10
جنوری 2024ء کو کامونکی
تحصیل میں قائم مدنی مرکز فیضان
مدینہ واہنڈو میں مدنی مشورہ ہوا جس میں ڈسٹرکٹ نگران مولانا خوشی
مدنی عطاری نے اسلامی بھائیوں کو 12 دینی کام کرنے اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کے حوالے سے ذہن دیااور واہنڈو میں
جامعۃ المدینہ بنانے کا ہدف دیاجس پرذمہ دار ان
نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔
٭علاوہ
ازیں ڈسٹرکٹ نگران خوشی عطاری مدنی نے مدرسۃ
المدینہ فار گرلز کے پلاٹ اور فیضان مدینہ مچھرالہ کا وزٹ کیا اور وہاں جاری تعمیراتی
کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کی تعمیری مراحل کے حوالے سے رہنمائی کی ۔
٭
بعدازاں دعوت اسلامی کے تحت گاؤں
تمبولی میں سیکھنے سکھانے کے حلقے کا انعقاد کیا گیا جس میں سب تحصیل سادہوکی کے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی ۔
حلقے میں موجود اسلامی بھائیوں کو ڈسٹرکٹ نگران خوشی عطاری مدنی نے12 دینی کام میں سے بالخصوص ہفتہ وار اجتماع کو
مضبوط کرنے کا ہدف دیا نیز ہر ہر یو سی سے گاڑیاں چلانے کی ترغیب دلائی اور ایک ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کا ذہن بھی دیا جس پر 10 اسلامی بھائیوں نے 1 ماہ کے مدنی قافلے میں
سفر کرنے کی نیت کا اظہار کیا۔(رپورٹ:سلمان عطاری تحصیل کامونکی،
کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )
13
جنوری 2024ءکو ڈی جی خان میں شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے تحت مدنی مشورہ
شعبہ
رابطہ برائے شخصیات کے تحت 13 جنوری
2024ءکو ڈی جی خان میں مدنی مشورہ ہوا جس میں ڈویژن اور ڈسٹرکٹ سمیت تحصیل ذمہ داران نے شرکت کی ۔
مدنی
مشورے میں محمد لیاقت عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات پنجاب کے ذمہ دار نے جدول
بنانے،وقت پر کارکردگی پیش کرنےکے متعلق
گفتگو کرتے ہوئے 12دینی کاموں میں عملی طور پر شرکت کرنے کا ذہن دیا نیز اہل افراد کی تقرری پوری کرنے کا طے ہوا جبکہ
شعبہ رابطہ برائے شخصیات میں ذمہ داری
لینے کی اہمیت وضرورت کیلئے تربیتی مدنی
پھول دیئے۔ اس موقع پر صوبائی ذمہ دار شعبہ رابطہ برائے شخصیات نے حاضرین کو اپنی
صحت کے بارے میں فکر کرنے اور کھانے پینے کے سلسلے میں محتاط
رہنے سمیت دیگر جسمانی صحت کے حوالے سے
ٹپس شئیر کیں۔(رپوٹ:شہزاد
عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات پنجاب آفس،کانٹینٹ: شعیب احمد )
شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کے زیرِ اہتمام 9 جنوری 2024ء بروز منگل مدرسۃ المدینہ بوائز کے کورسز ممتحنین کی
ماہانہ آن لائن میٹنگ ہوئی جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے ممتحنین نے شرکت کی ۔
فیضان آن لائن اکیڈمی مدرسۃ المدینہ بوائز مجلس
تعلیمی و تفتیشی امور کے ذمہ دار سید انس عطاری نے ماہانہ مدنی مشورے کے نکات پر گفتگو کی جس میں کورسز ممتحنین کو گاہے بگاہے آنے والے تعلیمی
مسائل کے حل اور امتحانات کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے نکات بتائے۔
علاوہ ازیں شرکا
کو اپنے شعبے کی بہتری اور دینی کام کرنے کے حوالے سے ذہن سازی کی جس
پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ:
محمد وقاریعقوب عطاری مدنی برانچ ناظم فیضان
آن لائن اکیڈمی ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )
گجرانوالہ
اور راولپنڈی ڈویژن کے شفٹ تعلیمی ذمہ داران و معاونین کا آن لائن مدنی مشورہ
8جنوری
2024ءبروز منگل فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز گجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن کے شفٹ
ذمہ داران
(معاونین و مفتشین) کا بذریعہ انٹر
نیٹ آن لائن مدنی مشورہ ہوا۔
مدنی مشورے میں تعلیمی امور ذمہ دار حافظ جواد عطاری نے مفتشین ومعاونین کو قابل افراد تیار کرنےکے حوالے سے ٹپس بتائیں
اور 12دینی کاموں کےتعلق سےبھی مدنی پھول دئیے۔
علاوہ ازیں معاون
رکن مجلس سید انس عطاری نےتعلیم وتفتیش سےمتعلق اسلامی بھائیوں کو مختلف نکات بتائے جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:
محمد وقاریعقوب عطاری مدنی برانچ ناظم فیضان
آن لائن اکیڈمی ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )
سجادۂ
نشین پیر آغافقیرمحمد جان نقشبندی صاحب سمیت
دیگر علمائے کرام سے ملاقاتیں
دنیا بھر میں دینی کام کرنے والی سنتوں بھری تحریک دعوت اسلامی کے شعبہ رابطہ بالعلماء کی جانب سے انٹیریئر سندھ کے ذمہ
دار مولانا محمد محب عطاری مدنی نے بھان سعیدآباد ویھڑ شریف میں قائم دارالعلوم اشرفیہ
مجددیہ کا دورہ کیا ۔
وہاں مہتمم پیر مفتی خلیل جان سرہندی ازہری صاحب اور ان کے
صاحبزادے معروف نقشبندی صاحب نیز سجادہ ٔنشین
پیر آغافقیرمحمد جان نقشبندی صاحب سمیت دیگر
اساتذہ کرام سے ملاقاتیں کیں۔
ذمہ داران نے علمائے کرام کو کنزالمدارس بورڈ ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ اور مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ درسی کتب کا تعارف پیش کیا اور ان کوصوبائی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ حیدرآباد کا
وزٹ کرنے کی دعوت دی جس پر
انہوں نے خدمات دعوت اسلامی کو سراہتے ہوئے جلد دورہ کرنے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔(کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری مدنی )
ریلوے اسٹیشن کوٹ نجیب اللہ ڈسٹرکٹ ہری پور
خیبرپختونخوا میں جائے نماز کاافتتاح
رابطہ برائے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 10جنوری2024ء کو ریلوے اسٹیشن کوٹ نجیب اللہ ڈسٹرکٹ ہری پور خیبرپختونخوا میں مسافروں کی سہولت کے لئے ایک جائے نماز (مسجد) بنی جس کا نماز مغرب سے افتتاح ہوا۔
اس موقع پر قاری محمد زاہد نواز عطاری صوبائی ذمہ دار نے حاضرین کے درمیان مسجد کی آبادکاری اور نمازکے فضائل کے متلق گفتگو کرتے ہوئے ذیلی حلقہ کاتقررکیا ۔ چند دن بعد باقاعدہ مسجد اور مدرستہ المدینہ بالغان کا باقاعدہ آغاز کرنے کی خوشخبری سنائی جبکہ مبلغ عوت اسلامی نے حاضرین کو دنیا بھر میں مختلف شعبہ جات کے ذریعے ہونے والے دینی خدمات سے آگاہ کرتے ہوئے شعبہ خدام المساجد و المدارس کا تعارف کروایا۔( کانٹینٹ: شعیب احمد )
شعبہ رابطہ
بالعلماء دعوت اسلامی کے تحت انٹیریئر
سندھ کے ذمہ دار مولانا محمد محب عطاری
مدنی نے ڈویژن ذمہ دار مولانا اسلم عطاری کے ہمراہ مفتی عبد العلیم چنہ صاحب( دارالعلوم فخر العلوم سیہون شریف
کے مہتمم)
اور ان کے صاحبزادے مولانا مفتی ڈاکٹر
عبدالحئی سندھی صاحب سمیت مولانا یاسین
نقشبندی صاحب اور دیگر اساتذہ کرام سے ملاقات کی۔
دورانِ ملاقات ذمہ داران نے علمائے کرام کو کنزالمدارس
بورڈ کا تعارف پیش کیا اور انہیں دعوت اسلامی کی درسی کتب کے بارے میں معلومات دیں ۔
ساتھ ہی ان کے
ادارے میں فیضان نماز کورس کروانے کی ترغیب دلائی اور صوبائی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ
حیدرآباد کا وزٹ کرنے کی دعوت پیش کی جس پرانہوں نے نیک جذبات کا اظہار کیا۔( کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری مدنی )
قبائلی
و سماجی رہنما میر محمد اسماعیل جاموٹ کی والدہ مرحومہ کے انتقال پر ملاقات و تعزیت
سبی میں
قبائلی و سماجی رہنما میر محمد اسماعیل جاموٹ کی والدہ مرحومہ کے انتقال پر دعوت اسلامی کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار محمد وقار عطاری نے ملاقات
کی ۔
محمد
وقار عطاری نے میر محمد اسماعیل جاموٹ سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی والدہ مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کروائی۔
اس
موقع پر وہاں موجود مختلف قبائلی سیاسی و سماجی اہم شخصیات سے ملاقات کی اور انہیں فیضانِ مدینہ سبی کا دورہ کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:شعبہ
رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:رمضان
رضا عطاری مدنی )
دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم
کےکیمپسز میں یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تقاریب
حضرت
ابوبکرصدیق رَضِیَ
اللہُ عَنْہ
اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ ہیں، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ انبیائے کرام عَـلَـيْهِمُ السَّلَام ورسل
عظام عَـلَـيْهِمُ
السَّلَام
کے بعد تمام مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ آپ
رَضِیَ
اللہُ عَنْہ
ذہانت ، علم ، دانائی ، بہادری ا ور سچائی کی روشن مثال تھے۔ خوفِ خدا ، عشقِ رسول، تقویٰ ، ایثار اورقربانی
دینےکےاعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے۔سادگی، عاجزی، ایمانداری، رحم دلی اور غریب
پروری آپ رَضِیَ
اللہُ عَنْہ
کی پاکیزہ سیرت کا نمایاں حصہ ہے۔
گذشتہ
دنوں دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم کے کیمپسز میں یوم صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ
منایا گیا۔اس موقع پر کیمپسز میں خصوصی چارٹس چسپاں کیے گئے تھے، جن میں آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی
سیرت کے نمایاں پہلو درج تھے۔
یوم
صدیق اکبر رَضِیَ
اللہُ عَنْہ
کا آغاز تلاوت ِ قرآنِ پاک سے ہوا۔بعد ازاں طلبہ کے درمیان نعت ،بیان اور کوئز
کے مقابلے بھی ہوئے۔طلبہ نےحضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی شان میں
بیان کی گئی امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی منقبت پیش کی اور آپ کے عطا کردہ نعرے بھی لگائے۔ اس
یوم کی مناسبت سے ٹیچرز نے تدریسی سرگرمیاں بھی تیار کررکھی تھیں۔ آخر میں کامیاب
طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔(رپورٹ: غلام محی الدین ترک ،اردو کانٹینٹ رائیٹر(مارکیٹنگ اینڈ کمیونی
کیشن ڈیپارٹمنٹ دارالمدینہ ،ہیڈ آفس کراچی)
سبی میں
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ضلعی رہنما فیروز خان خجک کے والد ضلعی زکاۃ چیئرمین حاجی عبدالغنی خجک کے انتقال پر صوبائی
ذمہ دار شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان محمد وقار عطاری نے ملاقات کی ۔
دوران
ِ ملاقات صوبائی ذمہ دار نے فیروز خان خجک سے والد کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحوم کے ا یصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کروائی نیز ان کو ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے بھلے جذبات کا اظہا ر کیا۔
اس
موقع پر چئیرمین میونسپل کمیٹی سبی سردار محمد خان خجک و دیگر قبائلی عمائدین بھی
موجود تھے۔(رپورٹ:کوآرڈینیشن
ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی بلوچستان، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری مدنی )
محمد
عثمان سعید (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان مشتاق شاہ عالم مارکیٹ لاہور،
پاکستان)
انسان کی تخلیق کے بعد رب تعالیٰ نے جو سب سے پہلا رشتہ
بنایا ہے وہ رشتہ ازدواج ہے شریعت نے جہاں والدین اور دیگر رشتہ داروں سے صلح رحمی
کرنے اور انکے حقوق پورے کرنے کی تاکید کی وہاں میاں بیوی کے بھی حقوق ارشاد
فرمائے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ
اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ
اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ
اللّٰهُؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ
اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال
خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح
اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔(پ5،النسآء:34)
مرد عورتوں پر نگہبان ہیں کیونکہ مرد عورتوں کی ضروریات
پوری کرتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے عورتوں کو ادب سکھانے میں مرد کو عورت پر حکمرانی
حاصل ہے گویا کہ عورت رعایا ہے اور مرد باد شاہ اور اس لیے عورت پر مرد کی اطاعت
لازم ہے اور رہی بات شوہر کے حقوق کی تو مرد کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں یہ عورت کے
ساتھ ظلم نہیں بلکہ عین انصاف اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے۔
بیوی پر شوہر کے حقوق بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد
رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں امور متعلقہ زن و شوہر میں مطلق اس کی اطاعت
والدین پر بھی مقدم ہے اس کے ناموس کی بشدت حفاظت اس کے مال کی حفاظت ہر بات میں
اس کی خیرخواہی ہر وقت امور جائزہ میں اس کی رضا کا طالب رہنا اسے اپنا مولی جاننا
نام لے کر پکارنا کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا خدا توفیق دے تو بجا سے بھی
احتراز بچنا اس کی اجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور
محارم کے یہاں نا جانا وہ ناراض ہو تو اس کی خوشامد کرکے منانا اپنا ہاتھ اس کے
ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی
میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔(فتاوی رضویہ، جلد 24،صفحہ 372
رضا فائونڈیشن لاہور)
چند ایک احادیث مبارکہ شوہر کے حقوق کے بارے میں :
(1) پیارے آقا، مکی مدنی مصطفى صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
فرمانِ عالیشان ہے: لَوْ كُنْتُ أَمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ
لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَن تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ترجمہ: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ پاک کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو ضرور
عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(ترمذی، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی
حق الزوج، 386/2 ، حدیث: 1163)
(2)طبرانی معاذ رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راوی، کہ رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:عورت ایمان کا مزہ نہ پائے گی جب تک
حقِ شوہر ادا نہ کرے۔(المعجم الکبیر ،الحدیث: ۹۰،ج ۲۰،ص ۵۲)
(3) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے مروی، رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:شوہر نے عورت کو بلایا اس نے انکار
کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے
ہیں ۔(صحیح البخاری،الحدیث: ۳۲۳۷،ج ۲،ص ۳۸۸)
(4)ابونعیم علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا:اے
عورتو!خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو، اس لیے کہ عورت کو اگر
معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔
(کنزالعمال،ج ۱۶،ص ۱۴۵)
(5)ترمذی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا سے
راوی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جو عورت اس حال میں
مری کہ شوہر راضی تھا، وہ جنت میں داخل ہوگی۔(جامع الترمذی،ج ۲،ص ۳۸۶)
مرد کے کئی طرح کے
حقوق ہیں سب سے پہلے مرد کے ذاتی حقوق کے بارے میں بات کرینگے ۔
شوہر کے ذاتی حقوق:
(1) حتی الوسع شوہر کی جائز خوشی میں مصروف رہنا(2) شوہر کا
احترام کرنا اس سے بات چیت کرتے ہوئےادب کو ملحوظ رکھنا(3) شوہر کو نام سے پکارنا
پسند نا ہو تو اس کا لحاظ رکھنا (4)شادی کے بعد بیوی کےلیے شوہر کا نام اپنے نام
کے ساتھ لکھنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں (5)اگر شوہراور نکاح کرنا چاہے تو اسے
اللہ کا حکم سمجھتے اجازت دینا۔
شوہر کے معاشرتی حقوق: (1)تمام رشتوں میں شوہر کو ترجیح دینا (2)شوہر کو بلاوجہ
والدین سے الگ ہو جانے کےلیے اصرار نا کرنا (3) بچوں کے سامنے ان کے باپ کا وقار
بحال رکھنا (4) اپنی سوکنوں سے اچھا رویہ اور کبھی کبھی انہیں اپنے حقوق پر ترجیح
دینا (5)شوہر کے راز فاش نہ کرے۔
شوہر کے معاشی حقوق :(1) شوہر کی آمدن سے
زیادہ اس سے مطالبہ نہ کرنا (2) اس کے مال کی حفاظت کرنا اور ضرورت کے کاموں میں
بھی فضول خرچی نا کرنا (3) شوہر کی اجازت کے بغیر سلائی کڑہائی معاشی مصروفیات میں
مشغول نا ہونا(4)بے جا مطالبات پورے کروانے کےلیے شوہر پر دباؤ نہ ڈالے قناعت اختیار
کرنا قناعت والی عورتیں اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور شوہر کی ناشکری بھی نا کرے کیونکہ
شادی شدہ زندگی میں شکر گزاروں کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہےاسی ضمن میں حضرت ابراھیم
علیہ السّلام کا واقعہ یاد آتا ہے کہ
جب وہ حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی غیر موجودگی میں ان کے
گھر تشریف لے گئے اور انکی بیوی کے ناشکری کے کلمات سنے تو اپنی بہو کو ایک اجنبی
بزرگ نے مشورہ دیا کہ تمہارا خاوند آئے تو اسے کہنا کہ چوکھٹ بدل لے تو وہ کم فہمی
میں سمجھی نہیں اور شوہر کے آنے پر بتایا تو انہوں نے اسے طلاق دے دی اور دوبارہ
شادی کی پھر کچھ عرصہ بعد حضرت ابراھیم علیہ السّلام آئے اور آپ کے بیٹے گھر نہیں
تھے۔ آب کی نئی بہو سے شکرگزاری کے کلمات سنے اور فرمایا اپنے شوہر کو کہنا یہی
چوکھٹ رکھے بیوی نے ایسے ہی شوہر کو بتائے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
اللہ پاک ہمیں اپنے گھریلو معاملات بھی شریعت مطابق
چلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین
تنویر
احمد عطّاری (جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادہوکی لاہور،پاکستان)
بیوی پر شوہر کے حقوق: وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۲۲۸)ترجمہ کنز الایمان: اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے۔(پ2، البقرۃ:228) مرد و
عورت دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں لیکن مرد کو بہرحال عور ت پر فضیلت حاصل ہے
اور اس کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں۔
بیوی پرشوہر کے چند حقوق یہ ہیں:
حقوق نمبر(1):ازدواجی تعلقات میں
مُطْلَقاً شوہر کی اطاعت کرنا، اس بارے میں حدیث مبارکہ سماعت فرمائیں: ابونعیم حلیہ
میں انس رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے فرمایا: عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور
اپنی عفّت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل
ہو۔
حقوق نمبر(2): اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا، اور بیوی کو چاہے کہ وہ
اپنے شوہر کی عزت کی حفاظت کریں اور حتیٰ الامکان اس کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔
حقوق نمبر(3): اس کے مال کی حفاظت کرنا اور
جو اس کاگھر اور اسکا مال اس کے گھر کا سامان اور اولاد اور ماں باپ کا خیال رکھیں
اور ان کی حفاظت کریں۔
حقوق نمبر(4): ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا اور بیوی کو چاہے کہ وہ
اپنے شوہر کی ہر جائز اچھے کام میں خیر خواہی کریں اور اس کی مدد کریں اور جو وہ
کام کررہا ہے اس کی اس میں خیر خواہی کریں تاکہ خوشی سے کام کریں اور اسے حوصلہ
ہو۔
حقوق نمبر(5): ہر وقت جائز امور میں اس کی
خوشی چاہنا اور جائز کاموں میں اس کی مددکریں اور اس کو حوصلہ دے۔
حقوق نمبر(6): اسے اپنا سردار جاننا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کی: شوہر کا حق
اُس کی بیوی پر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: یہ کہ بیوی اپنے شوہر کو خود سے نہ روکے اگر
چہ اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو اور شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کی کوئی چیز کسی کو نہ
دے، اگر دے گی تو شوہر کے لئے ثواب اور عورت کیلئے گناہ ہے اور اس کی اجازت کے بغیر
نفلی روزونہ رکھے اگر ایسا کیا تو گناہ گار ہو گی اور کچھ ثواب نہ ملے گا نیز شوہر
کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اگر نکلی تو جب تک تو بہ نہ کرے یا واپس نہ آ
جائے رحمت اور عذاب کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔عرض کی گئی (بیوی کو کیسا ہونا
چاہیئے؟) اگر چہ شوہر ظالم ہو؟ فرمایا: اگر چہ وہ ظالم ہو۔اے عورتو! اللہ پاک سے
ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم پکڑ لو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے
تو وہ صبح اور شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔شوہر کو اپنے سر کا تاج اور سردار
سمجھے اور لوگوں کے سامنے اس کی برائیاں بیان نہ کرے ۔
حقوق نمبر(7): شوہر کونام لے کر نہ پکارنا، بیوی کو چاہے کہ شوہر کو کسی کے سامنے اور کوئی
نہ بھی ہو تو نام لےکر نہ پکارے زاہد کے ابو وغیرہ کہہ کر مخاطب کرے۔
حقوق نمبر(8): کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا اور عورت کو چاہے کہ اپنے گھریلو
معمولات کو اور شوہر کے بارے میں کسی کونہ بتائے اور صبر کریں اور اللہ پاک کی
بارگاہ میں دعا کریں کہ اللہ پاک اس کو ہدایت دے دے۔
حقوق نمبر(9): اور خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا۔ بیوی کو چاہے کہ شوہر
جوکچھ کر لڑائی جھگڑا یا مارے اور کام بھی نہ کریں بات بھی نہ مانے اور کہنا بھی
نہ مانے تو اس کی شکایت وغیرہ نہ کرے بلکہ صبر کا مظاہرہ کر یں اگر چہ اس کے خلاف
شکایت وغیرہ ہے۔
حقوق نمبر(10): اس کی اجازت کے بغیر آٹھویں
دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا، اس بارے میں حدیث
مبارکہ سماعت فرمائیں: حدیث میں ہے : نفلی روزے کے لئے شوہر کی اجازت جس عورت کا
شوہر موجود ہو اس کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھنا حلال نہیں
اور نہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے کی اجازت دینا جائز ہے۔اس حدیث
کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔حدیث میں ہے: طبرانی تمیم داری رضی
اللہ تعا لٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اس کی قسم کو سچا کرے
اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں آنے نہ دے جس کا
آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔
حقوق نمبر (11): وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے منانا۔(فتاوی رضویہ، ۲۴/۳۷۱، ملخصاً)
شوہر کے حقوق کی تفصیل: امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس
عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُهُمُ العالیہ نے اپنی کتاب پر دے کے بارے میں سوال
جواب میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شوہر کے حقوق کی اہمیت پر بہت مفید روشنی ڈالی
ہے۔ملاحظہ کیجئے۔
سوال: اسلامی بہن پر شوہر کے حقوق کی کیا تفصیل ہے؟ کیا
شوہر کا حق ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے؟
جواب: شوہر کے حقوق کا بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت
امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت پر
مرد کا حق خاص امور متعلقہ زوجیت میں اللہ و رسول پاک وصلى الله علیہ و اٰلہ و سلم
کے بعد تمام حقوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے۔ان اُمور میں اُس کے احکام کی
اطاعت اور اُس کے ناموس کی نگہداشت (یعنی اس کی عزت کی حفاظت) عورت پر فرض اہم ہے،
بے اس کے اذن کے محارم کے سوا کہیں نہیں جاسکتی اور محارم کے یہاں بھی ماں باپ کے یہاں
ہر آٹھویں دن وہ بھی صبح سے شام تک کیلئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں ، خالہ،
پھوپی کے یہاں سال بھر بعد اور شب (یعنی رات) کو کہیں نہیں جا سکتی ۔(فتاوی رضویہ،
24/380)
اے روز آخرت پر ایمان رکھنے والی اسلامی بہنو! اگر آپ نے
بھی کبھی شوہر کے ساتھ اس قسم کا رویہ اپنایا ہے تو عاجزی اور انکساری کے ساتھ
اپنے شوہر سے معافی مانگ کر اسے راضی کر لیجئے کیونکہ اگر شوہر کے ساتھ احسان
فراموشی والا سلوک کرنے، فرمائش پوری نہ ہونے پر اسے جلی کٹی باتیں بنانے اور اس
کا دل دکھانے کی وجہ سے اگر جہنم میں ڈال دیا گیا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔شوہر کی
ناشکری سے عورت کو اس لئے بھی بچنا چاہئے کہ مسلسل اس قسم کی باتیں شوہر کے دل میں
نفرت کے طوفان پید اکر دیں گی اور اگر خدانخواستہ اس کی ضد میں آکر تعلقات کی ناؤ
ڈوب گئی تو عمر بھر پچھتانا پڑے گا۔اس لئے کامیاب بیوی وہی ہے جو کبھی بھی ناشکری
کے الفاظ زبان پر نہ لائے بلکہ آسانیوں کے علاوہ تنگدستی کے حالات میں بھی صبر
وشکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ زندگی کے دن گزارے تا کہ وہ پریشانیوں میں
خود کو تنہانہ سمجھے۔( بخاری، کتاب النکاح باب كفران العتير۔۔۔الخ، ۴۶۳/۳، حدیث:
۵۱۹۷)
Dawateislami