اسلام بطور دین ایک مکمل ضابطہ حیات جو مسلمانوں کو بامقصد زندگی گزارنے کامکمل طریقہ بتاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا یعنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی، صحیح اور غلط کی آگاہی دی، اب یہ انسانی عقل پر منحصر ہے کہ وہ سیاہ کرتا ہے یا سفید۔لیکن انسان خطا کا پتلا ہے اور اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے اس لئے اُس نے مسلمانوں کے لئے ہدایت کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے تاکہ اگر کوئی مسلمان گناہ کا مرتکب ہو جائے تو توبہ و استغفار سے فلاح کا راستہ پاس کے۔

استغفار کے فوائد:ہمارا دین ہمیں گناہوں سے بچنے کا درس دیتا ہے۔لہٰذا اگر خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی جائے تو بارگاہ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں اور گناہوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مسلمانوں کی فلاح کیلئے استغفار کے بڑے میں فوائد بتائے ہیں۔

یہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے: قرآن میں ایک جگہ استغفار کی اہمیت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ اپنے رب سے معافی مانگتے رہو بیشک وہ ہمیشہ معافی دینے والا ہے۔یعنی صرف اللہ سے رحمت کے طلب گار رہیں کیونکہ وہ ہی معاف کرنے والا ہے۔ایک حدیث کے مطابق نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گاجس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ایسے ذکر کیا کہ اس کے آنسو جاری ہو گئے۔(صحيح بخاری: 1337)

استغفار سید المرسلين: آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات گرامی وہ ہستی ہے جس کے متعلق امت محمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور دیگر انبیائے کرام معصوم عن الخطا ہیں۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اطاعت اور عبادت الٰہی میں گزارا۔گناہ کرنا تو کجا آپ کے دل و دماغ میں گناہ کا کبھی تصور بھی پیدا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود آنحضرت کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک حدیث شریف میں ذکر ہے کہ آنحضرت نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:يأيها الناس توبوا إلى الله فإني أتوب إليه في اليوم مائة مرة کہ لوگو! اللہ کی بارگاہ میں تو بہ کرو۔میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ رب العزت سے دعا کرتا ہوں اور تو بہ کرتا ہوں۔(بخارى) آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مندرجہ ذیل استغفار کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ أسْتَغْفِرُ الله الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ میں اللہ سے بخشش کی دعا کرتا ہوں، وہ اللہ جس کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ اللہ جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے اور میں اس کی طرف تو بہ کرتا ہوں۔ (ابوداؤد)

گناہوں سے معافی: انسان کے گناہ خواہ ریت کے ذروں کے برابر ہوں یا پھر بحر بیکراں کے قطرات سے زائد ہوں تو بھی استغفار سے سب محو ہو جاتے ہیں۔چنانچہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: يا ابن آدم ما دعوتني ورجوتني غفرت لك ما كان فيك ولا أبالي يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي يا ابن آدم أنك لو لقيتني بقراب الأرض خطا يا ثم لقيتني لا تشرك شيئا لا تيتك بقرابها مغفرة

اے ابن آدم! تو جب تک مجھ سے دعا کرے گا اور امید رکھے گا تیرے جو گناہ بھی ہوں گے معاف کر دونگا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک ہی جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو بھی میں تجھے گناہوں سے معافی دونگا، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اے ابن آدم! اگر تو زمین کے برابر گناہ لایا لیکن شرک نہ کیا تو میں اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر تیرے پاس آؤں گا۔

صفائی قلب: جس طرح لوہا پانی میں پڑا رہنے سے زنگ خوردہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح انسانی قلوب گناہوں کی نجاست سے آلودہ ہونے کے باعث زنگ خوردہ ہو جاتے ہیں۔ایسے وقت استغفار کی ریتی ہی اس زنگ کو دور کر کے چمکا سکتی ہے۔چنانچہ آنحضرت ص صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایک طویل حدیث ہے جس کے آخر میں یہ ذکر ہے: فإن تاب واستغفر صقل قلبه (ترمذی) یعنی اگر انسان تو بہ کر لے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگے تو اس سے اس کا قلب چمک اُٹھتا ہے۔

موجب جنت: ایک دفعہ آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استغفار کا ذکر فرمایا اور اس کی فضیلت ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فمن قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة ومن قالها من الليل موقنا بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة جو آدمی یقین کے ساتھ دن کو سید الاستغفار پڑھتا ہے اور شام سے پہلے فوت ہو جاتا ہے تو وہ اہل جنت سے ہے اور جو رات کو یقین کے ساتھ پڑھتا ہے اور صبح سےپیشتر ہی وفات پا جاتا ہے تو وہ بھی اہل جنت سے ہے ۔ (بخارى)

پریشانی اور تنگی رزق سے نجات: آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تنگ دستی اور ذہنی و قلبی پریشانی میں مبتلا اشخاص کو یہ مژدہ جاں فزا سنایا۔ من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه الله من حيث لا يحتسب جو انسان استغفار کو ہمیشہ کے لئے اپنا وظیفہ بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر قسم کی تنگی اور پریشانی کو دور کرتا ہے اور اسے ایسے ذریعے سے رزق عطا کرتا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ (احمد، ابوداود)

میت کے لئے استغفار: نبی کریم سے فرماتے ہیں: ان الله ليرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فيقول يا رب أنى لي هذا فيقول باستغفار ولدك لك (احمد) اللہ رب العزت اپنے نیک بندوں کا جنت میں مرتبہ بڑھائے گا۔انسان کہے گا کہ اے میرے پروردگارا یہ درجہ مجھے کیسے نصیب ہوا؟ اللہ تعالیٰ جواب فرمائے گا کہ تیرا لڑکا تیرے لئے استغفار کرتا رہا ہے۔اس لئے تجھے یہ بلند درجہ نصیب ہوا۔

مردوں کے لئے بہترین تحفہ: آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ قبر میں میت کی مثال اس غرق ہونے والے کی ہے جو امداد کا طالب ہوتا ہے۔جب اس کی بخشش کی دعا کی جاتی ہے اور اس کے لئے استغفار کی جاتی ہے وہ دنیا کی تمام اشیاء سے اسے محبوب ہوتی ہے۔ پھر فرمایا: اللہ تعالی اہل زمین کی دعا کی برکت سے اہل قبور پر پہاڑوں کی مانند رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر آخر میں فرمایا: إن هدية الأحياء إلى الأموات الاستغفار لهم کہ جو لوگ بقید حیات ہیں ان کا تحفہ مردوں کے لئے یہ ہے کہ ان کے حق میں بخشش کی دعا کریں۔ اللہ پاک ہم سب کی مغفرت فرمائے آمین


استغفار کا مطلب ہے کسی سے معافی مانگنا یا گناہوں کی مغفرت طلب کرنا استغفار ایک اہم عبادت ہے جو قرآن و حدیث میں بڑی فضیلتوں کے ساتھ ذکر ہوئی ہے یہاں چند قرآنی آیات اور حدیثوں کی روشنی میں استغفار کے فضائل کو پیش کیا جا رہا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ(۱۰۶) ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ سے معافی چاہو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(پ5، النسآء: 106)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔(پ29، نوح10)

اگلی آیت ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے کس طرح مغفرت طلب کرنی ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۱۶) ترجَمۂ کنزُالایمان: عرض کی اے میرے رب میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اُسے بخش دیا بےشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔(پ20، القصص:16)

امام جلالُ الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تعالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گناہوں سے معصوم ہیں،اس کے باوجود آپ کو گناہ سے مغفرت طلب کرنے کا فرمایا گیا(یہ امت کی تعلیم کے لئے ہے) تاکہ اس معاملے میں امت آپ کی پیروی کرے اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مغفرت طلب بھی کی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا: میں روزانہ سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتا ہوں (جلالین، القتال، تحت الآیۃ: 19، ص 421)

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو شخص استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات کم کرتا ہے اور رزق میں برکت دیتا ہے۔ اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار اِستغفار کرتے۔

اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان! جب تک تومجھ سے دعا کرتا اور امید رکھتا رہے گا میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا، چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں،پھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی میرے پاس لے کر آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے ا س کے برابر بخش دوں گا۔(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ، والاستغفار۔۔۔الخ، ۵/۳۱۸، الحدیث: ۳۵۵۱)

اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اس طرح نہ کہے یا اللہ! پاک،اگر تو چاہے تو مجھے بخش۔یا اللہ! پاک، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔بلکہ یقین کے ساتھ سوال کرناچاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔(ترمذی، کتاب الدعوات، ۷۷-باب، ۵/۲۹۹، الحدیث: ۳۵۰۸)

استغفار کرنے کا عمل ایک ایسا ذکر ہے جو روزانہ کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے اور یہ ایک سادہ اور قوی طریقہ ہے توبہ کرنے کا۔ استغفار کرتے وقت دل کی سچی توبہ اور نیک نیتی کے ساتھ کی جانی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ارادہ ہونا چاہیے۔

استغفار کرنے سے انسان کی روحانیت مضبوط ہوتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون اور اطمینان پایا جاتا ہے۔

استغفار کرنے سے ہم اپنے گناہوں سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور برکت حاصل کرتے ہیں۔

استغفار ایک مقدس عبادت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے اس سے ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی اور سکون ملتا ہے یہ آپ کے دل کی صفائی اور روح کی پرہیزگاری کی جانی اور مالی عبادت ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی نزدیکی کے قریب لے جاتے ہیں۔


پیارے اسلامی بھائیو! حضور علیہ السّلام مرحوم و مغفور ہو کر دن اور رات میں (70) بار استغفار کرتے تھے تو ہم گنہگار ہو کر استغفار کے کتنے حاجت مند ہیں تو آئیے چند معلومات استغفار کے متعلق حاصل کرتے ہیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33)

تفسیر:علامہ علی بن محمد خازن رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔(خازن، الانفال تحت الآية 193/2،33)احادیث میں استغفار کرنے کے بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں ان میں سے (5)احادیث درج ذیل ہیں:

(1) رب پاک فرماتا ہے: عن ابی سعيد الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی علیہ السّلام قال الرب: وعزتي وجلالی لا ازال اغفر لهم ما استغفرونى ترجمہ:میں ہمیشہ اس کو بخشتا رہوں گا جو مجھ سے بخشش طلب کرتا رہے گا۔(احمد بن حنبل ، 3 - 29 - رقم 255 11 - المستدرك للحاکم رقم7672)

(2)ایسی جگہ سے رزق جہاں وہم و گمان بھی نہ ہوگا: حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لیے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہرغم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔(ابن ماجہ ، کتاب الادب، باب الاستغفار، 257/4، الحدیث:3819)

(3)استغفار میں اضافہ : من أَحَبَّ أَنْ تَسُرہ صَحِيفَتُه فَلْيُكثر فيها مِنَ الْاِسْتِغْفَارِ ترجمہ: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرئے ۔ (اربعین عطار، ص 35)

(4) کس کے لیے زیادہ خوبیاں ہیں: روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے لیے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے۔(ابن ماجہ۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، ج: 3 ، حدیث: 2356)

(5) نیک اولاد کا فائدہ : الله پاک جنت میں بندے کو ایک درجہ عطا فرمائے گا بندہ عرض کرئے گا: اے مولیٰ پاک یہ درجہ مجھے۔کیسے ملا؟ الله عز وجل ارشاد فرمائے گا۔اس استغفار کے بدلے جو تیرے بیٹے نے تیرے لیے کیا۔(المسند للام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرہ، الحدیث: 10615، ج 3، ص 585 )

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ایمان پر قائم رہنے اور گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


اِستغفار یعنی(توبہ کرنا) کسے کہتے ہیں؟ : عمدۃُ القاری میں توبہ سے متعلق علمائے کرام کے مختلف اقوال:

(1): بعض مشائخِ کرام کے نزدیک نَدامت توبہ ہے۔

(2): بعض کے نزدیک گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کاعَزْمِ مُصَمَّم (یعنی پکا ارادہ) توبہ ہے۔

(3):گناہ سے باز رہنے کا نام توبہ ہے۔

(4):مذکورہ تینوں باتوں کے مجموعے کانام توبہ ہے اور یہی سچّی توبہ کہلاتی ہے۔

(5):علّامہ جَوہَرِی نے فرمایاکہ گناہوں سے رُجوع کرنے کا نام توبہ ہے۔(عمدۃ القاری، الدعوات، باب التوبۃ،۱۵/۴۱۴)

سچّی توبہ کی علامات: حضرتِ سَیِّدُناعَبدُ اللہ بِنْ مُبارَک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سچّی توبہ کی چھ علامات ہیں: (۱) گُزَشتَہ گناہوں پر نادم ہونا (۲)گناہوں کی طرف نہ لوٹنے کاعَزْمِ مُصَمَّم (۳) جن فرائض میں کوتاہی کی ہے ان کی ادائیگی (۴)جن کا حَق تَلَف کیا ہے انہیں ان کا حق دینا (۵)ناجائز و حرام مال سے بدن پر جو چربی چڑھ گئی ہو اُسےغَم وحُزْن کے ذریعے پگھلانا یہاں تک کہ کھال ہڈی سے چمٹ جائے اور پھر اگر اُس پہ گوشت آئے تو ایسا گوشت آئے جو حلال و طیب سے پروان چڑھا ہو(۶) جس طرح بدن کو نفسانی خواہشات کی لذت پہنچائی ہے اسی طرح اسے اطاعت کا مزہ چکھانا۔(شرح بخاری لابن بَطّال،کتاب الدعائ، باب توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا،۱۰/۸۰)

حضرتِ سَیِّدُنا اَغَر بنْ یَسَارمُزَنِی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نَبِیّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ 100 مرتبہ اللٌٰہ پاک کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ (مسلم، کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹، حدیث: ۲۷۰۳)

پیارے اسلامی بھائیو!توبہ و اِستِغفَار، نماز، روزے کی طرح عبادت ہے، اِسی لئے حضور انورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بکثرت توبہ واِستِغفَار کیا کرتے تھے۔ورنہ حضور انورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مَعصُوم ہیں گناہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قریب بھی نہیں آتا اس سے ہمیں اپنی اصلاح کرنے کا درس ملتا ہے۔

استغفار کے فضائل:حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم اُس شخص کی خوشی سے متعلق کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی کسی سنسان جنگل میں اپنی نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی نکل جائے، جس سر زمین میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو اور اس اونٹنی پر اس کے کھانے پینے کی چیزیں لدی ہوں، وہ شخص اس اونٹنی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جائے،پھر وہ اونٹنی ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی نکیل اس تنے میں اٹک جائے اور اس شخص کو وہ اونٹنی تنے میں اٹکی ہوئی مل جائے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ بہت خوش ہو گا، حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سنو! بخدا! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی سواری کے (ملنے کی) بہ نسبت زیادہ خوشی ہوتی ہے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: گناہ سے (سچی) توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم گِنا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک مجلس کے اندر سو مرتبہ کہا کرتے۔اے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما بے شک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

جوانی میں توبہ کی فضیلت: اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تعالیٰ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّ اللہَ تعالیٰ یُحِبُّ الشَّابَّ التَّائِبَ یعنی جوانی میں توبہ کرنے والا شخص اللہ پاک کا محبوب ہے۔ (کنز العُمّال، کتاب التوبۃ، الفصل الاول فی الخ، الجزء۴، ۳/۸۷، حدیث: ۱۰۱۸۱)

مُبَلِّغِ اِسلام حضرتِ علّامہ شیخ شُعَیْب حَرِیفِیْش رَحمۃُ اللہِ تعالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی اپنے بندے سے مَحَبَّت اُس وقْت ہوتی ہے جبکہ وہ جوانی میں توبہ کرنے والا ہو کیونکہ نوجوان تَر اورسرسبزٹہنی کی طرح ہوتاہے۔جب وہ اپنی جوانی اور ہر طرف سے شہوات ولذات سے لطف اٹھانے اوران کی رغبت پیدا ہونے کی عمر میں توبہ کرتاہے، اوریہ ایسا وقت ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔اس کے باوجود محض رضائے الٰہی کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تو اللہ پاک کی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔ (حکایتیں اور نصیحتیں، ص۷۵)

پیارے اسلامی بھائیو! ذرا غور وفکر کرنے کا مقام ہے کہ بندے کی توبہ کرنے سے الله پاک کتنا زیادہ خوش ہوتا ہے جب تو اسے مالک تسلیم کررہا ہے تو اُس کے ہر حکم کو سرِ خم تسلیم کرکے اطاعت وفرمانبرداری کو بجا لاکر اپنے بندے ہونے کا ثبوت بھی دے۔

استغفار کے فوائد: جو اِستغفار کو لازم کرلے اللہ پاک اس کی تمام مشکلوں میں آسانی، ہرغم سے آزادی اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(ابو داؤد،ج2،ص122، حدیث:1518)

اِستغفار سے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔(مجمع البحرین،ج 4،ص272، حدیث:473)

جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم لکھنے والے فرشتوں کواس کے گناہ بُھلادیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔(الترغیب والترھیب،ج4،ص48، رقم:17)

مزید ایک اور فرمانِ آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بندہ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہتا ہے جب تک وہ اِستغفار کرتا رہتا ہے ۔ (مسند احمد شعیب ارنووط نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے)

پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے ان احادیث کریمہ کو ملاحظہ فرمایا کہ اِستغفار سے اللہ پاک اپنے بندے پر کتنی رحمتوں کی بارش برساتا ہےاب توبہ کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں تو اُس ربِّ کریم کی بلند بارگاہ میں گناہوں کی معافی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کی استقامت طلب کرنی چاہئے۔


حضرت سیدنا علقمہ اور حضرت سیدنا اسود رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قرآن پاک میں کچھ آیتیں ایسی ہیں کہ اگر گناہ گار ان کی تلاوت کرکے رب پاک سے مغفرت طلب کرے تو اس کی مغفرت کر دی جائے۔

(1) اللہ پاک ہر پریشانی دور فرما دے گا: جو استغفار کی کثرت کرے گا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور کرے گا۔ہر تنگی سے اس کے لیے نجات کی راہ نکالے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہ ہوگا ۔(سنن ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، الحدیث 1518، ج 2، ص 122)

(2) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکثر یہ پڑھتے تھے: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکثر یہ پڑھا کرتے تھے۔اے اللہ عزومل! تیری ذات پاک ہے۔اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اے الله پاک! میری مغفرت فرما بے شک تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ (کتاب الدعا للطبرانی، القول فی السجود،الحديث، 597، ص 193)

(3) جو یہ کلمات پڑہے اللہ پاک اس کے گناہ بخش دے گا: سوتے وقت جو یہ کلمات میں عظمت و بزرگی والے پروردگار پاک سے مغفرت طلب کرتا ہوں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ زندہ اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں،تین مرتبہ پڑھ لے اللہ پاک اس کے گناہ بخش دےگا۔(سنن الترمذی، کتاب الدعوات، الحدیث 3508 ،ج 5، ص 255)

(4) الله پاک جنت میں بندے کو ایک درجہ عطا کرے گا: اللہ پاک جنت میں بندے کو ایک درجہ عطا کرے گا، بندہ عرض کرے گا: اے اللہ عروجل! یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: اس استغفار کے بدلے جو تیرے بیٹےنے تیرے لیے کیا ۔ (المسند الامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھر یرہ ، الحدیث: 615، ج 3 ، ص 584)

(5)الله پاک سے مغفرت طلب کرنا: ایک شخص جس نے کبھی نیکی نہ کی تھی ایک روز آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کہنے لگا بے شک میرا ایک پروردگار ہے، اے میرے اللہ عزو جل! میری مغفرت فرما۔اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میں نے تجھے بخش دیا۔(موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، حسن الظن باالله، الحدیث: 106، ج 1، ص 104)


 مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِستِغفَار کے معنی ہیں گُزَشتَہ گناہوں کی معافی مانگنا۔اِستِغفَار غَفْرٌ سے بنا ہے اس کا مطلب ہے،چھپانا یا چھلکاو پَوست وغیرہ چونکہ اِسْتِغفَار کی برَکَت سے گناہ ڈھک جاتے ہیں اِس لئے اِسے اِستِغفَارکہتے ہیں۔(مر اٰۃ لمناجیح،۳/۳۵۲)

استغفار کرنے کے کثیر فضائل اور دینی و دنیوی فوائد قرآن و احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند احادیث بطور ترغیب ذکر کرتا ہوں:

(1)ترجمان قرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار الحدیث: ۳۸۱۹)

(2) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت و جلال کی قسم!جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میری عزت و جلا ل کی قسم! جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے تو میں انہیں بخشتا رہوں گا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری ، الحدیث: 11244)

(3) حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک کی قَسَم!میں ایک دن میں 70 مرتبہ سے بھی زیادہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ وا ِستِغفَار کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، حدیث 6307)

(4) صحابی رسول حضرتِ سیدنا اَغَر بن یسار مُزَنِی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے لوگو!اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو۔بے شک میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ پاک کے حضور توبہ کرتا ہوں۔(صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، حدیث: 2703)

(5)حضرت شداد ابن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا استغفار کا سردار یہ ہے کہ تم کہو الٰہی تو میرا رب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا،میں تیرا بندہ ہوں اور بقدر طاقت تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں میں اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اسکا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقراری ہوں مجھے بخش دے،تیرے سوا کوئی گناہ کو نہیں بخش سکتا حضور نے فرمایا کہ جو یقین قلبی کے ساتھ دن میں یہ کہہ لے پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا اور جو یقین دل کے ساتھ رات میں یہ کہہ لے پھر صبح سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہوگا (مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2335)

(6)حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضور جان جاناں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :مبارک ہو اس آدمی کو جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار کو کثرت سے پائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2356)

(7)۔خادم رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شفیع المذنبین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا بے شک تانبے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس زنگ کی صفائی استغفار کرنا ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب التوبۃ، حدیث 17575، ج 10 ص 346)

(8)امیر المومنین، حیدر کرار، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہ شخص ہوں کہ جب سید المرسلین، خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے حدیث سنتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے جتنا چاہے نفع دیتا ہے اور جب رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کوئی صحابی مجھے حدیث سناتے ہے تو میں ان سے حلف لے لیتا ہوں اور جب وہ حلف اٹھا لیتے ہیں تو میں ان کی تصدیق کرتا ہوں اور مجھے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی اور اُنہوں نے سچ فرمایا کہ میں نے مدنی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ جو بندہ گناہ کر بیٹھے پھر احسن طریقے سے وضو کرے پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کرے اور استغفار کرے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں۔(پ4، الِ عمرٰن:135)(ترمذی شریف،کتاب الصلاۃ، حدیث 496)

(9)۔جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ذیشان، نبیوں کے سلطان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جسے یہ پسند ہو کہ اسکا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو وہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے۔ (مجمع الزوائد، کتاب التوبہ، حدیث 17579، ج 10 ،ص 347)

(10)حضرت سیدنا بلال بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے میرے دادا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جس نے یہ کہا:اَسْتَغْفِرُاللہ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہو الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، کائنات کا نگہبان ہے اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ میدان جہاد سے بھاگا ہو۔(ترمذی شریف، حدیث 3588 ج 5 ص 336)

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ استغفار کے کتنے ہی دینی و دنیوی فوائد ہیں۔ کثرت سے استغفار کرنا بھی اللہ کو پسند ہے حضور نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو کثرت سے گناہ کرتا ہے پھر کثرت سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔ (مسند بزار، حدیث 700)

لہٰذا جس چیز کے اتنے فضائل و فوائد ہوں اسے اختیار کرنے میں دنیا و آخرت کا فائدہ ہے اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سیدنا خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


استغفار ایسی اہم ترین چیز ہے جس سے بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور مغفرت کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے۔علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جان لو! استغفار صابن کی طرح ہے۔جس طرح صابن ظاہری میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اسی طرح استغفار باطنی گناہوں کی میل اور گندگیوں کو صاف کر دیتا ہے۔

استغفار کا مطلب: حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بندہ استغفراللہ کہتا ہے اس کا مطلب ہے کہ (مولی! مجھے بخش دے)۔(احیاء العلوم،ص935،ج1)

اللہ کے محبوب بندے: حضرت سید نا خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: میرے محبوب بندے وہ ہیں جو مجھ سے محبت کے سبب آپس میں محبت رکھتے ہیں ان کے دل مساجد میں لگے رہتے ہیں اور وقت سحر استغفار کرتے ہیں۔جب میں اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں تو انہی لوگوں کی وجہ سے (عذاب) پھیر یتا ہوں۔(احیاء العلوم، ص934، ج1)

بیٹے کا باپ کیلئے استغفار کرنا: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک بندے کو جنت میں ایک درجہ عطا فرمائے گا۔بندہ عرض کرے گا اے مولی پاک یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اُس استعفار کے بدلے جو تیرے بیٹے نے تیرے لئے کیا ہے۔(مسند امام احمد بن حنبل/حدیث 10610/ج3/ص584)

استغفار کے ذریعے رزق کی فراوانی: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو استغفار کی کثرت کرے گا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دورفرمادے گا، ہر تنگی سے اس کے لئے نجات کی راہ نکالے گا اور ایسی جگہ سے رزق حلال عطافرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔(سنن ابی داؤد/حدیث1518/ج2/ص122)

گناہ کا علاج : حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، قرآن پاک تمہاری بیماری کی تشخیص کرتا اور اس کے لئے دوا تجویز فرماتا ہے گناہ تمہاری بیماری ہے۔اور استغفار اس کا علاج ہے۔(احیاء العلوم/ص 193/ج 1)

استغفار کے فوائد : سنت رسول پر عمل کا موقع، رضائے رب باری تعالیٰ،دل کانرم ہو جانا ،ثواب کے انبار،بزرگان دین کے طریقے پر عمل، پریشانی اور تنگی سے نجات، دل کا چمکا دیا جانا،بخش کا ذریعہ، قرآن پر عمل، گناہ کا علاج۔

نامہ اعمال خوش کرے : فرمان مصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:مِنْ أَحَبَّ اَنْ یَسُرَّہٗ صَحِیْفَتُہٗ فَلْیُکْثِرْفِیْہا مِنَ الْاِسْتِغْفَارِ جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسےخوش کرے تو اسے چاہیے کہ اُس میں استغفار کا اضافہ کرے۔(مجمع الزوائد 347/10، حدیث: 17579)

اللہ پاک ہم سب کو استغفار کی کثرت کرنے اور ذات باری تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فر مائے۔آمین


انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اللہ پاک نے ایک دروازہ توبہ و استغفار کا بھی بنایا ہے جو بندہ استغفار کرتا ہے اللہ پاک اس کو اپنی رحمت عطا فرماتا ہے اور میں آپ کی نظر کچھ فرامینِ مصطفیٰ پیش کرتا ہوں:

(1)ہر پریشانی دور ہو گی: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو استغفار کی کثرت کرے گا اللہ پاک اس کی ہر پریشانی دور فرمائے گااور اس کے لیے نجات کی راہ نکالے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسکا گمان بھی نہ ہو گا۔(سنن ابی داؤد،کتاب الوتر،باب فی الاستغفار،الحدیث:،1018ج،2ص،122بتغیر)

(2)100 مرتبہ استغفار کرنا: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ پاک سے استغفار کرتا ہوں۔(کتاب الدعاء للطبرانی،فصل الاستغفار فی ادبارالصلوۃ، الحدیث:،1838ص،516بتقدم وتاخر۔)

(3)اللہ ایک درجہ عطا فرمائے گا: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا اللہ پاک اپنے بندے کو ایک درجہ عطا فرمائے گا وہ بندہ عرض کرے گا مجھے یہ درجہ کیسے ملا؟ اللہ پاک فرمائے گا: اس استغفار کے بدلے جو تیرے بیٹے نے تیرے لیے کیا۔( المسندللامام احمد بن حنبل،مسندابی ھریرہ،الحدیث:،10615ج،3ص583)

(4)اپنے بندے کی بخشش فرما دی: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کر لے پھر کہے کہ یا اللہ مجھے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے سے گناہ ہو گیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ پر پکڑ بھی فرماتا ہے اور بخش بھی دیتا ہے اے میرے بندے! جو چاہے کر میں نے تیری بخشش فرما دی۔(صحیح مسلم،کتاب التوبہ،باب قبول التوبہ من الذنوب۔۔۔۔ الخ،الحدیث:2758ص1373۔،1375بتقدم وتاخر)

ہمیں بھی اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے اس کی رحمت بہت بڑی ہے وہ ہمیں اپنے حبیب کے صدقے بخشے گا اللہ پاک ہم سب کو ان احادیثِ مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 


اِسْتِغْفار کے معنی خداوند متعال(یعنی اللہ پاک)سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں۔جو زبانی طور پر استغفراللہ کہنے کے ذریعے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث میں استغفار کرنے پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تقریباً 30 آیات میں انبیاکے استغفار کا بیان ملتا ہے۔اللہ پاک کے عذاب سے نجات، گناہوں کی مغفرت اور رزق و روزی میں وسعت استغفار کے آثار میں شمار کیا جاتا ہے۔

توبہ اور استغفار میں فرق یہ ہے کہ جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے اور پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر نا توبہ ہے۔ روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یوں عرض کرتے تھے الٰہی مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکیاں کریں اور خوش ہوجائیں اور گناہ کریں تو معافی مانگ لیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد:3،حدیث نمبر:2357)

سبحان الله! کیسی پیاری دعا ہے یعنی مجھے اس جماعت سے بنا جو اپنی نیکی پر فخر نہیں کرتے بلکہ توفیق خیر ملنے پر تیرا شکر کرتے ہیں اور گناہوں پر لاپرواہی نہیں کرتے بلکہ اس دھبہ کو فورًا توبہ کے پانی سے دھو ڈالتے ہیں۔رب تعالیٰ حضور کے صدقہ سے یہ صفتیں ہم کو بھی نصیب کرے آمین!

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: وَاللہ اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللہ وَاَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً (مشکاۃ المصابیح،ج1،ص434،حدیث:2323) ترجمہ: خدا کی قسم! میں دن میں ستر (70) سے زیادہ مرتبہ اللہ سے اِستغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کریم کے سارے ہی انبیائے کرام علیہمُ السَّلام معصوم ہیں، وہ گناہوں سے پاک ہیں اور رسولِ اکرم جنابِ محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو سب انبیاء و رُسُل کے سردار ہیں۔علمائے کرام و محدثینِ عظام نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِستغفار کرنے (یعنی مغفرت مانگنے) کی مختلف حکمتیں بیان فرمائی ہیں چنانچہ

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےاِستِغفَار کرنے کی حکمتیں:

علّامہ بدرُالدّین عَیْنی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بطورِ عاجزی یا تعلیمِ اُمّت کیلئے اِستِغفَار کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری،ج 15،ص413، تحت الحدیث:6307ملخصاً)

حکیمُ الاُمّت مُفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں: توبہ و استغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے اسی لئے حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس پر عمل کرتے تھے ورنہ حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔ (مراٰۃ المناجیح،ج3،ص353ملخصاً)

اللہ کریم کے سب سے مقبول ترین بندے یعنی دونوں جہاں کے سلطان محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو گناہوں سے پاک ہونے کے باوجو ہماری تعلیم کے لئے اِستغفار کریں اور ایک ہم ہیں کہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہونے کے باوجود اِستغفار کی کمی رکھیں، ہمیں چاہئے کہ اللہ کی بارگاہ میں خوب خوب توبہ واستغفار کرتے رہیں۔

ہمیں استغفار کی تعلیم وہ سلطان دو جہاں ارشاد فرما رہے ہے ہیں جن کے وسیلے سے اللہ پاک گناہ گاروں کو بخششیں عطا فرماتا ہے قرآن کریم میں رب العزت کا ارشاد ہے:

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(پ5، النسآء: 64)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: بندوں کو حکم ہے کہ ان (یعنی نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں۔اللہ تو ہر جگہ سنتا ہے، اس کا علم،اس کا سَمع (یعنی سننا)، اس کا شُہود (یعنی دیکھنا) سب جگہ ایک سا ہے، مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ (تفسیر صراط الجنان)

حضور کے عالَم حیات ظاہری میں حضور (یعنی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہونا) ظاہر تھا، اب حضورِمزار پُر انوار ہے اور جہاں یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو دل سے حضور پُر نور کی طرف توجہ،حضور سے تَوَسُّل، فریاد، اِستِغاثہ، طلبِ شفاعت (کی جائے) کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔

مولانا علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں رُوْحُ النَّبِیِّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حَاضِرَۃٌ فِیْ بُیُوْتِ اَھْلِ الْاِسْلَامِ ترجمہ: نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔ (فتاوی رضویہ، 15/954)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حدائق بخشش میں فرماتے ہیں :

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا

استغفار پر احادیث مبارکہ:

وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ:

«اللہمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَالِ وَالْإِكْرَامِ»

روایت ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور کہتے الٰہی تو سلام ہے تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلالت اور بزرگی والے (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2،حدیث نمبر:961)

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بہت خوبیاں ہیں جو اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار پائے (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3،حدیث نمبر:2356)

اس حدیث پاک کی شرح میں ہے یعنی اس نے مقبول استغفار بہت کئے ہوں جو اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاچکے ہوں اسی لئے یہاں بہت استغفار کرنے کا ذکر نہ فرمایا بلکہ نامہ اعمال میں پانے کا ذکر کیا۔مقبول استغفار وہ ہے جو دل کے درد، آنکھوں کے آنسو اور اخلاص سے کی جائے صرف اخلاص بھی کافی ہے۔

اِسْتِغْفار کرنے کے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد و فضائل ہیں جن میں سے چند درج ذیل میں تحریر ہیں:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، 4/257، الحدیث: 3819)

سبحان اللہ اس حدیث مبارکہ میں استغفار کے 2 فائدے حاصل ہوئے :(1)اس استغفار کی بر کت سے اللہ رنج و الم دور فرماتا ہے(2)استغفار کرنے والے کے رزق میں برکت و وسعت عطا فرماتا ہے۔

اللہ پاک توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (پ2، البقرۃ: 222)

اِستغفار سے دِلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔ (مجمع البحرین،ج 4،ص272، حدیث:4739)

جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ کریم لکھنے والے فرشتوں کو اس کے گناہ بُھلا دیتا ہے، اسی طرح اس کے اَعْضاء (یعنی ہاتھ پاؤں)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور زمین سے اُس کے نشانات بھی مِٹا ڈالتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔ (الترغیب والترھیب،ج4،ص48، رقم:17)

سبحان اللہ اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے لہذا ہر شخص کو چاہیے کہ اللہ پاک سے رحمت کی اُمید رکھتے ہوئے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرے، بروز قیامت حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تعالیٰ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ


 استغفار کسے کہتے ہیں: جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے۔

قرآن و احادیث میں استغفار کے بیشمار فضائل و فوائد بیان کیے گئے ہیں

استغفار یہ ایک مجرب وظیفہ بھی ہے استغفار کی برکت سے گنہگار بندہ بھی متقی پرہیزگار بن جاتا ہے اور قرآن پاک میں استغفار کا حکم بھی ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید پارہ 29 سورہ نوح آیت نمبر10 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔(پ29، نوح10)

اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کی قوم لمبے عرصے تک آپ علیہ السّلام  کو جھٹلاتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے بارش روک دی اور چالیس سال تک ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا، ان کے مال ہلاک ہوگئے اور جانور مرگئے، جب ان کا یہ حال ہوا تو حضرت نوح عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے ان سے فرمایا: اے لوگو! تم اپنے رب پاک کے ساتھ کفر و شرک کرنے پر اس سے معافی مانگو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے استغفار یعنی مغفرت طلب کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہونا خیر و برکت اور وسعت ِرزق کا سبب ہوتا ہے اور کفر سے دنیا بھی برباد ہو جاتی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ اُسے بڑا معاف فرمانے والا ہے جو (سچے دل سے) اس کی بارگاہ میں رجوع کرے، اگر تم توبہ کر لو گے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت کا اقرار کرکے صرف اسی کی عبادت کرو گے تو وہ تم پر موسلا دہار بارش بھیجے گا اور مال اور بیٹوں میں اضافے سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا تاکہ ان سے تم اپنے باغات اور کھیتیوں کو سیراب کرو۔(تفسیر طبری، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۲، ۱۲/۲۴۹، خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۲، ۴/۳۱۲، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۲، ص۱۲۸۳، ملتقطاً)

اِستغفار کرنے کے دینی اور دُنْیَوی فوائد:  اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔مثلا اولاد کے حصول،بارش کی طلب،تنگدستی سے نجات اور پیداوار کی کثرت کے لئے استغفار کرنا بہت مُجَرَّبْ قرآنی عمل ہے۔اِستغفار کرنے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۱۰)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کوئی بُرائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔(پ5، النسآء:110)

 اور ارشاد فرمایا: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔(پ9، الانفال:33)

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی استغفار کرنے کے متعلق فضائل و فوائد بیان کیے گئے ہیں جن میں سے تین احادیث ملاحظہ فرمائیں :

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یَقُوْلُ:وَاللہِ اِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِیْ الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔(بخاری،کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلۃ، ۴/۱۹۰، حدیث:۶۳۰۷)

ترجمہ: ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک کی قَسَم!میں ایک دن میں 70 مرتبہ سے بھی زیادہ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ وا ِستِغفَار کرتا ہوں۔

عَنِ الْاَغَرِّ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:یَااَیُّہَا النَّاسُ: تُوْبُوْا اِلَی اللہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ، فَاِنِّیْ اَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ ِالَیْہِ مِئَۃَ مَرَّۃٍ (مسلم،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار، باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ، ص ۱۴۴۹، حدیث: ۲۷۰۳) ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا اَغَربن یَسَارمُزَنِی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نَبِیّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے لوگوـ!اللہ سے توبہ کرو اور اس سے بخشش چاہو بے شک میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ پاک کے حضور توبہ کرتا ہوں۔

وَعَنْ ابنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللہ لَهٗ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهٗ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔ ترجمہ حدیث روایت ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو استغفار کو اپنے پر لازم کرلے توﷲاس کے لیے ہرتنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ) استغفار کو اپنے اوپر لازم کرنے سے مراد یہ ہے کہ استغفار کے کلمے زبان سے ادا کیا کرے گناہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ،۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر کے وقت سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے ستر بار پڑھا کرے کہ یہ وقت استغفار کے لیے بہت ہی موزوں ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے: وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸) ترجمہ کنزالایمان:اور پچھلی رات اِستغفار کرتے۔

یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔روزی سے مراد مال،اولاد،عزت سب ہی ہے۔استغفار کرنے والے کو رب تعالیٰ یہ تمام نعمتیں غیبی خزانہ سے بخشتا ہے،قرآن کریم فرماتاہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱) وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔تم پر شرّاٹے کا مینہ(موسلا دھار بارش) بھیجے گا۔اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔(پ29، نوح10تا12)

رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابی،ح جلد:3 ، حدیث نمبر:2339)

استغفار عبادت ہے : مُفتِی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرما تے ہیں:توبہ و اِستِغفَار، نماز، روزے کی طرح عبادت ہے، اِسی لئے حضور انورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بکثرت توبہ واِستِغفَار کیا کرتے تھے۔ورنہ حضور انورصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مَعصُوم ہیں گناہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قریب بھی نہیں آتا، صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں اور وہ حضرات عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں۔

زاہِداں اَزْ گناہْ تَوبَہْ کُنَنْدْ عارِفاں اَزْ عبادتْ اِسْتِغْفَار

(یعنی زاہد گناہ کی وجہ سے توبہ کرتے ہیں اور عارف لوگ عبادت کرکے اِستِغفار کرتے ہیں) یاپھرآپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کایہ عمل تعلیمِ اُمَّت کے لئے تھا۔(ملخصاََ ازمراٰۃالمناجیح،۳/۳۵۳)

استغفار کی برکت:حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے ہاں کوئی اولاد نہیں، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ پاک مجھے اولاد دے۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: استغفار پڑھا کرو۔اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ اِستغفار پڑھنے لگا، اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے ، جب یہ بات حضرت امیر معاویہ رضی اللٍہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل آپ رضی اللہ عنہ نے کہاں سے فرمایا۔دوسری مرتبہ جب اس شخص کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود علیہ السّلام کا قول نہیں سنا جو اُنہوں نے فرمایا یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ (اللہ تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا)اور حضرت نوح علیہ السّلام کا یہ ارشاد نہیں سنا یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ (اللہ مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا)۔ (مدارک، ھود، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۵۰۲)

یعنی کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے اِستغفار کا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے۔


جہاں انسان اچھے اعمال کرتا ہے وہیں انسان سے غلطیاں اورگناہ بھی ہوتےہیں۔ ان میں سے کچھ اسے گناہ ہوتے ہیں جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔تو انسان کو چاہیے کہ وقتا فوقتا استغفار یعنی توبہ کرتے رہنا چاہئے تاکہ وہ نیکیوں کی طرف رغبت رکھے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی (پ19، الفرقان: 71)

اس آیت مبارکہ میں بھی توبہ کی ترغیب دی گئی ہے اور توبہ کے بارے میں احادیث ملاحظہ فرمائے۔

حدیث(1):حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب مومن گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلے اور بخشش طلب کرلے تو دل میں چمک اور جلا پیدا ہوجاتی ہے۔(مسند امام احمد، 3/154، حدیث7957)

معلوم ہوا کہ دل گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوجاتا ہےاور توبہ کرنے سے چمک اٹھتا ہے۔

حدیث(2): حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام کا فرمان عالیشان ہے: بیشک اللہ پاک رات کے وقت اپنا دست قدرت پھیلائے رکھتا ہےتاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن کےوقت دست قدرت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کر لےیہاں تک کے سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔(مسلم، کتاب التوبۃ، ص 1156،حديث6989)

حدیث (3):حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جنت کے8 دروازے ہیں، 7 بند ہیں اور ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے یہاں تک کہ سورج اس کی طرف سے طلوع ہو۔(معجم كبير،ج10،ص 206، حديث 10479)

توبہ کو جنت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے گویا کہ یہ جنت کا دروازہ ہے تو پھر توبہ کرنے والے کا دل کیوں نہ اجلا اجلا ہو اور عبادت میں دل کیوں نہ لگے۔جب بندہ توبہ کرلے تو عبادت میں دل لگ جاتا ہے۔

حدیث (4):پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان مغفرت نشان ہے:انسان کے لیے سعادت ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اللہ عزوجل توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔(مستدرک، ج3،ص34، حدیث 7676)

گناہوں پر توبہ یعنی استغفار کرنے والے کو سعادت مند کہا گیا ہےلہٰذا ہمیں استغفار کی کثرت کرنی چاہیے۔

حدیث (5):حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد گرامی ہے:تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطاکار وہ ہے جو توبہ کرنے والا ہے۔(جامع ترمذی، ص341، حدیث 2499)

قارئین کرام! معلوم ہوا کہ تمام بنی آدم ہی خطا کار ہیں لیکن جو توبہ کرلے وہ اُن سب سےبہتر ہے۔ضروری نہیں کہ ہم صرف اسی وقت تو بہ واستغفار کریں جب ہمیں اپنے گناہ کا پتا چلے بلکہ ہر وقت توبہ کرتی رہنی چاہئے۔ اللہ پاک ہمیں عبادت کی لذت و سرور عطا فرمائے اور اللہ پاک ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


عام انسان کی خصلت ہے کہ وہ گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اسی وجہ سے وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ غلطی اللہ پاک کو ناراض کر دے گی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی انسان کو کسی صورت برداشت نہیں ہوتی اس لئے انسان فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و اِستغفار کرتا ہے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے۔استغفار کے جہاں قرآن مجید میں فضائل و فوائد مذکور ہے وہیں احادیث مبارکہ میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔احادیث کی روشنی میں استغفار کے فضائل و فوائد درج ذیل ہیں:

(1)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ عطا فرما دیتا ہے، ہر تنگی سے اس کو نکالتا ہے، اور اس کو ایسے مقام سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔(مستدرک للحاکم ،حدیث نمبر 7677)

(2)زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا اعمال نامہ اسے اچھا لگےتو وہ کثرت سے استغفار کرے۔(السلسلۃ الصحیحہ ، حدیث نمبر 2945)

(3)سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ پاک کے عذاب سے امن میں رہتا ہے جب تک اللہ پاک سے استغفار کرتا رہتا ہے۔(مسند امام احمد، حدیث نمبر 5483)

(4)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ گناہ کرے اور اس پر نادم ہوجائے تو اس کے استغفار کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتا ہے۔(مستدرک للحاکم، حدیث نمبر 1894)

(5)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم اتنی خطائیں کرو کہ زمین وآسمان کا خلا پُر ہوجائے، پھر تم اللہ سے استغفار کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا۔(السلسلۃ الصحیحہ، حدیث نمبر 3702)

(6)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بندہ مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے اگر وہ اس سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے چھوڑ دے تو وہ نشان وہاں سے ختم ہوجاتا ہے اور اگر وہ مزید گناہ کرے تو یہ سیاہی بھی بڑھ جاتی ہے حتّٰی کہ اس کا دل مکمل کالا ہوجاتا ہے۔ (مستدرک للحاکم، حدیث نمبر 3908)

(7)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو جب نیکی کرتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے اور جب گناہ کرتے ہیں تو استغفار کرتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3820)۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے اور خوب خوب توبہ استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔