استغفار کے بہت سے فضائل ہیں استغفار کرنے سے بندہ گناہ سے بچتا ہے استغفار کی کثرت ہونی چاہیے استغفار کے متعلق بہت سی احادیث ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

آیت مبارکہ استغفار کے با رے میں جسں کا مفہوم یہ ہے ۔ اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش ما نگ رہے ہے۔

(1) رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو تم سب گناہ گار ہو مگر جیسے میں نے بچایا۔لہذا مجھ سے مغفر ت کا سوال کرو میں تمہاری مغفرت فرما دوں گا تم میں سے جس نے یقین کر لیا کہ میں بخش دنیے پر قادرہوں پھر مجھ سے میری قدرت کے وسیلہ سے استغفار کیا تو میں اس کی مغفرت فرما دوں گا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزہر باب ذکر التوبۃ، رقم 425،ج4،ص495)

(2) دل کی صفائی کا سبب:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے خاتم المرسلین حضور کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا۔بیشک تانبے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء یعنی صفائی استغفار کر نا ہے ۔ (مجمع الزوائد، کتاب التوبہ، باب ماجاء فی الاستغفا ر، رقم 17575، ج 10 ص 495)

(3) زرق کی کشادگی کا سبب: حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ار شا د فرمایا جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ تعالیٰ اس کی ہر پریشانی دور فرما دے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرما کے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔ ( ابن ماجہ ، کتا ب الآ دا ب ، با ب استغفار، رقم: 3819 ، ج 4، ص 257)

(4) نامہ اعمال خوش کرئے گا: حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فر ما یا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے اس کو چاہیے۔کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزروالہ، کتاب التوبہ، باب الاكثار من الاستغفارر قم 17579، ج107 ، ص 347)

(5) سترہ مرتبہ استغفار کرنے کا ثواب: حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہے حضور کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک سفر کے موقع پر ارشاد فرمایا۔استغفار کرو تو ہم استغفار کرنے لگے۔پھر فرمایا، اسے سترہ مرتبہ پورا کرو جب ہم نے یہ تعداد پوری کردی تو حضور کریم نے ارشاد فرمایا جو آدمی یا عورت اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں سترہ مرتبہ استغفار کر تاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گناہ معاف فرما دیتا ہے اور بے شک جو شخص دن یارات میں سات سو سے زیادہ گناہ کرے وہ بڑا بد نصیب ہے۔(بیہقی شعب الایمان، باب فی محبۃ الله، فصل فی ادامہ ذکر اللہ پاک رقم 252، جلدا ص (442)


استغفار کے فضائل و فوائد استغفار کے لغوی معنی مغفرت طلب کرنا ہے۔اور ماضی کے گناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے۔استغفار کے متعلق قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔(پ3، ال عمرٰن:17)

(1) رزق میں برکت کا نسخے :

حدیث مبارکہ میں ہے جو استغفار کی کثرت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ہر پریشانی دور کرے گا ہر تنگی سے اس کی نجات کی راہ نکالے گا ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔(سنن ابوداؤد اور کتاب الوترج ۲ صفحہ١٢٢)

(2) زبان کی ہلاکت سے بچنے کیلئے استغفار:حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سخت کلامی کیا کرتا تھا۔ایک دن بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میری زبان میرے لیے جہنم کا باعث نہ بن جائے یہ سن کر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تم استغفار کیوں نہیں کرتے میں تو روزانہ 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔(سنن الدارمی کتاب الوتر ج ۲، ص ۱۲۱ )

(3)گناہوں کی کثرت پر استغفارکی کثرت: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا معافی مانگنے والا گناہ پر اڑا رہنے والا نہیں اگر چہ دن میں 70 بار گناہ کرے۔(سنن ابوداؤد اور کتاب الوتر ج ۲ ،ص ۱۲۱)

(4)اللهم اغفر لی کہنے کی فضیلت: حضور اکرم صلی اللہ علیہ سلام نے فرمایا جب کوئی گناہ کر بیٹھے پھر کہے اللہہم اغفرلی تو اللہ پاک فرماتا ہے میرے بندے سے گناہ ہو گیا اور وہ جانتا ہے اس کا رب بھی ہے جو گناہ پر پکڑ فرماتا ہے۔اور بخش بھی دیتا ہے۔(اے بندے جو چاہے کر میں نے تیری بخشش فرمادی) ۔ (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، ص ١٤٧٤)

(5)حدیث قدسی میں استغفار کی فضیلت:حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :رب پاک فرماتا ہے اے بندو تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جسے میں محفوظ رکھوں، لہٰذا مجھ سے مغفرت کا سوال کرو میں مغفرت فرمادوں گا جو یہ جان لے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں تو میں اس کی مغفرت فرما دوں گا اور مجھے کچھ پروا نہیں۔ (سنن الترمذى كتاب صفۃ القيامۃ، ص۔۲۲۲، ج ٤) 


ارادہ سے خدا کی مغفرت طلب کرنے کا عمل ہے جو قرآن و سنت کے روشن مناظر سے ایک بہت اہم عبادت ہے۔یہاں کچھ قرآنی آیات اور حدیثوں کے ذریعے استغفار کے فضائل اور فوائد پر غور کرتے ہیں:

(1) خوشخبری!

حضرت عبدُ اللہ بن بُسْر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفار کو کثرت سے پائے۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3818)

(2)مِنٹوں میں چار خَتمِ قرآنِ پاک : حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے مصطفٰے جانِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے: جو بعدِ فجر بارہ مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورۃ) پڑہے گا گویا وہ چار بار (پورا) قرآن پڑہے گا اور اس دن اس کا یہ عمل اَہلِ زمین سے افضل ہے جبکہ وہ تقویٰ کا پابند رہے۔(شعب الایمان، 2/501، حدیث: 2528)

(3) آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں: حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: جس بندے نے اِخلاص کے ساتھ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ کہا تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔(ترمذی، 5/340، حدیث: 3601)

(4) سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے کا ثواب: حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دِلنَشِین ہے: جس کے لئے رات میں عبادت کرنا دُشوار ہو یا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں بُخْل سے کام لیتا ہو یا دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرتا ہو تو وہ سُبْحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِهٖ کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللہ پاک کو اپنی راہ میں سونے کا پہاڑ صَدَقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔(مجمع الزوائد، 10/112، حدیث: 16876)

(5)شیطان سے مَحفوظ رہنے کا : سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے: جس نے نمازِ فجر ادا کی اور بات کئے بغیر قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (پوری سورت) کو دس مرتبہ پڑھا تو اُس دِن میں اُسے کوئی گُناہ نہ پہنچے گا اور وہ شیطان سے بچایا جائے گا۔(تفسیر در منثور،پ 30، الاخلاص، تحت الآیۃ: 1، 8/678)

نماز کے بعد پڑھنے کے مزید اَوراد مکتبۃُ المدینہ کی کتاب بہارِ شریعت حصہ 3، صفحہ 107 تا 110 پر، الوظِیفَۃُ الکریمہ اور شجرۂ قادریہ میں مُلاحظہ فرما لیجئے۔

(6) پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات: حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)

(7)دِلوں کے زَنگ کی صفائی: حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین، محبوبِ ربُّ العالَمِین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے: بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جِلاء (یعنی صفائی)اِستِغْفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)

(8) پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات : حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)

(9) خوش کرنے والا اعمال نامہ : حضرت زُبیر بن عوّام رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ مکرم، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مَسرَّت نشان ہے: جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ اس میں اِستِغفارکا اضافہ کرے۔ (مجمع الزوائد، 10/347، حدیث: 17579)

(10)ننانوے بیماریوں کے لیے دَوا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ احمدِ مُجتبیٰ، محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے لَاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَاِلَّا بِاللہ کہا تو یہ (اُس کے لئے) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اِن میں سب سے ہلکی بیماری رَنج و اَلَم ہے۔(الترغیب و الترہیب، 2/285، حدیث: 2448 )

توبہ اور استغفار میں فرق: یہ ہے کہ جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے اور پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر نا توبہ ہے۔ (صراط الجنان جلد 4 پارہ 11 سورہ ہود آیت نمبر 3)


انسان دنیا میں بے شمار گناہ کرتا رہتا ہےخواہ وہ چھوٹا یا بڑا گناہ ہو لیکن اللہ پاک کی رحمت اتنی وسعی ہے کہ اللہ پاک ہم لوگوں کو استغفار کی دولت عطا فرماتا ہے لہٰذا یہاں حدیث کی روشنی میں استغفار کے فضائل و فوائد بیان کئے جائیں گے

حدیث کی روشنی میں استغفار کے فضائل و فوائد:

استغفار کی نصیحت: حضرتِ سَیِّدُنا اَغَربِنْ یَسَارمُزَنِی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ100 مرتبہ اللہ پاک کے حضور توبہ کرتا ہوں۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:1 ، حدیث نمبر:14)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان: ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک کی قَسَم!میں ایک دن میں 70مرتبہ سے بھی زیادہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ وا ِستِغفَار کرتا ہوں۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:1 ، حدیث نمبر:13)

گناہ پر استغفار:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس شخص نے اپنے گناہ پر استغفار کیا اس نے اپنے گناہ پر اصرار نہیں کیا اگرچہ وہ دن میں ستر بار گناہ کرے۔(ترمذی، ابوداؤد)

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کریں تو خوش ہوں اور برائی کریں تو استغفار کریں۔(ابن ماجہ، بیہقی)

گناہ کا سیاہ نقطہ: حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کرلیتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل اس نقطہ سیاہ سے صاف کردیا جاتا ہے اور اگر زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے پس یہ ران یعنی زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان: کوئی نہیں بلکہ اُن کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ (پ30، المطففین: 14) اس روایت کو احمد، ترمذی، ابن ماجہ نے نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ان احادیث نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطالعہ کے بعد ہمیں یہ سبق ملا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استغفار کے فضائل و فوائد کا بہت بڑا مرتبہ رکھا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں گناہ سے معافی اور استغفار کرکے گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔


انسان دنیا کے اندر مختلف کاموں کو سرانجام دیتا ہے اللہ پاک کے نیک بندے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فرمانبرداری میں اپنی زندگی گزارتے ہیں اور جبکہ دیگر گنہگار لوگ اللہ پاک کی نافرمانی اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکام کو بجا نہیں لاتے اس طرح وہ اپنی زندگی گناہوں میں گزار رہے ہوتے ہیں لیکن ان گنہگار بندوں میں سے کچھ لوگوں کو اللہ پاک کی توفیق سے توبہ اور استغفار کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔

یاد رہے استغفار کے فضائل احادیث میں کثیر آئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

استغفار کی فضیلت پر فرمانِ مصطفیٰ:

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: وَاللہِ اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً ترجمہ:خدا کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ (مشکاۃ المصابیح،ج1،ص434، حدیث:2323)

گناہ آسمان تک: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائے پھر تم توبہ کرو تب بھی اللہ پاک تمہاری توبہ قبول فرما لےگا۔ (سنن ابنِ ماجہ،ج4،ص49 حدیث)

روزانہ سو بار استغفار: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث روایت کی کہ وہ فرمائے: میں روزانہ سو بار استغفار کرتا ہوں۔(صحیح بخاری حدیث نمبر ٦٩٩٦)

خطاکاروں میں بہتر: رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : سارے انسان خطاکار ہیں اور خطاکاروں میں سے بہتر وہ ہے جو توبہ کرلیتے ہیں۔ (سنن ابنِ ماجہ،ج4،ص491،حدیث)

مشکلات سے نجات :رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ استغفار کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے بہترین رزق اور راحت دیتا ہے اور اس کو مشکلات سے نجات دیتا ہے۔(سنن الترمذی حدیث نمبر ٣٤٨٢)

استغفار کرنے سے دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔حضرت نوح علیہ السّلام نے اپنی قوم کی سلامتی اور رحمت کیلئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا، جس سے ان کو بحر میں تنہائی سے بچنے کا نجات بخش واقعہ پیدا ہوا۔(قرآن، سورة نوح)

استغفار کے فوائد:

(1) اللہ پاک توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

2)جو اِستغفار کو لازم کرلے اللہ پاک اس کی تمام مشکلوں میں آسانی، ہرغم سے آزادی اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔

3)اِستغفار سے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔

4)جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم لکھنے والے فرشتوں کواس کے گناہ بُھلادیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


انسان دنیا کے اندر مختلف کاموں کو سرانجام دیتا ہے اللہ پاک کے نیک بندے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فرمانبرداری میں اپنی زندگی گزارتے ہیں اور جبکہ دیگر گنہگار لوگ اللہ پاک کی نافرمانی اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکام کو بجا نہیں لاتے اس طرح وہ اپنی زندگی گناہوں میں گزار رہے ہوتے ہیں لیکن ان گنہگار بندوں میں سے کچھ لوگوں کو اللہ پاک کی توفیق سے توبہ اور استغفار کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔

یاد رہے استغفار کے فضائل احادیث میں کثیر آئیں ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

استغفار کی فضائل اور فوائد احادیث کی روشنی میں ذکر کرتے ہیں:

استغفار کی فضیلت ہے کہ یہ انسان کو اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس کی روحانیت کو بلند کرتا ہے۔

مشکلات سے نجات :رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ استغفار کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے بہترین رزق اور راحت دیتا ہے اور اس کو مشکلات سے نجات دیتا ہے۔(سنن الترمذی حدیث نمبر ٣٤٨٢)

مغفرت : رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہ جو کوئی استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے مغفرت فراہم کرتا ہے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر ٢٧٤٩)

روزانہ سو بار استغفار: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث روایت کی کہ وہ فرمائے: میں روزانہ سو بار استغفار کرتا ہوں۔(صحیح بخاری حدیث نمبر ٦٩٩٦)

استغفار کا عمل ایک اہم اسلامی عبادت ہے جو روزانہ کی عبادت میں شامل کیا جا سکتا ہے اور اس سے انسان کی روحانیت اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں بڑھتی ہیں۔

استغفار کرنے سے دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔حضرت نوح علیہ السّلام نے اپنی قوم کی سلامتی اور رحمت کیلئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا، جس سے ان کو بحر میں تنہائی سے بچنے کا نجات بخش واقعہ پیدا ہوا۔(قرآن، سورة نوح)

فوائد:

(1) روزانہ استغفار کرنے سے انسان کی دنیا و آخرت کی مشکلات کم ہوتی ہیں اور نیکیوں کی ترقی ہوتی ہے۔

(2) استغفار کا عمل ایک ایمانی عبادت ہے جو اللہ کی مغفرت اور رضا کی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

(3) استغفار کرنے سے انسان کی دنیا و آخرت میں برکتیں آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی برسات ہوتی ہے۔

(4) اسلامی تعلیمات کے مطابق، استغفار کرنے سے انسان کی دنیا و آخرت میں بڑی بھلاائیاں آتی ہیں اور احادیث کی روشنی میں یہ اہم عبادتی عمل کی توجیہ کی گئی ہے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے پناہ احسان ہے کہ اس نے انسان کو تمام مخلوق پر فضیلت دی ہےاور انسان کو یہ نعمت عطا فرمائی کہ اگر انسان سے کوئی خطا و غلطی ہو جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ انسان پر نظر کرم فرما کر اس کی خطا کو معاف فرما دیتا ہے۔اس کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو استغفار کی نعمت عطا کی ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے گناہوں کا مداوا کر سکے۔استغفار کی فضیلت کے حوالے سے چند احادیث بیان کی جائینگی۔

(1) حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ بندہ جب تک اِستغفار کرتا رہتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔(اخرجہ احمد فی احادیث فضالہ بن عبید برقم23434)

(2) نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات میں جاگتے تو دس بار تکبیر دس بار حمد کہتے اور دس بار سُبْحٰنَ الله وَبِحَمْدِہٖ دس بار سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ کہتے دس بار استغفار پڑھتے اور دس بار کلمہ پھر دس بار کہتے الٰہی میں دنیا اور قیامت کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر نماز شروع کرتے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1216)

(3) رسولﷲصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میرے دل پر پردہ آتا رہتا ہے حالانکہ میں دن میں سو بار استغفار پڑھتا ہوں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2324)

(4) حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی ہے کہ آپ نے فرمایا طریقہ دعایہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے مقابل یا اُن تک اٹھاؤ اور طریقہ استغفار یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو اور عاجزی، زاری طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ خوب پھیلادو اور ایک روایت میں فرمایا کہ زاری یوں ہے اپنے ہاتھ اٹھائے ہاتھوں کی پیٹھ چہرہ انورکے سامنے ہو۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2256)

(5) حضرت ثوبان رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور کہتے الٰہی تو سلام ہے تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلالت اور بزرگی والے۔(المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:961)

استغفار کا مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے۔مگر اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے گناہوں پر بندہ نادم و شرمندہ ہو۔لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ مخلص ہو کر توبہ کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو عمل خیر کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


استغفار کے لفظی معنی ہیں گناہوں کی معافی مانگنا، حق تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنا۔

گناہوں سے تو بہ کرنے والا: سرکار عالم نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہو۔(السنن الکبری، کتاب الشہادات، باب شہادۃ القاذف رقم 20561،ج10،ص،259)

دلوں کی صفائی: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء (یعنی صفائی) استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد 10،346، حدیث: 17515)

استغفار کرنے کی فضیلت: حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول الله صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس نے استغفار کو لازم پکڑ لیا، تو الله پاک اس کی تمام مشکلوں میں آسانی، ہر غم سے آزادی اور بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، رقم: ۱۵۱۸ ، ج۳،ص122)

خطا کاروں میں بہتر: حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سارے انسان خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں سے بہتر وہ ہے جو توبہ کرلیتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الزهد، باب ذکر التوبہ، رقم 4251 ج،6،ص،491)

فرشتوں کو گناہ بھلا دینا : حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب بندہ اپنے گنا ہوں سے توبہ کرتا ہے تو الله عز وجل لکھنے والے فرشتوں کو اس کے گناہ بھلا دیتا ہے۔(الترغيب والترهيب، کتاب التوبہ والزهد، باب الترغيب فى التوبۃ، رقم ۱۷، ج 4 ص،48)

نامہ اعمال خوش کرے : فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(اربعین عطار، ص، 35)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں بھی توبہ و استغفار کرنے اور گنا ہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)


(1) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے بیشک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلا ء (یعنی صفائی) استغفار کرنا ہے ہمیں چاہئے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے ۔ (مجمع الزوائد 346/10)

(2) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا (ابن ماجہ 257/4 )

(3) حضرت ز بیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔( مجمع الزوائد 10/حدیث 17579 )

(4) حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ۔حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ خوش خبری ہے اس کے لیے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار کو کثرت سے پائے( ابن ماجہ )

(5) حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ سید استغفار یہ ہے: اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی و انا عبداللہ و انا علی عھدک و وعدک ما استطعت اعوذ بک من شر ما صنعت ابوء لک بنعمتک علی ابوء بزنبی فاغفرلی فانہ لا یغفر الزنوب الا انت ترجمہ جس نے اسے دن کے5 وقت ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کے وقت اسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے ۔(بخاری، 190/4 ،حدیث: 6306)

حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا رات کو عبادت کرنا کیا ہی نرالا انداز تھا اور حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے وظائف میں استغفار میں بھی کثرت کیا کرتے تھے اور ہمیں بھی چاہیے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے تاکہ جب ہم دنیا سے رخصت ہوں تو گناہوں سے پاک صاف ہو کر جائے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنے والا بنا دے۔ امین


اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیث پاک میں آتا ہے :

حدیث 01: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/۲۵۷، الحدیث: ۳۸۱۹)

حدیث 02: حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا: استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو:

اللہمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اَنْتَ، خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ، وَ اَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْئُ بِذَنْبِی،فَاغْفِرْلِی، فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ یعنی الٰہی تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں، مجھے بخش دے تیرے سوا گناہ کوئی نہیں بخش سکتا۔

حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جو یقینِ قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقینِ دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا۔ (بخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، ۴/۱۸۹، الحدیث: ۶۳۰۶)

استغفار کے دینی و دنیاوی فوائد:

اولاد کے حصول،بارش کی طلب،تنگدستی سے نجات اور پیداوار کی کثرت کے لئے استغفار کرنا بہت مُجَرَّبْ قرآنی عمل ہے۔اسی سلسلے میں یہاں ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت ِامامِ حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت امیر ِمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر ِمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے ہاں کوئی اولاد نہیں، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ پاک مجھے اولاد دے۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: استغفار پڑھا کرو۔اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ استغفار پڑھنے لگا، اس کی برکت سے اس شخص کے ہاں دس بیٹے ہوئے ۔

جب یہ بات حضرت امیر ِمعاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرتِ امام حسن رضی اللہ عنہ سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل حضور نے کہاں سے فرمایا۔دوسری مرتبہ جب اس شخص کو حضرتِ امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا۔حضرتِ امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کا قول نہیں سنا جو اُنہوں نے فرمایا: وَ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ اور حضرت نوح عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کا یہ ارشاد نہیں سنا: یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ۔(مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۵۰۲)

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں توبہ و استغفار کی توفیق نصیب فرمائے۔


خدائے حنان ومنان پاک کا ہم گناہ گاروں پر کڑور احسان کہ اس نے ہمیں نبی آخر الزمان، شہنشاہِ کون و مکان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امت میں پیدا فرمایا، کروڑوں درود و سلام ہوں اس نبی رحمت، شفیع امت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کہ جن کے صدقے ہم پر توبہ و استغفار کے دروازے ایسے کھلے کہ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو اُس وقت تک کی گئی ہر سچی توبہ قبول ہے۔اگر رب کر یم کا یہ احسان عظیم نہ ہوتا تو تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہوتی۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں توبہ واستغفار کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔(پ30،النصر: 3) مغفرت کے پانچ حروف کی نسبت سے استغفار کرنے کے 5 فضائل:

(1)دلوں کے زنگ کی صفائی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین، محبوب رب العالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان دلنشین ہے: بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہےاس کی جلاء (یعنی صفائی) استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)

(2)پریشانیوں اور تنگیوں سے نجات:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محبوب رب ذوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہ ہو گا۔ (ابن ماجہ، 257/4، حدیث: 3819)

(3)خوش کرنے والا اعمال نامہ: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مسرت نشان ہے: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد، 347/10، حدیث: 17579)

(4) خوشخبری: حضرت عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار کوکثرت سے پائے۔(ابن ماجہ، 4/257، حدیث: 3818)

(5) سید الاستغفار پڑھنے والے کے لئے جنت کی بشارت: حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ یہ سید الاستغفار ہے: اللہمَّ اَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَى أَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِى فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ جس نے اسے دن کے وقت ایمان ویقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کے وقت اسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔ (بخاری،190/4، حدیث: 6306)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت کے ساتھ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ایسے پرفتن حالات میں کہ ارتکاب گناہ بے حد آسان اور نیکی کرنا بے حد مشکل ہو چکا ہو اور نفس و شیطان ہاتھ دھو کر انسان کے پیچھے پڑے ہوں، انسان کا گناہوں سے بچنا بے حد دشوار ہے۔لیکن یادرکھئے! گناہوں کا انجام ہلاکت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا! اس سے پہلے کہ پیامِ اجل آن پہنچے اور ہم اپنے عزیز و اقرباء کوروتا چھوڑ کر اور دنیا کی رونقوں سے منہ موڑ کر، قبر کے ہولناک اور تاریک گڑھے میں ہزاروں مُردوں کے درمیان تنہا جا سوئیں، ہمیں چاہئے کہ ان گناہوں سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر کریں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے پروردگار رب پاک کی بارگاہ میں پکی و سچی استغفار کریں کیونکہ پکی و سچی استغفار ایسی چیز ہے جو ہر قسم کے گناہ کو انسان کے نامہ اعمال سے دھو ڈالتی ہے اور جب تک ہم سچے دل سے استغفار نہیں کرے گے تو ہم ہرگز ہرگز گناہوں سے نہیں بچ سکیں گےسچی استغفار یہ نہیں ہے کہ ہمارے دل میں اس کام کے کرنے کا ارادہ ہوں جبکہ زبان سے ہم استغفار کر رہے ہوں یہ تو ایسے ہوگا جیسا کہ ہم کسی سے مذاق کرتے ہے اور اسے کہتے ہے کہ میں یہ چیز آپ کو دےدوں گا جبکہ وہ چیز ہم نا تو اسے دیناچاہتے ہے اور نا ہی اسے دیتے ہے تو سچی استغفار کے لیے ہمیں زبان کی بنسبت دل سے پکاارادہ کرنا زیادہ ضروری ہے آیئے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرمان سنتے ہے اور سمجھتے ہے کہ استغفار کتنی ضروری ہے ہمارے لیے:

مسند احمد میں حضرت علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سےروایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ مومن گناہ کرتا ہے پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے۔کھڑا ہوتا ہے نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ (ابوداؤد۔ترمذی۔نسائی ابن ماجہ)

اسی طرح ایک اور مقام پہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ شیطان نے عرض کیا کہ یارب پاک! تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں گی۔رب پاک نے فرمایا کہ مجھے اپنی عزت و جلال اور بلند درجہ کی قسم میں ان کی مغفرت (بخشش) کرتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔(مشکوۃ۔احمد)

تو میرے عزیز! دیکھ خالق کا ئنات رب العزت کو اپنے بندوں کا راہ راست پر قائم رہنا اور ابن آدم کی اخروی زندگی کیلئے کامیابی کس قدر عزیز ہے۔کہ شیطان کے بہکاوے اوراندیشوں کے علاج کیلئے خود ہی نسخہ تجویز فرمادیا اور شیطان کے چیلنج کا حل فرمادیا کہ خواہ شیطان جتنا بھی بہکاتا جائے اور بندہ اس کے جال میں پھنس کر جس قدر بھی گناہوں میں پڑ جائے مگر جب بھی وہ استغفار کرے گا سچے دل سے تو اللہ پاک اس کو بخش دےگا۔ایک اور مقام پہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

وَعَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طوبى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اِسْتِغْفَارًا كَثِيرًا۔رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهُ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ فِي عَمَلِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ۔

ترجمہ:روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔ (ابن ماجہ) اور نسائی نے اس حدیث کو دن رات کے عمل میں روایت کیا۔اور اسی طرح اگر ہم آج اپنی زندگی کے بارے میں سوچیں تو ہمیں پریشانیاں ہی پریشانیاں نظر آتیں ہیں کہیں پہ رزق کی تو کہیں پہ کسی اور کا کوئی غم وغيرہ اور ان تمام کو ہم حل تو کرنا چاہتے لیکن ہم دنیاوی طور پر ہی کوشش کرتے ہیں دنیا کے اسباب کو اختیار کرتے ہے لیکن ہم دین میں نہیں دیکھتے جبکہ دین میں یہ سب کچھ موجود ہے، غم سے نجات پانے رزق کی پریشانی کو دور کرنے کے متعلق حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کیا ارشاد فرمایا!

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔رَوَاهُ أَحمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهُ۔

ترجمہ: روایت ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے:آپ فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو استغفار کو اپنے پر لازم کرلے تو اللہ پاک اس کے لیے ہر تنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔ (احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ۔ مراة المناجیح، ج3 ،حدیث نمبر: 2339)

وَعَنِ الأَعَةِ الْمُرْنِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيْغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ۔رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔ترجمہ: روایت ہے حضرت اغر مزنی سے فرماتے ہیں فرمایار سول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ میرے دل پر پردہ آتارہتا ہے حالانکہ میں دن میں سو بار استغفار پڑھتا ہوں۔ (مسلم۔مراة المناجیح،ج3)

قرآن پاک اور احادیث میں اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار کے تاکیدی احکام موجود ہیں اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے احادیث کے ذریعہ مومنین کو رغبت بھی دلائی گئی ہے۔حالانکہ انبیاء کرام معصوم عن الخطا ہوتے ہیں یعنی ان سے کوئی گناہ نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود امت کیلئے رؤف و رحیم ہونے کے سبب مومنین کو رغبت دلانے کیلئے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں دن میں سودفعہ استغفار کرتا ہوں تم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور استغفار کرو۔

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مومنین کی فلاح و بہبود اور مغفرت کس قدر عزیز ہے۔اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنی چاہیے اور پھر اس کے بعد کثرت سے استغفار کرتے رہا کریں تا کہ بہ تقاضائے بشریت روز مرّہ وقوع پذیر ہونے والے چھوٹے بڑے گناہ معاف ہوتے رہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتار ہے۔

وَعَنْ شَرِيقِ الْهَوْزَنِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىٰ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا: بِمَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللہ عَشْرًا وَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا» وَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» عَشْرًا وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا وَهَلَّلَ عَشْرًا ثُمَّ قَالَ: «اللہمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» عَشْرًا ثم يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ۔رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ترجمہ: روایت ہے حضرت شریق ہوزنی سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب رات میں جاگتے تھے تو ابتداء کس چیز سے کرتے تھے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وہ چیز پوچھی جو تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہ پوچھی۔جب حضورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات میں جاگتے تو دس بار تکبیر دس بار حمد کہتے اور دس بار سُبْحَنَ الله وَبِحَمْدِهِ دس بار سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ کہتے دس بار استغفار پڑھتے اور دس بار کلمہ پھر دس بار کہتے الٰہی میں دنیا اور قیامت کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۳ پھر نماز شروع کرتے۔(ابوداؤد۔ مراة المناجیح ،ج 2، حدیث نمبر: 1216)

اب دیکھے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا رات کو عبادات میں مشغول ہونے کا کیا ہی نرالہ انداز ہے لیکن اس میں آپ دیکھے تو پتا چلتا ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استغفار کو بھی اپنے وظاٸف میں شامل کیا ہوا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم یہ تمام تو نہیں کر سکتے لیکن کم از کم استغفار ہی کر لے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کر لے تاکہ ہم پاک و صاف ہوجائے گناہوں سے۔

وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: اللہمْ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ ۔رَوَاهُ مُسْلِم

ترجمہ:روایت ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور کہتے الٰہی تو سلام ہے تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلالت اور بزرگی والے ۔ (مسلم۔ مراة المناجیح، ج 2)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ استغفار کرنے کی توفيق نصیب فرمائے اور ہمیں تمام گناہوں سے بچتے رہنے کی توفيق عطإ فرمائے،ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے۔آمین