دین اسلام کی یہ خوبصورتی ہے کہ اسلام نے ہر ایک کے حقوق کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے جہاں اسلام نے والدین کے بہن بھائیوں کے اساتذہ کے حقوق کو بیان کیا وہیں ایک عورت کے لئے اس کی زندگی میں اس کے شوہر کا کیا حق ہے ان حقوق کو بھی بڑے احسن انداز میں بیان کیا ،اس طرح کے کئی حقوق ہیں جنہیں اللہ پاک نے خود قرآن کریم میں بیان کر کے شوہر کی تعظیم اور عظمت کو واضح کر دیا ہے۔

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤاور انہیں مار و ۔(پ5،النسآء:34)

شوہر کے حقوق درج ذیل ہیں:

(1) پہلا حق یہ کہ شوہر کو اپنی ازدواجی تعلقات کو قائم کرنے سے نا روکنا یہ بھی شوہر کا حق ہے جس کی تائید ہمیں پیارے آقا صَلَّی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس فرمان سے ملتی ہے کہ میرے آقا نے ارشاد فرمایا جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت کے لئے بلائے تو وہ فوراً اس کے پاس آ جائے اگرچہ تنّور پر ہو۔ (ترمذی،ج2،ص386، حدیث: 1163)

تو یہ حق ہمیں حدیث سے ملتا ہے کہ چاہے بیوی کتنا ہی مصروف کیوں نا ہو اگر شوہر اسے بلائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ تمام کام چھوڑ کر شوہر کے حکم کی تعمیل کرے ۔

(2) دوسرا حق شوہر کا یہ ہے کہ بیوی ہمیشہ شوہر سے راضی رہے اور اس بات کا خیال رکھے کہ شوہر میری کسی وجہ سے ناراض نا ہو اور میرا ایسا رویہ نا ہو کہ جس سے شوہر کی دل آزاری ہو اس کی تائید میں میرے آقا نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ فرمان ہے کہ میرے آقا نے ارشاد فرمایا جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی ۔ (ترمذی، ج2،ص386، حدیث: 1164)

تو ان احکام الٰہی اور رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل کرتے ہوئے ہر عورت کو چاہئے اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کرے ہر اس کام کی جسے شریعت نے منع نا کیا ہو تعمیل کرے۔

اسی طرح سے میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک بڑی پیاری بات فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرمائی کہ عورت کا اپنے شوہر کےلئے گہنا (زیور)پہننا، بناؤ سنگارکرنا باعثِ اجر ِعظیم اور اس کے حق میں نمازِ نفل سے افضل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج22،ص126)

تو یہاں سے عورت کو ایک بات سمجھنی چاہئے کہ عورت کا سجنا صرف اور صرف اپنے شوہر کے لئے ہونا چاہئے اور اسے دل میں یہ نیت کرنی چاہئے کہ میرے اس عمل سے میرا شوہر راضی ہوگا جب عورت اپنے شوہر کے دل میں خوشی داخل کرنے کی نیت سے یہ تمام کام بجالائی گی تو یقیناً اسے نفل نماز پڑھنے سے بھی زیادہ اجر ملے گا ۔

آخر میں ایک نصیحت عقل مند عورت اپنے شوہر کو بادشاہ بنا کر اس کی ملکہ بن کر راج کرتی ہے اور جب کہ کم عقل عورت اپنے شوہر کو غلام بنا کر ایک غلام کی بیوی بن کر زندگی گزار دیتی ہے

خلاصہ: اگر عورت ان تمام امور کو اپنا کر شوہر کی عزت کرے اور شوہر کے تمام حقوق ادا کرے تو زوجین کی زندگی گلاب کی طرح مہک اٹھے گی اللہ پاک ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔


اﷲ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور ان کی خوشحال زندگی کے لیے جوڑے بنائے ،دنیا میں عظیم ترین جوڑا مرد اور عورت کا ہے۔جو نکاح کے بندھن سے جُڑ جانے کے بعد شوہر اور بیوی کے نام سے مشہور ہوتے ہیں۔جس طرح ا ﷲ تبارک‌وتعالیٰ نے ہر جوڑے کے دوسرے جوڑے پر حقوق رکھے ہیں اسی طرح بیوی پر بھی شوہر کے حقوق کو برتری دی ہے۔ہم اس ضمن میں شوہر کے حقوق بیان کریں گے۔قرآن میں ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجَمۂ کنزُالایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر۔(پ5،النسآء:34)

(1) نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی۔(ترمذی، ج2،ص386، حدیث: 1164)

(2) حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے ، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اوراپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اس سے کہا جائے گاکہ جنّت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ۔(مسند امام احمد،ج 1،ص406، حدیث: 1661)

(3) معلّمِ انسانیت صَلَّی اللہ تعالیٰ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم فرمایاکہ جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت کے لئے بلائے تو وہ فوراً اس کے پاس آ جائے اگرچہ تنّور پر ہو۔(ترمذی،ج2،ص386، حدیث: 1163)

(4) حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضے قدرت میں میری جان ہے کوئی شخص اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو آسمان والی ذات(اللہ تبارک و تعالیٰ)اس عورت سے اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک خاوند اس سے راضی نہ ہو جائے ۔(ریاض الصالحین، باب حق الزوج علی المرأۃ)

(5) نبیِّ برحق صَلَّی اللہ تعالیٰ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: میں نے جہنّم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔(بخاری،ج3،ص463، حدیث:5197، ملتقطاً)

شوہر کے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر کثیر حقوق ہیں مگر طاقت سے باہر نہیں تاکہ یہ دونوں بآسانی ادا کریں اور کل قیامت کے روز ایک دوسرے کے حقوق میں گرفتار نہ ہوں۔اسی طرح بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی رضا مندی کو ملحوظ رکھے اور اس کے حقوق کو پورا کرے۔ اللّہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی عمل خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا کی تخلیق فرمائی پھر اس کو آباد کرنے کے لیے مختلف مخلوقات پیدا فرمائی اور اس میں تمام مخلوقات کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیائے کرام ورسولوں کو بھیجا اور سب سے سے آخری نبی محمد مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت پیارے دین،دینِ اسلام کےساتھ مبعوث فرمایا اور اس دین میں ہر کسی کے حقوق کا خیال بھی رکھا گیا ہے حتی کہ جانوروں کے حقوق، پرندوں کے حقوق بھی بیان کئے گئے ہیں اور انسانی تعلقات میں جو رشتہ آتے ہیں ان کے بھی حقوق بیان کئے گئے ہیں جیسے اولاد پر ماں باپ کے حقوق ماں باپ پر اولاد کے حقوق، پڑوسی کے حقوق رشتہ داروں کے حقوق، بہن بھائیوں کے حقوق اور حتی کے مصاہرت (سسرالی رشتوں) کے حقوق بھی اسلام ہمیں بیان فرماتا ہے اور سب سے اچھے اور پاکیزہ رشتہ میاں بیوی کے رشتہ کے حقوق جیسے شوہر پر بیوی کے حقوق اور بیوی پر شوہر کے حقوق بھی اسلام ہمیں بیان کرتا ہے۔میاں بیوی کے رشتہ کے متعلق اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلادئیے۔(پ4، النسآء:1)

سبحان الله! جب قرآن پاک میں اس پاکیزہ رشتہ کا ذکر آیا ہے اور ہمارا دین اسلام ہر ایک کے حقوق بھی بیان فرماتا ہے اور شوہر کے حقوق بیوی پر بہت زیادہ ہیں اگر ہر عورت ان حقوق کی بجا آوری کے لئے کوشش کریں تو ہمارے معاشرے میں طلاق کا کوئی کیسی ظاہر نہ ہوگا بیوی پر شوہر کے حقوق کے بارے میں کثیر احادیث وارد ہیں۔ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو عورت مر جائے اس حال میں کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو تو جنت میں جائے گی۔ (سنن ترمذی، کتاب النکاح، ج 2)

الله اکبر! شوہر کا کیا اعلی مرتبہ ہے کہ اگر وہ راضی تواس کی بیوی جنت میں جائے گی اس سے ان عورتوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہیئے جو عورتیں اپنے خاوند کو راضی نہیں رکھتی اور بےجا تکلیفیں دیتی ہیں۔اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یا خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں کہ عورت مرتے ہی روحانی طور پر یا بعد قیامت جسمانی طور پر جنت میں جائے گی کیونکہ اس نے اللہ کے حقوق بھی ادا کئے اور بندے کے حقوق بھی۔(مراٰة المناجيح ،ج5 ، ص112)

ایک اور حدیث پاک میں یوں ارشاد ہوا: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفى صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: لَوْ كُنْتُ أَمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَن تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ترجمہ: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ پاک کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(ترمذی، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق الزوج، 386/2 ، حدیث: 1163)

یاد رہے کہ ہماری شریعت میں غیر خدا کو سجدہ حرام ہے۔سجدہ ٔ عبادت کفر ہے اور سجدہ تعظیمی حرام دوسری شریعتوں میں بندوں کو سجدہ تعظیمی جائز تھا اس سے یہ معلوم ہوا کہ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز کا تعظیم کی جائے۔ (مراٰۃ المناجيح، ج5 ،ص111)

اور غور کیا جائے حدیث مبارکہ میں تو اس میں ضرور کے الفاظ ہیں اس سے شوہر کی تعظیم اور پختہ ہو رہی ہےاس کے علاوہ بھی بیوی پر شوہر کے بے شمار حقوق ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔

(1) جس جائز کام کا حکم دے اس کو فوراً بجا لانا (اگر کوئی شرعی مجبوری نہ ہو)

(2) ہر جائز بات میں میں اطاعت کرنا۔

(3) شوہر کے مال و اولاد کی حفاظت کرنا ۔

(4) شوہر سے اس کی استطاعت کے مطابق خواہشات کرنا۔

(5) شوہر کی حاجت کو فوراً پورا کر دینا ۔

(6) بغیر اجازت شوہر کوئی کام نہ کرنا۔

(7) شوہر کے لیے بناؤ سنگار کرنا۔

(8) شوہر کو ہمیشہ خوش رکھنا۔

(9) شوہر سے منسلک تمام رشتوں کا احترام کرنا۔

(10) شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلنا۔

(11) شوہر کے ہر جائز کام میں جس کی استطاعت رکھتی ہو اس کی مدد کرنا۔

اگر یہ سب حقوق ہمارے معاشرے میں قائم ہو جائیں تو ہمارے معاشرے کا ہر گھر امن کا گہوارہ ہوگا اور طلاق کی تعداد بھی کم ہو گی اور ہر بیٹی کے ماں باپ امن و سکون کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کر سکیں گے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر کسی کے حقوق بجالانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم


آج کل میاں بیوی میں نا اتفاقی، بات بات پر لڑائی جھگڑے ایک عام سی بات ہے اور جب ایسے دو افراد میں نااتفاقی پیدا ہو ‏جائے جنہوں نے پوری زندگی ایک ساتھ ہی رہنا ہو تو پھر ان کی زندگی بہت تلخ اور نتائج نہایت سنگین ہو جاتے ہیں۔ آپس کی یہ نا ‏اتفاقی نہ صرف دل ، دماغ اور دنیا کا امن و سکون تباہ و برباد کر دیتی ہے بلکہ بسا اوقات تو دین و آخرت کی بربادی کا سبب بھی بن جاتی ‏ہے ، اس نا اتفاقی کا اثر نہ صرف میاں بیوی پر ہوتا ہے بلکہ ان کی اولاد اور اُن سے متعلقہ دیگر تمام لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔ اس نا ‏اتفاقی کا سب سے بڑا سبب میاں بیوی کا ایک دوسرے کے حقوق کو نہ جاننا ہے خصوصاً بیوی جب اپنے شوہر کی عزت و عظمت کو نہیں ‏سمجھتی تو بات بات پر لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں۔ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے شوہروں کے حقوق کا تحفظ کریں اور شوہروں ‏کو ناراض کر کے اللہ پاک  کی ناراضی کا وبال اپنے سر نہ لیں کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے۔ ‏

‏ اللہ پاک نے قراٰنِ پاک میں فرمایا: ترجَمۂ کنز الایمان : مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر ‏فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ‏ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔ (پ:5، النسآء:34)‏

تفسیر طبری میں ہے: مرد اپنی عورتوں کو ادب سکھانے اور جو اللہ پاک کے حقوق اور شوہر کے حقوق ان پر واجب ہیں، ان کے ‏بارے میں باز پرس کرنے میں ان پر نگران ہیں۔ ( طبری،النسآء، تحت الآیۃ: 34،4/59)‏

‏ شوہر کے حقوق کے متعلق 4 فرامینِ مصطفےٰ پڑھئے:‏

‏(1) عورت شوہر کے گھر و اولاد پرنگران ہے: تم سب نگران ہو اور تم میں ہر ایک سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہو ‏گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کی اولاد پر نگران ہے ۔ (مسلم، ص784، حدیث:4824 ملتقطاً)‏

‏(2) شوہر کی اتباع کرنا لازم ہے: جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت نہ آئے، پھر اس کا شوہر ناراضی کی حالت ‏میں رات گزارے تو فرشتے صبح ہونے تک اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔(مسلم ، ص578، حدیث:3541)‏

‏(3) شوہر کی حد درجہ تعظیم کا حکم: اگر میں کسی شخص کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر ‏کو سجدہ کرے۔(ترمذی ،2/386، حدیث:1162)‏

علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: کیونکہ عورت پر شوہر کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اُس کے احسانات کا شکریہ ادا ‏کرنے سے عاجز ہے اور یہ حد درجہ کا مبالغہ ہے تاکہ پتا چلے کہ عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کس قدر واجب و لازم ہے کہ اللہ ‏پاک کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا جائز نہیں لیکن اگر جائز ہو تا تو صرف اور صرف شوہر کو سجدہ جائز ہوتا۔ ‏‏(مرقاۃالمفاتیح، 6/401، تحت الحدیث:3255)‏

‏ (4) شوہر کی رضا طلب کرنا واجب ہے: جو بھی عورت اس حال میں اس دنیا سے گئی کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی تھا تو وہ جنت ‏میں داخل ہو گی۔(ترمذی ،2/386، حدیث:1164)‏

امام ذہبی رحمۃُ اللہِ علیہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: بیوی پر اپنے شوہر کی رضا طلب کرنا اور اُس کی ناراضی سے بچنا ‏واجب ہے ۔(الکبائر للذھبی،ص200)‏

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،میاں بیوی کو آپس میں محبت اور ایک دوسرے ‏کے حقوق کا خیال رکھنے اور اِن حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم‏


فرمان مصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: وَاللہ إِنِّي لَاسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ اكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً ترجمہ: خدا کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کے سارے ہی انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں، وہ گناہوں سے پاک ہیں اور رسولِ اکرم جناب محمد مصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو سب انبیاء و رسل کے سردار ہیں پھر بھی معصوم ہونے کے باوجود آپ علیہ السّلام اللہ پاک سے استغفار طلب کیا کرتے:

استغفار کے 5 فضائل و فوائد احادیث کی روشنی میں:

(1) استغفار سے گناہ معاف ہوتے ہیں: إنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَ عِزَّتِكَ يَا رَبِّ، لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَادَامت أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالَ الرَّبُّ: وَ عِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالَ أغْفِرْلَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي شیطان نے بارگاہِ الٰہی میں کہا: اے اللہ! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں باقی رہیں گی گمراہ کرتارہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(احمد بن حنبل، المسند، 3: 29، رقم:11257)

(2) استغفار سے ہر غم سے نجات مشکلات میں آسانی اور رزق میں برکت ہوتی ہے: چنانچہ حدیث مبارکہ ہے:عَنْ عَبْدِ اللہ بْن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله وسلم: مَنْ لَزِمَ الْإِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَمِنْ كُلِّ هَمِّ فَرَجاً، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ، وَقَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيتٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص پابندی کے ساتھ استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کے وہم و خیال میں بھی نہ ہو۔

(3) استغفار سے دلوں کا زنگ دور ہوتا ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: إِنَّ لِلْقُلُوْبِ صَدَأَ كَصَد الْحَدِيدِ وَجِلَاؤُهَا صلى الله وسلم عليه الْإِسْتِغْفَارُ۔رَوَاهُ الطَّبَرَانِي وَالْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادِهِ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لوہے کی طرح دلوں کا بھی ایک زنگ ہے اور اس کا پالش استغفار ہے۔

(4) استغفار دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ، إِذَا أَذْنَبَ، كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ - فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ۔فَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى تَغْلَفَ قَلْبُهُ فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوْبِهِمْ مَّاكَانُوايكسبون حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک سیاہ نشان بن جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرلے اور گناہ) سے ہٹ جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔(لیکن) اگر وہ ڈٹا رہے اور زیاده (گناہ) کرے تو یہ نشان بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے (پورے) دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور یہی وہ ران (زنگ) ہے کا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے:

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان: کوئی نہیں بلکہ اُن کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔ (پ30، المطففین: 14)

(5)استغفار بعض گناہ کبیرہ کی بخشش کا ذریعہ ہے: نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کہ جس نے کہا:استغفر الله الذی لا الہ الا ہو الحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو معاف فرما دے گا اگر چہ وہ میدان جنگ سے بھاگا ہو۔ (سنن ابوداؤد)


انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس کے تحت وہ دانستہ یا نا دانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ غلطی اس کے رب پاک کو اس سے ناراض کر دے گی، اسی لئے وہ فوری طور پر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گڑ گڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتا ہے۔

استغفار کے بے شمار فوائد و فضائل ہے چند ایک ملاحظہ کیجئے:

(1) استغفار گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے: چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمعہ کنزالایمان:جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا اورمہربانی کرنے والا پائے گا ۔ (سورت النسآء:110)

(2) استغفار گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے: رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب جنت میں نیک بندے کے درجے کو بلند فرمائے گا تو بندہ عرض کرے گا پروردگار یہ مرتبہ مجھے کیسے ملا؟اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے تمہارے بچوں کے استغفار کے سبب ہے۔ (مسند احمد شعیب)

(3) استغفار دلوں کی صفائی ہے: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کہ مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے اگر وہ اس گناہ کو چھوڑ کر توبہ واستغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔

(4) استغفار تنگی کو دور کرتا ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو شخص توبہ واستغفار میں پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ہر تنگی کو دور فرمائے گا اور ہر غم سے خلاصی دے گا اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کا خیال بھی نہ ہو گا۔ (سنن ابی داؤد:1518)

(5) اصل بیماری اور اس کا علاج : رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں تمہاری بیماری اور اس کی دوا نہ بتاؤں؟(سن لو) تمہاری بیماری گناہ اور تمہاری دوا توبہ واستغفار ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی:7147)

اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ خصوصاً جب ہم سے گناہ کا ارتکاب ہو جائے اور ویسے بھی زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے (اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)


استغفار کے بارے میں اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33)

مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو اِستغفار کیا کرتے تھے تو وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) جب تک استغفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا۔اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اَنْتَ فِیْهِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں عیشِ جاوید مبارک تجھے شیدائی دوست

عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ: علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲/۱۹۳)

احادیث میں استغفار کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں:

(1)نبی رحمت شفیعِ اُمم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو تم سب گناہگار ہو مگر میں نے بچایا لہٰذا مجھ سے مغفرت کاسوال کرو میں مغفرت فرمادوں گا اور تم میں سے جس نے یقین کرلیا کہ میں بخش دینے پر قادر ہوں پھر بھی مجھ سے میری قدرت کے وسیلے سے استغفار کرے تو میں اس کی مغفرت فرمادوں گا ۔ (ابنِ ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر التوبہ 4/494حدیث4257)

(2)حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطا ن نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت و جلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میری عزت و جلا ل کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، ۴/۵۹، الحدیث: ۱۱۲۴۴)

(3)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تواللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/۲۵۷، الحدیث: ۳۸۱۹)

توبہ اور اِستغفار میں فرق اور وسعتِ رزق کے لئے بہتر عمل: توبہ اور استغفار میں فرق یہ ہے کہ جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے اور پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر نا توبہ ہے اوراس آیت سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ توبہ وا ستغفار کرنا درازیٔ عمر اور رزق میں وسعت کیلئے بہتر عمل ہے۔

(4)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔(بخاری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فی الیوم واللیلۃ، ۴/۱۹۰، الحدیث: ۶۳۰۷)

(5)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھے اوراُن سے استغفار کرے۔

اِستغفار کرنے کے دینی اور دُنْیَوی فوائد:

دینی فوائد: استغفار کرنے سے ہمارے گناہ معاف ہوتے ہے اور سچی توبہ کرنے سے ہمارے کبیرہ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہے اور عبادت میں مشغول رہتے ہے اور اسکو پڑھنے سےعبادت میں لذت بھی ملتی ہے اور گناہ سے بچنے کا ذہین بنتا ہے اور گناہ سے توبہ کرتا ہے۔

دنیاوی فوائد: اس سے علم، عمرمیں اضافہ ہوتاہے اور رزق حلال میں برکتیں وسعتیں نازل ہوتی ہے اور اولاد میں اضافہ ہوتاہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

(6)اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/۲۵۷، الحدیث: ۳۸۱)


پیارے اسلامی بھائیو دعائے استغفار کرنا نہایت محبوب شے ہے اور ہمارے پیارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔تو لہٰذا مسلمان بندے کو اپنی بخشش کی دعا کرتے رہنا چاہیے اس کا ایک طریقہ توبہ کرنا اور استغفار کرنا بھی ہے۔کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں‌‌۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33)

تفسیر:علامہ علی بن محمد خازن رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔(خازن، الانفال تحت الآيۃ: 193/2،33)

احادیث میں استغفار کرنے کے بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں ان میں سے (5)احادیث درج ذیل ہیں:

( 1)استغفار بخشش کا ذریعہ: حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان نے کہا: اے میرے رب تیری عزت و جلال کی قسم جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میری عزت و جلال کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، 4/59 الحدیث :11244)

(2) ہر غم اور تکلیف سے نجات: حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے۔رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا۔جس نے استغفار کو اپنے لیے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہرغم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ کتاب الادب باب الاستغفار 257/4 الحدیث:3819)

(3) نامہ اعمال خوش کرے گا: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد 10/347۔حدیث 17579)

(4) کس کے لیے زیادہ خوبیاں ہیں: روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے لیے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔(ابن ماجہ) اور نسائی نے اس حدیث کو دن رات کے عمل میں روایت کیا۔مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ج: 3 ، حدیث 2356)

(5) جنت میں ایک درجہ:الله پاک جنت میں بندے کو ایک درجہ عطا فرمائے گا۔بندہ عرض کرئے گا: اے مولیٰ پاک یہ درجہ مجھے۔کیسے ملا؟ الله عز وجل ارشاد فرمائے گا۔اس استغفار کے بدلے جو تیرے بیٹے نے تیرے لیے کیا۔(المسند للام احمد بن حنبل مسند أبی ھریرہ الحدیث 10615ج 3 ص 585 )

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ایمان پر قائم رہنے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہےوَاللہِ اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً ترجمہ:خدا کی قسم! میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ (مشکاۃ المصابیح،ج1،ص434، حدیث:2323)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کے سارے ہی انبیائے کرام علیہمُ السَّلام معصوم ہیں، وہ گناہوں سے پاک ہیں اور رسولِ اکرم جنابِ محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو سب انبیاء و رُسُل کے سردار ہیں۔علمائے کرام و محدثینِ عظام نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِستغفار کرنے (یعنی مغفرت مانگنے) کی مختلف حکمتیں بیان فرمائی ہیں چنانچہ

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےاِستِغفَار کرنے کی حکمتیں:

 علّامہ بدرُالدّین عَیْنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بطورِ عاجزی یا تعلیمِ اُمّت کیلئے اِستِغفَار کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری،ج 15،ص413، تحت الحدیث: 6307ملخصاً)

حکیمُ الاُمّت مُفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں: توبہ و استغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے اسی لئے حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس پر عمل کرتے تھے ورنہ حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔(مراٰۃ المناجیح،ج3،ص353ملخصاً)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کے سب سے مقبول ترین بندے یعنی دونوں جہاں کے سلطان محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو گناہوں سے پاک ہونے کے باوجود ہماری تعلیم کے لئے اِستغفار کریں اور ایک ہم ہیں کہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہونے کے باوجود اِستغفار کی کمی رکھیں، ہمیں چاہئے کہ اللہ کی بارگاہ میں خوب خوب توبہ و استغفار کرتے رہیں۔

ترغیب کے لیے استغفار کرنے کے فضائل و فوائد عرض کرتا ہوں:

(1)دِلوں کے زَنگ کی صفائی: حضرت اَنَس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے:بے شک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہےاور اس کی جِلاء (یعنی صفائی)اِستِغْفار کرنا ہے۔ (مجمع الزوائد، 10/346، حدیث: 17575)

(2)پریشانیوں اور تنگیوں سے نَجات: حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرمانِ عالیشان ہے:جس نے اِستِغفارکو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اُس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اُسے راحت عطا فرمائے گا اور اُسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گُمان بھی نہ ہو گا۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3819)

(3)خوش کرنے والا اعمال نامہ: حضرت زُبیر بن عوّام رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ مکرم، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مَسرَّت نشان ہے: جو اِس با ت کو پسند کرتاہے کہ اس کا نامۂ اعمال اُسے خوش کرے تو اُسے چاہیے کہ اس میں اِستِغفارکا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد، 10/347، حدیث: 17579)

(4)خوشخبری! حضرت عبدُ اللہ بن بُسْر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سناکہ خوشخبری ہے اُس کے لئے جو اپنے نامۂ اعمال میں اِستِغفار کو کثرت سے پائے۔(ابنِ ماجہ، 4/257، حدیث: 3818)

(5)سیِّدُ الْاِسْتِغفار پڑھنے والے کے لئے جنّت کی بشارت: حضرت شَدّادبن اَوس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ المُرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ یہ سیِّدُ الْاِسْتِغفار ہے:

اللہمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ اَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّمَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّه لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ

جس نے اِسے دن کے وَقت ایما ن و یقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے اور جس نے رات کے وقت اِسے ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا پھر صبح ہونے سے پہلے اُس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے۔ (بخاری، 4/190، حدیث: 6306)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حضرت سیدنا علقمہ اور حضرت سیدنا اسودرضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قرآن پاک میں یہ آیتیں ایسی ہیں کہ اگر گناہگار ان کی تلاوت کر کے رب پاک سے مغفرت طلب کرے تو اس کی مغفرت کر دی جائے۔

(1) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)ترجَمۂ کنزُالایمان: تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔(پ30،النصر: 3)

(2) وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۱۰)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کوئی بُرائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔(پ5، النسآء:110)

(3) وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔(پ3، اٰل ِعمرٰن:17)

استغفار سے متعلق فرامین مصطفی:

(1) جو استغفار کی کثرت کرے گا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا، ہر تنگی سے اس کے لئے نجات کی راہ نکالے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو گا۔(سنن ابی داؤد الحدیث: 1518، ج 2 ص 122)

(2) بلاشبہ میں روزانہ 70 مرتبہ اللہ پاک سے استغفار کرتا ہوں۔حلانکہ آپ کے صدقے اگلے پچھلے لوگوں نے مغفرت کی نعمت پائی۔(كتاب الدعا الطبرانی، الحديث: 1838 ،ص 516)

(3) میرے دل پر کبھی (انوار الٰہی کے غلبہ چھا جاتا ہے)اور میں روزانہ 100 بار استغفار کرتا ہوں۔(صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء الحدیث 270 ص (1449)

(4)جس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور وہ یقین رکھے کے اللہ پاک میری اس خطا پر مطلع ہے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اگر چہ وہ استغفار بھی نہ کرے۔(المعجم الاوسط، الحدیث 4472، ج 3 ص 244)

(5) اے میرے بندو تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جسے میں محفوظ رکهوں لہذا مجھ سے مغفرت کا سوال کرو میں تمہاری مغفرت فرما دوں گا اور تم میں سے جو یہ جان لے کے میں بخش دینے پر قادر ہوں تو میں اس کی مغفرت فرما دوں گا۔ (سنن الترمذی الحدیث 2503 ص 22)


انسان میں شر کی دو طاقتیں ہیں ایک انسانی نفس یہ اندرونی اور دوسرا شیطان یہ بیرونی طاقت ہے یہ دونوں انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتی ہیں اس لئے اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان سے کچھ نا کچھ غلطیاں اور گناہ صادر ہو جاتے ہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے سوائے انبیاء کرام علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا جب انسان خطا کا پتلا ہے تو اس سے گناہ سرزد ہو ہی جاتے ہیں تو ان گناہوں کے ازالے کے لیے قرآن کریم نے ہدایت و راہنمائی کی چنانچہ الله تبارک وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں۔(پ4، اٰلِ عمرٰن:135)

اس آیت میں الله تبارک وتعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ کسی سے گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً الله پاک کو یاد کرے ایسے لوگ اللہ پاک کو بہت پسند ہیں یہ لوگ گناہ کے فوراً بعد توبہ و استغفار کرتے ہیں،الله پاک کی طرف رجوع کرتے ہیں، خود نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاتم المعصومین ہونے کے باوجود الله پاک کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت سیدنا عبدااللہ بن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ہم شمار کرتے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک مجلس میں سو مرتبہ استغفار کرتے جس کے الفاظ یہ ہیں: رب اغفر لی وتب علی انک انت التواب الغفور اے میرے رب! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رجوع فرما،یقیناً تو بہت رجوع فرمانے والا،بخشنے والا ہے۔ (سنن ابی داؤد ،رقم: ١٥١٢)

قرآن پاک کے ساتھ ساتھ احادیث طیبہ میں استغفار یعنی الله پاک سے مغفرت و بخشش طلب کرنے کے کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

گناہوں سے بخشش کا سبب: الله پاک کی بارگاہ میں استغفار کرنا گناہوں کی بخشش کا سبب ہے چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! جب تو مجھے پکارتا ہے اور مجھ سے امید رکھتا ہے تو میں تیرے گناہوں کی بخشش فرما دیتا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں کے برابر بھی پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش مانگے تو میں تیری خطائیں بخش دوں گا اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس گناہوں سے زمین بھر کر بھی لے آئے پھر مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو میں تیرے زمین بھر کے گناہوں کو بھی بخش دوں گا۔ (ترمذی ،کتاب الدعوات باب ماجاء فی فضل التوبہ والاستغفار،رقم٣٥٥١،ج ٥،ص ٣١٨)

حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور پہ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب ابلیس نے کہا کہ اے اللہ پاک مجھے تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے جسم میں رہیں گی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں ان کی مغفرت کرتا رہوں گا۔ (مسند امام احمد،مسند ابی سعید الخدری،رقم ١١٢٣٧،ج ٥،ص ٥٨)

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک سفر کے موقع پر ارشاد فرمایا: استغفار کرو تم، ہم استغفار کرنے لگے پھر فرمایا، اسے 70 مرتبہ پورا کرو، ہم نے یہ تعداد پوری کر دی تو رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، جو آدمی یا عورت اللہ پاک سے ایک دن میں 70 مرتبہ استغفار کرتا ہے اللہ پاک اس کے سات سو گناہ معاف فرما دیتا ہے اور بے شک جو بندہ دن رات ہیں 700 سے زیادہ گناہ کرے وہ بڑا بد نصیب ہے۔ ( بیہقی شعب الایمان،باب فی محبۃ الله،رقم ٢٥٢،ج ١،ص ٤٤٢ )

حضرت سیدنا بلال بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے میرے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میں نے سرور کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا، جس نے یہ کہا استغفراللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ ترجمہ: میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے نگہبان ہے اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ میدان جہاد سے بھاگا ہو۔ ( سنن الترمذی،کتاب الدعوات،رقم ٣٥٨٨،ج ٥،ص ٣٣٦)

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ جو بندہ گناہ کر بیٹھے پھر احسن طریقے سے وضو کرے پھر کھڑے ہوکر دو رکعتیں ادا کرے پھر الله پاک سے استغفار کرے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں۔(پ4، الِ عمرٰن:135) (ترمذی،کتاب الصلوۃماجاءفی الصلوۃعند التوبہ، رقم ٤٩٦،ج ١،ص ٤١٤بتغیر)

استغفار کرنا الله پاک کو محبوب ہے : الله پاک کی بارگاہ عالی میں استغفار کرنا اسے بے حد محبوب ہے یہاں تک کہ حدیث پاک میں فرمایا اگر تم استغفار نہیں کرو گے تو الله پاک تمہاری جگہ ایسی قوم کے آئے گا جو اس کی بارگاہ میں استغفار کرے گی چنانچہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار والا تبار ہم بے کسوں کے مددگار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ کرنا چھوڑ دو تو اللہ پاک تمہیں لے جائے گا اور ایسے قوم کو لائے گا جو گناہ کرے گی اور اللہ سے مغفرت چاہے گی اللہ پاک ان کی مغفرت فرما دے گا۔ (مسلم،کتاب التوبہ،باب سقوط الذنوب بالاستغفار،رقم ٢٧٤٩،ص ١٤٧٠)

دلوں کے زنگ کو دور کرنے کا ذریعہ : گناہ کر کر کے دل زنگ آلود ہو جاتا ہے جس کا حل حدیث پاک میں استغفار بتایا گیا ہے چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے اخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرے اور اس گناہ سے باز ا ٓجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل چمکا دیا جاتا ہے اگر مزید گناہ کرے تو اس سیاہی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر غلاف ا جاتا ہے یہ وہی زنگ ہے جسے اللہ پاک نے قران پاک میں یوں بیان فرمایا ہے:

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(14) ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔(المطففین آیت 14۔ترمذی کتاب التفسیر رقم ٣٣٤٥،ج ٥،ص٢٢٠)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم المرسلین جناب صادق و امین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک تانبے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلاء (یعنی صفائی) استغفار کرنا ہے- (مجمع الزوائد،کتاب التوبہ باب ماجاءفی الاستغفار رقم١٧٥٧٥،ج١٠،ص٣٤٦)

دفع بلائیں اور کشادگی رزق کا سبب: کثرت استغفار سے بلائیں دور ہوتی ہیں اور رزق میں اضافہ بھی ہوتا ہے چنانچہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقا مظلوم سرور معصوم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسے جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ (ابن ماجہ،کتاب الادب،باب الاستغفار،رقم ٣٨١٩،ج ٤،ص ٥)

نامہ اعمال میں خوشی کا سبب : ہر شخص چاہتا ہے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے اور نامہ اعمال دیکھ کر وہ خوش ہوجاتے تو حدیث پاک میں کثرت استغفار کو نامہ اعمال میں خوشی کا ذریعہ بتایا گیا چنانچہ حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہیے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے ( مجمع الزوائد،کتاب التوبہ،باب الاکثار من الاستغفار،رقم ١٧٥٧٩،ج ١٠،ص ٣٤٧ )

حضرت سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہ مدینہ قرار قلب و سینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت کو پائے۔ (ابن ماجہ،کتاب الادب،باب الاستغفار،رقم ٣٨١٨،ج ٤،ص ٢٥٧)

قرآن پاک کی آیات اور احادیث طیبہ میں استغفار کے کثیر فوائد بیان ہوئے ہیں ہمیں چاہیے کہ عاجزی و انکساری کے ساتھ الله پاک کی بارگاہ عالی میں کثرت سے استغفار کریں ۔ الله پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین


استغفار کے معنی اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنے پچھلے گناہوں کی معافی طلب کرنا ہےاستغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے دین اسلام میں استغفار کی بڑی اہمیت ہے استغفار کرنا یقیناً بہت بڑی سعادت اور خوش قسمتی کی بات ہے انسان سے گناہ و معصیت کا سرزد ہونا عام بات ہے ایسا ممکن نہیں کہ انسان ہمہ وقت گناہوں سے بچا رہے کیونکہ ہر وقت ہر طرح کے گناہوں سے پاک رہنا انبیاء علیہم السلام اور ملائکہ کی صفت ہے اور گناہ ہو جانے کے بعد اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہوئے اللہ جل و علا سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا اللہ جل و علا کی طرف رجوع کرنا اور گزشتہ گناہوں سے دور رہنا بندہِ مؤمن کی صفت ہے جب کہ اپنے گناہ پر اڑے رہنا اور معافی طلب نہ کرنا شیطان کی صفت ہے۔قرآن و احادیث میں بارہا مرتبہ استغفار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے بخشش مانگو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ29، المزمل:20)

لہٰذا جب بھی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو تو فورا اپنے گناہ سے استغفار کرنی چاہیے استغفار کرنے سے گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ اور بھی کثیر فوائد کا مجموعہ ہاتھ آتا ہے جن میں سے چند فوائد احادیث نبویہ کی روشنی میں ذکر کیے جاتے ہیں۔

دل کی سیاہی کا علاج :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کرلیتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل اس نقطہ سیاہ سے صاف کردیا جاتا ہے۔(جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عنہ رسول اللہ باب سورۃ المطففین،حدیث 3334)

ہر غم سے آزادی اور وسیع رزق کا وظیفہ:

وعنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضِي اللہ عنْهُما قَال: قالَ رَسُولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: منْ لَزِم الاسْتِغْفَار، جَعَلَ اللہ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مخْرجًا، ومنْ كُلِّ هَمٍّ فَرجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ۔رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو استغفار کو لازم کر لے اللہ پاک اس کی ہر تنگی دور فرما دیتا ہے اور ہر غم سے خلاصی عطا فرما دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2339۔البقي في السنن الكبرى (3/351)

استغفار قبر میں ثابت قدمی کا باعث ہے:‏‏‏‏وَعَن عُثْمَان رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ ثُمَّ سَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو، اس کے لیے (سوال و جواب کے موقع پر) ثابت قدمی کی درخواست کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا۔(مشکوۃالمصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 133)

روزانہ 100 مرتبہ توبہ: عن الأغر بن يسار المزني رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: يا أيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إلى اللهِ واسْتَغْفِرُوهُ، فَإنِّي أَتُوبُ في اليَّومِ مائةَ مَرَّةٍ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا لوگو اللہ کے حضور توبہ کرو کیونکہ میں اللہ کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں ۔ (مشکوہ المصابیح حدیث 2325)

پیارے اسلامی بھائیو! اِستغفارکے بے شمار فضائل و فوائد کے باوجود بعض بدنصیب نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر توبہ و اِستغفار کا موقع ملنے کے باوجود توبہ و استغفار کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔توبہ کا موقع ملنا بھی بہت بڑی سعادت کی بات ہے بہت سے لوگوں کو توبہ کا موقع بھی نہیں ملتا اور وہ بغیر توبہ کئے اس دارِ فانی سے چلے جاتے ہیں، موت کا کوئی بھروسا نہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ فورًا سے پیشتر اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں گناہوں سے بچنے اور توبہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم