرُ الخَطَّائِينَ التوابون یعنی تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں، جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں۔( سنن الترمذی،4/659)

بتقاضائے بشریت بھی انسان سے گناہ سرزد ہو ہی جاتے ہیں، اللہ پاک کی رحمت پر قربان اس نے امت کے سب سے بڑے غمخوار،سرکارِ عالی وقارصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے مؤمنین کو استغفار جیسی ایک ایسی عظیم نعمت سے نوازا ہے جس کا کثرت سے ذکر کرنا گناہوں کی معافی کا بہترین سبب ہے۔خود اللہ پاک نے استغفار کرنے کی ترغیب قرآن پاک میں ارشاد فرمائی ہے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ(۹۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بےشک میرا رب مہربان محبت والا ہے۔(پ12، ھود:90)

ایک اور مقام میں فرمایا:وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے بخشش مانگو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ29، المزمل:20)

ہر مسلمان کو کثرت سے استغفار کرتے رہنا چاہئے کیونکہ دعائے مغفرت نہایت محبوب شے ہے خصوصاً اگر گناہوں سے توبہ کرکے ہو اور نورٌ علیٰ نور یہ کہ بارگاہِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہو کر اپنی بخشش کی دعا کی جائے۔

جس کا طریقہ خود قرآن نے بتایا کہ اگر تم سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کی معافی کے لئے رؤف و رحیم نبی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اللہ پاک کی بارگاہ میں بخشش کی التجا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(پ5، النسآء: 64)

اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی استغفار اور اللہ سے بخشش طلب کرنے کی ترغیب کثیر فضائل کے ساتھ ذکر کی گئی ہے، جن میں سے 7 احادیث ذکر کی جاتی ہیں:

(1)جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تواللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، 4/257، حدیث: 3819)

(2)شیطا ن نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت و جلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میری عزت و جلا ل کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، 4/59، حدیث:11244)

(3)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان! جب تک تومجھ سے دعا کرتا اور امید رکھتا رہے گا میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا، چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں،پھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے پاس لے کر آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے ا س کے برابر بخش دوں گا۔(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ، والاستغفار۔۔۔الخ، 5/318، حدیث: 3551)

(4)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار اِستغفار کرتے اور فرماتے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامْ یعنی اے اللہ! تو سلام ہے اور تجھ سے سلامتی ہے اور تو برکت والا ہے (اے) جلالت اور بزرگی والے۔(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ، ص 297، حدیث: 591)

(5)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا: استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْ ءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْ ءُ بِذَنْبِی فَاغْفِرْلِی فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ یعنی الٰہی تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں، مجھے بخش دے تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا۔ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جو یقینِ قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقینِ دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔ (بخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، 4/189، الحدیث: 6306)

(6)جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم لکھنے والے فرشتوں کواس کے گناہ بُھلادیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔(الترغیب والترھیب،ج4،ص48، رقم:17)

(7)اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت کے لئے مجھ پر دو امن(والی آیات) اتاری ہیں، ایک: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔اور دوسری: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33) جب میں اس دنیا سے پردہ کر لوں گا تو قیامت تک کے لئے استغفار چھوڑ دوں گا۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، 5/56، حدیث: 3093)

جہاں توبہ و استغفار کے اتنے فضائل ہیں وہیں اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں جن میں سے 6یہ ہیں:

(1)توبہ کرنے والوں کواللہ پاک پسند فرماتا ہے۔(پ2، سورۃالبقرۃ: آیت 222)

(2) جس شخص نے استغفار کو لازم کرلیا تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ (سنن النسائی/الیوم واللیلة (456)، سنن ابن ماجہ/الأدب 57، 3819)

(3)استغفار کرنے والا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عمل کی پیروی کرنے والا ہوتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح، ج1، ص434، حدیث:2323)

(4) استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔(تفسیرِ صراط الجنان، سورة الانفال ،تحت الآیۃ: 33)

(5)اِستغفار کرنے والے کے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔(مجمع البحرین،ج 4،ص272، حدیث:4739)

(6)حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے ہاں کوئی اولاد نہیں، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ پاک مجھے اولاد دے۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: استغفار پڑھا کرو۔ اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ اِستغفار پڑھنے لگا، اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے ، جب یہ بات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل آپ رضی اللہ عنہ نے کہاں سے فرمایا۔دوسری مرتبہ جب اس شخص کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کا قول نہیں سنا جو اُنہوں نے فرمایا: یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ (اللہ تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا)اور حضرت نوح عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کا یہ ارشاد نہیں سنا: یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ (اللہ مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا) (مدارک، ہود، تحت الآیۃ: 52، ص502) یعنی کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے اِستغفار کا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، سورة ہود، تحت الآیۃ: 52)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں گناہوں سے بچتے رہنے اور کثرث سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

گناہوں سے توبہ کی توفیق دے دے ہمیں نیک بندہ بنا یاالٰہی (وسائلِ فردوس)


استغفار ایک بہت ہی اہم عمل ہے جو ہمیں اللہ سے مغفرت کی دعا کرنے کا موقع دیتا ہے۔یہ ہمیں اپنے گناہوں کو تسلیم کرنے اور ان سے توبہ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔استغفار کرنے سے ہمارے دل کی پاکی، روح اور ذہن کی صفائی میں اضافہ ہوتا ہے۔استغفار اللہ کی بخشش کا دروازہ ہے اور ہمیں نیکیوں کی طرف رجوع کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

آئیے! استغفار کے حوالے سے کچھ احادیث ملاحظہ فرمائیں:

(1)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 6858)

(2)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا)۔(جامع ترمذی، حدیث نمبر 3540)

(3)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایک مجلس میں سو مرتبہ (یہ استغفار کہتے ہوئے ) شمار کرتے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِی وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُیعنی اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما۔بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3814)

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے بخشش کی درخواست (استغفار) اور توبہ کرتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3815)

(1)حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مبارک ہو اس شخص کو جسے اپنے نامہ اعمال میں زیادہ استغفار ملا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3818)

ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ استغفار کے بہت فضائل ہیں،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جو ہم سے خطائیں ہوئیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتے رہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 


انسان دنیا کے اندر مختلف کاموں کو سرانجام دیتا ہے اللہ پاک کے نیک بندے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فرمانبرداری میں اپنی زندگی گزارتے ہیں اور جبکہ دیگر گنہگار لوگ اللہ پاک کی نافرمانی اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکام کو بجا نہیں لاتے اس طرح وہ اپنی زندگی گناہوں میں گزار رہے ہوتے ہیں لیکن ان گنہگار بندوں میں سے کچھ لوگوں کو اللہ پاک کی توفیق سے توبہ اور استغفار کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔

یاد رہے استغفار کے فضائل احادیث میں کثیر آئیں ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:بیشک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلا صفائی استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/340، حدیث:17575)

اس حدیث مبارکہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ آج ہمارے دلوں کو بھی زنگ لگ چکا ہے اس لیے ہمیں کوئی بھی نصیحت کی بات اثر نہیں کرتی، اس لیے ہمیں چاہیےکہ ہم زیادہ سے زیادہ استغفارکریں تاکہ ہمارے دل جو گناہ کرکے سیاہ ہوگئے ہیں اس کی صفائی ہوسکے لیکن اس کے لیے ضروری ہےکہ ہم اخلاص کے ساتھ استغفار کریں جیسا کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اس کے لیے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔(مرآۃ المناجیح، شرح مشکوۃ المصابیح جلد 3، حدیث 2356)

یعنی اس نے مقبول استغفار بہت کیے یوں جو اس کے نامہ اعمال میں لکھے جا چکے ہوں اس لیے یہاں کثرت سےاستغفار کرنے کا ذکر نہ فرمایا بلکہ نامہ اعمال میں پانے کا ذکر فرمایا۔مقبول استغفارسے مراد جو دل کے درد، آنسو، اخلاص سے کئے جائیں صرف اخلاص بھی کافی ہے۔اس حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ استغفارکرنے میں اخلاص بہت ضروری ہے اگر اخلاص نہ ہو تو استغفارمقبول نہیں ہوگی اور اگر ہم اخلاص کے ساتھ استغفارکریں گے تو ہمارے دل کا زنگ بھی دور ہو جائے گا اور ہمارے نامہ اعمال میں بھی استغفار کی کثرت ہوگی۔

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کی سیاہی کو دور فرمادے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


پیارے اسلامی بھائیو! گناہوں کی کثرت کی وجہ سے انسان کا دل زنگ آلود ہوجاتا ہے جسے پاک و صاف رکھنے کے لئے اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی معافی اور مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے استغفار کرنے سے انسانی زندگی میں بدلاؤ پیدا ہوتا ہے، اس سے روح کو پاکیزگی اور طہارت حاصل ہوتی ہے اور رزق میں برکت حاصل ہوتی ہے،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ گناہوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کی بھرپور کوشش کرے اور جو گناہ اس سے سرزَد ہو چکے ہیں ان سے سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ ایسی چیز ہے جو انسان کے نامہِ اعمال سے اس کے گناہ مٹادیتی ہے اسی مناسبت سے استغفار کے کچھ فضائل بیان کیے جائیں گے۔

(1) پریشانیوں اور تنگیوں سے نجات:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی کو دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ 4/257، حدیث: 3819)

(2) خوش کرنے والا اعمال نامہ:حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد، 10/347، حدیث: 17579)

(3) دلوں کی زنگ کی صفائی:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور انورعَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے ارشاد فرمایا:بیشک لوہے کی طرح دل کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی صفائی استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)

( 4) جنت کی بشارت:حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:یہ سید الاستغفار ہے: اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّي لَا اِلَهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِي وَاَنَا عَبْدُك وَاَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِ مَا صَنَعْتُ اَبُوْ ءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ وَاَبُوْ ءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ جس نے اسے دن کے وقت ایمان ویقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کے وقت اسے ایمان ویقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔(بخاری،190/4، حدیث: 6306)

(5) خوشخبری:حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضور عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار کو کثرت سے پائے۔(ابن ماجہ 4/257، حدیث: 3818)

( 6) گناہ کیا ہی نہیں:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ شخص جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔(ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ،4/491، حدیث: 4250)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں گناہوں سے بچنے اور کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


پیارے اسلامی بھائیو! ہم صبح و شام گناہوں میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ پاک کی رحمت پر قربان جائیے کہ اس نے ہمارے لیے استغفار جیسی عظیم نعمت رکھی استغفار انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے استغفار کے فضائل و فوائد خود تمام انبیاء کے سردار ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمائے۔

(1) فرمان مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس نے اپنے اوپر استغفار (توبہ کو) لازم کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی کو دور فرمائے گا۔اور ہر تنگی سے اُسے راحت عنایت فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کریں گا کہ جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، 4/257، حدیث:3819)

(2) فرمان آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلا (صفائی) استغفار کرنا ہے۔(نوادر الأصول، الاصل السابع والثلاثون والمائة، الجزء: 1، ص 541، حدیث: 775)

)3) ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔

)4)فرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: وَاللهِ اِنِّي لَاسْتَغْفِرُاللہ وَآتُوبُ اِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ اكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً ترجمہ: خدا کی قسم!میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔

اللہ پاک ہمیں استغفار جیسی عظیم نعمت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ تبارک وتعالیٰ کی پاک بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش و مغفرت چاہتے رہنا اور استغفار کو اپنی زبان پر جاری رکھنا ایک بہترین اور بہت زیادہ فضیلت والا عمل ہے۔

قرآن و حدیث میں کئی جگہوں پر استغفار کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا(فائدہ) دے گا ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے کواس کا فضل پہنچائے گا۔(پ11، ھود:3)

مفتی اہل سنت مفتی محمد قاسم عطاری دام ظلہ اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں:اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں کو یہ حکم دیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ گناہ کرنے سے توبہ کرو تو جس نے اپنے گناہوں سے پکی توبہ کی اور اخلاص کے ساتھ رب تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بن گیا تو اللہ تعالیٰ اسے کثیررزق اور وسعت عیش عطا فرمائے گا جس کی وجہ سے وہ امن وراحت کی حالت میں زندگی گزارے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا، اگر دنیا میں اسے کسی مشقت کا سامنا بھی ہوا تو اللہ پاک کی رضا حاصل ہونے کی وجہ سے یہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہو گی۔

توبہ اور استغفار میں فرق:توبہ اور استغفار میں فرق یہ ہے کہ جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے اور پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر نا توبہ ہے۔

قرآن پاک کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی استغفار کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں،ان میں سے 5احادیث درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت کے لئے مجھ پر دو امن(والی آیات) اتاری ہیں، ایک: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔اور دوسری: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33)جب میں اس دنیا سے پردہ کر لوں گا تو قیامت تک کے لئے استغفار چھوڑ دوں گا۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الانفال، 5/56، الحدیث: 3093)

(2) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت و جلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میری عزت و جلا ل کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، 4/59، الحدیث: 11244)

(3) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تواللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، 4/257، الحدیث: 3819)

(4) حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اس شخص کو مبارک ہو جس کے نامہ اعمال میں بکثرت استغفار ہے۔(سنن ابن ماجہ رقم الحديث: 3818، الجامع الصغير رقم الحديث: 3930)

ہمیں بھی اللہ پاک کے حضور اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے اور اخلاص کے ساتھ استغفار کرتے رہنا چاہیے

اللہ کریم ہمارے گناہوں کو معاف کرے، آئندہ گناہوں سے بچنے اور پابندی کے ساتھ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، امین۔


قرآن مجید میں استغفار کے فضائل کو بیان کیا گیا ہے، جیسے کہ قرآن میں ہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱) وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔تم پر شرّاٹے کا مینہ(موسلا دھار بارش) بھیجے گا۔اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔(پ29، نوح10تا12)

استغفار کرنے سے الله تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرماتا اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔

استغفار سے ہم اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور الله کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں جو ایک نیکی اور توبہ کا ابتدائی قدم ہوتا ہے۔

استغفار سے ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی ملتی ہے، جیسے کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے: فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠(۱۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا اور رات کو تمہارا آرام لینا۔(پ26، محمد:19)

استغفار کرنے سے الله ہمارے رزق میں برکت دیتا ہے اور ہماری مشکلات کو دور کرتا ہے۔استغفار کرنے سے ہمارے دل کوسکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور ہمیں دنیا اور آخرت کی خوشیاں دیتا ہے۔

حدیث میں استغفار کی اہمیت: رسول الله (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے بھی استغفار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ان کی ایک حدیث میں آیا ہے: يَا اَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا اِلَى اللہ وَاسْتَغْفِرُوهُ فَاِنِّي اَتُوبُ اِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ (صحیح البخاری)

استغفار کے ایسے کئی فضائل اور فوائد ہیں جو ہماری روحانیت کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں الله کی رضا حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔یہ ہماری زندگی کی بہتری اور اخلاقی تربیت کا اہم حصہ ہوتا ہے اور ہمیں الله کے قریب تر کرتا ہے۔

اللہ پاک توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


پیارے اسلامی بھائیو!اس پرفتن دور میں ارتکاب گناہ بے حد آسان اور نیکی کرنا بے حد مشکل ہو چکا ہے نفس و شیطان اس طرح ہاتھ دھو کر انسان کے پیچھے پڑے ہیں کہ اس کا گناہوں سے بچنا بے حد دشوار ہے لیکن یاد رکھیے! گناہوں کا انجام ہلاکت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ان گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا صرف ایک علاج ہے کہ بندہ کثرت سے توبہ و استغفار کرے جیسا کہ سیدنا اسماعیل حقی علیہ الرحمہ نے فرمایا: اللہ پاک نے تمام مسلمانوں کو توبہ واستغفار کا حکم فرمایا اس لئے کہ انسان فطرتا کمزور ہے باوجود کوشش کے وہ کسی نہ کسی غلطی میں پڑ ہی جاتا ہے۔(روح البیان)

اسی وجہ سے قرآن وحدیث میں استغفار کے کثیر فضائل و فوائد بیان کیے گئے ہیں کیونکہ طبیعت انسانی میں شامل ہے کہ وہ اس چیز کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے جس میں اسے دینی یا دنیاوی فوائد نظر آرہےہوں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کامل و پرہیزگار مومنوں کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتا ہے: كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ(۱۷) وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ رات میں کم سویا کرتے۔اور پچھلی رات اِستغفار کرتے۔ (پ26، الذٰریٰت:17، 18)

اسی طرح بہت سی احادیث میں استغفار کے فضائل و فوائد بیان کیے گئےہیں جن میں سے 5 ملاحظہ کیجئے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔

(1)دلوں کی صفائی کا سبب : حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک تانبے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء (صفائی) استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب التوبۃ، باب ما جاء فى الاستغفار، ج 10 ص220 رقم 17575)

(2)ہر تنگی سے راحت: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالی شان ہے، جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشان دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فى الاستغفار ، ج4 ص257 رقم 3819)

(3)نامہ اعمال خوش کرے:نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد، کتاب التوبہ، باب الاكثار من الاستغفار ج10 میں 347 رقم 17579)

(4)استغفار کرنے والے کے لئے خوشخبری:نبی مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: خو شخبری ہےاس کے لئے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفارکو کثرت سے پائے۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب باب الاستغفار رقم 3818 ج 4 ص2575)

(5) مغفرت کا سبب:نبی رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب ابلیس نے کہا کہ اے اللہ پاک! مجھے تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے جسم میں ر ہیں گی تو اللہ پاک نے فرمایا، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں ان کی مغفرت کرتار ہوں گا۔ (مسند امام احمد، مسند ابی سعید خدری،ج4 ص58 رقم 11237)

استغفار کا حکم:جوں ہی گناه صادر ہو فوراً توبہ و استغفار کر لینا واجب ہے خواہ صغیرہ گناہ ہی کیوں نہ ہو۔(شرح نوری جزء:17، 9/59)

معزز قارئین کرام! استغفار کرنا ایک محمود صفت ہے ہمیں چاہیے کہ کثرت سے استغفار کرتے رہیں ضروری نہیں کہ ہم صرف اسی قت توبہ و استغفار کریں جب ہمیں اپنے کسی گناہ کا پتا چل جائے بلکہ ہمیں چاہیے کہ وقتاً فوقتاً تو بہ واستغفار کرتے رہیں روزانہ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اپنے رب سے بخشش طلب کریں ان شآء الله ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائیاں نصیب ہو ں گیں۔ اللہ پاک ہمیں کثرت سے توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین


انسان سے جب گناہ ہوجائیں،مشکلات پیش آئیں،بیماریاں ہوں بے اولادی ہو الغرض جو بھی مسائل ہوں ان سب کا ایک بہترین حل استغفار کرنا ہے اور استغفار بڑا ہی مجرب عمل ہے استغفار کے بڑے فضائل و فوائد ہیں جی ہاں استغفار نیک اعمال میں اضافہ کا بھی سبب ہے اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی ہے اللہ پاک کی رحمت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے کہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۴۶)ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے شاید تم پر رحم ہو۔(پ19، النمل:46)

ہمارے پیارے اور آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کثرت سے استغفار کرنے کی ترغیب بھی دلائی ہےاور اس شخص کی آپ نے تعریف فرمائی ہے جس کے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت ہو، جیسا کہ ایک حدیث شریف میں ہے: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًایعنی خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو اپنے اعمال نامہ میں بہت زیادہ استغفار پائے ۔(ابن ماجہ، کتاب الآداب،باب الاستغفار، حدیث نمبر 3818)

آئیے! احادیث کی روشنی میں چند اور فضائل پڑھتے ہیں تاکہ ہم بھی اس پر عمل کرکے استغفار کی برکات حاصل کرسکیں۔

(1) قال رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منْ لَزِم الاسْتِغْفَار جَعَلَ اللہ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مخْرجًا ومنْ كُلِّ هَمٍّ فَرجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ یعنی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، حدیث نمبر3819)

(2)وَعَنْ اَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَاْوِي إِلٰى فِرَاشِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَاَتُوبُ اِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللہ لَهٗ ذُنُوبَهٗ وَاِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ اَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالَجٍ اَوْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ اَوْ عَدَدَ اَيَّامِ الدُّنْيَا یعنی ہمارے پیارے اور آخری نبی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جو اپنے بستر پر جاتے وقت یہ کہہ لے میں اس اللہ سے معافی مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں (تین بار کہے)تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ سمندر کے جھاگ یا ریگ رواں(اڑنے والی ریت) یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔(مرآۃ المناجیح، جلد 4 حدیث نمبر 2404)

(3) وعنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منْ قَالَ اَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لاَاِلَهَ اِلاَّ هُو الحيَّ الْقَيُّومَ واَتُوبُ اِلَيهِ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ واِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ یعنی رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔(سنن ابو داؤد، باب فی الاستغفار، حدیث نمبر 1517)

(4)حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے انسان! جب تک تومجھ سے دعا کرتا اور امید رکھتا رہے گا میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا، چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں،پھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے پاس لے کر آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے ا س کے برابر بخش دوں گا۔(ترمذی، ابواب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ، والاستغفار۔۔۔حدیث نمبر 3556)

(5)ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کے بدلے میں نیکی:مَنِ استغفَر للمؤمنين والمؤمناتِ كتَب اللهُ له بكلِّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ حسنةً یعنی حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کرے گا اللہ پاک اس کے لیے ہر مومن مرد اور ہر عورت کے بدلے میں ایک نیکی لکھے گا۔(مجمع الزوائد، جلد 21 صفحہ نمبر 103)

اللہ پاک ہمیں خوب استغفار کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حضرت سیدنا علقمہ اور حضرت سیدنا اسود رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن پاک میں یہ آیتیں ایسی ہیں کہ اگر گنہگار ان کی تلاوت کرکے رب العالمین سے معافی طلب کرے تو اس کی مغفرت کردی جائے۔ان میں سے دو درج ذیل ہیں:

(1)وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں۔(پ4، الِ عمرٰن:135)

(2)وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۱۰)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کوئی بُرائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔(پ5، النسآء:110)

استغفار کی کثرت: جو استغفار کی کثرت کرے گاالله عز وجل اُس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا ، ہر تنگی سے اس کے لئے نجات کی راہ نکالے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہ ہوگا۔(سنن ابی داؤد ،حدیث 1518)

جنت میں درجہ:الله عز و جل جنت میں بندے کو ایک درجہ عطا فرمائے گا،بندہ عرض کرے گا: اے مولیٰ پاک! یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟ الله پاک ارشاد فرمائے گا:اس استغفار کے بدلے جو تیرے بیٹے نے تیرے لئے کیا۔ (مسند امام احمد،حدیث:10615)

دل میں چمک اور جلا کا پیدا ہونا:رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب مومن گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے اور بخشش طلب کرے تو دل میں چمک اور جلا پیدا ہو جاتی ہے۔(مسند امام احمد، 3/ 154، حدیث 7957)

نامہ اعمال خوش کرے: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے ۔(مجمع الزوائد،10/347 حدیث 17579)

مغفرت طلب کرنا: ایک شخص جس نے کبھی نیکی نہ کی تھی ایک روز آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کہے گا۔بے شک میرا ایک پروردگار ہے، اے میرےالله عز وجل!میری مغفرت فرما ، الله عز و جل نے ارشاد فرمایا: میں نے تجھے بخش دیا۔(موسوعہ الامام ابن ابی الدنیا حدیث106)