22 مئی 2025ء کی سب رات تقریباً  9 تا 10 کے درمیان دعوتِ اسلامی کے تحت دعائے صحت اجتماع کے حوالے سے آن لائن نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان مجلس مشاورت کی اسلامی بہنوں، شعبہ روحانی علاج، شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ، شعبہ نیو سوسائٹیز اور شعبہ فیضان مرشد کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اہم نکات اور ہدایات:

دعائے صحت اجتماع کا شیڈول اور تنظیمی امور:

نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے اجتماع کو مؤثر و مضبوط بنانے کے لئے اہم مدنی پھول بیان کئے۔خاص طور پر گلی گلی مدرسۃ المدینہ میں پڑھنے والی بچیوں کی سرپرستوں کو بھی اس اجتماع میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جائے۔

علاقائی سطح پر سیشنز کا انعقاد:

جہاں ممکن ہو وہاں شعبہ فیضان مرشد اور شعبہ نیو سوسائٹیز کے یونین/سیکٹر میں بھی دعائے صحت اجتماع کا انعقاد کیا جائے۔

روحانی علاج اور وظائف:

اس اجتماع میں جہاں ممکن ہو روحانی علاج کے بستے لگائے جائیں نیز بیمار اسلامی بہنوں کو مخصوص دعائیں اور وظائف دیئے جائیں تاکہ ان کی صحت یابی میں مدد ملے۔


تفصیلات:21 مئی 2025ء کو رات 8:00 بجے سے 9:00 بجے کے درمیان  پاکستان مجلس مشاورت نگران نے حیدرآباد ڈویژن کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کے ہمراہ ایک آن لائن سیشن کا انعقاد کیا۔

اس سیشن کا مقصد نیکی کی دعوت اور دینی کاموں میں مزید بہتری لانا تھا جس میں نگرانِ صوبہ سندھ، حیدرآباد ڈویژن، میٹروپولیٹن، ڈسٹرکٹ، تحصیل اور ٹاؤن کی نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

موضوع اور اہم نکات:

نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے ”الفاظ کی تاثیر میں لہجے کا کردار“ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بات چیت کے دوران زبان اور انداز کا بہت اثر ہوتا ہے۔ میٹھی زبان و نرم لہجے کے ذریعے ہم دوسروں کے دل جیت سکتے ہیں اور مثبت نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر نگرانِ پاکستان مجلسِ مشاورت نے پیارےآقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان بتایا جس کا مفہوم ہے کہ” کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں خبر نہ دوں جس پر جہنم حرام ہے؟جہنم نرم خو، نرم دل اور خوش اخلاق پر حرام ہے“ اس لئے ہمیں اپنے رویوں و اندازِ گفتگو پر غور کرنے اور بد اخلاقی سے بچنا چاہیئے۔

سیشن کے دیگر اہم پہلو: ٭ذمہ داران کے درمیان دینی کاموں سے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ٭تقرری ویک کی تیاری اور ذمہ داران کی ذہن سازی٭دینی سرگرمیوں کی کارکردگی کا جائزہ اور بہتری کے لئے تجاویز٭دینی کاموں کو بڑھانے کے لئے نئے اہداف اور منصوبہ بندی۔

اس سیشن کا مقصد دینی خدمات میں مزید بہتری اور ذمہ دار اسلامی بہنوں کی رہنمائی تھی تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔


آسڑیلیا میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے  میں 20 مئی 2025ء کو مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں کوئنز لینڈ کی اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ابتداءً ذمہ دار اسلامی بہنوں نے گجراتی اجتماع اور سڈنی کے آن لائن اجتماع میں شرکت کرنے کے حوالے سے کلام کیا نیز ہفتہ وار رسالہ مطالعہ، ہفتہ وار مدنی مذاکرہ اور اصلاحِ اعمال رسالے کی کارکردگی کے بارے میں مشاورت کی۔

علاوہ ازیں سیکھنے سکھانے کے حلقے میں شرکت کرنے اور کفن دفن کورس کرنے کے حوالے سے ذمہ دار اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔


عالمی سطح پر خدمتِ دین کرنے اور لوگوں کو علمِ دین کی طرف راغب کرنے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 20 مئی 2025ء کو میلبرن نگران اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا۔

دینی کاموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مدنی مشورے میں شریک ذمہ دار اسلامی بہنوں نے مختلف موضوعات پر مشاورت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭میلبرن میں بالمشافہ دینی کام کرنا٭تفسیر کے حلقے شروع کروانا٭نارتھ کاؤنسل میں weekend کے ساتھ ساتھ Weekdays میں بھی اجتماعات کروانا٭شارٹ کورسز کروانا٭مدرسۃالمدینہ گرلز کا آغاز کرنا٭نئی ذمہ دار اسلامی بہنوں سے دینی کاموں کی اپڈیٹ لینا٭گلی گلی مدرسۃالمدینہ کی جگہ مدرسۃالمدینہ گرلز شروع کروانا٭نئی اسلامی بہنوں میں اجتماع کورس کروانا٭بچیوں کا سنتوں بھرا اجتماع شروع کروانا۔


دنیا بھر کے مختلف اسٹیٹ میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے 19 مئی 2025ء کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسٹیٹ و کاؤنسل نگران اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔

میٹنگ کے دوران ذمہ دار اسلامی بہنوں نے مختلف نکات پر تبادلۂ خیال کیا اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں مزید بہتری لانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔

اہم نکات:٭دینی ماحول سے منسلک اسلامی بہنوں کی لسٹ تیار کرنا٭کارکردگی کا جائزہ اور اس کے اہداف٭ذوالحجۃ الحرام کے مدنی پھول٭قربانی کے اہداف٭سڈنی میں فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول کی نئی کلاسز شروع کرنا٭قربانی مینجمنٹ سسٹم کا لنک۔


حضور ﷺ اپنے اہلِ بیت سے  بے پناہ محبت رکھتے تھے اور آپ ﷺ اپنے اہلِ بیت کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔نبی کریم ﷺکو اہلِ بیت میں سب سے زیادہ عزیز اور محبوب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما تھے۔آپ ﷺ اپنے دونوں نواسوں سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اپنے نواسوں کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا کرتے تھے حتی کہ نماز میں سجدے کی حالت میں دونوں پشتِ اطہر پر سوار ہوتے تو آپ سجدہ طویل کر دیا کرتے اور جب سجدہ سے سر اقدس اٹھاتے تو انہیں آرام سے زمین پر بٹھا دیتے۔چنانچہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ ایک روز ہم سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار ﷺ کے ساتھ نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے۔ سرکار ﷺ جب سجدے میں گئے تو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشتِ مبارک پر سوار ہو گئے، آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو ان کو نرمی سے پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا، پھر جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما نے دوبارہ ایسے ہی کیا حتی کہ آپ نے نماز مکمل فرما لی اور ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔(مسند احمد،5/426،حدىث:16033)

اسی طرح بچپن میں ایک مرتبہ خطبے کے دوران دونوں شہزادے مسجد میں تشریف لائے تو نبی پاکﷺ خطبہ چھوڑ کر ان کے پاس گئے اور انہیں اٹھا کر اپنے سامنے بٹھا لیا۔(ترمذی،5/ 429،حدیث: 3799)

اللہ پاک کے حبیبﷺ حسنین کریمین یعنی حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ دونوں شہزادوں کو کسی تکلیف میں مبتلا دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا۔بہت سی احادیثِ مبارکہ میں حضورﷺ کی دونوں شہزادوں سے بے انتہا محبت کا ثبوت ملتا ہے۔ چنانچہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک ﷺ سے عرض کی گئی:آپ کے اہلِ بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا:حسن اور حسین۔آپ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے کہ میرے بچوں کو میرے پاس بلاؤ پھر انہیں سونگتے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔

(ترمذی،5/428، حدیث: 3797)

حضور ﷺ نے ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا: حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔

(ترمذی ،5/426 ، حدیث: 3793)

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ جوانی میں وفات پائیں اور یہ اور ہوں بھی جنتی تو حضرت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ان کے سردار ہیں۔ورنہ جنت میں تو سب ہی جوان ہوں گے۔(مراۃ المناجیح،8/475)

ایک اور مقام پر فرمایا: حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( بخاری،2/ 547 ،حدیث:3753)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:فرمانِ نبوی کا مطلب یہ ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں جنت کے پھول ہیں،جو مجھے عطا ہوئے، ان کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی ہے اس لیے حضور اکرم ﷺ انہیں سونگھا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے:السلام علیک یا ابا ریحانین یعنی اے دو پھولوں کے ابو! تم پر سلام ہو۔( مراۃ المناجیح، 8 /462)

اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پُھول ہیں

کیجے رضاؔ کو حشر میں خنداں مِثالِ گل

(حدائقِ بخشش، ص77)

ایک اور مقام پر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جیسے باغ والے کو سارے باغ میں پھول پیارا ہوتا ہے ایسے ہی دنیا کی تمام چیزوں میں مجھے حضرات حسنین کریمین پیارے ہیں۔اولاد پھول ہی کہلاتی ہے۔سارے نواسے نواسوں میں حضور ﷺ کو یہ دونوں فرزند بہت پیارے تھے۔

(مراۃ المناجیح،8/ 475)

فرمایا: یہ میرے دونوں بیٹے میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔الٰہی!میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔(تاریخ الخلفاء،ص149)

جب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے سرکار ﷺ کو اپنے اہلِ بیت اور پیارے نواسوں سے بے انتہا محبت کرتے دیکھا تو آپ سے نسبت کی وجہ سے یہ حضرات بھی ان سے محبت و شفقت سے پیش آتے اور آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ کے اہلِ بیتِ اطہار اور بالخصوص حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا بے حد خیال رکھا کرتے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:جب یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی:

قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ (پ 25،الشوری:23 )ترجمہ: تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔

تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:یا رسول اللہﷺ!آپ کے وہ کون سی قرابت دار ہیں؟فرمایا: علی المرتضی، فاطمۃ الزہر اور ان کے دونوں بیٹے(حسن اور حسین)۔

(معجم کبیر،11/351،حدیث :12259)

نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:کوئی بندہ مومن کامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ مجھے اپنی جان سے بڑھ کر نہ چاہے اور میری ذات،اسے اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب نہ ہو اور میری اولاد اس کو اپنی اولاد سے زیادہ پیاری نہ ہو اور میرے اہلِ بیت اسے اپنے گھر والوں سے بڑھ کر پیارے اور محبوب نہ ہو جائیں۔

(شعب الایمان، 2/189، حدیث:1505)

معلوم ہوا کہ اہلِ بیت علیہم الرضوان کی محبت واجب اور ضروری ہے۔ہر مسلمان کے نزدیک اپنی جان و مال، عزت و آبرو،ماں باپ اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب اہلِ بیت کرام علیہم الرضوان ہونے چاہئیں۔ان مبارک ہستیوں کی محبت حضور ﷺکی محبت ہے اور حضور ﷺکی محبت ایمان کامل کی نشانی ہے۔ اللہ پاک ہمیں اہلِ بیت علیہم الرضوان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان سے بے پناہ محبت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ خاتمِ النبیین ﷺ


حضور اکرم ﷺ کی اپنے نواسوں، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے محبت اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو شفقت، خلوص اور بے مثال محبت کی اعلیٰ ترین مثال پیش کرتا ہے۔

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اہلِ بیت کی محبت کو بیان کیا ہے:قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ (پ25،الشوری:23)ترجمہ:تم فرماؤ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔

رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔حضور ﷺ کی اپنے نواسوں سے محبت کے مظاہر آپ کی زندگی کے ہر گوشے میں نظر آتے ہیں۔ آپ ﷺ نےفرمایا: حسن و حسین اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔(ترمذی ،5/426 ، حدیث: 3793)

یہ اعلان نواسوں کے مقام و مرتبے کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے گہری محبت کا آئینہ دار ہے۔

اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو بکر ة رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ حضور سرور عالم ﷺ منبر پر جلوہ افروز تھے۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے۔حضور ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف نظر فرماتے اور ایک مرتبہ اس فرزندِ جمیل کی طرف ۔میں نے سنا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ میرا فرزند سید ہے اور اللہ اس کی بدولت مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرےگا۔(سوانح کربلا ، ص 93،94 )

سرورِ کائنات ﷺ کا یہ فرمان اپنے نواسوں سےمحبت کی عظیم مثال ہے۔

یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے ہیں،نبی اکرم ﷺ لوگوں سے آگے نکل گئے اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے،حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے اور نبی اکرم ﷺ ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا،اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا اور فرمایا:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے۔حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔( ترمذی، 5/ 429 ، حدیث: 3800)

حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پیارے نواسے ہیں اور نبی ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے پیاروں سے بھی پیار ہو۔حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت یہی ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلا جائےاور ان کا احترام کیا جائے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اہلِ بیت اطہار سے سچی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ


حضور جانِ عالم ﷺ کو اللہ پاک نے پانچ نواسے عطا فرمائے:1:علی،2 :عبداللہ،3:حسن، 4 :حسین،5: محسن۔ جس طرح ہر والدین کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے اسی طرح انہیں اپنی اولاد کی اولاد سے بھی محبت ہوتی ہے، اسی طرح شاہِ بنی آدم ﷺ کو بھی اپنے نواسوں اور نواسیوں سے بھی بے حد محبت تھی۔آپ کے نواسوں کا تعارف ِپیش خدمت ہے:

علی:یہ شہزادیِ رسول حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے فرزند ہیں۔ان کے بارے میں روایت ہے کہ اپنی والدہ ماجدہ کی حیات ہی میں بلوغت کے قریب پہنچ کر وفات پا گئے لیکن بعض علما نے ذکر کیا ہے کہ یہ جنگِ یرموک میں شہید ہوئے۔ (سیرتِ مصطفیٰ، ص693)

عبداللہ:یہ حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں۔ان کے والد ماجد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔عبداللہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد 4 ھ میں 6 سال کی عمر پاکر انتقال کر گئے۔

(سیرتِ مصطفیٰ، ص 695)

حسن: یہ جگر گوشۂ رسول،حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے بڑے شہزادے ہیں۔نصف ماہِ رمضان 3 ھ میں پیدا ہوئے۔ان کا نام حسن حضور ﷺ نے ہی رکھا۔یہ شکل و صورت میں اپنے نانا جان کے بہت مشابہہ تھے ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے 6 ماہ خلافت سے حصہ بھی پایا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: اپنے اہلِ بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے ؟ فرمایا: حسن و حسین۔(تاریخ الخلفاء،ص 258)

حضور انور ﷺ نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے متعلق فرمایا: حسن اور حسین یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔(بخاری،2/547،حدیث:3753)

حسین:یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے چھوٹے شہزادے ہیں۔5 شعبان 4 ھ میں ان کی ولادت ہوئی۔ پیارے آقا ﷺ نے ہی ان کا نام حسین اور شبیر رکھا۔( اسد الغابہ، 2 / 25 ، 26 ملتقطاً)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نانائے حسنین ﷺ نے فرمایا:حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ الخلفاء،ص 258)

حسن اور حسین اہلِ جنت کے ناموں میں سے ہیں۔جاہلیت میں عرب میں کسی شخص کے یہ نام نہیں رکھے گئے۔ (تاریخ الخلفاء،ص257)

مفضل کہتے ہیں: اللہ پاک نے حسن و حسین دونوں نام پوشیدہ رکھے حتی کہ صاحبِ معراج ﷺ نے اپنے نواسوں کے نام رکھے۔(تاریخ الخلفاء،ص257)

ایک مرتبہ محبوبِ خدا ﷺ نماز ادا فرمارہے تھے ،آپ سجدے کی حالت میں تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کھیلتے کھیلتے آپ کی پشت مبارک پر بیٹھ گئے۔راوی کہتے ہیں کہ آقا ﷺ نے اس وقت تک سجدے سے سر مبارک نہ اٹھایا جب تک حسنین کریمین رضی اللہ عنہما بخوشی پشت مبارک سے نیچے نہ اترے۔(مسند احمد،5/426،حدىث:16033) ( یاد رہے کہ حسنین کریمین اس وقت چھوٹے تھے۔)

محسن: یہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سب سے چھوٹے شہزادے ہیں جو بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے۔

نبی کریم ﷺ اپنے تمام ہی نواسوں سے محبت فرمایا کرتے تھے لیکن امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما سے آپ کی محبت کا انداز کچھ نرالا تھا۔کبھی مبارک گھٹنوں پر بٹھاتے،کبھی شانوں پر تو کبھی ان کا ماتھا چوما کرتے۔ اس لئے جن خوش نصیبوں کے دلوں میں حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبت گھر کر چکی ہوتی ہے تو ان پر کریم آقا ﷺ کی نظر ِعنایت و چشمِ کرم ضرور ہوتی ہے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے:

کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

اللہ پاک ہمارے دلوں میں بھی ان ہستیوں کی محبت کو اُجاگر فرمائے اور ان کا صدقہ ہمیں بھی عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ

حضرت  امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما یقیناً کرم وشفقت کے باغ کے مہکتے پھول ہیں۔یہ دونوں سرکارِ کائنات، فخر موجودات ﷺ کے نواسے ہیں اور آقا کریم ﷺ کو ان سے کمال محبت تھی ، آئیے!ان کی محبت اور ان کا ذکرِ خیر کرنے کی سعادت حاصل کرتی ہیں۔چنانچہ

حضرت حسن رضی اللہ عنہ جگر گوشۂ رسول،حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کے بڑے شہزادے اور حضور ﷺ کے نواسےہیں۔آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ سےبہت مشابہ تھے۔آپ کا نام حسن حضور ﷺ نے ہی رکھا۔جاہلیت میں کسی شخص کایہ نام نہیں رکھا گیا اور حضور ﷺ کے چھوٹے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔حُضور پُر نُور،سیِّد ِعالَم ﷺ نے آپ کانام حُسین اور شبیر رکھا اور آپ کو اپنابیٹا فرمایا۔

( اسد الغابہ، 2 / 25 ، 26 ملتقطاً)

رسول الله ﷺ کےہم شكل:حضور نبی کریم،روف رحیم ﷺ کے دونوں نواسے آپ کے مشابہ تھے ، حضرت علی المرتضىٰ،شيرِ خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جس کی یہ خواہش ہو کہ وہ ایسی ہستی کو دیکھے جو چہرے سے گردن تک سرکار ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہو وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے اور جس کی یہ خواہش ہو کہ ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگ و صورت میں نبی کریم ﷺکے سب سے زیادہ مشابہ ہو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے۔( معجم كبير ،3/95، حدیث:2768)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

معدوم نہ تھا سایۂ شاہِ ثقلین اس نور کی جلوہ گاہ تھی ذاتِ حسنین

تمثیل نے اس سایہ کے دو حصے کیے آدھے سے حسن بنے آدھے سے حُسین

دنیا میں دو پھول: ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسن اور حسین یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔(بخاری،2/547،حدیث:3753)

اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جیسے باغ والے کو سارے باغ میں پھول پیارا ہوتا ہےایسے ہی دُنیا اور دُنیا کی تمام چیزوں میں مجھے حضرات حسنین کریمین پیارے ہیں۔اَولاد پھول ہی کہلاتی ہے سارے نواسی نواسوں میں حضور ﷺ کو یہ دونوں فرزند(یعنی بیٹے)بہت پیارے تھے۔

(مراۃ المناجیح،8/403)

اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پُھول ہیں

کیجے رضاؔ کو حشر میں خنداں مِثالِ گل

(حدائقِ بخشش،ص77)

حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبت حضور ﷺ کی محبت ھے:مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِی یعنی جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔(ابن ماجہ، 1/96، حدیث:143)

اہلِ بیت میں زیادہ پیارا : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اہلِ بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے؟فرمایا: حسن اور حسین۔حضور ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہاسے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۔

(ترمذی،5/428، حدیث: 3797)

اس کی شرح میں حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور انہیں کیوں نہ سونگھتے وہ دونوں تو حضور کے پھول تھے پھول سونگھے ہی جاتے ہیں انہیں کلیجے سے لگانا انتہانی محبت و پیار کے لیے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو سونگھناانہیں پیار کرنا انہیں لپٹانا چمٹانا سنتِ رسول ہے۔

(مراۃ المناجیح، 8 / 404)

حضور ﷺ کی اسی شفقت و محبت کے سبب دونوں شہزادے اکثراَوقات رسول ِ اکرم ، شاہِ بنی آدمﷺ کے پاس رہا کرتے اور آپ ان کے رونے کی آواز سُن کر پریشان ہوجاتے۔حضرت ابوہرىرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبى کریم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر مىں نکلے،ابھى کچھ ہی راستہ طے کیا تھا کہ آپ نےحضرات حَسن و حُسىن رضی اللہ عنہماکے رونے کی آواز سنى اور دونوں اپنى والدہ ٔماجدہ سَىِّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پاس ہى تھے، سرکار دوعالم ﷺ ان کے رونے کی آواز سُن کر بے قرار ہو گئے اور تىزى سےان کے پاس پہنچےاور سىدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مىرے بىٹوں کو کىا ہوا؟حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:انہىں سَخْت پىاس لگى ہے، حُضُورِ اکر م ﷺ پانى لىنے کے لىے مشکىزے کى طرف بڑھے مگر اس میں پانی موجود نہیں تھا۔ان دنوں پانى کى سَخْت قِلَّت اور شدىد حاجت تھى، آپ ﷺ نے آواز دى، کىا کسى کے پاس پانى ہے؟ ہر اىک نے کجاوؤں سے لٹکتے ہوئے مشکىزوں مىں پانى دىکھا مگر پانی کا ایک قَطرہ تک نہ ملا، آپ نے فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرماىا:اىک بچہ مجھے دو، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اىک بچے کو پردے کے نىچے سے دے دىا، آپ نے پکڑ کر اپنے سىنے سے لگالیامگر وہ پىاس کى وجہ سے مُسلسل روتے رہے ، آپ نے ان کے مُنہ مىں اپنى زبان مُبارک ڈال دى وہ اسے چوسنے لگے حتى کہ سىراب ہو گئے۔حضرت ابوہرىرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ اس کے رونے کی آواز نہ سنی ، جبکہ دوسرے شہزادے مسلسل رورہے تھے، حضور ﷺ نے فرمایا:دوسرے کو بھی مجھے دو، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے کو بھی حضور ﷺ کے حوالے کر دیا ، آپ نے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا، یعنی ان کے منہ میں بھی اپنی مبارک زبان ڈال دی تو وہ بھی سیراب ہو کر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد وہ دونوں ایسے خاموش ہو گئے کہ دوبارہ ان کے رونے کی آواز نہ سنی۔(معجم كبير ،3/50، حدیث:2656)

معلوم ہوا کہ سید ِعالم ، نورِ مجسم ﷺ دونوں شہزادوں سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔اللہ پاک ہمیں بھی حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی حقیقی محبت سے مالا مال فرمائے اور آخرت میں ان کے نانا جان، رحمتِ عالم ﷺ کی شفاعت سے نوازے۔ آمین

دعوتِ اسلامی کے شعبہ قافلہ پنجاب کے تحت 24 جون 2025ء بروز منگل بعد نمازِ عشاء رات تقریباً 10:00 بجے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، فیصل آباد میں ایک عظیم الشان قافلہ اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس پُرکیف اجتماع میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران، عالمی مذہبی اسکالر مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی خصوصی بیان فرمائیں گے جو کہ قافلہ ذمہ داران و اسلامی بھائیوں کے لیے علم، عمل اور تقویٰ کا پیغام لے کر آئے گا۔

یہ اجتماع صرف ایک دینی محفل نہیں بلکہ ایک تربیتی و تنظیمی نشست بھی ہوگی، جس میں قافلہ نظام کو مضبوط بنانے، سفر فی سبیل اللہ کے فضائل اور مدنی قافلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے گی۔

شرکائے اجتماع کے لیے دعوتِ اسلامی کی طرف سے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تمام عاشقانِ رسول سے شرکت کی درخواست کی جاتی ہے۔


حدیثِ پاک میں ارشادہوا:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ ابْغَضَنِي جس نے ان دونوں (حسن و حسین) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔(مستدرك، 4/ 155،حدیث:483)

امام حسن رضی اللہ عنہ کی سواری :ایک بار امام حسن رضی اللہ عنہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور آپ کے مبارک کاندھے پر سوار ہو گئے۔ایک صاحب نے عرض کی:شہزادے!تیری سواری کتنی اچھی ہے !اس پر مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان ﷺ نے فرمایا:اور سوار بھی کتنااچھا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ،7/ 514،حدیث:21)

امام الانبیاء، احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے ارشاد فرمایا:حُسَيْنٌ مِنّى وَ أَنَا مِنَ الْحُسَيْنِ اَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبُّ حُسَيْناًحسین مجھ سے ہےاور میں حسین سے ہوں۔ اللہ پاک اُس سے محبت فرماتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔ ( ترمذی،5/429،حدیث: 3800)

دونوں شہزادے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما حضورﷺ کو بہت پیارے اور محبوب ہیں۔ایک بار مکی مدنی سرکار،دو عالم کے تاجدار ﷺ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:میرے یہ دونوں بیٹے جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔(ترمذی ،5/426 ، حدیث: 3793)

حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بچپن کا واقعہ:حَسَنَيْنَ كَرِيمَيْن رضی اللہ عنہما کے بچپن کا زمانہ تھا۔ایک اعرابی بارگاہ نبوت میں حاضر خدمت ہوا۔ایک ننھا مناپیاراسا ہرنی کا بچہ تحفۃً پیش کیا۔اتنے میں شہزادہ رسول، جگر گوشہ بتول حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کھیلتے ہوئے آئے اور وہ ہرنی کا بچہ اٹھا کر گھر لے گئے۔جب شہزادہ خوش خصال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو پوچھا:بھائی جان!یہ ہرنی کا بچہ کہاں سے لائے ہو؟ کہنے لگے:نانا جان نے دیا ہے۔امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ بھی نانا جان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہرنی کا بچہ طلب کیا اور بڑا اصرار کیا،قریب تھاکہ امام حسین رضی اللہ عنہ رو پڑتے،اچانک ایک ہرنی اپنے ساتھ ایک ننھا منا بچہ لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کی:یا رسول اللہﷺ ! پہلا بچہ بھی میرا ہی تھا اور اب میں یہ دوسرا بچہ بھی اللہ پاک کے حکم سے لے کر آئی ہوں کہ شہزادہ رسول اسے طلب فرما رہے تھے۔اسے قبول فرما لیجئے۔آقا!اگر امام حسین رو پڑتے تو فرشتگانِ عرش کے دل ہل جاتے۔ (اوراق غم بحوالہ كنز الغرائب،ص301)

اللہُ اکبر!ایک وہ دن کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا معمولی سا بھی رنجیدہ ہونا گوارا نہیں اور دوسری طرف کربلا کا میدان جہاں اس نازوں سے پالے پر ہر طرف سے تیر اور بھالے برس رہے تھے۔مگر آپ صبر و استقلال کی انوکھی داستان رقم فرمارہےتھے۔نوجوانانِ آلِ رسول مردانہ وار جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اور دینِ اسلام کی آبیاری کیلئے پردیس میں بھوکے پیاسے کھلے آسمان تلے امتحانِ عشق میں سرخرو ہو رہے تھے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر :ہمارے پیارے سرکار، نبیوں کے سالار، ہم غریبوں کے غمخوار ﷺ نے بھی اپنے شہزادۂ ہونہار کی شہادت کی خبر امام حسین رضی اللہ عنہ کے بچپن ہی میں دےدی تھی۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم،رؤف رحیم ﷺ ام المومنين حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،ایک ایسا فرشتہ آیا،جو پہلے کبھی نہ آیا تھا،آقائے دو عالم،شاہِ بنی آدم ﷺ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:دروازے کی نگہبانی رکھناکوئی اندر نہ آئے۔اتنے میں امام حسین رضی اللہ عنہ جو کہ ابھی کم سن تھےکھیلتے ہوئے اندر آگئے اور حضور سرور کونین ﷺ کی مبارک گود میں بیٹھ گئے۔فرشتے نے عرض کی:حضور ! آپ اس بچے کو چاہتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا:ہاں۔فرشتے نے عرض کی:وہ وقت قریب ہے جب آپ کی اُمت اسے شہید کر دے گی۔حضور!اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ زمین دکھاؤں جہاں یہ لاڈلا شہزادہ شہید کیا جائےگا۔پھر سرخ مٹی آپ کی خدمت میں پیش کی گئی۔حضور نے مٹی سونگھ کر فرمایا:ريح كرب وبلا ( بے چینی اور بلا کی بو آتی ہے )۔(آئینہ قیامت،ص 16)

زمینِ کربلا:امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک بار سفر کے دوران زمینِ کربلا سے گزرے۔ لوگوں سے پوچھا:یہ کون سی جگہ ہے؟انہوں نے کہا:كربلا۔یہ سن کر آپ اتنا روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی۔پھر فرمایا:میں حضور سَیّدِ عالَم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھاکہ سرکارﷺ رورہے ہیں۔میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا:ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام یہ کہہ گئے ہیں کہ میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے کربلا میں شہید کر دیا جائے گا۔پھر جبرائیل علیہ السلام نے وہاں کی مٹی بھی مجھے سونگھائی، مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔(آئینۂ قیامت ،ص 12)

حضور ﷺ کی چچی جان اُمِ فضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:ایک روز شہزادۂ حسین رضی اللہ عنہ مصطفیٰ جانِ رحمتﷺ کی گود مبارک میں تھے۔حضور ﷺ نےفرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور یہ خبر دی کہ میری امت حسین کو قتل کردے گی۔(مستدرک،3 /179،حدیث:4824)

حضور پر نور،شافعِ یوم النشور ﷺ کے ارشادات اور شہزادوں کی ناز برداریاں جب یاد آتی ہیں اور پھر واقعاتِ شہادت پر نظر پڑتی ہے تو حسرت بھری آنکھیں بے قرار ہو جاتی ہیں،دل خون کے آنسو روتا ہے،خُدا کی بے نیازی کا عالم نگاہوں میں چھا جاتا ہےکہ یہ مقدس ہستیاں خدا کے نزدیک محبوب ہیں۔اللہ پاک کی شانِ کریمی ہےکہ وہ اپنے دوستوں کو بلاؤں میں گھیرے رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سرکار ِدو عالم ﷺ، آپ کے اصحاب اور اہلِ بیت کرام علیہم الرضوان نے مصائب و آلام کو سینے سے لگایا۔

ایک بار حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بلا اور نعمت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:ہمارے نزدیک تو بلا اور نعمت دونوں برابر ہیں۔جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو ارشاد فرمایا:اللہ پاک ابو ذر پر رحم فرمائے۔مگر ہم اہلِ بیت کے نزدیک بلا ( یعنی مصیبت ) نعمت سے بھی افضل ہےکہ نعمت کے حصول میں اپنی ذات کی خواہش اور رضا پوشیدہ ہےجبکہ بلا میں رضائے الٰہی شامل ہے۔

(آئینہ قیامت،ص 13)

رضائے الٰہی کا یہی جذبہ میدانِ کربلا میں کام آیا جہاں نواسئہ خیر الا نام اور آپ کے رفقائے کرام نے صبر و استقلال کا وہ نمونہ پیش فرمایا جس کی مثال ماضی و حال دینے سے قاصر ہیں۔نہ ہی کوئی ماں کا لعل قیامت تک ایسی مثال پیش کر سکتا ہے۔

جس نے حق کربلا میں ادا کردیا اپنے نانا کا وعده وفا کردیا

گھر کا گھر سب سپردِ خُدا کردیا اُس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

حضور ﷺ کو اپنے سب نواسوں سے بے حد محبت تھی۔اللہ پاک اِن کے صدقے ہمیں دین و دنیا میں بھلائی عطا فرمائے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


رسول اللہﷺ اپنے اہلِ بیت کے ساتھ ساتھ اپنے نواسوں سے بھی بہت محبت فرماتے تھے۔نواسہ: بیٹی کے بیٹے کو نواسہ کہتے ہیں۔آقا کریم ﷺ کے پانچ نواسے ہیں اور ان کے نام درج ذیل ہیں:

1 -حضرت علی بن ابو العاص

2 -حضرت عبداللہ بن عثمان

3 -حضرت حسن بن علی

4 -حضرت حسین بن علی

5 -حضرت محسن بن علی۔

حضرت علی ابن ابو العاص: آپ کا اسم گرامی علی اور لقب سبط الرسول تھا۔آپ ابو العاص بن ربیع اور زینب بنتِ محمد رسول اللہﷺ کے صاحبزادے اور امامہ بنتِ ابی العاص کے بھائی تھے۔آپ ہجرتِ مدینہ سے قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے تھے۔

رسول اللہﷺ کے زیر کفالت:رضاعت کی مدت پوری ہونے کے بعد رسول اللہﷺ نے اپنے نواسے کو اپنے زیر کفالت لے لیا تھا کیونکہ ان کے باپ ابو العاص بن ربیع اس وقت مکہ میں مقیم تھے اور اسلام قبول نہیں کیا تھا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو شریک ہو میری اولاد میں تو مجھ کو اس پر اس سے زیادہ حق ہے (یعنی میری دختری اولاد پر ان کے والد سے زیادہ مجھ کو اختیار ہے) اور جو کافر کسی مسلمان کا کسی چیز میں شریک ہو تو مسلمان اس سے زیادہ کا حق دار ہے۔ ابو العاص بن ربیع جب غزوۂ بدر میں گرفتار ہوئے تو اس شرط پر رہا ہوئے کہ وہ اپنی بیوی کو مدینہ بھیج دیں گے۔چنانچہ انہوں نے رہائی کے بعد زینب بنتِ رسول اللہ اور ان کے دونوں بچوں (علی بن ابو العاص اور امامہ بنت ابو العاص) کو بھی ساتھ بھیج دیا۔رسول اللہﷺ نے اپنے نواسے کی تربیت اور پرورش خود فرمائی۔(اسد الغابہ،2/626)

ہم رکاب رسول:الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں ہے:رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے روز اپنی سواری پر علی بن ابو العاص کو اپنے پیچھے سوار کیا تھا ،رسول اللہﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور علی بن ابو العاص آپ کے ردیف تھے۔

عبداللہ بن عثمان:آپ کا نام عبد اللہ والد ماجد کا نام عثمان بن عفان اور والدہ ماجدہ کا نام رقیہ بنت محمد ہے۔ آپ کے والد ماجد کی کنیت ابو عبد اللہ آپ کے نام پر ہے۔مصعب زبیری نے کہا کہ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ حضرت رقیہ بنتِ رسول اللہ بھی تھیں۔سرزمینِ حبشہ میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبد اللہ رکھا گیا۔حضرت عبد اللہ چھ سال کے ہوئے تو ایک مرغ نے آپ کی آنکھ میں چونچ مار دی جس کی وجہ سے آپ بیمار ہو گئے۔جمادی الاخریٰ چار ہجری میں آپ نے وفات پائی۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی قبر میں آپ کے والد ماجد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اترے۔(طبقات ابن سعد،2/131)

حضرت امام حسن:حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء رضیَ اللہُ عنہا کے گلشن کے مہکتے پھول،اپنے نانا جان ،رحمتِ عالمیان ﷺ کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ ،مصطفےٰ جانِ رحمت ﷺ کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے،سردارِ امّت،حضرت امام حَسَن مجتبیٰ رضیَ اللہُ عنہُ کی ولادتِ باسعادت 15رمضان المبارک 3ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔(البدايۃوالنہایہ، 5/519)

نام،القابات اورکنیت:آپ کا نام حسن، کنیت ابو محمد اور لقب سبطِ رسول اللہ(رَسُولُ اللہﷺکا نَواسہ) اوررَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل(رَسُولُ اللہ ﷺ کا پھول)ہے۔(تاریخ الخلفاء، ص149)

مبارك تحنیک (گھُٹی):نبیِ اکرم ﷺ نے آپ کے کان میں اذان کہی۔(معجم کبیر،1/313، حدیث: 926) اور اپنے لعابِ دہن سے گھٹی دی۔(البدايۃ والنہایہ، 5/519)

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

ہم شکلِ مصطفیٰ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر رسولِ کریم ﷺ سے ملتا جلتا کوئی بھی شخص نہ تھا۔(بُخاری،2/547،حدیث: 3752)

شفقتِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا:نبیِّ رحمت،شفیعِ اُمّت ﷺ کو امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے بہت محبت تھی۔ آپ ﷺ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کوکبھی آغوشِ شفقت (یعنی مبارک گود )میں اُٹھاتے تو کبھی دوشِ اقدس(یعنی مبارک کندھوں) پر سوار کئے ہوئے گھر شریف سے باہَر تشریف لاتے، کبھی آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے اور پیار کرنے کے لئے سیّدہ فاطِمہ رضی اللہ عنہا کے گھر شریف پر تشریف لے جاتے، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ سے بے حد مانوس ہو(یعنی ہِل)گئے تھے کہ کبھی نماز کی حالت میں مبارَک پیٹھ پر سُوار ہو جاتے تھے۔

راکبِ دَوشِ مصطفیٰ: ایک مرتبہ حضور پاکﷺ حضرت امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو شانۂ اقدس (یعنی مبارک کندھے) پرسُوار کئے ہوئے تھے تو ایک صاحِب نے عرض کی:نِعْمَ الْمَرْکَبُ رَکِبْتَ یَا غُلَام یعنی صاحبزادے !آپ کی سواری توبڑی اچھی ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:وَنِعْمَ الرَّاکِبُ ہُوَیعنی سواربھی تو کیسا اچھا ہے! (ترمذی،5/432،حدیث:3809)

وہ حسن مجتبیٰ، سیّد الاسخیا راکِبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام

(حدائق بخشش، ص309)

یہ میرا پھول ہے: حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما جو ابھی چھوٹے سے تھے تشریف لائے۔جب بھی رسول اللہﷺ سجدہ فرماتےحضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سرکارِ مدینہ ﷺ کی گردن شریف اور پیٹھ مبارک پر بیٹھ جاتے۔آپﷺ نہایت آرام سے اپنا سرِ اقدس سجدے سے اٹھاتے اور انہیں شَفقَت سے اُتارتے۔جب نماز مکمَّل کرلی تو صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:یارَسُول اللہ ﷺ! اس بچے سے آپ اس انداز سے پیش آتے ہیں کہ کسی اور سے ایسا سُلوک نہیں فرماتے؟ارشاد فرمایا:یہ دنیا میں میرا پھول ہے۔

(مسند بزار،9/111، حدیث:3657 ملخصاً)

اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پُھول ہیں

کیجے رضاؔ کو حشر میں خنداں مِثالِ گل

(حدائق بخشش، ص77)

میرا یہ بیٹا سردار ہے:حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار ﷺ منبر پر جلوہ گر تھے اور امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے پہلو(یعنی برابر) میں تھے۔نبی کریم ﷺ کبھی لوگوں کی طرف توجُّہ کرتے اورکبھی امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف نظر فرماتے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرا یہ بیٹا سیِّد(یعنی سردار) ہے، اللہ پاک اس کی بدولت مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔ (بخاری،2 /214،حدیث: 2704 )

اے اللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں:حضرت بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کندھے پر اُٹھائے ہوئے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کررہے ہیں:اَللّٰہمَّ اِنِّی اُحِبُّہٗ فَاَحِبَّہٗ یعنی اے اللہ پاک!میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔(ترمذی، 5 / 432 ،حدیث: 3808 )

یا حسن! اپنی محبت دیجئے! عشق میں اپنے ہمیں گُم کیجئے

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ:حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ کی ولادت 5 شعبانُ المعظم 4 ہجری کو حضرت علی رضی اللہُ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہا کے گھر مدینۂ منورہ میں ہوئی۔آپ کا اسمِ مبارک حسین رکھا گیا۔آپ کی کُنْیت ابو عبدُاللہ اورآپ کے ا لقاب سِبطُ رَسُولِ اللہِ(یعنی رسولِ خداﷺ کے نواسے) اور رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل(یعنی رسولِ خداﷺ کے پھول)ہیں۔آپ نے دس محرمُ الحرام 60 ہجری کو میدانِ کربلا میں باطل کو خاک میں ملا کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔اللہ کریم کے آخری نبی ﷺ نےاپنے پیارے پیارے نواسے حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ کےسیدھے(Right)کان میں اَذان دی اور بائیں (Left)کان میں تکبیر پڑھی اور اپنے مبارک جُوٹھے شریف سے گُھٹی عطا فرماتے ہوئے دُعاؤں سے نوازا۔ساتویں دن آپ کا نام حُسین رکھا اور ایک بکری سے عقیقہ کیا۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: حُسین مجھ سے ہیں اور میں حُسین سے ہوں۔ اللہ پاک اُس سے مَحَبَّت فرماتا ہے جو حُسین سے مَحَبَّت کرے ۔ حُسین اَسباط میں سے ایک سِبط ہیں۔( ترمذی، 5/ 429 ، حدیث: 3800)

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اِس حدیثِ پاک کےتحت اِرشادفرماتے ہیں:میں اورحُسین گویا ایک ہی ہیں ہم دونوں سے مَحَبَّت ہر مسلمان کو چاہیے،مجھ سے مَحَبَّت حُسین سے مَحَبَّت ہے اور حُسین سے مَحَبَّت مجھ سے مَحَبَّت ہےچونکہ آئندہ واقعات حضور پاکﷺ کے پیشِ نظر تھے اِس لیے اِس قسم کی باتیں اُمت کو سمجھائیں۔سِبط وہ درخت جس کی جڑ ایک ہو اور شاخیں بہت ایسے ہی میرے حُسین سے میری نسل چلے گی اور اِن کی اَولاد سے مشرق و مغرب بھرجائے گی،دیکھ لو!آج سادات ِکرام مشرق و مغرب میں ہیں اور یہ بھی دیکھ لو کہ حَسَنی سیّد تھوڑے ہیں حُسینی سید بہت زیادہ ہیں اِس فرمانِ عالی کا ظہور ہے۔

(مراۃ المناجیح، 8/480)

یاشہیدِ کربلا فریاد ہے نورِ چشمِ فاطمہ فریاد ہے

آہ! سِبطِ مصطَفٰے فریاد ہے ہائے! ابنِ مُرتَضیٰ فریاد ہے

(وسائلِ بخشش،ص596)

حسن میرے ہیں اور حُسین علی کے۔( فیض القدیر، 3 / 551 )

مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِس فرمانِ عالی شان کا مطلب یہ ہے کہ بڑا بیٹا دادا ، نانا کا ہوتا ہے چھوٹا بیٹا باپ کا ، یہ تقسیم اظہار ِکرم کے لیے ہے۔(مراۃ المناجیح،8/479)

جِسے یہ پسند ہو کہ کسی جنتی مَرد کو دیکھے (ایک روایت میں ہے)جنّتی جوانوں کے سردار کو دیکھے وہ حُسین بن علی کو دیکھے۔( الشرف المؤبد،ص 69)

حُسین ابنِ علی کا صدقہ ہمارے غوثِ جلی کا صدقہ

عطا مدینے میں ہو شہادت نبیِّ رَحمت شفیعِ اُمّت

(وَسائلِ بخشش،ص214)

محسن ابنِ علی: یہ بی بی فاطمہ کے سب سے چھوٹے فرزند ہیں ان کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین